Connect with us

Today News

کراچی؛ ٹرمپ، نیتن یاہو  اور مودی  کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد

Published

on



کراچی:

کراچی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ہبۃ اللہ اخوندزادہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست عدالت نے مسترد کردی۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ سید احمد یوسف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ہبۃ اللہ اخوندزادہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل جعفر عباس جعفری ایڈووکیٹ کے دلائل اور پولیس رپورٹ سننے کے بعد درخواست مسترد کردی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2 بار تھانے جا کر درخواست جمع کروائی مگر وصول نہیں ہوئی ۔ پولیس کو حکم دیا جائے کہ درخواست لے کر بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔

وکیل نے کہا کہ پی پی سی کی سیکشن 125 کے تحت یہ سزا کے لائق جرم ہے اور یہ جنگ پاکستان کے لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر پڑوس میں کوئی دہشت گردی ہو تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جن کے خلاف درخواست ہے کیا وہ پاکستانی اور پاکستان میں موجود ہیں۔ بین الاقوامی سربراہان کے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔  مطمئن کریں کہ پی پی سی کس طرح کسی دوسرے ملک کے شہری پر  لاگو ہوسکتی ہے؟۔

عدالت نے کہا کہ آپ بین الاقومی عدالت انصاف میں جائیں وہاں ایسی استدعا کریں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں صرف حکومت جاسکتی ہے۔ اس جنگ سے پاکستان کے لاکھوں لوگ پریشان ہیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی ڈاکس پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ وکلا غیر ملکی سربراہوں کیخلاف مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ غیر ملکی سربراہوں نے ہمارے علاقے میں دہشتگردی کی ہو۔ اس درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

mobile phones banking cyber attacks increased 56 percent in 2025

Published

on


سائبر سیکیورٹی کمپنی نے ملک میں گزشتہ برس (2025) کے دوران اینڈرائیڈ فونز کے ذریعے بینکاری پر سائبر حملوں میں 56 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی  کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز پر بینکاری معلومات چوری کرنے والے میلویئر حملوں میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں 56 فیصد اضافہ ہوا، یہ خطرناک سافٹ ویئر آن لائن بینکاری، الیکٹرانک ادائیگی کی خدمات اور کریڈٹ کارڈ نظام سے صارفین کی خفیہ معلومات چوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سائبر مجرم عموماً ایسے میلویئر کو پیغام رسانی کی ایپس اور نقصان دہ ویب صفحات کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔

کیسپرسکی  کی رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ کے لیے اس میلویئر کی نئی تنصیب فائلوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھی اور دو لاکھ 55 ہزار 90 تک پہنچ گئی ہے جو 2024 کے مقابلے میں 271 فیصد زیادہ ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ سائبر مجرموں کے لیے بہت زیادہ مالی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

کیسپرسکی میں میلویئر تجزیہ کار ٹیم کے سربراہ اینٹون حیفا کے مطابق اسمارٹ فونز کے لیے بینکاری معلومات چوری کرنے والا میلویئر تیزی سے بڑھ رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اور تشویش ناک رجحان بھی سامنے آیا ہے، پہلے سے نصب خفیہ رسائی کے پروگرام جیسے ٹریاڈا اور کینادو اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض اوقات لوگ نیا اینڈرائیڈ فون خریدتے ہیں لیکن وہ پہلے ہی میلویئر سے متاثر ہوتا ہے اور صارف کو اس کا علم نہیں ہوتا جب ایسے پروگرام ڈیوائس کے بنیادی نظام میں شامل ہو جائیں تو حملہ آور متاثرہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں، جس سے فون میں موجود تمام معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے میلویئر کو ختم کرنا بھی کافی مشکل ہوتا ہے۔

کیسپرسکی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ ایپس صرف سرکاری ایپ اسٹورز جیسے  ایپل سٹور اور  گوگل پلے سے ہی حاصل کریں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری اسٹورز سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا بھی ہمیشہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔

مزید بتایا کہ اس کے علاوہ قابل اعتماد سیکیورٹی سافٹ ویئر جیسے کیسپرسکی پریمئیم  استعمال کریں، ایپس کو دی جانے والی اجازت کا بغور جائزہ لیں اور اپنے موبائل نظام اور اہم ایپس کو باقاعدگی سے  اپڈیٹ حالت میں رکھیں کیونکہ اکثر حفاظتی مسائل تازہ سافٹ ویئر نصب کرنے سے حل ہو جاتے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران اسرائیل جنگ کے کشیدہ ماحول میں نارتھ کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی میمز وائرل

Published

on



ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جہاں عالمی سیاست میں ہلچل مچادی ہے، وہیں سوشل میڈیا صارفین نے اس صورتحال کو طنز و مزاح کا رنگ دیتے ہوئے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن کو بھی بحث میں گھسیٹ لیا ہے۔

حالیہ دنوں مختلف پلیٹ فارمز پر کم جونگ اُن سے متعلق دلچسپ اور طنزیہ میمز تیزی سے وائرل ہورہی ہیں۔ یہ میمز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شدید فوجی کارروائیوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اس تنازعے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اس ساری صورت حال میں سوشل میڈیا صارفین نے کم جونگ اُن کو ایک الگ زاویے سے پیش کیا ہے۔

"Did he just say launch, it was was lunch sir, lets check well"😂😂😂 pic.twitter.com/bi2dBHdZ8r
— Kl@xon🦅 (@lonelylonerk) March 2, 2026

اگرچہ موجودہ تنازع براہِ راست ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان ہے، مگر انٹرنیٹ پر کم جونگ اُن کو ایک ایسے ’’تماشائی‘‘ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو عالمی ہنگامہ آرائی کو دور بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں۔ بعض میمز میں انہیں ’’فومو‘‘ یعنی موقع گنوانے کے خوف میں مبتلا مبصر کے طور پر پیش کیا گیا ہے، گویا وہ عالمی منظرنامے سے باہر رہ جانے پر پریشان ہوں۔

"Sir, still no missiles headed our direction"

"Refresh it again" pic.twitter.com/DLY81nWkXp
— First Of His Name (@SoupLorrd) March 2, 2026

کئی صارفین نے طنزیہ انداز میں یہ بھی لکھا کہ میزائل تجربات اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کے لیے مشہور رہنما اس وقت عالمی میدانِ جنگ سے مکمل طور پر غائب ہیں۔

ایک وائرل میم میں کم جونگ اُن کو دوربین سے دیکھتے ہوئے یا اسکرین پر نظریں جمائے دکھایا گیا ہے، جس کے ساتھ کیپشن درج ہے: ’’بیٹا، کیا تم صورتحال کی نگرانی کر رہے ہو؟‘‘ اس انداز نے انہیں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو فاصلے سے دیکھنے والے متجسس ناظر کے طور پر پیش کیا ہے۔

Everyone is scared of Kim Jong Un expect his tailor 😭 pic.twitter.com/Edc33WKbC4
— TOIS🌴 (@sammie_boi20) March 1, 2026

اسی طرح بعض میمز میں یہ تاثر دیا گیا کہ جدید ہتھیاروں کے ’’بہترین کھلونوں‘‘ کے باوجود انہیں موجودہ کشیدگی میں شامل نہ کیے جانے پر شاید نظر انداز کیے جانے کا احساس ہو رہا ہوگا۔ سوشل میڈیا کی یہ تخلیقی مگر طنزیہ لہر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاسی بحران بھی آن لائن دنیا میں مزاحیہ انداز اختیار کر لیتے ہیں۔

Kim Jong Un when one missile mistakenly lands in North Korea pic.twitter.com/xnoFSKTyl0
— Katatumba (@ninyeKatatumba) March 2, 2026

 



Source link

Continue Reading

Today News

Sania Ashfaq exposes cricketer Imad Wasim’s hypocrisy

Published

on


پاکستانی کرکٹ اور شوبز سے جڑی ایک اور کہانی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہے، جہاں عماد وسیم اور ان کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ایک بار پھر وائرل ہو رہا ہے۔

معروف کرکٹر عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے چھ سالہ ازدواجی زندگی کے بعد حال ہی میں علیحدگی اختیار کی۔ رپورٹس کے مطابق علیحدگی کی وجہ عماد وسیم کا انفلوئنسر نائلہ راجا سے تعلق اور نکاح بتایا جا رہا ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے ان کے ساتھ تھیں۔

ثانیہ اشفاق اس وقت اپنے تین بچوں کی تنہا پرورش کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو والد کی جانب سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں عماد وسیم نے اپنی بیٹی عنایا عماد کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی اینجل، بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘

تاہم اس پوسٹ کے جواب میں ثانیہ اشفاق نے بھی اپنی بیٹی کے نام پیغام جاری کیا جو خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا: 

’’میری خوبصورت بیٹی کو پانچویں سالگرہ مبارک ہو۔ تم ایک ایسے بچپن کی مستحق ہو جو محبت، تحفظ اور استحکام سے بھرپور ہو۔ یہ دیکھنا تکلیف دہ ہے کہ عوامی سطح پر ’بابا آپ سے بہت محبت کرتے ہیں‘ جیسے پیغامات دیے جا رہے ہیں، جبکہ نجی طور پر اداروں کو بتایا جا رہا ہے کہ ماں اور بچوں کو بے گھر پناہ گاہ میں بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ مالی معاونت بند کی جا رہی ہے۔ بچے صرف سوشل میڈیا پر لکھے گئے الفاظ کے نہیں، بلکہ حقیقی زندگی میں تحفظ، دیانت اور حفاظت کے حق دار ہوتے ہیں۔ جو بھی ہو، ماں ہمیشہ تمہارا تحفظ کرے گی اور ہر دن تمہیں محفوظ اور پیار کا احساس دلائے گی۔‘‘

ثانیہ کے اس بیان کو سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے سراہا ہے۔ بیشتر افراد ان کے مؤقف کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور ننھی عنایا کو ڈھیروں دعاؤں اور نیک تمناؤں سے نوازا۔ کئی خواتین صارفین نے بھی ثانیہ کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کھل کر بات کر کے ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending