Connect with us

Today News

شوبز میں آنے پر والد نے ایک سال تک بات نہیں کی، یشما گل کا انکشاف

Published

on


پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ یشما گل نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ان کے والد ایک سال تک ان سے ناراض رہے اور بات چیت بند رکھی۔

یشما گل نے اپنے کیریئر کا آغاز اس وقت کیا جب وہ آسٹریلیا میں تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں شروع سے ہی شوبز کی دنیا اپنی طرف متوجہ کرتی تھی، اسی لیے انہوں نے اسی میدان کو اپنے مستقبل کے لیے منتخب کیا۔ آج وہ ڈرامہ انڈسٹری میں ایک مضبوط مقام حاصل کر چکی ہیں اور کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔

حال ہی میں وہ نجی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں بطور مہمان شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں سے جڑی نجی زندگی کے اہم پہلو شیئر کیے۔ اداکارہ کے مطابق ان کے والد شوبز انڈسٹری کے بارے میں عمومی تاثر کی وجہ سے اس پیشے کے خلاف تھے۔ جب انہوں نے باقاعدہ اداکاری شروع کی تو ان کے والد نے تقریباً ایک سال تک ان سے گفتگو نہیں کی۔

یشما گل نے بتایا کہ ایک سال بعد رمضان المبارک کے دوران انہوں نے والد کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، اور یوں دونوں کے درمیان جمی برف پگھلنا شروع ہوئی۔ بعد ازاں جب اداکارہ نے عمرہ ادا کرنے کا ارادہ کیا تو انہیں محرم کی ضرورت تھی، جس پر انہوں نے اپنے والد سے ساتھ چلنے کی درخواست کی۔ ان کے والد عمرہ کی ادائیگی کے لیے ان کے ہمراہ گئے۔

اداکارہ کے مطابق اس سفر کے دوران جب ان کے والد نے دیکھا کہ لوگ ان کی بیٹی کو اس کے پیشے کی وجہ سے عزت اور خصوصی احترام دے رہے ہیں تو ان کا نقطۂ نظر بدلنا شروع ہوا۔ انہیں احساس ہوا کہ شاید ان کی بیٹی درست راستے پر ہے۔ اسی تجربے کے بعد دونوں کے تعلقات میں بہتری آئی اور وہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔

یشما گل کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کر رہی ہے، جہاں مداح ان کی خاندانی کہانی اور والد کے ساتھ مفاہمت کو سراہ رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سانحہ گل پلازہ میں کے ایم سی کی کوئی غفلت نہیں، میونسپل کمشنر

Published

on



کراچی:

کراچی(کورٹ رپورٹر) سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن میں میونسپل کمشنر کے ایم سی نے ذمہ داریوں کا سارا ملبہ دوسرے اداروں پر ڈال دیا اور جواب میں کہا ہے کہ گل پلازہ میں ہوئی تباہی میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت نہیں۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق میونسپل کمشنر کے ایم سی نے کمیشن کے سوال نامے کا جواب جمع کروا دیا جس میں انہوں ںے کہا ہے کہ کے ایم سی کی ذمہ داری صرف مرکزی شارع تک ہے، گل پلازہ کے اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ ٹی ایم سی صدر کی ذمہ داری ہے، فائر آڈٹ کی ذمہ داری سول ڈیفنس ڈائریکٹوریٹ کی ہے، سیفٹی آڈٹ ایمرجنسی ریسکیو سروس ایکٹ 2023ء کے تحت ریسکیو 1122 کی ذمہ داری ہے۔ 

میونسپل کمشنر نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت فائر فائٹنگ کے ایم سی کی ذمہ داری تھی، 2023ء کے ایکٹ کے تحت فائر فائٹنگ اور ریسکیو کی ذمہ داری ریسکیو 1122 کو منتقل کردی گئی، 11 دسمبر 2025ء کو کونسل اجلاس میں منتقلی شروع کرنے کی منظوری دی گئی۔ کے ایم سی نے رضاکارانہ طور پر 200 عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔ کے ایم سی نے فائر سیفٹی آڈٹ کی رپورٹ 2024 میں کمشنر کو پیش کی تھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کئے گئے۔

میونسپل کمشنر نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ضلعی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ پی ڈی ایم اے گائیڈ لائنز کے تحت شہری علاقے میں لگنے والے آگ کو ڈیزاسٹر سمجھا جاتا ہے، ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کا دباؤ گریج لائن تعمیراتی منصوبے کی وجہ سے تھا، آتشزدگی کی اطلاع ملتے ہی کرین، ایکسکویٹر، جیک ہیمر اور دیگر ہیوی مشنری تعینات کردی تھی۔ فائر بریگیڈ اہلکاروں کے ساتھ سٹی وارڈنز اور دیگر میونسپل سروسز اہلکار بھی تعینات کیے گئے، گل پلازہ میں ہونے والی تباہی میں کے ایم سی کی کوئی انتظامی غفلت نہیں۔

دریں اثنا سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن نے اسٹیشن افسر فائر اینڈ ریسکیو ہیڈ کوارٹر محمد توفیق کو طلبی کے سمن جاری کردیئے۔ جوڈیشل کمیشن نے اسٹیشن افسر کو 10 مارچ کو طلب کرلیا۔ کمیشن نے اسٹیشن افسر سے ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرزا مرسلین کو 12 اپریل کی طلبی کا سمن جاری کردیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

عمران خان تک رسائی کے لیے عظمیٰ خان کا اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

Published

on



اسلام آباد:

بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان نے عمران خان تک رسائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عظمیٰ خان نے ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر کے ان کے طبی معائنے اور علاج کے دوران اُن تک رسائی دی جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فوری اور بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ ان کی پسند کے ڈاکٹرز سے کروانے کا انتظام کیا جائے۔ ڈاکٹر خرم مرزا، ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر ثمینہ نیازی کو طبی معائنے میں شامل کیا جائے ۔

عظمیٰ خان کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ  بانی پی ٹی آئی کے بلڈ ٹیسٹ کروائے جائیں اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے۔ دوران حراست اور علاج کے دوران معالجین، اہلِ خانہ اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک مسلسل رسائی فراہم کی جائے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی گزشتہ 3 ماہ کی بلڈ ٹیسٹ، آئی ٹیسٹ اور تشخیصی رپورٹس سمیت مکمل طبی رپورٹس فراہم کی جائیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران میں کرد عسکریت پسند گروہ کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، ترکی

Published

on


ترکیہ نے کہا ہے کہ وہ ایرانی کرد عسکریت پسند گروہ (PJAK) کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کی ممکنہ کارروائیاں ایران کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیے کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات سامنے آئیں کہ ایرانی کرد ملیشیاؤں اور امریکا کے درمیان ایران کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں مشاورت ہوئی ہے، جس میں امریکا اور اسرائیل بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکا سے اس بارے میں مشورہ کیا کہ وہ ایران کے مغربی علاقوں میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کس طرح کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل بعض امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک ہزار عراقی کرد جنگجوؤں نے ایران کے خلاف کارروائی شروع کی ہے اور ہزاروں افراد سرحد عبور کر کے ایرانی علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو اسلحہ فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

تاہم ایرانی خبر ایجنسی نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے سرحدی صوبوں میں کرد جنگجوؤں کے داخل ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending