Connect with us

Today News

مشرق وسطیٰ بحران: چین نے بڑا قدم اٹھا لیا، ثالثی کیلئے خصوصی نمائندہ بھیجنے کا اعلان

Published

on


بیجنگ: چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اعلان کیا ہے کہ چین ثالثی کی کوششوں کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ خطے میں بھیجے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ ای نے ٹیلی فون پر سعودی عربیہ اور امارات کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کی، جس میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے تحمل اور تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے دوران شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر کو عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ توانائی کی تنصیبات اور دیگر غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

وانگ ای نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ رہنا انتہائی ضروری ہے، اس لیے چین اس معاملے پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔

چینی وزیر خارجہ کے مطابق بیجنگ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

میگا کرپشن کی تصدیق ہو گئی

Published

on


پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام بھی اتنی بھولی ہے کہ ہر جماعت سے یہ امید باندھ لیتی ہے کہ وہ واقعی ملک و قوم کی جڑوں میں سرایت کر جانے والے کرپشن کے زہر کا تریاق کرے گی لیکن کچھ عرصہ بعد علم ہوتا ہے کہ ’’کرپشن مکاؤ‘‘ کا دعوی کرنے والی حکومت میں ہی سب سے زیادہ’’مک مکاؤ‘‘ ہوا ہے،پاکستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارا سیاست دان اخلاقی اور مالی کرپشن کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں تو یہ رواج بن گیا ہے کہ کرپشن کرنے کو ’’حق‘‘ سمجھا جانے لگا ہے ،کسی دور میں صرف سفارش پر کام ہوجاتا تھا اب سفارش کروانا الٹا گلے پڑجاتا ہے اور آخر کار ڈبل رشوت دے کر کام کروانا پڑتا ہے۔ویسے تو ہر سرکاری محکمے میں کرپشن موجود ہے لیکن چند محکمے ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم سب نے یہ تسلیم کر رکھا ہے کہ کرپشن میں ان کا مدمقابل کوئی دوسرا نہیں۔محکمہ خوراک پنجاب کا شمار بھی کچھ عرصہ قبل تک انھی خاص محکموں میں ہوتا تھا لیکن گزشتہ دو برس میں اس محکمے میں ہونے والی انقلابی اصلاحات اور سبسڈی میں انتہائی کمی نے کرپشن کے چور دروازوں کو بند کرنا شروع کر رکھا ہے۔

کئی دہائیوں تک عوام کو سبسڈائزڈ آٹا فراہم کرنے کے لیے کسانوں سے گندم خرید کر اسے انتہائی سستے داموں فلورملز کو فراہم کرتا تھا اور افسوس یہ کہ ’’کوٹہ سسٹم‘‘ کی وجہ سے چور فلورملز بھی اتنی ہی سرکاری گندم لینے کی اہل تھیں جتنی کارکردگی والی ملز کو ملتی تھی ۔عجب تماشہ تھا کہ کوٹہ چور فلورملز محکمہ خوراک کے گودام سے سرکاری گندم سے لدی گاڑی کسی فعال مل کی جانب بھیج کر بنا فلورمل چلائے، آٹا بنائے روزانہ لاکھوں روپے کا ’’خالص‘‘ منافع کماتی تھیں۔ اوپن مارکیٹ کی قیمت اور سرکاری گندم کی ریلیز پرائس میں پایا جانے والا غیر معمولی فرق اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ نہ صرف محکمہ خوراک بلکہ گندم آٹا سے منسلک ہر محکمہ، انتظامیہ اپنا حصہ لے کر اس کوٹہ نظام کے سہولت کار بن جاتے تھے۔

گزشتہ پانچ چھ سالوں میں سرکاری گندم کوٹہ نظام کے خلاف مضبوط آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس نظام سے مستفید ہونے والے اس قدر با اثر اور منظم تھے کہ اس کے خاتمہ میں مضبوط رکاوٹ تھے۔ اہم ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ ساز بیوروکریٹس، کابینہ ارکان بھی چونکہ اپنا حصہ لیتے تھے اس لیے کوٹہ مافیا جب چاہتا انھیں بلیک میل کر کے اپنی بات منوا لیتا تھا ،کبھی ریاستی اداروں کو گندم آٹا کے ممکنہ بحران کی غیر حقیقی صورتحال سے ڈرا کر ان کے ذریعے حکومت اور محکموں کو دباؤ میں لایا جاتا تھا ۔نگران دور حکومت میں جب اسٹیبلشمنٹ نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا اور اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں سے رابطے کیے تو جن چند معاملات کو’’میگا کرپشن ‘‘ کا ذریعہ قرار دیا گیا ان میں سے ایک سرکاری گندم آٹا کا سبسڈائزڈ کوٹہ نظام بھی شامل تھا۔نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے سب سے پہلے سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی گندم قیمت کے درمیان فرق کو ختم کیا اور پھر محترمہ مریم نواز شریف نے وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد گندم آٹا سیکٹر میں اصلاحات کا آغاز کیا۔

محترمہ مریم نواز درجنوں بار کہہ چکی ہیں کہ سرکاری گندم خریدو فروخت اور کوٹہ سسٹم ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کا سبب تھے ،بہت سے لوگوں نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا لیکن اب ایسے مصدقہ اعداد وشمار سامنے آ چکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ وزیر اعلی مریم نواز نے گندم آٹا بارے جو کہا وہ درست ہے۔پنجاب میں سرکاری گندم کے اجراء کا جائزہ لیں تو گزشتہ10 برس میں اوسطاً 35 لاکھ ٹن گندم ہر برس فلورملز کو سستے داموں فروخت کی جاتی رہی ہے ، گندم ریلیز کے چند اعداد و شمار انتہائی غیر معمولی ہیں،2018 میں محکمہ نے56 لاکھ ٹن،2019 میں45 لاکھ ٹن، 2020 میں51 لاکھ80 ہزار ٹن جب کہ2022 میں54 لاکھ ٹن گندم بھی ریلیز کی ۔پنجاب حکومت پچھلے پندرہ برس میں سرکاری گندم کی فلورملز کو سستے داموں فروخت پر750 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی کا بوجھ اٹھا چکی ہے۔

2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد محترمہ مریم نواز نے گندم کی سرکاری خریداری ختم کی تو انھیں انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ گندم مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور کسان کو کھیت میں 2ہزار سے2200 روپے فی من تک قیمت ملی جو اس کی لاگت کاشت کو بھی بمشکل پورا کرسکی۔نجی شعبہ نے لاکھوں ٹن گندم سستے داموں خرید کر اس امید پر اسٹاک کی کہ چند مہینوں بعد ڈبل یا ٹرپل قیمت پر فروخت کریں گے۔2024/25 میں وزیر اعلی نے کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نجی شعبہ کو آگے لانے کے لیے ایک نظام بنانے کی ہدایت کی جسے ’’ای ڈبلیو آر‘‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن اس وقت کی بیوروکریسی مختلف وجوہات کی وجہ سے ناکام رہی اور ان حالات میں گندم آٹا بحران جنم لیتے رہے۔گزشتہ برس وزیر اعلی نے پنجاب میں گندم آٹا خرابیوں کو دور کرنے اور کسان صارف دوست اصلاحات کے نفاذ کے لیے اپنے انتہائی قابل اعتماد افسر اور اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ امجد حفیظ کو ڈی جی فوڈ پنجاب تعینات کیا تھا جنھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نجی شعبے نے جو سستی گندم خرید کر بنا سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے اسٹاک کی ہوئی تھی اسے سرکاری نگرانی میں لیا ۔

اس کے بعد انھوں نے فعال اور غیر فعال فلورملز کو الگ کیا اور پھر قابل تصدیق فارمولا بناکر فعال فلورملز کو نجی گندم کی فروخت شروع کروائی۔اس موقع پر کوٹہ والی فلورملز نے شدید احتجاج کیا، لابنگ، الزام تراشی، دباؤ سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کسی طرح سرکاری گندم کی مساویانہ ریلیز شروع ہو سکے مگر وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہیں آئے۔وزیر اعلیٰ نے صوبے کی گندم مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پاسکو سے بھی تین لاکھ ٹن خرید لی اور آج یہ صورتحال ہے کہ آیندہ ماہ کے وسط میں جب ریلیز ختم ہوگی تو محکمہ مجموعی پر18 لاکھ ٹن گندم فروخت پر سیزن اختتام کرے گا جس میں سے سرکاری گندم محض10 لاکھ ٹن ہوگی باقی کی8 لاکھ ٹن تو پکڑی گئی نجی گندم ہے۔

ماضی کی سالانہ اوسط ریلیز35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 18 لاکھ ٹن ریلیز کے ساتھ بنا کسی بحران کے آٹا کی وافر سپلائی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس وژن پر تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے کہ سرکاری گندم کوٹہ نظام ،میگا کرپشن تھی ۔وزیر اعلیٰ نے اپنی فوڈ ٹیم کے ساتھ آٹا دستیابی کا نظام تو درست کر لیا ہے لیکن اب ان کا اگلا چیلنج نجی شعبے کے ذریعے پنجاب کے کسانوں سے گندم خریداری کے نئے نظام کو کامیاب بنانا ہے۔ ڈی جی فوڈ امجد حفیظ نے دانشمندانہ مشاورت کے بعد یہ نظام وضع کیا ہے،پری کوالیفائی کی گئی35 کمپنیاں، فلورملز اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والا ادارہ’’گرین پاکستان انیشی ایٹو‘‘ کسانوں سے 3500 روپے فی من قیمت پر 30 لاکھ ٹن گندم خریدے گا ،اس خریداری کا مقصد گندم مارکیٹ میں قیمت کو مستحکم بنانا اور صوبائی حکومت کے لیے گندم کے اسٹریٹجیک اور بفر اسٹاکس تعمیر کرنا ہے۔کسان کو اگر کھیت میں کم ازکم 3200/3300 روپے فی من قیمت بھی مل گئی تو یہ حکومت اور نئے نظام کی بڑی کامیابی ہو گی اور کوٹہ بہاریں لوٹنے کے منتظر مافیاز کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد، سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان و ایس آر اے کا تربیت یافتہ دہشت گرد گرفتار

Published

on



حیدرآباد:

حیدرآباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان اور سندھ رویولیشن آرمی (ایس آر اے) سے تعلق رکھنے والے ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق قاسم آباد کے علاقے میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ملزم کو حراست میں لیا گیا۔

کارروائی کے دوران علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا تاکہ کسی ممکنہ ساتھی کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ، جدید اسلحہ اور بھاری مقدار میں تکنیکی سامان برآمد ہوا ہے، جسے مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق موقع پر موجود بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ برآمد ہونے والے دھماکا خیز مواد اور سامان کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بنایا جا سکے۔

سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد سے تفتیش جاری ہے اور اس سے مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کلام غالب میں تلمیحات کا استعمال (پہلا حصہ)

Published

on


کسی بھی تاریخی، مذہبی یا سیاسی واقعے کو شعر میں استعمال کرنا ’’تلمیح‘‘ کہلاتا ہے۔ بیشتر شعرا نے اپنے اشعار میں تلمیح کا استعمال کیا ہے، تلمیح اردو ادب اور علم بیاں کی ایک اہم صنف ہے جس کے لغوی معنی ’’اشارہ کرنا‘‘ ہے۔ تلمیح کے استعمال سے کلام میں حسن، معنویت، وسعت اور بلاغت پیدا ہوتی ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شاعر ایک مختصر سے لفظ یا ترکیب کے ذریعے قاری کے ذہن میں پورا پس منظر یا واقعہ بیان کر دیتا ہے۔

غالب کے کلام میں تلمیحات کا استعمال محض ایک شعری روایت نہیں ہے بلکہ ان کے فلسفیانہ افکار اور معنی گہرائی کو بیان کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ غالب نے اپنی شاعری میں قدیم تاریخی، مذہبی اور اساطیری واقعات کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ ایک مختصر اشارے سے معنی کی پوری کائنات روشن ہو جاتی ہے۔ غالب کی تلمیح نگاری میں معنی آفرینی اور فنی گرفت نمایاں ہے۔ مرزا کا کلام تو اک بحر ذخار ہے جس میں در نایاب نکالنا اور سمجھنا آسان نہیں، محاوروں، تشبیہوں، ترکیبوں، رمز وکنایہ اور تلمیحات کا استعمال جس طرح غالب نے کیا ہے، دوسروں کے ہاں ناپید ہے۔ غالب کے بعد تلمیحات کا استعمال اقبال نے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا

ایران میں دستور تھا کہ بادشاہ یا حاکم وقت کے سامنے فریادی کاغذی لباس پہن کر آتے تھے جن کو دیکھتے ہی بادشاہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ مظلوم ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جیسے خون آلود کپڑا بانس پہ لٹکانا تاکہ مظلومی فوراً ظاہر ہو جائے۔ کاغذی پیرہن کی تلمیح بے چارگی ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ کنایتاً ہستیٔ مصمم کی طرف اشارہ ہے۔ ایرانی شعرا نے ’’کاغذی پیرہن‘‘ کی تلمیح کو بہت استعمال کیا ہے، غالب نے بھی وہیں سے لیا ہے۔

کیا کہا خضر نے سکندر سے

اب کسے رہنما کرے کوئی

٭……٭

لازم نہیں کہ خضرکی ہم پیروی کریں

مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

٭……٭

تو سکندر ہے، مرا فخر ہے ملنا تیرا

گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے

غالب نے اپنے کلام میں سب سے زیادہ خضر اور سکندر کی تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ سکندر اور خضر کا نام ساتھ ساتھ لیا ہے، سکندر اعظم یونان کا رہنے والا تھا، ارسطو کا شاگرد تھا، مقدونیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے کم عمری میں ہی آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، سکندر کی لڑائی ایران کے بادشاہ دارا سے بھی ہوئی تھی جس میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔ اس نے ہندوستان اور چین پر بھی حملے کیے اور کئی نئے شہر بھی بسائے۔ کہتے ہیں قوم یاجوج ماجوج نے زمین پر بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس لیے سکندر نے ’’سد سکندری‘‘ تعمیر کروائی جس کے مسالے میں لوہے اور تانبے کی آمیزش کروائی تاکہ یاجوج ماجوج کے فتنے کو روکا جا سکے۔ حضرت خضر آب حیات پی کر امر ہو گئے۔ چشمہ آب حیات کو چشمہ زندگانی اور چشمہ آب حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ ہندی دیومالا میں آب حیات کو ’’ امرت‘‘ کہا جاتا ہے جسے پی کر دیوتا امر ہو گئے۔ اسی تلمیح کے حوالے سے سکندر خوش قسمت آدمی کو کہا جاتا ہے۔ ایسا خوش نصیب انسان جس پر خدا مہربان ہو، ایک اور خوبصورت شعر خضر کے حوالے سے:

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے

اس شعر میں غالب کہتے ہیں اب انسان کسے رہ نما کرے اور کس پر بھروسہ کرے۔

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، ہر زنان مصر سے

ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہو گئیں

اس شعر میں حضرت یوسف ؑ اور زلیخا کی تلمیح استعمال کی گئی ہے، ’’ماہ کنعاں‘‘ حضرت یوسف کا لقب تھا۔ مرزا غالب نے اس حوالے سے کئی شعر کہے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اور حضرت یوسف ؑ کا قصہ قرآن پاک کی سورہ یوسف میں موجود ہے۔ حضرت یوسف ؑ لاثانی حسن کے مالک تھے، جب وہ مصر پہنچے تو زلیخا ان پر عاشق ہو گئی، لیکن حضرت یوسف ؑ نے کبھی اس کی ہمت افزائی نہیں کی۔ زلیخا کی اس معاملے میں بڑی ذلت و رسوائی ہوئی، مصر کی عورتوں کو معلوم ہوگیا کہ زلیخا حضرت یوسف ؑ پر دل رکھتی ہے اور جب زلیخا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئی تو اس نے حضرت یوسف ؑ پر الزام بھی لگا دیا۔ شاہی خاندان اور امیران شہر کی عورتوں میں زلیخا ایک غلام کے عشق میں بہت بدنام ہو چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ایک دن عمائدین شہر کی بیگمات اور دیگر معزز خواتین کو اپنے محل میں جمع کیا اور تمام خواتین کے ہاتھ میں ایک ایک لیموں اور ایک چھری دے دی اور ان سب سے کہا کہ جیسے ہی میں ایک شخص کو اندر بلاؤں، آپ لوگ اس لیموں کے دو ٹکڑے کر دینا۔ چنانچہ جوں ہی زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو اندر بلایا تو تمام خواتین حضرت یوسفؑ کا حسن بے مثال اور ان کی دلکش شخصیت کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں اور بجائے لیموں کاٹنے کے اپنی انگلیاں زخمی کر لیں۔ مندرجہ بالا تلمیح اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

اس شعر میں غالب نے مصر کے بادشاہ نمرود کی طرف اشارہ کیا ہے جس طرح مصر کے بادشاہ فرعون، چین کے بادشاہ فغفور، روم کے شاہ قیصر، ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے۔ اسی طرح عراق کے بادشاہ کا لقب ’’نمرود‘‘ تھا۔ کہتے ہیں نمرود نے اپنے باپ کو قتل کرکے بادشاہت پر قبضہ کیا تھا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کے توحید کے پیغام کے بعد نمرود ان کا دشمن بن گیا اور انھیں جلتی ہوئی آگ میں ڈلوا دیا۔ لیکن حکم خداوندی سے آگ گلستان بن گئی اور حضرت ابراہیمؑ آگ سے محفوظ رہے۔ بعد میں ایک مچھر کے ناک میں گھس جانے کی وجہ سے نمرود کی موت واقع ہو گئی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے گا اور توحید کا پیغام بھی پھیلائے گا، بت پرستی کو ختم کر دے گا، چنانچہ اس پیش گوئی پر فرعون نے ہزاروں نوزائیدہ بچے قتل کروا دیے لیکن حکم خداوندی سے حضرت موسیؑ محفوظ رہے ۔





Source link

Continue Reading

Trending