Connect with us

Today News

انفاق فی سبیل اﷲ – ایکسپریس اردو

Published

on


رمضان کی فضا میں ایک عجیب سی نرمی ہوتی ہے، دل خود بہ خود جھکنے لگتا ہے، آنکھیں رب تعالی کی بارگاہ میں بھیگ جاتی ہیں اور انسان کو پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی اصل دولت وہ نہیں جو ہاتھ میں ہے بلکہ وہ ہے جو اﷲ کی راہ میں دے دی جائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جہاں انفاق فی سبیل اﷲ محض ایک عمل نہیں رہتا بلکہ ایمان کی دھڑکن بن جاتا ہے، دل یہ مان لیتا ہے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ میرا نہیں بلکہ میرے رب کی امانت ہے، اور اسی امانت میں سے راہ خدا دینا ہی دراصل نجات کا راستہ ہے۔

قرآن مجید انفاق فی سبیل اﷲ کو ایمان کی پہچان قرار دیتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اپنے مال اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلتی ہیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں اور اﷲ جس کے لیے چاہے اس سے بھی زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ انفاق کبھی گھاٹا نہیں بلکہ کئی گنا نفع ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضایع نہ کرو، یعنی خیرات اس وقت عبادت بنتی ہے جب اس میں عاجزی اور خلوص ہو۔ اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ تم ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک وہ چیز اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ آیت انسان کے نفس پر ضرب لگاتی اور بتاتی ہے کہ اصل انفاق وہ ہے جو دل پر بھاری ہو، قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ خوش حالی اور تنگی دونوں حال میں خرچ کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔ یعنی انفاق حالات کا محتاج نہیں بلکہ یقین کا محتاج ہے، سورۃ حدید میں اﷲ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کون ہے جو اﷲ کو قرض حسن دے تاکہ اﷲ اسے کئی گنا بڑھا دے، یہاں ربِ کائنات بندے سے مانگ نہیں رہا بلکہ اسے عزت دے رہا ہے کہ اس کے نام پر دیا جائے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے اﷲ اسے جانتا ہے اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ اور یہ اعلان بھی ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے جب کہ اﷲ تم سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، گویا مال روکنا فتنہ ہے اور خرچ کرنا حفاظت ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ان آیات کو زندگی بنا کر دکھایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اﷲ اس میں برکت ڈال دیتا ہے۔ ایک اور صحیح حدیث میں ہے کہ ہر دن دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک دعا کرتا ہے کہ اے اﷲ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اﷲ! روکنے والے کے مال کو ہلاکت دے۔ رسول اﷲ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال حالاں کہ اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے کھا لیا، پہن لیا یا اﷲ کی راہ میں دے کر آگے بھیج دیا۔

آپ ﷺ نے بتایا کہ صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن صدقہ بندے کے لیے سایہ بنے گا۔ رمضان کے بارے میں حضرت ابن عباسؓ گواہی دیتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی سخاوت تیز ہوا سے بھی زیادہ ہوتی تھی۔ زکوٰۃ کے بارے میں آپ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ جس مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کی جاتی وہ قیامت کے دن عذاب کا سبب بنے گا، جب کہ زکوٰۃ دینے والے کے مال کو پاکیزگی اور بڑھوتری عطا کی جاتی ہے۔ فطرہ کو آپ ﷺ نے روزوں کی لغزشوں کا کفارہ اور مسکینوں کے لیے عید کی خوشی قرار دیا۔ اور خیرات کو ہر مسلمان کے لیے ممکن عمل بتایا، چاہے وہ ایک کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔

صحابہ کرامؓ کی زندگی انفاق فی سبیل اﷲ کی زندہ تفسیر ہیں، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت عثمانؓ نے اونٹوں، سامان اور مال کے ڈھیر لگا دیے تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ حضرت ابوبکرؓ اپنا سارا مال لے آئے اور پوچھنے پر عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اﷲ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ آدھا مال لے آئے مگر اس دن بھی سبقت حضرت ابوبکرؓ ہی لے گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ انھوں نے مسلسل تین دن اپنا افطار مسکین، یتیم اور قیدی کو دے دیا اور خود پانی پر گزارا کیا، جس پر قرآن میں ان کی تعریف نازل ہوئی کہ وہ کہتے ہیں ہم تمھیں صرف اﷲ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکر، یہ وہ معیار ہے جو بتاتا ہے کہ انفاق کا اصل حسن اخلاص میں ہے، دکھاوے میں نہیں۔

قرآن و حدیث ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ مال کا فتنہ بہت سخت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے، جب مال دل میں بیٹھ جائے تو انسان حق روک لیتا ہے، زکوٰۃ کو بوجھ سمجھتا ہے، خیرات میں حساب کتاب کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کم زور پڑنے لگتا ہے، اسی لیے اسلام نے زکوٰۃ کو فرض کیا تاکہ معاشرہ پاک رہے، دل صاف رہیں اور دولت چند ہاتھوں میں قید نہ ہو۔ قرآن اعلان کرتا ہے کہ تاکہ مال تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے، فتنہ یہی ہے کہ ہم جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں، اور نجات یہی ہے کہ ہم دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں۔

آج اگر ہم رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، فطرہ حق دار تک پہنچاتے ہیں، خفیہ اور اعلانیہ خیرات سے کسی کی بھوک مٹاتے ہیں، کسی بیٹی کے جہیز، کسی مریض کے علاج، کسی مجبور کے کرائے یا کسی بچے کی فیس میں آسانی بن جاتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی لیے آخرت کا سامان جمع کر رہے ہوتے ہیں، کیوں کہ اﷲ کا وعدہ سچا ہے کہ جو کچھ تم اﷲ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا لوٹا دیا جائے گا، اور یہی وہ تجارت ہے جس میں کبھی خسارہ نہیں ہوتا۔

رمضان کے آخری دنوں میں جب دل حساب کرنے لگے تو ذرا یہ بھی دیکھ لیجیے کہ ہم نے کتنا اپنے رب کے نام پر دیا، شاید یہی چند لمحے، یہی چند روپے، یہی چند آنسو ہمارے اور جہنم کے درمیان حائل ہو جائیں، کیوں کہ اصل کام یابی یہی ہے کہ بندہ خالی ہاتھ آئے اور خالی ہاتھ نہ لوٹے، بلکہ دے کر لوٹے، جھک کر لوٹے، اور رب کی رضا لے کر لوٹے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران پر حملہ – ایکسپریس اردو

Published

on


بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج ایران سوگوار ہے، اپنے لیڈر کی شہادت پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ایران میں 7 دن کی عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تین رکنی عبوری کونسل نے حکومتی اختیارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ایرانی قیادت نے اپنے سپریم لیڈرکی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، امریکا و اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا اور چار میزائل داغے ادھر اسرائیل میں تل ابیب دارالحکومت پر میزائل حملہ کر کے کم از کم 40 عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک سعودی عرب، بحرین، قطر، ابوظہبی اور امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران میزائل حملے کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد نہ رکی تو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران ہر صورت اپنے رہنما خامنہ ای کا بدلہ لے گا ادھر صدر ٹرمپ نے بھی علانیہ کہا ہے کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو ہم مزید طاقتور انداز میں جواب دیں گے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ جنگ طویل ہو کر دو ماہ تک جا سکتی ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور جنگ کے پھیلتے ہوئے خطرات پر دنیا بھر میں اظہار تشویش کیا جا رہا ہے۔ ہر دو ملک کی قیادت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے جنگ شروع کرنے اور علی خامنہ ای کی شہادت پر چین، روس، برطانیہ سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے اور امریکا و اسرائیل کو اس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

نہ صرف عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے بلکہ خود امریکا کے اندر بھی ایران پر حملے اور خامنہ ای شہادت کے حوالے سے بھی رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ اور علی خامنہ ای کو شہید کرنے کا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ امریکا میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے مطابق 43 فی صد سے زیادہ امریکی ٹرمپ کی فوجی پالیسی سے ناخوش ہیں۔

امریکی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال پر پریشان اور جنگی اقدام کی مخالف ہے۔ امریکا کی سیاسی قیادت اور دانشور حلقے اور صائب الرائے طبقے بھی ایران پر حملے کو غیر دانش مندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا بھی رائے عامہ کی تقسیم کو نمایاں کر رہا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت پر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی فضا سوگوار ہے۔ صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے ایرانی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو فون کرکے حملوں کی مذمت اور ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کا ایٹمی پروگرام کسی صورت قبول نہیں وہ ہر قیمت پر نہ صرف ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کا خواہاں تھے بلکہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ سال جون میں بھی امریکا اسرائیل نے حملہ کیا اور B-2 بمبار طیارے کے ذریعے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور عرب ملکوں نے مداخلت کرکے جنگ رکوائی اور بات مذاکرات تک پہنچی۔ امریکا ایران کا مذاکراتی عمل جاری تھا۔

عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا دو دور ہو چکے تھے، عمانی وزیر خارجہ نے چار دن پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ یہ امید ہو چلی تھی کہ امریکا ایران جنگ کے بادل جلد چھٹ جائیں گے لیکن مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل نے مذاکرات کا بہانہ کرکے ایران پر حملے کی تیاری کے لیے وقت حاصل کیا اور جوں ہی تیاری مکمل ہوئی اور امریکی سی آئی اے نے جو علی خامنہ ای کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی، یہ خبر دی کہ سپریم لیڈر اتوار کی صبح ایک اہم میٹنگ کے لیے اپنے دفتر میں موجود ہوں گے اور ایران کی ٹاپ لیڈرشپ سے بات چیت کریں گے۔ اس موقع کو غنیمت جان کر اسرائیل کے 200 طیاروں نے ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای کو خاندان سمیت شہید کر دیا۔

صدر ٹرمپ کے بقول 48 اہم ترین ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کریں۔ جب ان سے اخباری نمایندے نے سوال کیا کہ آپ کا اصل ہدف خامنہ ای اور ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہو چکی ہے۔ رجیم چینج کی خواہش پوری کرنے کے لیے اب ایران میں کون اقتدار سنبھالے گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں جو ہمارے حامی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوتی ہوگی کہ ایرانی عوام نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ان کی اپیل کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ تہران کے انقلاب چوک پر ہزاروں ایرانی سوگوار اشک بار آنکھوں سے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا عزم و عہد کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور، سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرنے والا گینگ گرفتار

Published

on



لاہور:

ہنی ٹریپ کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے والے ایک گروہ کا انکشاف ہوا ہے، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق نجی یونیورسٹی کے طالب علم ریاض حسین کے بیان پر مقدمہ درج کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے ویڈیو کال کے دوران ایک لڑکی کی برہنہ ویڈیو چلا کر اس کی ویڈیو ریکارڈ کر لی اور بعد ازاں اسے اہلخانہ اور دیگر لوگوں کو بھیجنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔

مدعی کے مطابق ملزمان مسلسل رقم کا مطالبہ کرتے رہے اور دباؤ ڈال کر اس سے 40 ہزار روپے بھی وصول کیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہنی ٹریپ گینگ میں ایک خاتون سمیت تین ملزمان شامل ہیں۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے ایس پی صدر ڈویژن کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک دیا۔

ایس پی صدر ڈویژن رانا حسین طاہر کی نگرانی میں ایس ایچ او ٹاؤن شپ عدنان رشید اور پولیس ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے مصباح، اسد اور احمد نامی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزمہ مصباح فیس بک پر نوجوانوں کو ٹارگٹ کر کے ویڈیو کال کرتی تھی جبکہ دیگر ساتھی ویڈیو کال کے دوران برہنہ ویڈیو چلا کر متاثرہ شخص کی ویڈیو ریکارڈ کر لیتے تھے۔ بعد ازاں ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر رقم وصول کی جاتی تھی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے متعدد افراد کو ہنی ٹریپ کے ذریعے بلیک میل کرنے کا انکشاف بھی کیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلوائی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

بجلی سبسڈی کیلیے ایک کھرب منظوری کی کوشش، آئی ایم ایف کا اعتراض

Published

on



اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی جانب سے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

اس رقم میں 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

بجلی کے شعبے میں مسلسل مالی خسارے اور ہر سال بھاری بجٹ مختص کیے جانے سے حکومت کا یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کی مد میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہوں گے، جو رواں سال کے مقابلے میں 11 فیصد یا تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہیں۔

یہ اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو حکومت بجلی صارفین سے کراس سبسڈی کے نام پر وصول کرتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بجٹ تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سبسڈی کی رقم کو موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھا جائے۔

پاور ڈویڑن کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی اور گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیوں کے باعث اضافی سبسڈی درکار ہوگی، خاص طور پر اس لیے کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے صرف وزارت خزانہ ہی آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت پر موقف دے سکتی ہے۔

موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف گردشی قرضے کے بہائو  کی اجازت تو دے رہا ہے لیکن ایک مقررہ حد کے اندر۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رہے، جو رواں سال کی سطح سے بھی کم ہو۔

گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کے اخراجات ٹیرف میں شامل نہیں کیے جاتے بلکہ وزارت خزانہ انھیں سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔

تاہم یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں،گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔وزیر توانائی نے میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں آئی ایم ایف کے سوال کا پاور ڈویڑن کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے بورڈ ممبران کی تقرری کے عمل میں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔

حکومت نے گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی حاصل کیا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گردشی قرضے کے بہائو  کو 2031 سے پہلے صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔





Source link

Continue Reading

Trending