Today News
ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت
جنگ سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان پہلے جینیوا اور پھر عمان میں مذاکرات ہوئے تھے تو عمان کے وزیر خارجہ جو امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان مصالحت کنندہ کا کردار ادا کررہے تھے کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات میں امریکا کے بنیادی مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا۔
عمان کے وزیر خارجہ کے مطابق ایران ایٹم بم کی تیاری کے مراحل کو صفر کی سطح تک لے جانے پر تیار ہوگیا تھا لیکن امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کردیا۔ ان حملوں میں 1989ء سے سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والے آیت اللہ خامنہ ای سمیت اہم رہنما شہید ہوگئے، ان کے علاوہ سیکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں ایک اسکول کی عمارت میں موجود 46 کے قریب طالبات بھی شامل ہیں۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے 19 میل چوڑی آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے خلیجی ممالک میں غذائی بحران پیدا ہوگا۔ خلیجی ممالک کی تیل کی ایکسپورٹ بند ہوجائے گی اور پوری دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوجائے گی جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوگئے ہیں۔
امریکا، ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا ہے۔ امریکا کے پاس اس رجیم کا متبادل سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا ہے۔ سابق شہنشاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی معاہدہ ابراہیمی کی حمایت کا اعلان کرچکا ہے۔ ایران کی موجودہ حکومت کی مخالف اور بھی کئی ایرانی تنظیمیں ہیں، ان میں تودہ پارٹی اور مجاہدین خلق ہیں لیکن امریکا کے لیے سب سے پسندیدہ رضا پہلوی ہے مگر رضا پہلوی کو ایران کے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ مجاہدینِ خلق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم بائیں بازو کے عناصر پر مشتمل ہے اور اپنے لبرل خیالات کے لیے معروف ہے مگر یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اس تنظیم کی بھی حمایت کررہے ہیں۔ اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے حمایتی گزشتہ برسوں سے ایران کی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوتے ہیں۔ تودہ پارٹی کمیونسٹ پارٹی ہے ۔ مجاہدین خلق اور تودہ پارٹی نے شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آیت اللہ خمینی اور ان کی جماعت کی حمایت کی تھی مگر جب انقلابی حکومت قائم ہوگئی تو ان اتحادیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کیا۔ ہزاروں افراد جلاوطن ہوئے۔
ایران کی سرزمین پر یہ کھلی جارحیت ایسے وقت میں کی گئی جب گزشتہ ہفتوں سے ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی ثالثی سے مذاکرات جاری تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکا کے ایران پر وسیع فوجی حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت کو ختم کرنا اور ساتھ ہی ایران میں نظام کی تبدیلی (رجیم چینج) ہے۔
ایران نے اسرائیل اور بحرین، قطر، ابوظہبی، کویت، اردن اور سعودی عرب میں میزائل حملے شروع کیے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان اور عراق میں بغداد کے نزدیک علاقوں پر بھی حملے کیے ہیں۔امریکا اور اسرائیل کی یہ فوجی جارحیت ایک کٹھ پتلی اور آمرانہ حکومت قائم کرنے کی کوشش ہے۔جلاوطن ایرانیوں کا ایک گروپ امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کررہا ہے حالانکہ وہ موجودہ ایرانی رجیم کا بھی مخالف ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ان نازک اور فیصلہ کن لمحات میں ایرانی عوام پوری قوت کے ساتھ امن کے قیام اور اسرائیل و امریکی سامراج کی اس جارحیت کے خاتمے کے لیے متحد ہوں۔ ایران کی تباہی موجودہ رجیم سے نجات کا راستہ نہیں ہے۔ یہ مقصد صرف عوام کی جدوجہد اور قومی و آزادی پسند قوتوں کی منظم کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ بنایا جائے جس میں تمام امریکی اور اسرائیلی مخالف جماعتیں شامل ہیں۔ امریکا کا استعماریت کا نیا کردار ایسا ہی ہے جیسا صنعتی انقلاب کے وقت تھا۔ (18ویں صدی میں برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا تھا اور یہ صنعتی انقلاب 19ویں صدی میں پایہ تکمیل ہوا۔) برطانیہ اور یورپی ممالک میں صنعتی انقلاب مکمل ہونے کے بعد ان ممالک نے اپنے کارخانوں کے مال کی کھپت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنی شروع کیں، اس طرح سرمایہ داری سامراجیت میں تبدیل ہوئی۔
برطانیہ، ہالینڈ، پرتگال، اسپین اور اٹلی وغیرہ نے ایشیائی اور افریقی ممالک پر قبضے کرنے شروع کیے اور اپنی سلطنتوں کو بڑھانے کے لیے ایشیائی اور لاطینی امریکا کے عوام پر بدترین تشدد کے طریقے استعمال کیے۔ ان ممالک میں معدنیات اور خام مال کو سستے داموں خرید کر برطانیہ اور یورپی ممالک کی ملز میں ان سے نئی مصنوعات تیار کر کے دوبارہ ان ممالک کے غریب عوام کو فروخت کیں اور نوآبادیات سے لوٹی ہوئی رقم یورپی ممالک کی ترقی پر خرچ ہوئی۔ سابق سوویت یونین کے قیام کے بعد برطانیہ اور امریکا کے سامراجی کردار میں فرق آیا۔ سابق سوویت یونین کی مدد سے 40 سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے مگر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پھر سامراج اپنی بدترین شکل میں سامنے آرہا ہے۔
امریکا نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے پہلے لیبیا اور عراق میں حکومتوں کا تختہ الٹا، شام کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ اب ایران کی باری ہے اور پھر لاطینی امریکا میں جس حکمران نے آزادانہ فیصلے کیے، امریکا نے ان کو قتل کرا دیا۔ وینز ویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغواء اسی منصوبے کی کڑی ہے۔ روس یوکرین کی جنگ کی بناء پر ایران کی مدد نہیں کرسکتا۔ چین اپنی پالیسی کی بناء پر دیگر ممالک کو ٹیکنالوجی دے کر انھیں اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے پر اکساتا ہے مگر چین کی پالیسی میں کسی ملک سے جنگ کا ایجنڈا شامل نہیں۔ امریکا کے کردار کو شکست دینے میں آمرانہ حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔
Today News
ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے؛ اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا دعویٰ انھوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔
لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپین حکومت اب بھی اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ پالیسی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
جس پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ اسپین کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا اس کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس کے نتیجے میں کسی قسم کی جوابی کارروائی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
Today News
سکھر بیراج پر مرمتی کام کے دوران پانی کا دباؤ بڑھنے سے عارضی بند ٹوٹ گیا، اعلیٰ حکام طلب
سکھر بیراج پر جاری مرمتی کام کے دوران اچانک پیش آنے والے حادثے نے انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا۔
ذرائع کے مطابق پانی کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھنے کے باعث بیراج پر قائم عارضی بند ٹوٹ گیا، جس کے بعد موقع پر افراتفری پھیل گئی۔
اطلاعات کے مطابق بیراج کے گیٹس میں بجلی کا کرنٹ دوڑنے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث ریسکیو اور بحالی کا کام فوری طور پر روک دیا گیا۔
عملے کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر پیچھے ہٹا لیا گیا جبکہ تکنیکی ماہرین کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر کام دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ری ہیبلی ٹیشن پروجیکٹ کے تحت بیراج کے پرانے گیٹس کی تبدیلی کا کام جاری تھا کہ اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔
واقعے کے بعد سکھر میں محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔
تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام نے علاقے کی نگرانی سخت کر دی ہے اور پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
Today News
دہشت گردی اور ملکی سلامتی کو چیلنجز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے پیمانے پر کیے گئے متعدد حملوں کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ آپریشنل اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت کے بارے میں بتایا اور انکشاف کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 67 افغان کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں میں ایک فوجی جوان شہید اور5 دیگر زخمی ہوئے۔
افغانستان کی طالبان حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے،بلاشبہ خطرہ حقیقی اور فوری نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ایک ردعمل ہے، نہ کہ جارحیت۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مختلف گروہوں جن میں حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ افغانستان کی طالبان حکومت بھارت کی پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ برصغیر اور وسطی ایشیا کی سیاسی حرکیات کا ایک اہم باب ہے۔ یہ تعلقات کبھی برادرانہ قربت، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی اشتراک کی علامت رہے توکبھی بد اعتمادی، سرحدی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث کشیدگی کا شکار ہوئے۔ آج جب پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کو آپریشن’’ غضب للحق‘‘ شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو یہ محض ایک وقتی عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک گہرے اور مسلسل سیکیورٹی بحران کی علامت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے ساتھ جس سطح کی خیرسگالی، انسانی ہمدردی اور سیاسی تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ خطے کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام اور بعدازاں افغانستان کی حکومت کی درخواست پر سوویت یونین کی افواج کی آمد کے بعد امریکا کے حمایت یافتہ افغان مجاہدین کی قیادت بھاگ کر پاکستان آ گئی ۔ اس وقت پاکستان پر ضیاء الحق اور اس کے ساتھی حکومت کررہے تھے ، اس حکومت نے افغانستان کی دائیں بازو کی مذہبی قیادت کو پناہ دی اور ان کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کے لیے سرحد کھول دی، یوں لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدیں کھولیں بلکہ انھیں تعلیم، صحت، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی فراہم کی۔ عالمی اداروں کی امداد اپنی جگہ، مگر عملی بوجھ پاکستانی ریاست اور معاشرے نے برداشت کیا۔ یہ میزبانی چند سال نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط رہی۔ اس طویل عرصے میں پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔آخر کار امریکا کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں، پھر سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت کا خاتمہ ہوگیا، مجاہدین کا اقتدار قائم ہوا لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے جس کے بعد طالبان نے اپنا اقتدار قائم کرلیا۔اسی دوران القاعدہ کے لوگ افغانستان آگئے، طالبان حکومت نے انھیں پناہ دے دی۔
نائن الیون کا الزام القاعدہ کی لیڈر شپ پر لگا، اس وقت کی ملا عمر کی سربراہی میں قائم طالبان حکومت نے القاعدہ کی قیادت کو پناہ دیے رکھی، یوں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا۔یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ اس تناظر میں پاکستان کی یہ توقع فطری تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر حالیہ برسوں میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔افغانستان میں طالبان کی موجود حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے پوری کوشش کی کہ یہ حکومت عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور دوحہ معاہدے پر عمل کرے ۔ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ تاہم عملی طور پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی، ان کی تنظیم نو اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافہ ایک سنگین تشویش کا باعث بنا۔ متعدد حملوں کی تحقیقات میں یہ شواہد سامنے آئے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے یا انھیں وہاں سے معاونت حاصل تھی۔ یہ صورتحال کسی بھی خود مختار ریاست کے لیے ناقابل قبول ہے۔
پاکستان نے اپنی سرحد کے تحفظ کے لیے باڑ لگانے اور جدید نگرانی کے نظام قائم کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس اقدام کا مقصد دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے اس باڑ پر اعتراضات یا حملے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہر ریاست کو اپنی سرحد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو چیلنج کرنا دراصل ریاستی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔افغانستان کی داخلی صورتحال بھی اس بحران کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طویل جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے افغان ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر مکمل سفارتی تسلیم نہ کیے جانے اور پابندیوں کے باعث معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں مختلف مسلح گروہوں کا اثرورسوخ برقرار رہنا ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ دلیل کسی بھی صورت اس امر کا جواز نہیں بن سکتی کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت دے۔علاقائی جغرافیائی سیاست بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، افغان طالبان اور اس کے اتحادی دیگر مسلح گروہ اس کا فائدہ یوں اٹھا رہے کہ افغانستان کے وسائل کی لوٹ سیل لگا کر پیسہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں سسٹم قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ دہشت گردی اور بلیک میلنگ کو بطور پالیسی اختیار کرلیا۔افغان طالبان اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں اور ان سے فوائد سمیٹنے والے دیگر غیرملکی وائٹ کالر کریمنلز نے یہ بیانیہ فروخت کرنا شروع کردیا کہ اگر افغانستان ایک بار پھر عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔لہذا طالبان حکومت کی مسلسل مالی مدد کی جائے۔پاکستان میں موجود بلیک اکانومی کے سٹیک ہولڈرز بھی اس بیانئے کو دن رات آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل آپریشن جاری رکھنا ضروری ہے، انتہا پسند بیانیے کا توڑ کیا جائے۔ انٹیلی جنس کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سرحدوں کی نگرانی کا عمل سخت کرکے امیگریشن قوانین کو ایسے بنایا جائے کہ پیدل یا روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے سرحدی آمدورفت بند ہوجائے۔اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت پر سخت سزائیں رکھی جائیں۔سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مشترکہ سرحدی کمیشن، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی جیسے اقدامات کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر مستقل حل مذاکرات اور تعاون ہی سے نکلتا ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ انھیں ساتھ رہنا ہے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے کہ وہ ایک طرف اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اور دوسری طرف خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ افغانستان کے لیے بھی یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اگر افغان قیادت اس ذمے داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر اس کی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔
عوامی سطح پر ذمے دارانہ طرز عمل بھی ضروری ہے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں کو اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکانا آسان ہے مگر اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اصل دشمن دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام ہے، نہ کہ دونوں ممالک کے عوام جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
تاریخ نے پاکستان اور افغانستان کو ہمسایہ بنایا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقتی ہے نہ اختیاری۔ دونوں ممالک کی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات دوسرے پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ سرحدی کشیدگی کو مستقل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور تعاون، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا باب رقم کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خونریزی کے دائرے کو توڑ کر خطے کو امن، ترقی اور استحکام کی سمت لے جا سکتا ہے۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees