Today News
جاوید اقبال مرزا فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل منتخب
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) کے ڈائریکٹر جنرل (گریڈ 21) کے عہدے کے لیے جاوید اقبال مرزا کو میرٹ پر منتخب کرتے ہوئے ان کی تقرری کی سفارش کر دی ہے۔
اس حوالے سے ایف پی ایس سی کی جانب سے باضابطہ پبلک نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق جاوید اقبال مرزا کو ڈائریکٹر جنرل، فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے عہدے کے لیے ریکمنڈ کیا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق مذکورہ اسامی کے لیے دیگر امیدوار یا تو انٹرویو میں کامیاب نہ ہو سکے یا میرٹ کی فہرست میں پیچھے رہ گئے لہٰذا اس معاملے میں مزید کسی قسم کی خط و کتابت نہیں کی جائے گی۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ٹیچر اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے جاوید اقبال مرزا کو ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی ای مقرر کیے جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی سے محکمہ تعلیم میں انتظامی استحکام آئے گا اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی راہ ہموار ہوگی۔
Source link
Today News
کراچی میں گیس کا بحران، طویل لوڈ شیڈنگ جاری
امریکا ایران جنگ کی وجہ سے قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گیس کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور گیس کی کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
شہر کے کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ گلشنِ اقبال، اسکیم 33، جمشید روڈ، شادمان ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے۔
نشترروڈ، مارٹن کواٹرز، جہانگیرروڈ، عامل کالونی، لسبیلہ، کورنگی کے مختلف علاقوں میں بھی گیس بند پڑی ہے۔
جبکہ حکومت نے رمضان المبارک میں صبح سے 3 بجے سے رات 10 بجے تک بلاتعطل گیس کی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور قطر سے ایل این جی کی عدم فراہمی کے باعث مجموعی گیس صورتحال میں کافی ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رمضان المبارک کے نصف روزوں تک جاری رہنے والا گیس شیڈول برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایس ایس جی سی کو گیس کی طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
سپلائی میں کمی سے گیس کا لائن پیک کم ہورہا ہے۔ ایس ایس جی سی نے سحر، افطار اور دیگر اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کو ممکن بنانے کی نئی حکمت عملی پر غور شروع کردیا ہے۔
Today News
کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
کراچی:
سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے سے گرفتار جماعت اسلامی کے کارکنان پر پولیس تشدد کے خلاف عدالت نے مقدمہ درج کرنے کاحکم دے دیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور مقدمہ درج کرے۔
انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کی جج سارہ جونیجو کے روبرو دورانِ سماعت جماعت اسلامی کے وکیل طاہر اقبال ملک ایڈووکیٹ نے درخواست کی کہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022کے اسپیشل قانون کی سیشن فائیو اور سب سیکشن ٹو کے تحت کسٹڈی میں ٹارچر کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کیاجائے۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گرفتار کارکنان کی میڈیکو لیگل رپورٹ میں پولیس تشدد ثابت ہوچکاہے ۔ پولیس نے گرفتار کارکنان کو شدید تشدد کے بعد جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیاتھا ۔ پولیس تشدد سے زخمی کارکنان کو فریکچر، انجریز اور ہیڈ انجریز تھیں ۔
عدالتی حکم کے مطابق جو ڈیشیل مجسٹریٹ نے گرفتار کارکنان کے میڈیکو لیگل رپورٹ کا حکم دیاتھا۔ میڈیکو لیگل رپورٹ انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں پیش کی گئی جس میں ثابت ہواکہ کارکنان پر پولیس تشدد کیا گیا۔ میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق کارکنان پر پولیس تشدد کیاگیا۔
انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے ایف آئی اے کو پولیس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم پر ایف آئی اے آرام باغ پولیس کے متعلقہ افسران واہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرے گی۔
وکیل طاہر علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022کے اسپیشل قانون کے مطابق یہ کیس ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہے۔
واضح رہے کہ 14فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کامقدمہ پولیس نے جماعت اسلامی کے 34کارکنان پرانسداد دہشتگردی کی دفعات سمیت دیگر کے تحت درج کیاتھا ۔
Today News
گل پلازہ میں لوگ ڈیڑھ دن تک زندہ رہے مدد کی آوازیں لگائیں مگر ہمیں اندر جانے نہیں دیا گیا، چھیپا ڈرائیورز
کراچی:
سانحہ گل پلازہ کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا کے رضا کاروں نے بیانات قلم بند کرادیے، ایک ڈرائیور نے انکشاف کیا ہے ایک سے ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں لگارہے تھے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ آتشزدگی کے جوڈیشل کمیشن میں چھیپا ویلفیئر کے رضاکار سندھ ہائی کورٹ میں بیان قلم بند کروانے پہنچے۔
چھیپا رضاکار رئیس نے کہا کہ میں تقریباً پونے 11 بجے وہاں پہنچا تو آگ لگی ہوئی تھی، اس وقت پرائیویٹ لوگ بھی وہاں موجود تھے اور ہمارے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، اس وقت افراتفری کا ماحول تھا، میں ایم اے جناح روڈ سے گیا تھا مشکل ہوئی تھی لیکن میں پہنچ گیا تھا، پوری رات اس جگہ پر ہی موجود رہے تھے، جس بندے کو میں ایمبولینس میں لے کر گیا اس کی ہلاکت دھویں کی وجہ سے ہوئی، جب پہلے موقع پر پہنچا تو آگ کی شدت اتنی نہیں تھی جب دوبارہ گیا تو آگ کی شدت کافی زیادہ تھی۔
چھیپا رضاکار تنویر نے کہا کہ میں دوسرے دن گل پلازہ گیا تھا، میں نے ایک باڈی شفٹ کی تھی تھرڈ فلور سے جسے سول لے کر گیا تھا، لاش قابل شناخت نہیں تھی، مجھے علم نہیں اس کی ہلاکت کیسے ہوئی؟ کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی جسے کاٹا اور اس میں سے لاش کو نکالا، سیکنڈ تھرڈ فلور پر کھڑکیوں میں گرل لگی ہوئی تھی، صبح کے وقت بھی تینوں فلورز پر آگ لگی ہوئی تھی۔
چھیپا رضاکار نثار محمد نے کہا کہ دوسرے دن صبح گیارہ بجے وہاں پہنچا تھا، دوسرے دن بھی تمام ادارے وہاں موجود تھے، جب آگ بجھ گئی تو اس کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
چھیپا ڈرائیور رئیس نے کہا کہ جب میں گل پلازہ پہنچا تو آگ کی شدت زیادہ نہیں تھی، سب سے پہلے ایک شخص کو نکالا توبے ہوش تھا، فائر بریگیڈ اور فائر ٹینڈر موجود تھے، کتنے تھے یہ نہیں پتا، جب اسپتال سے واپس آیا تو آگ شدت اختیار کرچکی تھی، رش بڑھ چکا تھا، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا۔
چھیپا ایمبولینس ڈرائیور اظہر نے بیان میں کہا کہ رضا کار ہمیں ڈیڈ باڈیز نکال نکال کر دے رہے تھے اور ہم اسپتال منتقل کررہے تھے۔ کمیشن نے ان سے پوچھا کہ جب آپ پہنچے تو کیا دروازے کھلے ہوئے تھے؟ اس پر ڈرائیور نے کہا کہ ہمارے آنے سے پہلے بہت سا کام ہوچکا تھا۔
چھیپا ڈرائیور ایاز نے انکشاف کیا کہ ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ تھے چلا رہے تھے بچاؤ بچاؤ مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، میں نیا نیا بھرتی ہوا ہوں سب سے پہلے ہماری گاڑی پہنچی تھی، مرکز سے ہمیں دس بج کر پانچ منٹ کال آئی تھی کہ آگ لگی ہے اور میں 15 منٹ میں گل پلازہ پہنچ گیا تھا، ریمپ سے گاڑی اوپر لے گیا تھا دو گاڑیاں پہلے سے اوپر تھیں تیسری گاڑی میری تھی، اس وقت چاروں طرف آگ پھیل چکی تھی، فائر بریگیڈ ایک ہی پہنچی تھی اس کا بھی پانی ختم ہوگیا تھا اور دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی تھی۔
ڈرائیور ایاز نے کہا کہ دھواں بہت تھا لوگ تیزی سے باہر نکل رہے تھے، ریسکیو والے ہمیں دھکے دے رہے تھے کہ ہٹ جاؤ تم بھی جل جاؤ گے، آنکھوں میں دھواں بھر جاتا تھا، کسی ریسکیو والوں نے کوئی ماسک نہیں دیا، رمپا پلازہ سے لوگوں کا آنا جانا ہورہا تھا
ایک گھنٹے بعد آگ کی شدت میں اضافہ ہوگیا، کھڑکیاں تو اب بھی لگی ہوئی تھیں ہمیں کھڑکیاں نہیں توڑنے دے رہے تھے، ریسکیو والوں نے کہا یہ ہمارا کام ہے۔
چھیپا ڈرائیور نے مزید کہا کہ فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی تھی جس میں آٹھ سے دس افراد تھے، دوسری گاڑی ایک گھنٹے بعد آئی جب تک آگ پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی، لوگ کھڑکیوں میں پھنسے ہوئے تھے ایک ڈیڑھ دن تک لوگ زندہ رہے مگر ہمیں اندر نہیں جانے دیا گیا، 26 میں سے صرف دو گیٹ کھلے ہوئے تھے، میں جب پہنچا صرف پہلی منزل پر آگ لگی ہوئی تھی اور فائر بریگیڈ آگ بھجارہی تھی، اسنارکل بارہ بجے کے بعد آیا تھا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade