Connect with us

Today News

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ

Published

on



اسلام آباد:

پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے قائم کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا ہے کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے خطے کی صورتحال کے تناظر میں قومی سطح پر تیاریوں اور اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم مصنوعات کے لیے مناسب مقدار میں ذخیرہ دستیاب ہے، اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے فوری طور پر تشویش کی کوئی وجہ نہیں ہے، صورتحال بدستور غیر یقینی اور متغیر ہے، جس کے باعث مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے، عالمی سپلائی چینز اور بحری راستے بڑھتے ہوئے خطرات اور لاگت کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اجلاس کو بین الاقوامی تیل منڈی کی صورتحال، عالمی تیل منڈی میں نرخوں کے اتار چڑھاؤ، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بحری راستوں میں تبدیلی اور اہم گزرگاہوں پر سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ وار پریمیم کے باعث عالمی توانائی منڈی میں لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کے لیے بڑھتا مقابلہ برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

کمیٹی نے سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ دوست ممالک اور سپلائر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری ہیں ایسے راستوں کی کوششیں جارہی جو زیادہ خطرناک سمندری گزرگاہوں سے باہر ہوں۔

کمیٹی نے شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا جن کے ذریعے وقت کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، پٹرولیم مصنوعات کی رسد برقرار رکھنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی غور کیا گیا، صوبائی حکومتوں کی جانب سے اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے مشترکہ نفاذی کارروائیوں پر زور دیا گیا۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ سرحد پار اسمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی، فیلڈ انٹیلی جنس کی مدد سے مسلسل نگرانی اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا اولین مقصد ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے، حکومت ایک منظم گورننس نظام کے تحت صورتحال کو ذمہ داری کے ساتھ سنبھال رہی ہے، حکومت  روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، منصوبہ بندی اور مربوط فیصلے کررہی ہے، اگر عالمی قیمتوں میں تبدیلیوں کے باعث ناگزیر دباؤ پیدا ہوا تو حکومت قائم شدہ اور قابل پیش گوئی نظام کے تحت ردعمل دے گی ، ایسا اس لیے ضروری ہو گا تاکہ مارکیٹ میں بگاڑ سے بچا جا سکے اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمد و رفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز سے متعقل امور  بھی زیر غور آئے۔

شرکا نے کہا کہ اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کیے جائیں، ترجیحی شعبوں کا تحفظ اور منڈی کا نظم برقرار رکھا جائے۔

اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی اپنی سفارشات کل تک حتمی شکل دے کر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ کمیٹی سفارشات کے ساتھ ایک جامع عمل درآمدی منصوبہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔

منصوبے میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کی یقین دہانی اور مؤثر نفاذی اقدامات شامل ہوں گے، قیمتوں کے تعین اور گورننس کے نظام کو مستحکم بنانے کی تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی، ضرورت پڑنے پر ایندھن کے تحفظ اور استعمال میں بچت کے اقدامات بھی شامل کیے جائیں گے۔

صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے کمیٹی نے روزانہ اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور طے کیا کہ پیٹرولیم ذخائر اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا،  متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا تنویر حسین، جام کمال وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی سیکریٹریز، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور سینئر سیکریٹریز سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ

Published

on


1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔

اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔

طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔

جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔

ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔

1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔

صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی والوں کیلئے اچھی خبر، مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ کا ایک ٹریک چند دن میں کھولنے کا اعلان کر دیا

Published

on



کراچی:

میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے جہانگیر روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا اور شہریوں کے لیے اچھی خبر دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ایک ٹریک کو آئندہ چند دنوں میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے۔

معائنے کے دوران میئر کراچی نے کہا کہ انہیں عوام کو درپیش مشکلات اور تکالیف کا مکمل اندازہ ہے، اسی لیے وہ ہر ہفتے خود ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے آتے ہیں تاکہ کام کی رفتار کو تیز رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پورا شہر ان کی ذمہ داری ہے اور اس وقت کراچی کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جو ان کی جماعت کی قیادت اور چیئرمین سے کیے گئے وعدوں کے مطابق مکمل کیے جا رہے ہیں۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں شہر بھر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے اور اب ہر کام شفافیت اور عوامی جوابدہی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اگر کام میں سستی ہوئی تو ایسے افسران کی ضرورت نہیں، وہ کوئی اور کام تلاش کر لیں۔

میئر کراچی نے مزید اعلان کیا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی آئندہ بجٹ کی تیاری کے لیے عوام سے براہِ راست تجاویز بھی حاصل کرے گی تاکہ شہریوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کی جا سکے۔

بعد ازاں میئر کراچی نے سر غلام حسین ہدایت اللہ روڈ پر جاری کارپٹنگ کے کام کا بھی دورہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر ڈی جی ٹی ایس بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔





Source link

Continue Reading

Today News

چینی کمپنی کی 10ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی

Published

on



اسلام آباد:

چینی ایرو اسپیس کمپنی نے پاکستان میں 5 سے 10 ارب ڈالر مالیت تک کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کر دی۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ سے چینی کمپنی ایرو اسپیس ڈیولپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد نے لو جنہائی کی قیادت میں ملاقات کی۔

وفد نے پاکستان میں 5 تا 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی۔چینی وفد نے معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو خواہش کا اظہار کیا۔ 

انھوں نے پاکستان میں ہنر مندی کی ترقی کے پروگراموں پر کام کرنے اور ملک کی اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں طویل المدتی شراکت کے اپنے وژن پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر نے چینی وفد کو سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کرینگے ۔





Source link

Continue Reading

Trending