Today News
کراچی میں گیس کا بحران، طویل لوڈ شیڈنگ جاری
امریکا ایران جنگ کی وجہ سے قطر سے ایل این جی کی درآمد تعطل کا شکار ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گیس کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور گیس کی کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
شہر کے کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ گلشنِ اقبال، اسکیم 33، جمشید روڈ، شادمان ٹاؤن سمیت کئی علاقوں میں دوسرے روز بھی گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے۔
نشترروڈ، مارٹن کواٹرز، جہانگیرروڈ، عامل کالونی، لسبیلہ، کورنگی کے مختلف علاقوں میں بھی گیس بند پڑی ہے۔
جبکہ حکومت نے رمضان المبارک میں صبح سے 3 بجے سے رات 10 بجے تک بلاتعطل گیس کی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور قطر سے ایل این جی کی عدم فراہمی کے باعث مجموعی گیس صورتحال میں کافی ردوبدل کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
رمضان المبارک کے نصف روزوں تک جاری رہنے والا گیس شیڈول برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایس ایس جی سی کو گیس کی طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔
سپلائی میں کمی سے گیس کا لائن پیک کم ہورہا ہے۔ ایس ایس جی سی نے سحر، افطار اور دیگر اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کو ممکن بنانے کی نئی حکمت عملی پر غور شروع کردیا ہے۔
Today News
Sania Ashfaq exposes cricketer Imad Wasim’s hypocrisy
پاکستانی کرکٹ اور شوبز سے جڑی ایک اور کہانی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہے، جہاں عماد وسیم اور ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ایک بار پھر وائرل ہو رہا ہے۔
معروف کرکٹر عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے چھ سالہ ازدواجی زندگی کے بعد حال ہی میں علیحدگی اختیار کی۔ رپورٹس کے مطابق علیحدگی کی وجہ عماد وسیم کا انفلوئنسر نائلہ راجا سے تعلق اور نکاح بتایا جا رہا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے ان کے ساتھ تھیں۔
ثانیہ اشفاق اس وقت اپنے تین بچوں کی تنہا پرورش کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو والد کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں عماد وسیم نے اپنی بیٹی عنایا عماد کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی اینجل، بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘
تاہم اس پوسٹ کے جواب میں ثانیہ اشفاق نے بھی اپنی بیٹی کے نام پیغام جاری کیا جو خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا:
’’میری خوبصورت بیٹی کو پانچویں سالگرہ مبارک ہو۔ تم ایک ایسے بچپن کی مستحق ہو جو محبت، تحفظ اور استحکام سے بھرپور ہو۔ یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کہ عوامی سطح پر ’بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں‘ جیسے پیغامات دیے جا رہے ہیں، جبکہ نجی طور پر اداروں کو بتایا جا رہا ہے کہ ماں اور بچوں کو بے گھر پناہ گاہ میں بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ مالی معاونت بند کی جا رہی ہے۔ بچے صرف سوشل میڈیا پر لکھے گئے الفاظ کے نہیں، بلکہ حقیقی زندگی میں تحفظ، دیانت اور حفاظت کے حق دار ہوتے ہیں۔ جو بھی ہو، ماں ہمیشہ تمہارا تحفظ کرے گی اور ہر دن تمہیں محفوظ اور پیار کا احساس دلائے گی۔‘‘
ثانیہ کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔ بیشتر افراد ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور ننھی عنایا کو ڈھیروں دعاؤں اور نیک تمناؤں سے نوازا۔ کئی خواتین صارفین نے بھی ثانیہ کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کھل کر بات کر کے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔
Today News
زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 27 فروری کو 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں اور مجموعی ذخائر کی مالیت 21 ارب 43 کروڑ 39 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 13 کروڑ 39 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
Source link
Today News
روزے کی طبّی سائنس – ایکسپریس اردو
رمضان کے مقدس مہینے دنیا بھر کے تقریباً دو ارب مسلمان مسلسل تیس روزے رکھ کر اپنی جسمانی اور ذہنی طاقت کی حدود آزمانا شروع کرتے ہیں۔ زیادہ تر مسلمان اس بات سے تو آگاہ ہیں کہ پورے مہینے کے دوران صبح سے شام تک روزہ رکھنے سے بیش قیمت مذہبی و روحانی فوائد ملتے ہیں، لیکن انھیں کم ہی علم ہے کہ یہ روزے جسم اور دماغ پر کس قسم کے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔
طبی لحاظ سے دیکھا جائے تو روزہ ایسی جسمانی و روحانی حالت ہے جس میں ایک شخص مخصوص وقت تک کیلوریز یا حراروں کی کھپت سے گریز کرتا ہے۔ نتیجے میں اس کے میٹابولزم اور جسمانی افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ یاد رہے، فاقہ کشی کی مختلف اقسام ہیں جن میں تھراپیوٹک فاسٹنگ، انٹرمٹینٹ فاسٹنگ اور مذہبی روزہ شامل ہیں۔ ہر ایک کے اپنے مخصوص جسمانی و روحانی اثرات ہیں۔
ڈاکٹر محمد محروس کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال ریسرچ سینٹر، سعودی عرب میں کنسلٹنٹ اور کلینیکل ریسرچ سائنسدان ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ 30 دن تک روزہ رکھنے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔اس ضمن میں انھوں نے خاص تحقیق کی ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’’روزے کا پہلا بڑا فائدہ یہ ہے، وہ ہمارے نظام انہضام کے لیے آرام کا سنہرا وقت فراہم کرتا ہے ۔اس سے جسم کو اپنی مرمت اور زہریلے مادے دور کرنے یعنی ڈیٹاکسیفیکیشن پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجے میں جسم میں انسولین اور گلوکوز کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی ذخیرہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے جلنے کا عمل بڑھ جاتا ہے۔ جب گلیکوجن جو گلوکوز کی ذخیرہ شدہ شکل ہے، ختم ہو جاتا ہے تو جسم توانائی پانے کے لیے چربی پر انحصار کرتا اور اسے جلاتا ہے۔ یہ عمل ’’کیٹوسس‘‘(ketosis) کہلاتا ہے۔
درج بالا خصوصیات کے پیش نظر طبّی لحاظ سے روزہ اکثر حالات میں موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور میٹابولک بیماریوں کا علاج میں بہت مفید ہے۔ 2019 ء میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ یعنی روزہ رکھنے کا عمل انسانی جسم میں میٹابولزم بڑھاتا اور انسولین کی مزاحمت کم کرتا ہے جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس روکنے کا مؤثر طریقہ سامنے آتا ہے۔
ڈاکٹر محمد محروس بتاتے ہیں’’جب رمضان میں متوازن غذا تسلسل سے کھائی جائے، تو روزہ میٹابولک کارکردگی بڑھاتا ہے جو جسم کو فوائد بخشتی ہے۔ روزوں کے فوائد صرف اس صورت حاصل ہوتے ہیں جب روزہ رکھنے کے بعد متوازن اور صحت بخش غذا استعمال کی جائے۔‘‘ یاد رہے، روزہ کھولتے وقت غیر صحت بخش کھانوں کا زیادہ استعمال جیسے پروسیس شدہ چینی، ہائیڈروجنیٹڈ چکنائیاں اور فاسٹ فوڈ فوائد کم کرنے کے علاوہ صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
روزہ انسانی خلیوں کی تجدید اور صحت مند مدافعتی نظام کی بڑھوتری میں مدد دینے والے ایک خلویاتی عمل ’’آٹو فیگی‘‘(autophagy) کو بھی بڑھاتا ہے جیسا کہ جاپانی حیاتیات داں، یوشینوری اوہسومی کی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے۔ اسی تحقیق پر انھوں نے 2016 ء میں فزیالوجی یا طب کا نوبل انعام جیتا۔
اسلام میں روزے رکھنے کا عمل جس میں ایک مسلمان سورج نکلنے سے غروب ہونے تک تمام کھانے اور پینے سے پرہیز کرتا ہے، اپنی روحانی اور نفسیاتی گہرائی کے لیے ممتاز ہے۔اس ضمن میں ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے ’’یہ عمل خود پر قابو پانے کو فروغ دیتا ہے اور قوت ارادی مضبوط کرتا ہے … اس سے ذہنی صفائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ساتھ صحت کے لیے قیمتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔‘‘
ایک اہم سوال یہ ہے کہ 30 دن تک مسلسل روزہ رکھنے سے جسمانی ردعمل میں کیا فرق آتا ہے جب کہ مختصر مدت والے روزے کے دوران کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ اس ضمن میں محروس بتاتے ہیں’ایک دن روزے کے دوران جسم توانائی کے لیے ذخیرہ شدہ گلیکوجن استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس کے علاوہ انسولین کی سطح کم ہوتی ہے جس سے چربی کا جلنا آسان ہو جاتا ہے اور گروتھ ہارمونوں کا اخراج بڑھتا ہے جو بافتوں کی مرمت کرتے اور میٹابولزم بہتر بناتے ہیں ۔ اگرچہ خون میں شوگر کی سطح میں تبدیلیوں کی وجہ سے تھکاوٹ اور بھوک کے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں۔”‘‘
2021 ء میں جرنل آف نیوروسائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ مختصر مدت کے روزے سے ایک پروٹین’’ برین ڈیریو نیوروٹروفک فیکٹر‘‘ کی پیداوار ہوتی ہے جو ذہنی طاقت بہتر بناتا اور الزائمر جیسی خطرناک بیماریاں چمٹنے کا خطرہ کم کر سکتا ہے۔ محروس مزید کہتے ہیں، ایک دن کا روزہ بھی مضر صحت کولیسٹرول کی سطح کم کرتا اور بلڈ پریشر بہتر بناتا ہے جس سے دل کی بیماریاں جنم لینے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
’’جب ایک مسلمان متواتر 30 دن تک روزے رکھے تو اس کا جسم طویل مدتی انطباقی مرحلے(adaptation phase) میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے میٹابولک کارکردگی بڑھ جاتی ہے۔‘‘ محروس کا کہنا ہے۔ انسولین کی حساسیت میں بھی بہتری آتی ہے جس سے ذیابیطس قسم دوم چمٹنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ دائمی سوزش کی سطح کم ہو جاتی ہے جس سے دل اور مدافعتی نظام کی صحت میں بہتری آتی ہے۔تیس روزے آٹو فیگی کو بھی متحرک کر دیتے ہیں جس سے خراب شدہ خلیے ختم کرنے اور بافتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
2014 ء میں سیل اسٹیم سیل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزہ انسان کا مدافعتی نظام کا مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ یہ سفید خون کے خلیوں کی پیداوار بڑھاتا اور بیماریوں کے خلاف جسمانی مزاحمت میں اضافہ کرتا ہے۔اگر روزے کے بعد افطار میں متوازن غذا کھائی جائے تو بتدریج وزن کم ہو سکتا ہے۔
جہاں تک روزے کے ذہنی اور روحانی پہلوؤں کا تعلق ہے، اس سے بھی ممکنہ فوائد وابستہ ہیں۔ نفسیاتی طور پر روزے منفی عادات اور رویّوں پر قابو پانے کی بہتر صلاحیت کو فروغ دیتے ہیں۔روزے رکھنے سے ’’اسٹریس ہارمون‘‘ کورٹیزول کے اخراج میں کمی آتی ہے۔اس وجہ سے ذہنی دباؤ اور اضطراب کم ہو جاتا ہے اور انسان کو کامیابی اور خود پر قابو پانے کا احساس ملتا ہے۔
روحانی طور پر روزہ خود احتسابی اور ذہنی صفائی کے عمل میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔رکھنے والے میں شکرگزاری اور قدر کا احساس پیدا کرتا ہے۔ صبر کی دولت عطا کرتا اور ذاتی عادات کا دوبارہ جائزہ لینے اور بہتری لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ڈاکٹر محروس کہتے ہیں ’’ یاد رہے، تاہم روزہ کچھ مخصوص حالات میں نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ جب جسم کو ضروری مائعات اور غذائیت سے دوبارہ نہ بھرا جائے تو اس سے پانی اور وٹامن کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔اسی طرح افطار کے وقت زیادہ کھانا کھانا اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال وزن میں اضافے اور میٹابولک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔‘‘
’’روزہ ایک پیچیدہ فزیولوجیکل عمل ہے جو جسمانی، نفسیاتی اور روحانی صحت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر محروس کا کہنا ہے۔ ’’تاہم اس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے روزہ رکھنے کے بعد صحت مند غذا استعمال کرنا ضروری ہے۔ خراب غذائی عادات روزوں سے حاصل شدہ فوائد الٹ سکتی ہیں یا ناپسندیدہ ضمنی اثرات کا سبب بنتی ہیں۔‘‘اس کے علاوہ جو لوگ دائمی بیماریوں جیسے ذیابیطس یا بلند فشار خون میں مبتلا ہیں، انہیں روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے، محروس مشورہ دیتے ہیں۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade