Today News
پیدائش اورموت (پہلا حصہ) – ایکسپریس اردو
ڈرنے کی ضرورت نہیں یہ ہم اس ’’ملا‘‘کی بات نہیں کررہے ہیں جسے آپ جانتے ہیں بلکہ ہم اس ملا کی بات کررہے ہیں جسے ہم جانتے ہیں ،پہچانتے ہیں اورمانتے بھی ہیں ، یہ وہ ملاتھا جسے ہندوپاک میں ملادوپیازہ ، تین پیازہ اورچارپیازہ کہاجاتا تھا ، ایران میں اسے ملانصیرالدین کہا جاتاتھا لیکن جب ترکی میں گیا تو وہاں خواجہ نصیرالدین بن گیا اورجب شاعروں کے ہاتھ چڑھا تو انھوں نے اس کے پرزے اڑاکر رکھ دیے ، شیخ سعدی، حافظ شیرازی اورعمرخیام نے تو اسے اتنا کوسا، اتنا کوسا کہ بیچارا کہیں عدم پتہ ہوگیا ، پھرتے پھراتے جب اردو شاعری میں آگیا تو اکبرالہ آبادی ،علامہ اقبال اورکئی دوسرے شاعروں نے اس کے وہ لتے لیے کہ توبہ تائب ہوکر ’’بوئے اگے ،چک تان لئی‘‘
یہ ملادراصل اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جس میں شیخ واعظ زاہد اورناصح بھی گزرے تھے اوردیر و حرم میں رندوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے اور میخانوں پرچھاپے مارتے اور ورغلاتے تھے اوربیچارے رندوں سے نالاں رہتے تھے
دیر وحرم میں رہنے والو
رندوں میں پھوٹ نہ ڈالو
پشتو میں بھی خوشحال خان خٹک اوررحمان بابا بھی کبھی کبھی اس کے ساتھ لات مکا کرلیتے تھے لیکن غنی خان نے تو اس کی وہ درگت بنائی کہ روپڑا، اس کے بعد تو غنی خان کے تابعین نے اسے مستقل ہدف بنالیا ، یہیں سے پھروہ موڑ آیا جہاں وہ اپنا ’’ملا‘‘ کا نام چھوڑ آیا اورعالم بن گیا ، تب کہیں جاکر اسے کہیں سکون ملا ۔
یہ قصہ اس وقت سے شروع ہوگیا تھا جب بنوامیہ کے اشراف نے اپنا منصب دوبارہ چھین لیا اورنام بدل کر پرانے فراعین نمرودوں کو شدادوں کاسلسلہ پھر شروع کردیا، کام تو وہی تھا لیکن نام کچھ اورہوگئے تھے، اوران ناموں کو مقدس بنانے کے لیے ایک خاص طبقہ بھی تشکیل دیا گیا ۔ یہ طبقے حکمرانوں کے لیے عقلی جوازات ڈھونڈتے اوربناتے رہتے اورداد پاتے رہتے تھے یعنی وہ مشاغل کرتے تھے اور یہ ان کے ’’کتاب‘‘ سے مسئلہ نکال دیا کرتے تھے اورکھینچ کھانچ کر اسے تحفظ دیتے تھے ، اصطلاح میں اسے ’’تاویل‘‘ کہتے تھے جیسے علامہ اقبال نے کہا ہے
احکام ترے حق ہیں مگر میرے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنادیتے ہیں پاژند
پاژند پارسیوں کی کتاب ’’ژند‘‘ کی تشریح وتفسیر تھی لیکن اتنی مشکل اورناقابل فہم تھی کہ لوگ اسے سمجھنے کے لیے ’’ژند ‘‘ سے مدد لیتے تھے ،حافظ نے بھی اس دورکے بارے میں کہا ہے
’’سترفرقوں سے معذرت کہ جب حقیقت سمجھ میں نہیں آتی تو افسانے بنانے لگتے ہیں‘‘
اس دورمیں مال غنیمت کی بھی فراوانی تھی ،فتوحات سے بے پناہ اموال آرہے تھے چنانچہ فراغت، خوشحالی اورسب کچھ کی بہتات نے ایک اشرافیہ کو جنم دیناشروع کیاجو پرانی اشرافیاؤں کی نئی شکل تھی چنانچہ یہ اشراف بھی حکومت کی طرح اپنے لیے اہل دلیل پالنے لگے جو ان کی عیاشیوں، اوباشیوں ،گمراہیوں اوربدکاریوں کے لیے جوازات نکالتے، حرام کاریوں ، حرم کاریوں اورنکاحوں، طلاقوں کی سہولتیں فراہم کرتے ۔
ظاہرہے کہ علمائے حق تو ایسا نہیں کرتے تھے ،اس لیے مساجد سے علمائے حق یا خود درکنار ہوگئے یانکال دیے گئے اوران کی جگہ اپنے من پسند کے لوگوں کو بٹھا دیا گیا ، حافظ نے اس کا ذکر یوں کیا ہے
شد آں کہ اہل نظر درکنارہ می رفتند
ہزار گونہ سخن دردہان ولب خاموش
ترجمہ، پھرہوا یوں کہ اہل نظر درکنار ہوگئے، منہ میں ہزار باتیں لیے ہوئے لیکن لب بند کیے ہوئے ، یہی وہ دورتھا جس میں دو طبقے وجود میں آئے ۔ ایک طبقے والے حکمرانوں ، برسراقتداروں ، سرمایہ داروں اوراشراف کے ساتھ ہوگئے اور دوسرے طبقے والے حق کے ساتھ رہے تھے ۔
یہی حافظ کی وہ غزل ہے جس کا مقطع بڑا مشہورہے کہ
امور مملکت خویش خسرواں دانند
گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
ترجمہ، مملکت کے امورحکمران جانتے ہیں تم تو ایک گوشہ نشیں فقیر ہوحافظ ، اس لیے آرام سے بیٹھ ۔۔سنی نہ بات کسی نے تو مرگئے چپ چاپ۔
جب علماء حق اوردین کے صحیح علمبردار درکنار ہوگئے یا کردیے گئے تو ان کی جگہ چھڑے اوراخوند آگئے جن کا شان نزول یوں ہے کہ چھڑے اوراخوند کون تھے ،کہاں سے آئے تھے اورکیاکرتے تھے ، یہ قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے ۔اگلے زمانوں میں کوہستانوں سے ، دیہات سے اورغربت زدہ علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے اتر آتے تھے ، کچھ تو مستقل روزگار پا لیتے تھے جیسے گڑ گھانیوں یا بڑے زمینداروں کے ہاں ، لیکن زیادہ تر روزانہ یاکبھی کبھی کی مزدوری اوردیہاڑی پر گزارہ کرتے تھے اوران لوگوں کا ٹھکانہ مساجد کے قریب ہوتا تھا ،اس زمانے کی غریب اورمٹی کی مساجد میں ایک کوٹھڑی الگ سے ہوا کرتی تھی جس میں مسافروں اوران لوگوں کا ٹھکانہ ہوتا تھا یا اگر امام کسی دوسرے علاقے کا ہوتا تھا تو وہ بھی اس میں رہتا تھا۔ ان مسافروں کو پشتو میں ’’چنڑی‘‘ کہا جاتا تھا ، اردو اورپنجابی میں ’’چھڑے‘‘ بمعنی کنوارے یا بے گھر بار۔ ایک پنجابی گانے میں بھی ان کا ذکر ہے
رناں والیاں دے پکن پروٹھے
تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے
ان چھڑوں کے کھانے پینے کا سلسلہ یوں تھا کہ اگر کسی کی دیہاڑی لگ جاتی تھی تو اس کے لیے کھانا اس زمیندار کے گھر سے آجاتا تھا لیکن جن کی نہیں لگتی، تو اس صورت میں ایک چھڑا ایک خاص ٹوکری اپنے کاندھے سے لٹکا کر اورہاتھ میں ایک بڑا سا کاسہ لے کر نکل جاتا، ہرگھر کے دروازے میں آواز لگاتا تھا ۔۔وظیفہ لاؤ خدا تمہیں بخشے… ساتھ میں سالن بھی، اس کو وظیفہ کہتے تھے ، روٹی کے جو ٹکڑے لوگ دیتے وہ ٹوکری میں ڈالے جاتے کہ روٹیاں تو سب ایک جیسی ہوتی تھیں لیکن سالن تو گھروں میں ایک نہیں ہوتا جب کہ برتن ایک ہوتا چنانچہ اس ایک ہی برتن میں سب کچھ ڈالا جاتا، ساگ سبزی دال وغیرہ ۔
(جاری ہے)
Today News
رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران بھی 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں
رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے دوران بھی ملک میں مہنگائی میں اضافہ کا رجحان جاری ہے۔
حالیہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 4.70 فیصد رہی ہے۔ حالیہ ہفتے 13 اشیائے ضروریہ مہنگی اور 11اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق انڈے 8.13 فیصد، ٹماٹر 10.04 فیصد، آلو 5.09 فیصد، پیاز 6.08 فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں 0.43 فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں 0.50 فیصد، ککنگ آئل کی قیمتوں میں0.37 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 2.40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
چکن 10.46 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں 1.023 فیصد، گڑ 0.30 فیصد، مٹن کی قیمتوں میں 0.65 فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.66 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 0.51 فیصد، پرنٹڈ لان کی قیمتوں میں 0.43 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.24 فیصد، پیٹرول کی قیمتوں میں 3.06 فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں 1.84 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 5.61 فیصد اور کیلوں کی قیمتوں میں 3.85 فیصد اضافہ ہوا۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار پچھلے ہفتے کی سطع پر ہی برقرار رہنے کے ساتھ 4.57فیصد اور 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 5.95 فیصد رہی۔
اسی طرح، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.16 فیصد اضافے کے ساتھ 4.91 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 4.16 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.53 فیصد اضافے کے ساتھ 3.58 فیصد رہی ہے۔
Source link
Today News
ٹرمپ کے ایران میں حملے کے بیان پر میسی اور انٹرمیامی کے کھلاڑیوں کی تالیاں، شدید تنقید کا سامنا
ارجنٹائن کے فٹبال اسٹار لیونل میسی نے اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔
امریکی صدر نے ان کے کلب کو دسمبر میں امریکا کی سب سے بڑی فٹ بال لیگ، میجر لیگ ساکر چیمپئن شپ کا ٹائٹل پہلی بار جیتنے پر مبارکباد پیش کی۔
ان کی یہ ملاقات واشنگٹن میں ڈی سی یونائیٹڈ کے خلاف ہونے والے ایم ایل ایس میچ سے پہلے ہوئی۔
اس موقع پر ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے اس کامیابی کا جشن مناتے ہوئے گفتگو کی، جس دوران انہوں نے ایران میں جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے حوالے سے تازہ معلومات فراہم کیں۔
ٹرمپ نے ان حملوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایران میں ہونے والی بمباری کا ذکر کیا، جس میں حالیہ دنوں میں سینکڑوں بچے شہید ہو گئے ہیں۔
اس دوران، لیونل میسی اور لوئس سواریز سمیت ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے ٹرمپ کی باتوں پر تالیاں بجائیں، جو کہ بظاہر ایک غیر معمولی اور متنازعہ ردعمل تھا۔
Donald Trump casually announces more illegal bombing of Iran in front of the entire Inter Miami squad.
Hundreds of children have been killed in Iran in the last few days.
Lionel Messi and his teammates respond with applause. Bizarre. pic.twitter.com/rT0E2tlm9L
— Leyla Hamed (@leylahamed) March 5, 2026
یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے میسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
بعض صارفین نے ایران میں شہید ہونے والی اسکول کی معصوم طالبات کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان بچوں کو قتل کرنے پر تالیاں بجائی جارہی ہیں؟
ایک صارف نے میسی کی نیتن یاہو کے ساتھ کچھ تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ میسی کا تعلق صیہونیت سے ہے۔
تاہم بعض صارفین میسی کی حمایت میں بھی سامنے آئے اور انہوں نے جواز پیش کیا کہ میسی یہ نہیں سمجھ پائے کہ امریکی صدر کس بارے میں بات کررہے ہیں۔
Messi is autistic and doesn’t speak English lol
— Catbread (@ToastCatbread) March 5, 2026
Some fellow Messi fans saying “he doesn’t understand what Trump’s saying. Probably doesn’t, but “Iran” was mentioned and he and the others have seen what’s been happening the last few days so still not an excuse.
— Hamza C 🇵🇸🍉🇨🇩🇸🇩✊🏼 🇵🇰 (@TMC_V2) March 5, 2026
Today News
اَپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل: گرفتار نجی کمپنی کا مالک مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
پشاور:
احتساب عدالت نے اَپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار نجی کمپنی کے مالک کو مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
احتساب جج محمد ظفر نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل کی سماعت کی، نجی کمپنی کے مالک ملزم شیر علی کو عدالت میں پیش کیا گیا، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مانک شاہ اور تفتیشی افسر عنایت اللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا کہ ملزم شیر علی ایک نجی انٹرپرائز کمپنی کا مالک ہے، ملزم کے اکاؤنٹ میں 46 ملین روپے کی ٹرانزیکشن مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اکاؤنٹ سے ہوئی، ملزم کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ مذکورہ پیسے ملزم نے آگے منتقل کیے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے 13 ملین روپے اپنے پاس رکھے جبکہ باقی دو ملزمان ممتاز اور انور علی کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے ہیں، ملزم نے ساتھی ملزم فیض اللہ احمد کی ملی بھگت سے 51 ملین روپے مزید وصول کیے ہیں۔
نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ ملزم نے مانسہرہ میں ایک رہائشی گھر خریدنے کا بھی انکشاف کیا ہے، ملزم کی منی ٹریل، اثاثوں اور اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنی ہے۔
پراسیکیٹر نے استدعا کی کہ ملزم کو مزید تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے، عدالت نے ملزم کو مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Entertainment2 weeks ago
Meri Zindagi Hai Tu Episode 31 Disappoints Fans
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Sports2 weeks ago
Treasury resolution points out ‘rot’ in hockey affairs