Connect with us

Today News

کلام غالب میں تلمیحات کا استعمال (پہلا حصہ)

Published

on


کسی بھی تاریخی، مذہبی یا سیاسی واقعے کو شعر میں استعمال کرنا ’’تلمیح‘‘ کہلاتا ہے۔ بیشتر شعرا نے اپنے اشعار میں تلمیح کا استعمال کیا ہے، تلمیح اردو ادب اور علم بیاں کی ایک اہم صنف ہے جس کے لغوی معنی ’’اشارہ کرنا‘‘ ہے۔ تلمیح کے استعمال سے کلام میں حسن، معنویت، وسعت اور بلاغت پیدا ہوتی ہے، اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ شاعر ایک مختصر سے لفظ یا ترکیب کے ذریعے قاری کے ذہن میں پورا پس منظر یا واقعہ بیان کر دیتا ہے۔

غالب کے کلام میں تلمیحات کا استعمال محض ایک شعری روایت نہیں ہے بلکہ ان کے فلسفیانہ افکار اور معنی گہرائی کو بیان کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ غالب نے اپنی شاعری میں قدیم تاریخی، مذہبی اور اساطیری واقعات کو اس مہارت سے بیان کیا ہے کہ ایک مختصر اشارے سے معنی کی پوری کائنات روشن ہو جاتی ہے۔ غالب کی تلمیح نگاری میں معنی آفرینی اور فنی گرفت نمایاں ہے۔ مرزا کا کلام تو اک بحر ذخار ہے جس میں در نایاب نکالنا اور سمجھنا آسان نہیں، محاوروں، تشبیہوں، ترکیبوں، رمز وکنایہ اور تلمیحات کا استعمال جس طرح غالب نے کیا ہے، دوسروں کے ہاں ناپید ہے۔ غالب کے بعد تلمیحات کا استعمال اقبال نے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا

ایران میں دستور تھا کہ بادشاہ یا حاکم وقت کے سامنے فریادی کاغذی لباس پہن کر آتے تھے جن کو دیکھتے ہی بادشاہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ مظلوم ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جیسے خون آلود کپڑا بانس پہ لٹکانا تاکہ مظلومی فوراً ظاہر ہو جائے۔ کاغذی پیرہن کی تلمیح بے چارگی ظاہر کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ کنایتاً ہستیٔ مصمم کی طرف اشارہ ہے۔ ایرانی شعرا نے ’’کاغذی پیرہن‘‘ کی تلمیح کو بہت استعمال کیا ہے، غالب نے بھی وہیں سے لیا ہے۔

کیا کہا خضر نے سکندر سے

اب کسے رہنما کرے کوئی

٭……٭

لازم نہیں کہ خضرکی ہم پیروی کریں

مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

٭……٭

تو سکندر ہے، مرا فخر ہے ملنا تیرا

گو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے

غالب نے اپنے کلام میں سب سے زیادہ خضر اور سکندر کی تلمیحات کا استعمال کیا ہے۔ سکندر اور خضر کا نام ساتھ ساتھ لیا ہے، سکندر اعظم یونان کا رہنے والا تھا، ارسطو کا شاگرد تھا، مقدونیہ میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے کم عمری میں ہی آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی تھی، سکندر کی لڑائی ایران کے بادشاہ دارا سے بھی ہوئی تھی جس میں اسے فتح نصیب ہوئی تھی۔ اس نے ہندوستان اور چین پر بھی حملے کیے اور کئی نئے شہر بھی بسائے۔ کہتے ہیں قوم یاجوج ماجوج نے زمین پر بڑی تباہی مچائی تھی۔ اس لیے سکندر نے ’’سد سکندری‘‘ تعمیر کروائی جس کے مسالے میں لوہے اور تانبے کی آمیزش کروائی تاکہ یاجوج ماجوج کے فتنے کو روکا جا سکے۔ حضرت خضر آب حیات پی کر امر ہو گئے۔ چشمہ آب حیات کو چشمہ زندگانی اور چشمہ آب حیوان بھی کہا جاتا ہے۔ ہندی دیومالا میں آب حیات کو ’’ امرت‘‘ کہا جاتا ہے جسے پی کر دیوتا امر ہو گئے۔ اسی تلمیح کے حوالے سے سکندر خوش قسمت آدمی کو کہا جاتا ہے۔ ایسا خوش نصیب انسان جس پر خدا مہربان ہو، ایک اور خوبصورت شعر خضر کے حوالے سے:

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لیے

اس شعر میں غالب کہتے ہیں اب انسان کسے رہ نما کرے اور کس پر بھروسہ کرے۔

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، ہر زنان مصر سے

ہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہ کنعاں ہو گئیں

اس شعر میں حضرت یوسف ؑ اور زلیخا کی تلمیح استعمال کی گئی ہے، ’’ماہ کنعاں‘‘ حضرت یوسف کا لقب تھا۔ مرزا غالب نے اس حوالے سے کئی شعر کہے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا اور حضرت یوسف ؑ کا قصہ قرآن پاک کی سورہ یوسف میں موجود ہے۔ حضرت یوسف ؑ لاثانی حسن کے مالک تھے، جب وہ مصر پہنچے تو زلیخا ان پر عاشق ہو گئی، لیکن حضرت یوسف ؑ نے کبھی اس کی ہمت افزائی نہیں کی۔ زلیخا کی اس معاملے میں بڑی ذلت و رسوائی ہوئی، مصر کی عورتوں کو معلوم ہوگیا کہ زلیخا حضرت یوسف ؑ پر دل رکھتی ہے اور جب زلیخا اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئی تو اس نے حضرت یوسف ؑ پر الزام بھی لگا دیا۔ شاہی خاندان اور امیران شہر کی عورتوں میں زلیخا ایک غلام کے عشق میں بہت بدنام ہو چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ایک دن عمائدین شہر کی بیگمات اور دیگر معزز خواتین کو اپنے محل میں جمع کیا اور تمام خواتین کے ہاتھ میں ایک ایک لیموں اور ایک چھری دے دی اور ان سب سے کہا کہ جیسے ہی میں ایک شخص کو اندر بلاؤں، آپ لوگ اس لیموں کے دو ٹکڑے کر دینا۔ چنانچہ جوں ہی زلیخا نے حضرت یوسفؑ کو اندر بلایا تو تمام خواتین حضرت یوسفؑ کا حسن بے مثال اور ان کی دلکش شخصیت کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئیں اور بجائے لیموں کاٹنے کے اپنی انگلیاں زخمی کر لیں۔ مندرجہ بالا تلمیح اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

اس شعر میں غالب نے مصر کے بادشاہ نمرود کی طرف اشارہ کیا ہے جس طرح مصر کے بادشاہ فرعون، چین کے بادشاہ فغفور، روم کے شاہ قیصر، ایران کے بادشاہ کسریٰ کہلاتے تھے۔ اسی طرح عراق کے بادشاہ کا لقب ’’نمرود‘‘ تھا۔ کہتے ہیں نمرود نے اپنے باپ کو قتل کرکے بادشاہت پر قبضہ کیا تھا۔ اس نے خدائی کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کے توحید کے پیغام کے بعد نمرود ان کا دشمن بن گیا اور انھیں جلتی ہوئی آگ میں ڈلوا دیا۔ لیکن حکم خداوندی سے آگ گلستان بن گئی اور حضرت ابراہیمؑ آگ سے محفوظ رہے۔ بعد میں ایک مچھر کے ناک میں گھس جانے کی وجہ سے نمرود کی موت واقع ہو گئی۔ فرعون کو نجومیوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ ایسا پیدا ہوگا جو اس کی سلطنت کو نیست و نابود کر دے گا اور توحید کا پیغام بھی پھیلائے گا، بت پرستی کو ختم کر دے گا، چنانچہ اس پیش گوئی پر فرعون نے ہزاروں نوزائیدہ بچے قتل کروا دیے لیکن حکم خداوندی سے حضرت موسیؑ محفوظ رہے ۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مشرق وسطیٰ بحران سے پاکستان کو روزانہ لاکھوں ڈالر معاشی فائدہ ہونے لگا، مگر کیسے؟

Published

on



کراچی:

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں کی تعداد میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس وقت یومیہ اوور فلائنگ کرنے والی پروازوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں میں اضافے کے باعث پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر آمدنی ہو رہی ہے۔

جبکہ اضافی پروازوں کی وجہ سے یومیہ آمدنی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے قبل عام دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے یومیہ 550 سے 600 پروازیں گزرتی تھیں۔

دوسری جانب بھارتی ائیرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود تاحال بند ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے 23 اپریل 2025 سے بھارتی ائیرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں جس کے باعث بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، ڈیفنس کی عمارت سے پراسرار طور پر خاتون کے گرنے کی ویڈیو وائرل

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں ایک رہائشی عمارت کی چھت سے خاتون گرنے کا پراسرار واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعہ خیابان جامی کے قریب پیش آیا جہاں ایک خاتون عمارت کی چھت سے گر گئی۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سالہ مریم کے نام سے ہوئی ہے جو اسی عمارت میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی۔

حکام کے مطابق خاتون کا بھائی دبئی میں مقیم ہے جبکہ زخمی خاتون اس وقت بیان دینے کے قابل نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو کسی نے دھکا دیا یا وہ خود گری، اس حوالے سے حتمی تفصیلات خاتون کے بیان کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران پر حملہ – ایکسپریس اردو

Published

on


بالآخر امریکا اور اسرائیل اپنے منصوبے کے تحت ایران کو نشانہ بنا کر سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج ایران سوگوار ہے، اپنے لیڈر کی شہادت پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ایران میں 7 دن کی عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد تین رکنی عبوری کونسل نے حکومتی اختیارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ایرانی قیادت نے اپنے سپریم لیڈرکی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، امریکا و اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیاں تیز کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو نشانہ بنایا اور چار میزائل داغے ادھر اسرائیل میں تل ابیب دارالحکومت پر میزائل حملہ کر کے کم از کم 40 عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری طرف خلیجی ممالک سعودی عرب، بحرین، قطر، ابوظہبی اور امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران میزائل حملے کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد نہ رکی تو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ ایران ہر صورت اپنے رہنما خامنہ ای کا بدلہ لے گا ادھر صدر ٹرمپ نے بھی علانیہ کہا ہے کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو ہم مزید طاقتور انداز میں جواب دیں گے۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ جنگ طویل ہو کر دو ماہ تک جا سکتی ہے۔

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور جنگ کے پھیلتے ہوئے خطرات پر دنیا بھر میں اظہار تشویش کیا جا رہا ہے۔ ہر دو ملک کی قیادت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کریں۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے جنگ شروع کرنے اور علی خامنہ ای کی شہادت پر چین، روس، برطانیہ سمیت عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے اور امریکا و اسرائیل کو اس کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

نہ صرف عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے بلکہ خود امریکا کے اندر بھی ایران پر حملے اور خامنہ ای شہادت کے حوالے سے بھی رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ امریکا کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ اور علی خامنہ ای کو شہید کرنے کا انتہائی اقدام نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ امریکا میں ہونے والے ایک تازہ سروے کے مطابق 43 فی صد سے زیادہ امریکی ٹرمپ کی فوجی پالیسی سے ناخوش ہیں۔

امریکی عوام کی بڑی تعداد ٹرمپ کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال پر پریشان اور جنگی اقدام کی مخالف ہے۔ امریکا کی سیاسی قیادت اور دانشور حلقے اور صائب الرائے طبقے بھی ایران پر حملے کو غیر دانش مندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں۔ امریکی میڈیا بھی رائے عامہ کی تقسیم کو نمایاں کر رہا ہے۔ علی خامنہ ای کی شہادت پر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان میں بھی فضا سوگوار ہے۔ صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے ایرانی عوام سے دلی ہمدردی کا اظہارکیا ہے۔ وزیر اعظم نے ایرانی صدر کو فون کرکے حملوں کی مذمت اور ایران کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہارکیا ہے۔

صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو ایران کا ایٹمی پروگرام کسی صورت قبول نہیں وہ ہر قیمت پر نہ صرف ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کا خواہاں تھے بلکہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت لانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ سال جون میں بھی امریکا اسرائیل نے حملہ کیا اور B-2 بمبار طیارے کے ذریعے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور عرب ملکوں نے مداخلت کرکے جنگ رکوائی اور بات مذاکرات تک پہنچی۔ امریکا ایران کا مذاکراتی عمل جاری تھا۔

عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا دو دور ہو چکے تھے، عمانی وزیر خارجہ نے چار دن پہلے ہی یہ بیان دیا تھا کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکا سے مفاہمت کے لیے تیار ہے۔ یہ امید ہو چلی تھی کہ امریکا ایران جنگ کے بادل جلد چھٹ جائیں گے لیکن مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل نے مذاکرات کا بہانہ کرکے ایران پر حملے کی تیاری کے لیے وقت حاصل کیا اور جوں ہی تیاری مکمل ہوئی اور امریکی سی آئی اے نے جو علی خامنہ ای کی مسلسل نگرانی کر رہی تھی، یہ خبر دی کہ سپریم لیڈر اتوار کی صبح ایک اہم میٹنگ کے لیے اپنے دفتر میں موجود ہوں گے اور ایران کی ٹاپ لیڈرشپ سے بات چیت کریں گے۔ اس موقع کو غنیمت جان کر اسرائیل کے 200 طیاروں نے ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای کو خاندان سمیت شہید کر دیا۔

صدر ٹرمپ کے بقول 48 اہم ترین ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کی فوجی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اقتدار پر قبضہ کریں۔ جب ان سے اخباری نمایندے نے سوال کیا کہ آپ کا اصل ہدف خامنہ ای اور ایرانی ٹاپ لیڈر شپ ختم ہو چکی ہے۔ رجیم چینج کی خواہش پوری کرنے کے لیے اب ایران میں کون اقتدار سنبھالے گا تو ان کا کہنا تھا کہ وہاں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں جو ہمارے حامی ہیں۔ لیکن ٹرمپ کو شدید مایوسی ہوتی ہوگی کہ ایرانی عوام نے اقتدار پر قبضہ کرنے کی ان کی اپیل کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا ہے۔ تہران کے انقلاب چوک پر ہزاروں ایرانی سوگوار اشک بار آنکھوں سے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا عزم و عہد کر رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending