Today News
ٹیکسٹائل مل کے ملازم کی برطرفی کا کیس، حق آنے والا فیصلہ تحریری حکم نامے میں کالعدم
کراچی کی ٹیکسٹائل مل کے ملازم نے ساڑھے چھ کروڑ روپے کی ڈگری کا فیصلہ اپنے میں آنے اور تحریری حکم میں اسے کالعدم قرار دینے کے خلاف محکمہ لیبر میں درخواست دائر کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لیبر کمشنرکی جانب سے ٹیکسٹائل مل ملازم کے حق میں ساڑھے چھ کروڑروپے کی ڈگری کا فیصلہ دے کر تحریری حکم میں فیصلہ کالعدم قراردینے کے معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کردیاگیا۔
فیکٹری ملازم نے فیصلہ سنانے والے کمشنرپرمبینہ کرپشن کا الزام لگا کراینٹی کرپشن کوبھی درخواست دے دی۔
کورنگی میں واقع ٹیکسٹائل مل کے ملازم محمد امجد اعوان نے اپنی ملازمت سے برطرفی کے بعد 3 اکتوبر2024 کولیبرکمشنرکورٹ میں درخواست دی کہ اسے غیرقانونی طورپربرطرف کیا گیا، بونس کی ادائیگی، اوورٹائم اورچھٹیاں نہ کرنے کے واجبات بھی نہیں دئے۔
ملازم کی درخواست پر گریڈ انیس کے افسر،کمشنر عبدالصمد سومرونے کیس کی سماعت کی اورچوبیس دسمبر2025 کو ملازم کے حق میں فیکٹری مالک کو چھ کروڑ اٹھتالیس لاکھ ادا کرنے کی ڈگری کا فیصلہ دیا۔
درخواست گزارکا موقف ہے کہ اس دن تحریری حکم نہیں ملا جبہک کمشنر نے فیصلہ زبانی سنایاگیا، مجھے یہ بھی ہدایت کی گئی کہ پیش کارچھٹی پرہے ایک ہفتے بعد حکم کی تصدیق شدہ کاپی لے جانا تاہم تحریری حکم جب ملاتو وہ فیصلے سے بالکل مختلف تھا۔
درخواست گزار کے مطابق تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ میری درخواست خارج ہوچکی ہے جبکہ میں ریٹائرڈ ہوچکا ہوں لہذا ملازم شخص کی تعریف کے زمرے میں نہیں آتا۔
امجد اعوان نے اس معاملے کومحکمہ لیبرمیں چیلنج کیا جبکہ ڈی جی لیبرکے نام درخواست میں فیکٹری ملازم نے الزام لگایا کہ فیصلہ ٹائپ کرکے کمپنی کے مالک کوواٹس ایپ پربھیجا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے مالک نے وہی آرڈرمجھے واٹس ایپ کیا، کال پرمجھے دھمکیاں دیں اورکال پریہ بھی کہا کہ عبدالصمد سومروصاحب کہہ چکے ہیں کہ تم پریشان نہ ہو،میں تمہارا راضی نامہ کرادوں گا، کیا حکم بدعنوانی کے ذریعے تبدیل کیاگیا؟
فیکٹری ملازم نے اس سلسلے میں انکوائری کے لئے اینٹی کرپشن بھی تحریری درخواست دے دی۔
اس معاملے پرجوائنٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سومروکا موقف ہے کہ امجد اعوان کی شکایت پر ایک عدالتی حکم جاری کیا تھا جو متفرق درخواست پر ان کے حق میں تھا تاہم شکایت کنندہ کیس کے ابتدائی مرحلے پر ہی بہت بڑی رقم کا دعویٰ کر رہے ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔
Source link
Today News
لاہور، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گینگ گرفتار
لاہور:
ہنی ٹریپ کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق نجی یونیورسٹی کے طالب علم ریاض حسین کے بیان پر مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے ویڈیو کال کے دوران ایک لڑکی کی برہنہ ویڈیو چلا کر اس کی ویڈیو ریکارڈ کر لی اور بعد ازاں اسے اہلخانہ اور دیگر لوگوں کو بھیجنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔
مدعی کے مطابق ملزمان مسلسل رقم کا مطالبہ کرتے رہے اور دباؤ ڈال کر اس سے 40 ہزار روپے بھی وصول کیے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہنی ٹریپ گینگ میں ایک خاتون سمیت تین ملزمان شامل ہیں۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے ایس پی صدر ڈویژن کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک دیا۔
ایس پی صدر ڈویژن رانا حسین طاہر کی نگرانی میں ایس ایچ او ٹاؤن شپ عدنان رشید اور پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مصباح، اسد اور احمد نامی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ مصباح فیس بک پر نوجوانوں کو ٹارگٹ کر کے ویڈیو کال کرتی تھی جبکہ دیگر ساتھی ویڈیو کال کے دوران برہنہ ویڈیو چلا کر متاثرہ شخص کی ویڈیو ریکارڈ کر لیتے تھے۔ بعد ازاں ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر رقم وصول کی جاتی تھی۔
ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے متعدد افراد کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔
Today News
بجلی سبسڈی کیلیے ایک کھرب منظوری کی کوشش، آئی ایم ایف کا اعتراض
اسلام آباد:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی جانب سے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
اس رقم میں 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
بجلی کے شعبے میں مسلسل مالی خسارے اور ہر سال بھاری بجٹ مختص کیے جانے سے حکومت کا یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کی مد میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہوں گے، جو رواں سال کے مقابلے میں 11 فیصد یا تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہیں۔
یہ اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو حکومت بجلی صارفین سے کراس سبسڈی کے نام پر وصول کرتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بجٹ تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سبسڈی کی رقم کو موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھا جائے۔
پاور ڈویڑن کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی اور گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیوں کے باعث اضافی سبسڈی درکار ہوگی، خاص طور پر اس لیے کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے صرف وزارت خزانہ ہی آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت پر موقف دے سکتی ہے۔
موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف گردشی قرضے کے بہائو کی اجازت تو دے رہا ہے لیکن ایک مقررہ حد کے اندر۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رہے، جو رواں سال کی سطح سے بھی کم ہو۔
گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کے اخراجات ٹیرف میں شامل نہیں کیے جاتے بلکہ وزارت خزانہ انھیں سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔
تاہم یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں،گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔وزیر توانائی نے میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے۔
تاہم ذرائع کے مطابق سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں آئی ایم ایف کے سوال کا پاور ڈویڑن کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے بورڈ ممبران کی تقرری کے عمل میں ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔
حکومت نے گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی حاصل کیا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گردشی قرضے کے بہائو کو 2031 سے پہلے صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔
Today News
بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ
1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔
اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔
طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔
جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔
ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔
1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔
صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade