Connect with us

Today News

عراق؛ بارود سے بھری کشتی کا تیل بردار جہاز پر خودکش حملہ؛ خوفناک دھماکا

Published

on


خلیج کے پانیوں میں ایک سنگین بحری واقعے میں بارودی مواد سے بھری ایک چھوٹی کشتی عراقی ساحل کے قریب لنگر انداز تیل بردار جہاز سے ٹکرا گئی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ عراقی سمندری حدود میں پیش آیا جہاں بہاماس کے جھنڈے والا خام تیل بردار ٹینکر سونانگول نامیبی لنگر انداز تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹینکر کو نشانہ بنانے کے لیے دھماکہ خیز مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی استعمال کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق چھوٹی کشتی تیز رفتاری سے ٹینکر کی جانب بڑھی اور اس سے ٹکرانے کے فوراً بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گئی۔

دھماکے کے نتیجے میں جہاز کے ایک حصے کو نقصان پہنچا جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عملے کے ارکان محفوظ رہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بارود بھری کشتی کس مقصد کے لیے آئل ٹینکر سے ٹکرائی گئی اور کس نے ایسا کیا۔ کسی گروپ تاحال ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشتی ایرانی ساختہ یا ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے استعمال کی گئی ہوسکتی ہے تاہم ابھی تک باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

بحری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

یتامی ٰ کفالت کی فضیلت

Published

on


یتیم کے حقوق پر دین اسلام نے بہت زور دیا ہے۔ اس کا اندازہ آیت قرآن مجید و احادیث مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف مواقع پر یتیم کا ذکر کیا گیا ہے جن میں یتیموں کے ساتھ حسن سلوک، اُن کے اموال کی حفاظت اور اُن کی دیکھ بھال کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اور اُن پر ظلم و زیادتی کرنے والے، ان کے حقوق و مال غصب کرنے والے کے لیے سخت وعیدات بیان کی گئی ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)

افسوس! لوگ اس کی بھی پروا نہیں کرتے۔ عموماً یتیم بچے اپنے تایا، چچا وغیرہ کے ظلم و ستم کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اِس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔

دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے، مفہوم: ’’جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں داخل کیے جائیں گے اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔‘‘ (النساء)

اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’اور یہ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجیے کہ ان کی خیر خواہی کرنا بہتر ہے اور اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمھارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ بد نیّت اور نیک نیّت ہر ایک کو خوب جانتا ہے، اوراگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اﷲ غالب اور حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

جس کے زیر سایہ کوئی یتیم ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس یتیم کی اچھی پرورش کرے۔ اَحادیث مبارکہ میں یتیم کی پرورش اور اس سے حسن سلوک کے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔

حضرت عبداﷲ بن عباسؓ سے روایت ہے، امامْ الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’جس نے مسلمانوں کے کسی یتیم بچے کے کھانے پینے کی ذمے داری لی، اﷲ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘

رسول اکرم ﷺ نے تو یتیم کی کفالت کرنے کو جنت میں اپنے ساتھ ہونے کی بشارت سے نوازا ہے کہ وہ جنت میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ یتیم اس کا رشتے دار ہو یا غیر، جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں۔‘‘ (مسلم شریف)

امام مالکؒ نے اس حوالے سے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔ بچہ اپنی ہر ضرورت کے لیے ماں باپ کا محتاج ہوتا ہے۔ اگر وہ ماں باپ کے سہارے سے محروم ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ بے بس و بے کس شاید ہی اور کوئی ہو۔ چناں چہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی یتیم کی ذمے داری اٹھاتا اور اُس کی کفالت کرتا ہے، وہ اﷲ کی نظر میں اتنا پسندیدہ عمل کرتا ہے کہ اسے جنت میں میرا ساتھ اس طرح میسر ہوگا جیسے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔ (مسند احمد)

رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادِ گرامی کا مفہوم ہے: ’’مسلمانوں کا بہترین گھر وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، جس کے ساتھ اچّھا سلوک کیا جاتا ہو، اور مسلمانوں کا بدترین گھرانہ وہ ہے، جس میں کوئی یتیم (زیرِ کفالت) ہو، مگر اُس کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)

ہمارے نبی کریم ﷺ کو عام بچوں سے بھی پیار تھا لیکن یتیموں کے ساتھ جو محبت آپ کو تھی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپؐ نے خود دور یتیمی دیکھا تھا اس لیے آپ ﷺ یتیم کو زیادہ توجہ دیتے اور دلاتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یتیم بچوں کے بے سہارا ہونے کی وجہ سے دین اسلام ان کی محبت، دیکھ بھال اور انھیں خوش رکھنے کی زیادہ تاکید کرتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

ٹیکسٹائل مل کے ملازم کی برطرفی کا کیس، حق آنے والا فیصلہ تحریری حکم نامے میں کالعدم

Published

on



کراچی کی ٹیکسٹائل مل کے ملازم نے ساڑھے چھ کروڑ روپے کی ڈگری کا فیصلہ اپنے میں آنے اور تحریری حکم میں اسے کالعدم قرار دینے کے خلاف محکمہ لیبر میں درخواست دائر کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لیبر کمشنرکی جانب سے ٹیکسٹائل مل ملازم کے حق میں ساڑھے چھ کروڑروپے کی ڈگری کا فیصلہ دے کر تحریری حکم میں فیصلہ کالعدم قراردینے کے معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کردیاگیا۔

فیکٹری ملازم نے فیصلہ سنانے والے کمشنرپرمبینہ کرپشن کا الزام لگا کراینٹی کرپشن کوبھی درخواست دے دی۔

کورنگی میں واقع ٹیکسٹائل مل کے ملازم محمد امجد اعوان نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے بعد 3 اکتوبر2024 کولیبرکمشنرکورٹ میں درخواست دی کہ اسے غیرقانونی طورپربرطرف کیا گیا، بونس کی ادائیگی، اوورٹائم اورچھٹیاں نہ کرنے کے واجبات بھی نہیں دئے۔

ملازم کی درخواست پر گریڈ انیس کے افسر،کمشنر عبدالصمد سومرونے کیس کی سماعت کی اورچوبیس دسمبر2025 کو ملازم کے حق میں فیکٹری مالک کو چھ کروڑ اٹھتالیس لاکھ ادا کرنے کی ڈگری کا فیصلہ دیا۔

درخواست گزارکا موقف ہے کہ اس دن تحریری حکم نہیں ملا جبہک کمشنر نے فیصلہ زبانی سنایاگیا، مجھے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پیش کارچھٹی پرہے ایک ہفتے بعد حکم کی تصدیق شدہ کاپی لے جانا تاہم تحریری حکم جب ملاتو وہ فیصلے سے بالکل مختلف تھا۔

درخواست گزار کے مطابق تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ میری درخواست خارج ہوچکی ہے جبکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں لہذا ملازم شخص کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتا۔

امجد اعوان نے اس معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کیا جبکہ ڈی جی لیبرکے نام درخواست میں فیکٹری ملازم نے الزام لگایا کہ فیصلہ ٹائپ کرکے کمپنی کے مالک کوواٹس ایپ پربھیجا گیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے مالک نے وہی آرڈرمجھے واٹس ایپ کیا، کال پرمجھے دھمکیاں دیں اورکال پریہ بھی کہا کہ عبدالصمد سومروصاحب کہہ چکے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو،میں تمہارا راضی نامہ کرادوں گا، کیا حکم بدعنوانی کے ذریعے تبدیل کیاگیا؟

فیکٹری ملازم نے اس سلسلے میں انکوائری کے لئے اینٹی کرپشن بھی تحریری درخواست دے دی۔

 اس معاملے پرجوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومروکا موقف ہے کہ امجد اعوان کی شکایت پر ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا جو متفرق درخواست پر ان کے حق میں تھا تاہم شکایت کنندہ  کیس کے ابتدائی مرحلے پر ہی بہت بڑی رقم کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

Video of Jawad Ahmed’s aggressive behavior goes viral, Mishi Khan and Imran Abbas react strongly

Published

on


معروف گلوکار اور ’برابری پارٹی‘ کے بانی جواد احمد ایک بار پھر اپنے رویے کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ ماضی میں اپنی گائیکی کے باعث پہچانے جانے والے جواد احمد اب اکثر کیمروں کے سامنے سخت اور متنازع بیانات دینے کے باعث زیرِ بحث رہتے ہیں۔ وہ متعدد بار معروف سیاسی شخصیات، ساتھی فنکاروں اور دیگر مشہور افراد پر تنقید کرتے دکھائی دیے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا، جہاں گفتگو کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان کا ذکر آیا۔ پروگرام کے میزبان عمیر بشیر نے عمران خان کے سوشل میڈیا فالوورز اور مقبولیت کا حوالہ دیا تو جواد احمد برہم ہو گئے۔

وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جواد احمد اینکر پر برس پڑے، بلند آواز میں بات کی اور بالآخر پروگرام ادھورا چھوڑ کر اسٹوڈیو سے چلے گئے۔ غصے کی حالت میں انہوں نے عملے سے یہ تک کہہ دیا کہ میزبان کو کمرے سے باہر نکال دیا جائے۔ انہوں نے صحافی کو ’بے وقعت‘ اور ’غیر پیشہ ور‘ بھی قرار دیا۔

انٹرویو کے مختصر کلپس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں اور جواد احمد کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ اداکار عمران عباس نے انسٹاگرام پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ وہ اینکر کے صبر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس رویے کو برداشت کیا۔

اسی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے مشی خان نے بھی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ’سائیکو‘ کا کوئی چہرہ ہوتا تو اینکر کو آسکر ملنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین بھی جواد احمد کے رویے پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ متعدد افراد نے ان کے طرزِ عمل کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں طبی مدد کی ضرورت ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ وہ لیڈر بننے کے خواب تو دیکھتے ہیں مگر پہلے انہیں انسان بننے کی ضرورت ہے، جبکہ دیگر نے رائے دی کہ بے جا نفرت اور عناد انسان کو ذہنی طور پر بیمار کر دیتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending