Connect with us

Today News

میگا کرپشن کی تصدیق ہو گئی

Published

on


پاکستان کی سیاست میں سیاسی جماعتیں ’’احتساب‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام بھی اتنی بھولی ہے کہ ہر جماعت سے یہ امید باندھ لیتی ہے کہ وہ واقعی ملک و قوم کی جڑوں میں سرایت کر جانے والے کرپشن کے زہر کا تریاق کرے گی لیکن کچھ عرصہ بعد علم ہوتا ہے کہ ’’کرپشن مکاؤ‘‘ کا دعوی کرنے والی حکومت میں ہی سب سے زیادہ’’مک مکاؤ‘‘ ہوا ہے،پاکستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہمارا سیاست دان اخلاقی اور مالی کرپشن کا شکار ہے اور اسی کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں تو یہ رواج بن گیا ہے کہ کرپشن کرنے کو ’’حق‘‘ سمجھا جانے لگا ہے ،کسی دور میں صرف سفارش پر کام ہوجاتا تھا اب سفارش کروانا الٹا گلے پڑجاتا ہے اور آخر کار ڈبل رشوت دے کر کام کروانا پڑتا ہے۔ویسے تو ہر سرکاری محکمے میں کرپشن موجود ہے لیکن چند محکمے ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم سب نے یہ تسلیم کر رکھا ہے کہ کرپشن میں ان کا مدمقابل کوئی دوسرا نہیں۔محکمہ خوراک پنجاب کا شمار بھی کچھ عرصہ قبل تک انھی خاص محکموں میں ہوتا تھا لیکن گزشتہ دو برس میں اس محکمے میں ہونے والی انقلابی اصلاحات اور سبسڈی میں انتہائی کمی نے کرپشن کے چور دروازوں کو بند کرنا شروع کر رکھا ہے۔

کئی دہائیوں تک عوام کو سبسڈائزڈ آٹا فراہم کرنے کے لیے کسانوں سے گندم خرید کر اسے انتہائی سستے داموں فلورملز کو فراہم کرتا تھا اور افسوس یہ کہ ’’کوٹہ سسٹم‘‘ کی وجہ سے چور فلورملز بھی اتنی ہی سرکاری گندم لینے کی اہل تھیں جتنی کارکردگی والی ملز کو ملتی تھی ۔عجب تماشہ تھا کہ کوٹہ چور فلورملز محکمہ خوراک کے گودام سے سرکاری گندم سے لدی گاڑی کسی فعال مل کی جانب بھیج کر بنا فلورمل چلائے، آٹا بنائے روزانہ لاکھوں روپے کا ’’خالص‘‘ منافع کماتی تھیں۔ اوپن مارکیٹ کی قیمت اور سرکاری گندم کی ریلیز پرائس میں پایا جانے والا غیر معمولی فرق اس قدر زیادہ ہوتا تھا کہ نہ صرف محکمہ خوراک بلکہ گندم آٹا سے منسلک ہر محکمہ، انتظامیہ اپنا حصہ لے کر اس کوٹہ نظام کے سہولت کار بن جاتے تھے۔

گزشتہ پانچ چھ سالوں میں سرکاری گندم کوٹہ نظام کے خلاف مضبوط آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن اس نظام سے مستفید ہونے والے اس قدر با اثر اور منظم تھے کہ اس کے خاتمہ میں مضبوط رکاوٹ تھے۔ اہم ترین عہدوں پر براجمان فیصلہ ساز بیوروکریٹس، کابینہ ارکان بھی چونکہ اپنا حصہ لیتے تھے اس لیے کوٹہ مافیا جب چاہتا انھیں بلیک میل کر کے اپنی بات منوا لیتا تھا ،کبھی ریاستی اداروں کو گندم آٹا کے ممکنہ بحران کی غیر حقیقی صورتحال سے ڈرا کر ان کے ذریعے حکومت اور محکموں کو دباؤ میں لایا جاتا تھا ۔نگران دور حکومت میں جب اسٹیبلشمنٹ نے ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا اور اس ضمن میں عالمی مالیاتی اداروں سے رابطے کیے تو جن چند معاملات کو’’میگا کرپشن ‘‘ کا ذریعہ قرار دیا گیا ان میں سے ایک سرکاری گندم آٹا کا سبسڈائزڈ کوٹہ نظام بھی شامل تھا۔نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے سب سے پہلے سرکاری اور اوپن مارکیٹ کی گندم قیمت کے درمیان فرق کو ختم کیا اور پھر محترمہ مریم نواز شریف نے وزارت اعلی سنبھالنے کے بعد گندم آٹا سیکٹر میں اصلاحات کا آغاز کیا۔

محترمہ مریم نواز درجنوں بار کہہ چکی ہیں کہ سرکاری گندم خریدو فروخت اور کوٹہ سسٹم ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کا سبب تھے ،بہت سے لوگوں نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا لیکن اب ایسے مصدقہ اعداد وشمار سامنے آ چکے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ وزیر اعلی مریم نواز نے گندم آٹا بارے جو کہا وہ درست ہے۔پنجاب میں سرکاری گندم کے اجراء کا جائزہ لیں تو گزشتہ10 برس میں اوسطاً 35 لاکھ ٹن گندم ہر برس فلورملز کو سستے داموں فروخت کی جاتی رہی ہے ، گندم ریلیز کے چند اعداد و شمار انتہائی غیر معمولی ہیں،2018 میں محکمہ نے56 لاکھ ٹن،2019 میں45 لاکھ ٹن، 2020 میں51 لاکھ80 ہزار ٹن جب کہ2022 میں54 لاکھ ٹن گندم بھی ریلیز کی ۔پنجاب حکومت پچھلے پندرہ برس میں سرکاری گندم کی فلورملز کو سستے داموں فروخت پر750 ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی کا بوجھ اٹھا چکی ہے۔

2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد محترمہ مریم نواز نے گندم کی سرکاری خریداری ختم کی تو انھیں انتہائی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ گندم مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور کسان کو کھیت میں 2ہزار سے2200 روپے فی من تک قیمت ملی جو اس کی لاگت کاشت کو بھی بمشکل پورا کرسکی۔نجی شعبہ نے لاکھوں ٹن گندم سستے داموں خرید کر اس امید پر اسٹاک کی کہ چند مہینوں بعد ڈبل یا ٹرپل قیمت پر فروخت کریں گے۔2024/25 میں وزیر اعلی نے کسانوں سے گندم خریدنے کے لیے نجی شعبہ کو آگے لانے کے لیے ایک نظام بنانے کی ہدایت کی جسے ’’ای ڈبلیو آر‘‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن اس وقت کی بیوروکریسی مختلف وجوہات کی وجہ سے ناکام رہی اور ان حالات میں گندم آٹا بحران جنم لیتے رہے۔گزشتہ برس وزیر اعلی نے پنجاب میں گندم آٹا خرابیوں کو دور کرنے اور کسان صارف دوست اصلاحات کے نفاذ کے لیے اپنے انتہائی قابل اعتماد افسر اور اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ امجد حفیظ کو ڈی جی فوڈ پنجاب تعینات کیا تھا جنھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نجی شعبے نے جو سستی گندم خرید کر بنا سرکاری ریکارڈ میں ظاہر کیے اسٹاک کی ہوئی تھی اسے سرکاری نگرانی میں لیا ۔

اس کے بعد انھوں نے فعال اور غیر فعال فلورملز کو الگ کیا اور پھر قابل تصدیق فارمولا بناکر فعال فلورملز کو نجی گندم کی فروخت شروع کروائی۔اس موقع پر کوٹہ والی فلورملز نے شدید احتجاج کیا، لابنگ، الزام تراشی، دباؤ سمیت تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے کہ کسی طرح سرکاری گندم کی مساویانہ ریلیز شروع ہو سکے مگر وزیر اعلیٰ اور ان کی ٹیم کسی دباؤ میں نہیں آئے۔وزیر اعلیٰ نے صوبے کی گندم مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے پاسکو سے بھی تین لاکھ ٹن خرید لی اور آج یہ صورتحال ہے کہ آیندہ ماہ کے وسط میں جب ریلیز ختم ہوگی تو محکمہ مجموعی پر18 لاکھ ٹن گندم فروخت پر سیزن اختتام کرے گا جس میں سے سرکاری گندم محض10 لاکھ ٹن ہوگی باقی کی8 لاکھ ٹن تو پکڑی گئی نجی گندم ہے۔

ماضی کی سالانہ اوسط ریلیز35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 18 لاکھ ٹن ریلیز کے ساتھ بنا کسی بحران کے آٹا کی وافر سپلائی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے اس وژن پر تصدیق کی مہر ثبت کردی ہے کہ سرکاری گندم کوٹہ نظام ،میگا کرپشن تھی ۔وزیر اعلیٰ نے اپنی فوڈ ٹیم کے ساتھ آٹا دستیابی کا نظام تو درست کر لیا ہے لیکن اب ان کا اگلا چیلنج نجی شعبے کے ذریعے پنجاب کے کسانوں سے گندم خریداری کے نئے نظام کو کامیاب بنانا ہے۔ ڈی جی فوڈ امجد حفیظ نے دانشمندانہ مشاورت کے بعد یہ نظام وضع کیا ہے،پری کوالیفائی کی گئی35 کمپنیاں، فلورملز اور وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والا ادارہ’’گرین پاکستان انیشی ایٹو‘‘ کسانوں سے 3500 روپے فی من قیمت پر 30 لاکھ ٹن گندم خریدے گا ،اس خریداری کا مقصد گندم مارکیٹ میں قیمت کو مستحکم بنانا اور صوبائی حکومت کے لیے گندم کے اسٹریٹجیک اور بفر اسٹاکس تعمیر کرنا ہے۔کسان کو اگر کھیت میں کم ازکم 3200/3300 روپے فی من قیمت بھی مل گئی تو یہ حکومت اور نئے نظام کی بڑی کامیابی ہو گی اور کوٹہ بہاریں لوٹنے کے منتظر مافیاز کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی

Published

on


آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔ دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے مذکورہ عناصر کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔

 پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پیچیدہ سرحدی پٹی ایسے عوامل سے متاثر رہی ہے جنھوں نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بارہا نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے سرحدی علاقوں کا دورہ، وہاں تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے کو سراہنا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا نہ صرف ایک روایتی عسکری عمل ہے بلکہ اس بات کا واضح اظہار بھی ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔

 جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ قبائلی خطے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے اہم ترین میدان رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاورکی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔

 افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے کیونکہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستانی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہرکرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف دراصل پاکستان کی ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے آنے والے خطرات کو نظر انداز کرے۔ اگر دہشت گرد عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کریں تو اس کا جواب دینا ریاست کا بنیادی حق اور ذمے داری ہے۔

آپریشن غضب للحق اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کسی بھی قیمت پر پنپنے نہیں دے گا۔ ان علاقوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی قابل قدر ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون ہی خطے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پورے ملک کی جنگ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی حمایت کریں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دہشت گردی ان حربوں میں سے ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سرحد پر باڑ کی تعمیر، جدید نگرانی کے نظام کا قیام اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بعض عناصر دراندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔آپریشن غضب للحق اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں دراصل اسی حکمت عملی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج ملک کی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ایک پرامن خطہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری بھی لاتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر کوئی بھی قوت پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔آخرکار یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے قومی عزم، عسکری صلاحیت اور سیاسی بصیرت سب کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ اور آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہیں گی۔





Source link

Continue Reading

Today News

مشرق وسطیٰ بحران سے پاکستان کو روزانہ لاکھوں ڈالر معاشی فائدہ ہونے لگا، مگر کیسے؟

Published

on



کراچی:

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی بین الاقوامی پروازوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں کی تعداد میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔

پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس وقت یومیہ اوور فلائنگ کرنے والی پروازوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے پاکستان کو نمایاں مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اوور فلائنگ پروازوں میں اضافے کے باعث پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کو یومیہ تقریباً 8 لاکھ ڈالر آمدنی ہو رہی ہے۔

جبکہ اضافی پروازوں کی وجہ سے یومیہ آمدنی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی سے قبل عام دنوں میں پاکستان کی فضائی حدود سے یومیہ 550 سے 600 پروازیں گزرتی تھیں۔

دوسری جانب بھارتی ائیرلائنز کے لیے پاکستان کی فضائی حدود تاحال بند ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے 23 اپریل 2025 سے بھارتی ائیرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں جس کے باعث بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، ڈیفنس کی عمارت سے پراسرار طور پر خاتون کے گرنے کی ویڈیو وائرل

Published

on



کراچی:

شہر قائد کے علاقے ڈیفنس فیز 7 میں ایک رہائشی عمارت کی چھت سے خاتون گرنے کا پراسرار واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق واقعہ خیابان جامی کے قریب پیش آیا جہاں ایک خاتون عمارت کی چھت سے گر گئی۔ زخمی خاتون کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کی شناخت 24 سالہ مریم کے نام سے ہوئی ہے جو اسی عمارت میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی۔

حکام کے مطابق خاتون کا بھائی دبئی میں مقیم ہے جبکہ زخمی خاتون اس وقت بیان دینے کے قابل نہیں ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو کسی نے دھکا دیا یا وہ خود گری، اس حوالے سے حتمی تفصیلات خاتون کے بیان کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending