Today News
دہشت گردی اور ملکی سلامتی کو چیلنجز
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے پیمانے پر کیے گئے متعدد حملوں کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا ہے۔ آپریشنل اپ ڈیٹ فراہم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے آپریشن غضب للحق کی پیش رفت کے بارے میں بتایا اور انکشاف کیا کہ ان جھڑپوں کے دوران کم از کم 67 افغان کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان جھڑپوں میں ایک فوجی جوان شہید اور5 دیگر زخمی ہوئے۔
افغانستان کی طالبان حکومت اور وہاں موجود دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے دنیا کو تشویش ہے،بلاشبہ خطرہ حقیقی اور فوری نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی حالیہ عسکری کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ایک ردعمل ہے، نہ کہ جارحیت۔ پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مختلف گروہوں جن میں حافظ گل بہادر گروپ، ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش خراسان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ افغانستان کی طالبان حکومت بھارت کی پراکسی جنگ لڑ رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ برصغیر اور وسطی ایشیا کی سیاسی حرکیات کا ایک اہم باب ہے۔ یہ تعلقات کبھی برادرانہ قربت، مذہبی ہم آہنگی اور ثقافتی اشتراک کی علامت رہے توکبھی بد اعتمادی، سرحدی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث کشیدگی کا شکار ہوئے۔ آج جب پاک افغان سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان کو آپریشن’’ غضب للحق‘‘ شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو یہ محض ایک وقتی عسکری ردعمل نہیں بلکہ ایک گہرے اور مسلسل سیکیورٹی بحران کی علامت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے ساتھ جس سطح کی خیرسگالی، انسانی ہمدردی اور سیاسی تعاون کا مظاہرہ کیا، وہ خطے کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔افغانستان میں سوویت یونین کی حمایت یافتہ حکومت کے قیام اور بعدازاں افغانستان کی حکومت کی درخواست پر سوویت یونین کی افواج کی آمد کے بعد امریکا کے حمایت یافتہ افغان مجاہدین کی قیادت بھاگ کر پاکستان آ گئی ۔ اس وقت پاکستان پر ضیاء الحق اور اس کے ساتھی حکومت کررہے تھے ، اس حکومت نے افغانستان کی دائیں بازو کی مذہبی قیادت کو پناہ دی اور ان کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کے لیے سرحد کھول دی، یوں لاکھوں افغان شہری پاکستان میں پناہ گزین ہوگئے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدیں کھولیں بلکہ انھیں تعلیم، صحت، کاروبار اور آزادانہ نقل و حرکت کی سہولت بھی فراہم کی۔ عالمی اداروں کی امداد اپنی جگہ، مگر عملی بوجھ پاکستانی ریاست اور معاشرے نے برداشت کیا۔ یہ میزبانی چند سال نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط رہی۔ اس طویل عرصے میں پاکستان نے بارہا عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ افغانستان میں استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔آخر کار امریکا کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں سوویت افواج افغانستان سے واپس چلی گئیں، پھر سوویت حمایت یافتہ افغان حکومت کا خاتمہ ہوگیا، مجاہدین کا اقتدار قائم ہوا لیکن وہ آپس میں لڑتے رہے جس کے بعد طالبان نے اپنا اقتدار قائم کرلیا۔اسی دوران القاعدہ کے لوگ افغانستان آگئے، طالبان حکومت نے انھیں پناہ دے دی۔
نائن الیون کا الزام القاعدہ کی لیڈر شپ پر لگا، اس وقت کی ملا عمر کی سربراہی میں قائم طالبان حکومت نے القاعدہ کی قیادت کو پناہ دیے رکھی، یوں امریکا نے افغانستان پر حملہ کرکے طالبان حکومت کا خاتمہ کردیا۔یوں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ اس تناظر میں پاکستان کی یہ توقع فطری تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی صورت اس کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مگر حالیہ برسوں میں صورت حال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔افغانستان میں طالبان کی موجود حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے پوری کوشش کی کہ یہ حکومت عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے اور دوحہ معاہدے پر عمل کرے ۔ پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام ہی خطے کے مفاد میں ہے۔ تاہم عملی طور پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان میں موجودگی، ان کی تنظیم نو اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حملوں میں اضافہ ایک سنگین تشویش کا باعث بنا۔ متعدد حملوں کی تحقیقات میں یہ شواہد سامنے آئے کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے یا انھیں وہاں سے معاونت حاصل تھی۔ یہ صورتحال کسی بھی خود مختار ریاست کے لیے ناقابل قبول ہے۔
پاکستان نے اپنی سرحد کے تحفظ کے لیے باڑ لگانے اور جدید نگرانی کے نظام قائم کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس اقدام کا مقصد دراندازی اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے اس باڑ پر اعتراضات یا حملے کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہر ریاست کو اپنی سرحد کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اس حق کو چیلنج کرنا دراصل ریاستی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔افغانستان کی داخلی صورتحال بھی اس بحران کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طویل جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے افغان ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر مکمل سفارتی تسلیم نہ کیے جانے اور پابندیوں کے باعث معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے میں مختلف مسلح گروہوں کا اثرورسوخ برقرار رہنا ایک حقیقت ہے۔ تاہم یہ دلیل کسی بھی صورت اس امر کا جواز نہیں بن سکتی کہ افغانستان اپنی سرزمین پر موجود عناصر کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی کی اجازت دے۔علاقائی جغرافیائی سیاست بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، افغان طالبان اور اس کے اتحادی دیگر مسلح گروہ اس کا فائدہ یوں اٹھا رہے کہ افغانستان کے وسائل کی لوٹ سیل لگا کر پیسہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں سسٹم قائم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ دہشت گردی اور بلیک میلنگ کو بطور پالیسی اختیار کرلیا۔افغان طالبان اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں اور ان سے فوائد سمیٹنے والے دیگر غیرملکی وائٹ کالر کریمنلز نے یہ بیانیہ فروخت کرنا شروع کردیا کہ اگر افغانستان ایک بار پھر عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔لہذا طالبان حکومت کی مسلسل مالی مدد کی جائے۔پاکستان میں موجود بلیک اکانومی کے سٹیک ہولڈرز بھی اس بیانئے کو دن رات آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف مسلسل آپریشن جاری رکھنا ضروری ہے، انتہا پسند بیانیے کا توڑ کیا جائے۔ انٹیلی جنس کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سرحدوں کی نگرانی کا عمل سخت کرکے امیگریشن قوانین کو ایسے بنایا جائے کہ پیدل یا روڈ ٹرانسپورٹ کے ذریعے سرحدی آمدورفت بند ہوجائے۔اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت پر سخت سزائیں رکھی جائیں۔سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بامعنی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اعتماد سازی کے اقدامات، مشترکہ سرحدی کمیشن، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ کارروائی جیسے اقدامات کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں۔ طاقت کا استعمال وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر مستقل حل مذاکرات اور تعاون ہی سے نکلتا ہے۔ دونوں ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا؛ انھیں ساتھ رہنا ہے۔پاکستان کے لیے یہ لمحہ آزمائش ہے کہ وہ ایک طرف اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرے اور دوسری طرف خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ افغانستان کے لیے بھی یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دے کہ اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اگر افغان قیادت اس ذمے داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تو نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر اس کی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔
عوامی سطح پر ذمے دارانہ طرز عمل بھی ضروری ہے۔ میڈیا اور سیاسی حلقوں کو اشتعال انگیزی سے گریز کرنا چاہیے۔ قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکانا آسان ہے مگر اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اصل دشمن دہشت گردی، انتہا پسندی اور عدم استحکام ہے، نہ کہ دونوں ممالک کے عوام جو صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
تاریخ نے پاکستان اور افغانستان کو ہمسایہ بنایا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقتی ہے نہ اختیاری۔ دونوں ممالک کی سلامتی، معیشت اور سماجی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ایک ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات دوسرے پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ سرحدی کشیدگی کو مستقل تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے اور تعاون، اعتماد اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا باب رقم کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو خونریزی کے دائرے کو توڑ کر خطے کو امن، ترقی اور استحکام کی سمت لے جا سکتا ہے۔
Today News
ایران کی سب سے بڑی دھمکی، رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔
ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
Today News
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، ایک فرار
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 5 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، زخمی ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد ہوا۔
لیاقت آباد گجر نالے کے قریب پولیس مقابلے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جن کی شناخت محمد علی اور ممتاز احمد کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق یہ ملزمان عید کی شاپنگ کرکے واپسی پر شہریوں کو لوٹ رہے تھے۔
ملزمان کے قبضے سے دو پستول بور، میگزین اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی۔ زخمی ملزمان کو فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسی طرح نارتھ ناظم آباد بلاک D میں بھی مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔
جمشید کوارٹر ڈویژن شاہین فورس پولیس نے بہادر آباد رنگون والا ہال کے قریب ایک اور ڈاکو کو زخمی حالت میں پکڑا، جس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد ہوا۔
پولیس کے مطابق زخمی ملزم کا ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
گرفتار ملزم کا مزید کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے اور پولیس نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
Today News
امریکی سینیٹ سے ٹرمپ کو فری ہینڈ مل گیا، فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد
واشنگٹن:
امریکا کی سینیٹ نے ایک اہم وار پاورز قرارداد کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر جاری فوجی کارروائیاں روکنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کے اختیارات محدود کرنا تھا۔
یہ قرارداد 47–53 کے فرق سے مسترد ہو گئی، جس سے صدر ٹرمپ کو مزید ایران پر کارروائیوں جاری رکھنے کا قانونی میدان مل گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق قرار داد کی سربراہی سینٹر ٹم کین نے کی تھی اور اس کی 26 دیگر سینیٹرز نے بھی حمایت دی تھی، لیکن ری پبلکن ارکان نے اکثریت کے ساتھ قرارداد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
سینیٹر رینڈ پاؤل واحد ری پبلکن تھے جنہوں نے حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس میں سے سینیٹر جون فیٹرمین نے مخالفت کی۔
سینٹ سیشن میں سینیٹرز کے درمیان شدید بحث جاری رہی، جہاں ڈیموکریٹس نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کو جنگی فیصلوں پر کنٹرول رکھنا ضروری ہے اور صدر کو ایک شخصی جنگ شروع کرنے سے نہیں روکا جا سکا۔
سینیٹر ایڈم شف نے کہا کہ یہ قرارداد صرف جنگ کو روکنے کے بارے میں نہیں بلکہ صدر کے غیر محدود اختیارات کا توازن برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔
جبکہ ری پبلکن ارکان نے صدر کی فوجی کارروائیوں کو قومی سلامتی کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
PTA Ties Mobile Network Expansion to $15 Million in Guarantees