Today News
پاک،افغانستان اور ایران ،امریکا و اسرائیل جنگ
کچھ دن پہلے پاکستان کو اطلاع ملی کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے اندر وزیرستان اور بنوں پر قبضہ کرنے کا کہا۔ٹی ٹی پی نے کہا کہ ایسا ہو جائے گا، یہ ہمارے لیے بہت آسان ہے۔اسی طرح افغان طالبان نے انڈیا کی شہ پا کر پاکستان کو دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے قبائلی علاقوں کا خیبر پختون خواہ میں انضمام ختم کر کے واپس آزاد علاقے نہ بنایا اور ٹی ٹی پی کو وہاں کھلی چھٹی نہ دی تو ان کے پاس دس ہزار خود کش بمبار ہیں۔
طالبان ان خود کش بمباروں کو پاکستان کے طول و عرض میں کارروائیوں کے لیے پھیلا دیں گے۔ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نے اپنی دھمکی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ترلائی شیعہ مسجد میں خود کش دھماکہ کر کے اور معصوم عبادت گزاروں کو شہید کر کے اپنی سنجیدگی کا ثبوت پیش کر دیا۔انھوں نے ایک اور ایسے ہی دھماکے میں پاک فوج کے ایک کرنل شہزادہ گلفراز کو بھی شہید کر دیا۔ان حالات میں پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور پاک فضائیہ نے افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا جہاں سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے۔
افغانستان نے بدلہ لینے کے بہانے ایک ہفتہ پہلے پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ کم و بیش 53 مقامات پر گولہ باری کی۔پاکستانی افواج اس حملے کے جواب کے لیے تیار تھیں۔پاک فضائیہ اور زمینی دستوں نے کابل، قندھار، خوست، پکتیا اور پکتیکا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور فوجی کمین گاہوں و ہیڈکوارٹروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔پاکستان کے ان حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں خوارج ہلاک و زخمی ہوئے۔بہت سے افغان ٹینک ، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحہ ڈپوؤں کو ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔پاکستان نے کئی افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کیا اور کئی ایک کے اوپر قبضہ کر لیا۔
پاکستان کی مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ہر افسر اور جوان شہادت کا متمنی ہے۔شہادت کے جذبے سے لبریز ہونے کے ساتھ بہترین تربیت یافتہ بھی ہے لیکن کسی بھی افغان پر حملہ کرنا اسے پسند نہیں کیونکہ فریقِ مخالف مسلمان ہے۔بہر حال اس کا کیا کیا جائے کہ افغان، مملکت پاکستان کے ہمیشہ مخالف رہے ہیں۔ان کے دل میں پاکستان کے لیے نفرت اور ہاتھوں میں اسلحہ ہے۔پاکستان نے افغانوں کی سوویت یونین کے خلاف مدد کی۔امریکا اور اتحادیوں کے خلاف سیاسی،سفارتی اور جنگی مدد فراہم کی۔
چالیس لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کو کئی دہائیوں تک پاکستان میں رکھا البتہ افغانوں کو جب بھی موقع ملا وہ انڈیا کی گود میں جا بیٹھے تاکہ انڈیا اور پاکستان دونوں کو ایکسپلائٹ کرسکیں۔ پاکستان نے بہت لمبے عرصے کے بعد دیر آید درست آید پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا کہ افغان دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھنی ہے۔آپریشن غضب للحق ابھی تک جاری ہے۔خدا کرے اس مرتبہ یا تو افغان طالبان سمجھ جائیں کہ پاکستان کے ساتھ اچھی ہمسائیگی سے رہنے میں بھلائی ہے اور یہ کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،یا پھر پاکستان کسی وقتی مصلحت کا شکار نہ ہو اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔
جنیوا میں امریکا ایران مذاکرات ہورہے تھے۔ بظاہر اچھی پیش رفت ہو رہی تھی۔ایران کے پاس اس وقت 60فی صد یورینیم افزودگی کی صلاحیت ہے۔ابتدا میں افزودگی بہت مشکل ہوتی ہے لیکن 60فی صد سے ویپن گریڈ افزودگی صلاحیت حاصل کرنے میں سالوں نہیں بلکہ چند ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ایرانی قیادت نے شاید یہ فیصلہ کیا ہوا ہے کہ ویپن گریڈ صلاحیت حاصل نہیں کرنی۔اسی لیے ایران جنیوا مذاکرات میں یہ تجویز دے رہا تھا کہ وہ پیچھے ہٹتے ہوئے یورینیم افزودگی کو 30فی صد پر لے جائے گا لیکن یہ دوسری بار ہوا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں الجھا کر جنگ شروع کر دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے بارہا یہ کہا کہ وہ کوئی نئی جنگ نہیں شروع کریں گے اور پرانی جنگوں کو ختم کریں گے۔ صیہونی یہودی لابی امریکا میں اتنی طاقتور اور اتنی با اثر ہے کہ امریکی انتظامیہ اس کے سامنے بے بس ہے۔ ٹرمپ خود اس جنگ سے ہچکچا رہے تھے لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے زور دیا کہ 2025کی جنگ کے نامکمل ایجنڈے کو ضرور پورا کیا جائے۔جنگ شروع ہوتے ہی ٹرمپ کے پہلے بیان کو دیکھیں تو وہ نتن یاہو کی زبان بولتا نظر آتا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم اس جنگ میں سپریم لیڈر جناب خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد ایران کی نیوکلیئر صلاحیت کو ختم کرنا،ایرانی میزائل پروگرام کو ملیامیٹ کرنا اور ایران میں امریکا و اسرائیل کی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل اور امریکا نے اپنا پہلا ہدف بآسانی حاصل کر لیا ہے۔جناب خامنہ ای اپنی فیملی کے کچھ افراد کے ساتھ شہید ہو گئے ہیں۔وہ اپنے رہائشی کمپاؤنڈ میں شہید ہوئے۔ان کے ساتھ ایرانی آرمی،انقلابی گارڈز کے اعلیٰ عہدیدار بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ٹرمپ کے بقول ایران کی تمام اعلیٰ قیادت موت کے گھاٹ اتار دی گئی ہے۔ایران نے پچھلے سال کی جنگ سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہر شعبے کی Chain of Command کو کافی نیچے تک آرگنائز کر دیا اور کہا جا رہا ہے کہ اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کے بعد اب متبادل قیادت فیصلے کر رہی ہے۔اس ایک ہدف کے حصول کے علاوہ امریکا و اسرائیل ابھی تک کچھ اور حاصل نہیں کر سکے۔ان کا خیال تھا کہ جناب خامنہ ای کی شہادت کے ساتھ ہی ایرانی عوام موجودہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور امریکا و اسرائیل کی مرضی کی قیادت اقتدار سنبھال لے گی لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا اور ہوتا نظر بھی نہیں آتا۔
صدر ٹرمپ نے جون 2025 کی جنگ میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں سے بم باری کروا کے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام صفحہء ہستی سے مٹ چکا ہے۔یہ اس وقت بھی ایک دیوانے کی بڑ لگتی تھی اور چند دن پہلے ایران،امریکا مذاکرات نے ثابت کر دیا کہ وہ دعویٰ بالکل غلط تھا۔اگر بقول ٹرمپ ایران کی نیوکلیئر صلاحیت ختم ہو چکی ہے تو پھر کاہے کے مذاکرات اور ایران سے کیا مطالبہ۔ بہرحال نتن یاہو اپنے Un finishedایجنڈے یعنی ایران میں رجیم چینج اور ایران کو بے دست و پا کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔نتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو ہیمر لاک لگایا ہوا ہے۔نتن یاہو کے سامنے جتنا بے بس ٹرمپ ہے اتنا کوئی دوسرا امریکی صدر نہیں تھا۔امریکا اور اسرائیل کو ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران ایک وسیع رقبے والا بڑا ملک ہے۔ایران پر جتنے بھی بم مار لیں پھر بھی ایران کا ایک بہت بڑا حصہ محفوظ رہے گا جب کہ اسرائیل چند بموں سے ہی شدید زخمی ہو جائے گا۔
اسرائیل کے اندر ایرانی حملوں سے جو تباہی ہو رہی ہے وہ رپورٹ نہیں ہو رہی۔آبنائے ہرمز وقتی طور پر کچھ بند ہے جس سے تیل کی آزادانہ نقل و حرکت رک گئی ہے۔اس سے پوری دنیا کی اسٹاک مارکیٹیں متاثر ہو رہی ہیں۔امریکا و اسرائیل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے جتن میں ایرانی نیوی کو تباہ کر رہے ہیں۔خلیجی ممالک میں نظامِ زندگی مفلوج ہے۔ مارکیٹوں میں اشیاء صرف کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ان کالموں میں بارہا لکھا گیا ہے کہ ایران کی سب سے بڑی کمزوری اس کے انٹیلی جنس ادارے کی ناکامی ہے۔جناب خامنہ ای کو بھی اسی کمزوری نے مروایا۔پاکستان کو بھی اپنی انٹیلی جنس کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ہمارے ہاں بھی کمزوریاں ہیں۔دہشت گرد افغانستان یا قبائلی علاقوں سے چل کر اسلام آباد اور کراچی تک پہنچ رہے ہیں۔وہ کئی چیک پوسٹوں سے گزر کر پہنچتے ہیں ۔آج ٹیکنالوجی بھی بہت احتیاط سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ایران اور پاکستان دونوں ممالک اپنی صفوں میں گھسے فارن ایجنٹوں سے پاک ہو جائیں تو بہت محفوظ اور طاقتور ملک بن سکتے ہیں۔
Today News
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی
آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔ دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے مذکورہ عناصر کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پیچیدہ سرحدی پٹی ایسے عوامل سے متاثر رہی ہے جنھوں نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بارہا نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے سرحدی علاقوں کا دورہ، وہاں تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے کو سراہنا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا نہ صرف ایک روایتی عسکری عمل ہے بلکہ اس بات کا واضح اظہار بھی ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔
جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ قبائلی خطے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے اہم ترین میدان رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاورکی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے کیونکہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستانی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہرکرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف دراصل پاکستان کی ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے آنے والے خطرات کو نظر انداز کرے۔ اگر دہشت گرد عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کریں تو اس کا جواب دینا ریاست کا بنیادی حق اور ذمے داری ہے۔
آپریشن غضب للحق اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کسی بھی قیمت پر پنپنے نہیں دے گا۔ ان علاقوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی قابل قدر ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون ہی خطے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پورے ملک کی جنگ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی حمایت کریں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دہشت گردی ان حربوں میں سے ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سرحد پر باڑ کی تعمیر، جدید نگرانی کے نظام کا قیام اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بعض عناصر دراندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔آپریشن غضب للحق اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں دراصل اسی حکمت عملی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج ملک کی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ایک پرامن خطہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری بھی لاتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر کوئی بھی قوت پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔آخرکار یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے قومی عزم، عسکری صلاحیت اور سیاسی بصیرت سب کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ اور آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہیں گی۔
Today News
مشرق وسطیٰ بحران سے پاکستان کو روزانہ لاکھوں ڈالر معاشی فائدہ ہونے لگا، مگر کیسے؟
کراچی:
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں کی تعداد میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس وقت یومیہ اوور فلائنگ کرنے والی پروازوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں میں اضافے کے باعث پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر آمدنی ہو رہی ہے۔
جبکہ اضافی پروازوں کی وجہ سے یومیہ آمدنی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے قبل عام دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے یومیہ 550 سے 600 پروازیں گزرتی تھیں۔
دوسری جانب بھارتی ائیرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود تاحال بند ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے 23 اپریل 2025 سے بھارتی ائیرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں جس کے باعث بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔
Today News
کراچی، ڈیفنس کی عمارت سے پراسرار طور پر خاتون کے گرنے کی ویڈیو وائرل
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں ایک رہائشی عمارت کی چھت سے خاتون گرنے کا پراسرار واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق واقعہ خیابان جامی کے قریب پیش آیا جہاں ایک خاتون عمارت کی چھت سے گر گئی۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سالہ مریم کے نام سے ہوئی ہے جو اسی عمارت میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی۔
حکام کے مطابق خاتون کا بھائی دبئی میں مقیم ہے جبکہ زخمی خاتون اس وقت بیان دینے کے قابل نہیں ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو کسی نے دھکا دیا یا وہ خود گری، اس حوالے سے حتمی تفصیلات خاتون کے بیان کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade