Today News
ایران جنگ میں ہرگز شریک نہیں ہوں گے؛ اسپین نے وائٹ ہاؤس کا دعویٰ مسترد کردیا
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا دعویٰ انھوں نے صحافیوں کو ایک طویل بریفنگ میں دیا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ان کے خیال میں اسپین نے صدر ٹرمپ کے گزشتہ روز کے پیغام کو واضح طور پر سن لیا ہے اور گزشتہ چند گھنٹوں میں امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔
لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اسپین میں اپنے ہم منصب اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ تمام یورپی اتحادی تعاون کریں گے کیوں کہ ایرانی حکومت نہ صرف امریکا بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں ترجمان وائٹ ہاؤس کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپین کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپین حکومت اب بھی اپنی اصولی مؤقف پر قائم ہے اور ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ پالیسی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اسپین کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا تجارتی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
جس پر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا کہ اسپین کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا اس کے قومی مفادات اور اقدار کے خلاف ہو، چاہے اس کے نتیجے میں کسی قسم کی جوابی کارروائی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
Today News
ایران کی سب سے بڑی دھمکی، رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔
ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
Today News
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، ایک فرار
کراچی:
شہر قائد کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 5 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، زخمی ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد ہوا۔
لیاقت آباد گجر نالے کے قریب پولیس مقابلے میں دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جن کی شناخت محمد علی اور ممتاز احمد کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق یہ ملزمان عید کی شاپنگ کرکے واپسی پر شہریوں کو لوٹ رہے تھے۔
ملزمان کے قبضے سے دو پستول بور، میگزین اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی۔ زخمی ملزمان کو فوری طور پر عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اسی طرح نارتھ ناظم آباد بلاک D میں بھی مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار ہوئے۔
جمشید کوارٹر ڈویژن شاہین فورس پولیس نے بہادر آباد رنگون والا ہال کے قریب ایک اور ڈاکو کو زخمی حالت میں پکڑا، جس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان برآمد ہوا۔
پولیس کے مطابق زخمی ملزم کا ساتھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔
گرفتار ملزم کا مزید کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے اور پولیس نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
Today News
امریکی سینیٹ سے ٹرمپ کو فری ہینڈ مل گیا، فوجی کارروائیاں روکنے کی قرارداد مسترد
واشنگٹن:
امریکا کی سینیٹ نے ایک اہم وار پاورز قرارداد کو ناکام بنا دیا جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر جاری فوجی کارروائیاں روکنے اور کانگریس کی منظوری کے بغیر مزید حملوں کے اختیارات محدود کرنا تھا۔
یہ قرارداد 47–53 کے فرق سے مسترد ہو گئی، جس سے صدر ٹرمپ کو مزید ایران پر کارروائیوں جاری رکھنے کا قانونی میدان مل گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق قرار داد کی سربراہی سینٹر ٹم کین نے کی تھی اور اس کی 26 دیگر سینیٹرز نے بھی حمایت دی تھی، لیکن ری پبلکن ارکان نے اکثریت کے ساتھ قرارداد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
سینیٹر رینڈ پاؤل واحد ری پبلکن تھے جنہوں نے حمایت کی جبکہ ڈیموکریٹس میں سے سینیٹر جون فیٹرمین نے مخالفت کی۔
سینٹ سیشن میں سینیٹرز کے درمیان شدید بحث جاری رہی، جہاں ڈیموکریٹس نے زور دے کر کہا کہ کانگریس کو جنگی فیصلوں پر کنٹرول رکھنا ضروری ہے اور صدر کو ایک شخصی جنگ شروع کرنے سے نہیں روکا جا سکا۔
سینیٹر ایڈم شف نے کہا کہ یہ قرارداد صرف جنگ کو روکنے کے بارے میں نہیں بلکہ صدر کے غیر محدود اختیارات کا توازن برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔
جبکہ ری پبلکن ارکان نے صدر کی فوجی کارروائیوں کو قومی سلامتی کے لئے ضروری قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
-
Entertainment1 week ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech1 week ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority