Connect with us

Today News

اگلی باری کس کی ؟

Published

on


ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل بھی وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔لیکن ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی سیز فائر کا کوئی اعلان نہیں۔ نہ ایران کو ابھی کوئی فتح ملی ہے اور خامنہ ای کی شہادت کے باوجود امریکا اور اسرائیل کو بھی کوئی فتح نہیں ملی ہے۔ ایران کے میزائل ابھی چل رہے ہیں۔ یہی اس کی فتح ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ لیکن کوئی راستہ ابھی نظر نہیں آرہا ۔

ایک سوال جو بہت پوچھا جا رہا ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری کس کی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ سعودی عرب کی باری ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ پھر کہا جا رہا ہے کہ ترکی کے بعد پاکستان کی باری ہے۔ پاکستان کے حوالے سے ایک سیکیورٹی عہدیدار کا جواب بھی آیا ہے کہ پاکستان ایک نیو کلئیر ملک ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔ ہمارا دفاع مضبوط ہے۔ اس لیے یہ تھیوری کہ اس کے بعد پاکستان کی باری ہے غلط ہے۔ اسرائیل کو علم ہے کہ پاکستان دفاعی طو رپر بہت مضبوط ہے۔ بھارت اسرا ئیل سے بڑا ملک ہے۔ دفاعی طور پر بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جب بھارت پاکستان سے نہیں لڑ سکتا تواسرائیل کیا لڑے گا۔

میں اس وقت ایران کی خارجہ پالیسی پر کوئی خاص تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ یہ موقع نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان دنیا میں کوئی تنہا بھی نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان کی باری کے حوالہ سے جتنی بھی گفتگو ہو رہی ہے وہ فضول ہے۔ اس میں کوئی دلیل نہیں۔ البتہ اس بات کے حق میں کافی دلائل موجود ہیں کہ پاکستان کی باری نہیں آسکتی۔ ہم دنیا کے لیے کوئی خطرہ نہیں بلکہ دنیا کے نظام میں ہمارا ایک فعال کردار ہے۔ ہم اسلامی دنیا میں بھی کوئی تنہا نہیں ہیں پھر ہماری فوجی طاقت بے مثال ہے۔ جہاں تک ترکی کی بات ہے۔ میں اس بات کو بھی نہیں مانتا کہ اگلی باری ترکی کی ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان اور اسرائیل کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن ترکی نے اسرائیل کو بطور ملک تسلیم کیا ہو اہے۔ ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ بلکہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تو تجارت بھی موجود رہی ہے،آجکل معطل ہے۔

ترکی کا فلسطین کے لیے موقف قابل قدر ہے۔ ترکی غزہ کے فلسطینیوں کے حق میں بھی آواز بلند کرتا ہے، ترکی بورڈ آف پیس کا بھی ممبر ہے لیکن ترکی اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بھی ہیں۔ میں ترکی پر تنقید نہیں کر رہا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات غزہ کے بحران کے دوران بھی قائم رکھے۔صرف تجارت معطل کی ہے اور اب ایران تنازعہ میں بھی ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ ترکی نیٹو کا بھی ممبر ہے۔ اس طرح ترکی امریکا کا اتحادی بھی ہے، ترکی کی امریکا سے بھی کوئی لڑائی نہیں، بلکہ نیٹو ممبر کی وجہ سے ترکی پر حملہ تمام نیٹو ممالک پر حملہ تصور ہوگا ۔ اس لیے ترکی پر اسرائیل کا حملہ ممکن نظر نہیں آتا ۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد پر تشویش ہے ۔ اسرائیل سے کچھ ایسے بیان آئے ہیں کہ یہ اتحاد اسرائیل کے لیے تشویشناک ہے۔ لیکن ابھی نہ تو یہ اتحاد بنا ہے۔ ابھی ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ میں شامل نہیں ہوا ہے۔ اس لیے یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارتی راہداریوں پر بات چیت ر ہتی ہے۔ ترکی دفاعی طور پر بھی ایک مضبوط ملک ہے۔

اس کی دفاعی طاقت بہت زیادہ ہے۔ اس کے پاس نیو کلئیر پاور نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا دفاع بہت مضبوط ہے۔اگر ایران کے ساتھ جنگ اتنی مشکل ہے تو ترکی کے ساتھ تو بہت مشکل ہوگی۔ ترکی خطے کا ایک بڑا کھلاڑی ہے، اس لیے اسرائیل کا ترکی کی طرف دیکھنا بھی مشکل ہے۔اسرائیل اور ایران کی جنگ کی کئی وجوہات ہیں، ایک وجہ نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران پر غلط حملہ کیا ہے، یہ حملہ ناجائز ہے، اس کی کوئی قانونی وجہ نہیں ہے، یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کئی دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ ایران حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے ذریعے مسلسل اسرائیل کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ اسرائیل اور امریکا بھی معاشی پابندیوں اور دیگر حربوں سے ایران کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اب حقیقی جنگ ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فائنل جنگ ہے، اس کے بعد ایران اسرائیل اور امریکا کی کوئی جنگ نہیں ہو سکے گی۔ دنیا میں جنگیں جاری رہتی ہیں۔ امریکا کو جنگوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے لیکن موجودہ جنگ امریکا کے لیے آسان نہیں ہے۔ آج بھی زیادہ تر دفاعی تجزیہ نگار امریکا کی جیت کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ لیکن جیت کیا ہوگی، سوال یہی ہے فوج کس کی اور کب داخل ہوگی۔ اسرائیل کے پاس ایسی کوئی فوج نہیں جو وہ ایران میں داخل کر سکے۔

امریکا بھی کوئی بڑی فوج ایران کے پاس لے کر نہیں آیا ہوا کہ ہم کہہ سکیں کہ امریکی فوج داخل ہو جائے گی۔ اس لیے جہاں امریکی جیت کی بات ہو رہی ہے وہاں یہ سوال موجود ہے کہ فوج کس کی اور کب جائے گی۔ ابھی تک اس کی کوئی تیاری نظر نہیں آرہی۔ ابھی تک دنیا کا کوئی بھی ملک ایران میں فوج بھیجنے کو تیارنہیں۔ نیٹو بھی ساتھ نہیں۔ اس لیے یہ سوال موجود ہے کہ رجیم چینج فوج بھیجے بغیر ممکن نہیں اور فوج بھیجنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ اگلی باری کس کی ہے یہ ایک ثقیل بحث ہے۔ ہر جگہ نظر آرہی ہے ۔ پاکستان اور ترکی کو ایران کے ساتھ کھڑے ہوکر اس جنگ میں شامل ہونے کی دلیل یہی ہے کہ اگلی باری آپ کی ہے۔ امریکا نے پہلے عراق کو گرایا، شام کو گرایا، لیبیا کو گرایا، اب ایران کو گرا رہا ہے پھر آپ کی باری ہے۔ اس لیے آج ہی اس جنگ میں شامل ہو جائیں۔ لیکن دوسری طرف یہ دلیل بھی ہے کہ ایک مفروضہ پر تو کسی جنگ میں شامل نہیں ہوا جا سکتا۔ لیکن آج کل یہ بحث ہے کہ اگلی باری کس کی ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بھارت نے چھیڑا تو انجام دیکھ لیا، مودی آج تک منہ چھپاتا پھر رہا ہے، گورنر سندھ

Published

on



کراچی:

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نمائش چورنگی پر نجی این جی او کی جانب سے منعقدہ سحری میں شرکت کی جہاں انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملکی و عالمی صورتحال پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ آج کی آمد دیگر تمام دنوں سے افضل ہے کیونکہ ہم سب مل کر مولا حسنؑ کی ولادت کا جشن منا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو اندرون و بیرون ملک حالات کا بخوبی اندازہ ہے اور موجودہ عالمی کشیدگی میں مسلمانوں کو متحد رہنے کی ضرورت ہے۔

ایران پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے دشمن کو صحیح طرح جواب دیا گیا ہے، یہ مسلمان قوم ہے، اسے نہ چھیڑا جائے۔

اگر چھیڑو گے تو چھوڑا نہیں جائے گا۔ انہوں نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بھی جب ہمیں چھیڑا تو اسے بھرپور جواب ملا آج تک  نریندر مودی منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔

گورنر سندھ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے تین جہاز سے بات شروع کی اور آج گیارہ جہاز گرا دیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام کے لیے اپنے دل اور سرحدیں کھولیں، تاہم افغان حکومت کو متعدد بار شواہد کے ساتھ آگاہ کیا گیا کہ ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے مبینہ سرپرستی یافتہ عناصر کو بھی مؤثر جواب دیا گیا ہے۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور ملک دفاعی اعتبار سے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے؛ اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا

Published

on


وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا دعویٰ انھوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔

لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپین حکومت اب بھی اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ پالیسی برقرار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

جس پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ اسپین کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا اس کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس کے نتیجے میں کسی قسم کی جوابی کارروائی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

سکھر بیراج پر مرمتی کام کے دوران پانی کا دباؤ بڑھنے سے عارضی بند ٹوٹ گیا، اعلیٰ حکام طلب

Published

on


سکھر بیراج پر جاری مرمتی کام کے دوران اچانک پیش آنے والے حادثے نے انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات پر مجبور کر دیا۔

ذرائع کے مطابق پانی کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھنے کے باعث بیراج پر قائم عارضی بند ٹوٹ گیا، جس کے بعد موقع پر افراتفری پھیل گئی۔

اطلاعات کے مطابق بیراج کے گیٹس میں بجلی کا کرنٹ دوڑنے کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث ریسکیو اور بحالی کا کام فوری طور پر روک دیا گیا۔

عملے کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر پیچھے ہٹا لیا گیا جبکہ تکنیکی ماہرین کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے کر کام دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ری ہیبلی ٹیشن پروجیکٹ کے تحت بیراج کے پرانے گیٹس کی تبدیلی کا کام جاری تھا کہ اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔

واقعے کے بعد سکھر میں محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔

تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم حکام نے علاقے کی نگرانی سخت کر دی ہے اور پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending