Today News
خفیہ جیل میں گزرے آٹھ رمضان المبارک
میرے سامنے ایک ایسی نئی کتاب پڑی ہے جسے دلکشا بھی کہا جا سکتا ہے ، دل افروز بھی اور ایمان پروربھی ۔ اِس نئی تصنیف کا عنوان ہے : اندھیری جیل کا قیدی !کتاب کا اشاعتی جمال بھی قابلِ دید ہے اور باطنی مواد بھی ۔ اِس کے مصنف بنگلہ دیش کے ممتاز اور نوجوان قانون دان، چالیس سالہ جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، ہیں ۔ مجھے یہ کتاب جماعتِ اسلامی کے معروف مصنف ، صحافی اور دانشور ،برادرم سلیم منصور خالد صاحب، نے تحفتاً بھیجی ہے ۔ پروفیسرسلیم منصور خالد صاحب چونکہ خود بھی کئی وقیع کتابوں کے مصنف ہیں اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے ترجمان جریدے ’’ماہنامہ عالمی ترجمان قرآن ‘‘ کے مدیر بھی ، اس لیے اُن کے دل میں کتاب اور حرفِ مطبوعہ کا احترام اور ذوق و شوق فراواں پایا جاتا ہے۔وہ کئی کتابوں کے مرتّب کنندہ بھی ہیں اور فنِ اشاعت کی باریکیوں سے بھی خوب آشنا۔
بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی تصنیف کردہ زیر نظر کتاب ( جو تقریباً تین سو صفحات کو محیط ہے) بھی جناب سلیم منصور خالد کی ترجمہ و ترتیب کردہ ہے۔ اِس تازہ بہ تازہ ،شاندار اور تاریخ ساز کتاب کی اہمیت و حیثیت یہ بھی ہے کہ مصنف بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کے ایک معروف و سابق رہنما، میر قاسم علی مرحوم، کے بلند قامت صاحبزادے ہیں ۔ اُن کے والدِ گرامی ( میر قاسم علی) کو بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم (اور اب بھارت میں مفرور) ، شیخ حسینہ واجد، کی پندرہ سالہ استبدادی حکومت میں ایک جعلی، من گھڑت اور بے بنیاد مقدمے میں پھانسی کی سزا دے کر شہید کر دیا گیا تھا۔
میر قاسم علی شہید بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے اُن6 ممتاز اور اولو العزم رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہیں حسینہ واجد نے ذاتی و نظریاتی دشمن جان کر تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ انگلستان اور مصر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کو اپنے والد صاحب کی پھانسی دیے جانے سے25روز قبل بنگلہ دیشی وزیر اعظم، حسینہ واجد، کے حکم پر بنگلہ دیشی سیکیورٹی فورسز نے زبردستی اغوا کیا اور پھر پورے 8برس اُنہیں قیدِ تنہائی میں رکھا ۔ اُن پر بے پناہ تشدد بھی کیا گیا اور اُن کے خاندان ، احباب اور عالمی میڈیا سے حسینہ واجد کی حکومت یہ کہہ کر مسلسل کذب بیانی کرتی رہی کہ’’ وہ نہیں جانتے کی احمد بن قاسم کو کس نے اغوا کیا ہے ۔‘‘اِس عرصے میں اُن کے خاندان پر کیا گزری ہوگی، اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
اِس کتاب ( ’’اندھیری جیل کا قیدی‘‘) کے مصنف مغوی حالت میں جیل ہی میں تھے کہ اُن کے والد صاحب کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا ۔ وہ اپنے والد سے آخری ملاقات سے بھی جبریہ محروم رکھے گئے ۔ اگست2024ء کو بنگلہ دیش میں زبردست طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا خاتمہ ہُوا، تب نئی حکومت ( جس کے سربراہ نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس تھے) نے مصنف کو عذابناک قیدِ تنہائی سے نجات دلائی ۔چونکہ یہ رمضان کا مبارک و مسعود مہینہ ہے ، اس لیے محترم بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کی لکھی گئی کتاب ’’ اندھیری جیل کا قیدی‘‘ کا وہ باب (خفیہ جیل میں پہلا رمضان) خاص طور پر پڑھنے کے قابل ہے۔
اِس باب میں اُنھوں نے جیل میں گزرے آٹھ سال کے دوران اپنے اوّلین ماہِ رمضان کی ایسی ایمان افروز رُوداد لکھی ہے جسے پڑھ کر آدمی کا ایمان بھی تازہ ہوتا ہے، دینِ اسلام پر یقینِ محکم بھی قوی تر ہو جاتا ہے اور قرآنِ مجید سے محبت و عقیدت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ عقوبتوں ،اذیتوں اور زندانوں میں رہ کر بھی مومن رمضان المبارک کی سعادتوں اور برکات سے کس طرح مستفید ہونے کی سعی کرتا ہے ۔ مصنف نے خفیہ جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں آٹھ رمضان پامردی اور صبر سے گزار ے ۔
بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان نے زیر نظر کتاب میں بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم (شیخ حسینہ واجد) کی استبدادی حکومت کے دوران جیل میں گزرنے والے آٹھ برسوں میں اپنے پہلے رمضان المبارک کا ذکر اِن الفاظ میں کیا ہے :’’قید میں پہلے رمضان کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ میرے پاس قرآن نہیں تھا۔ مَیں اِس کی تلاوت سے سکون حاصل کرنے کے لیے ترس رہا تھا، لیکن یہ مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔ قرآنِ کریم کے ایک نسخے کے لیے مَیں مسلسل دُعا کرتا رہا ، لیکن وہ کبھی نہ آیا‘‘۔ پھر لکھتے ہیں: ’’ سحری کے لیے مجھے جو کھانا ملتا تھا، وہ باہر کھڑے گارڈز کو ملنے والے کھانے کا بھی نصف ہوتا تھا۔ چونکہ ہمارے پاس گھڑی نہیں تھی ، اسلیے ظہر اور عصر کی نمازوں کے اوقات کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔ باہر کھڑے گارڈز سے گزارش کی جاتی : بھئی، خدا کے لیے نمازوں کے اوقات ہی بتا دیا کرو ۔ وہ کبھی کبھار اشاروں میں بتا دیتے ۔ پہلی افطاری کے دن جو کھانا دیا گیا، اُس میں تین چار چمچ چنے ، ایک پکوڑا، اور ایک کھجور تھی ۔اِس پہلے افطار پر فیملی کی یاد نے میرے دل کو مزید بوجھل کر دیا۔ خاص طور پر میری دو معصوم بیٹیوں کی یاد ۔‘‘یہ منظر پڑھنے والے کو یقیناً اشکبار کر دیتا ہے۔
زیر نظر کتاب میں ایسے کئی مناظر ہمیں پڑھتے ہُوئے ملتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ’’ حسینہ واجد کی حکومت کے دوران ،بنگلہ دیش کی جیلوں میں مذہب پسند قیدیوں کی نگرانی کے لیے ’’پڑوسی ملک‘‘ کے گارڈز بھی تعینات کیے جاتے تھے ۔ یہ اشارہ غالباً بھارت کی طرف ہے ۔ اِسی سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سال استبدادی حکومتی دَور میں بھارت کہاں تک اور کس حد تک بنگلہ دیشی معاملات میں دخیل ہو چکا تھا۔ اِسی کا ردِ عمل ہُوا تو اگست2024ء میں حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا گیا تھا۔ یہ کتاب بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کے آٹھ سال کی محض ایک سادہ سی کہانی اور کتھا نہیں ہے،بلکہ ذاتی تلخ ترین تجربات پر مشتمل یہ تصنیف دراصل حسینہ واجد کے دَور کی ایک مکمل تصویر ہے ۔ اِس تصویر میں ہم حسینہ واجد کی ایک ایسی بھیانک شکل ملاحظہ کر سکتے ہیں جو سوویت یونین کے زمانے میں متشدد رُوسی حکمرانوں کی جیلوں سے مشابہ ہیں ۔اُس دَور میں رُوسی حکمران اپنے سیاسی مخالفین کو سائبیریا کے برف زاروں میں بنائی گئی خوفناک جیلوں میں بھیج کر ظلم کی نت نئی کہانیاں مرتب کرتے تھے ۔
خدا کا شکر ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں جبری گمشدگی کی وارداتیں بھی تقریباً اپنے اختتام کو پہنچ گئیں ۔ اب بنگلہ دیش میں (12 فروری2026ء کے انتخابات کے بعد) ایک نیا سورج طلوع ہُوا ہے ۔ جناب طارق رحمن کی وزارتِ عظمیٰ کے تحت نئی حکومت بن چکی ہے ۔اور امیرِ جماعتِ اسلامی ، ڈاکٹر شفیق الرحمن، کی قیادت میں جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش(77سیٹوں کے ساتھ) پارلیمنٹ میں طاقتور حزبِ اختلاف بن چکی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیر نظر کتاب ( اندھیری جیل کا قیدی) کے مصنف، جناب بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان ،بھی ڈھاکہ سے جماعتِ اسلامی کے پلیٹ فارم اور ’’ترازو‘‘ کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر پارلیمنٹ کے رکن بن چکے ہیں ۔ اُن کے ووٹروں نے اُنہیں اُن کی کمٹمنٹ اور جماعت سے وابستگی کا خوب صلہ دیا ہے ۔
زیر نظر کتاب ’’بنگلہ دیش میں گمشدگی کے آٹھ سال: اندھیری جیل کا قیدی‘‘کی قیمت750روپے ہے۔ اِسے ’’منشورات‘‘ نے شائع کیا ہے ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و معاملات سے دلچسپی رکھنے والوں کو یہ تصنیف ضرور مطالعہ کرنی چاہیے ۔ یہ کتاب مطالعہ کے دوران ہمیں بار بار یہ باور کرواتی اور احساس دلاتی ہے کہ جب تشدد کا منظم ریاستی ڈھانچہ معرضِ عمل میں آتا ہے تو مجبورِ محض قیدیوں اور لاپتہ ہونے والوں کے لیے ملکی قوانین اندھے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ اِس کے باوجود باہمت قیدی(اور اُن کے جملہ لواحقین) مایوس ہوتے ہیں نہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی سعی کرتے ہیں ۔ بلکہ قانون کے تمام معلوم دروازوں پر دستک دیتے رہتے ہیں ، تاآنکہ قدرت کوئی نہ کوئی دروازہ کھول ہی دیتی ہے ۔ جیسا کہ اگست2024ء میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی متشدد حکومت ختم ہُوئی تو کئی بے گناہ زندانیوں پر نجات کے دروازے بھی کھل گئے ۔
Today News
خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ افضل ترین جہاد ہے، سیکیورٹی ذرائع
راولپنڈی:
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع کے صحافیوں کی آپریشن غضب للحق کے تناظر میں آئی ایس پی آر میں اہم نشست ہوئی، سکیورٹی حکام نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم علاقائی امن و استحکام کے لئے خطرہ بن چکی ہے، خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ افضل ترین جہاد ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر میں خیبرپختونخوا کے صحافیوں کو مدعو کر کے افغانستان میں جاری آپریشن ضرب للحق کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صحافیوں کو بتایا گیا کہ پاکستان کو افغانستان اور افغان عوام کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، افغان طالبان ریجیم خطے میں دہشت گردی کی مرکزی ’’پراکسی ماسٹر‘‘ کے طور پرکام کر رہی ہے، یہ ریجیم متعدد دہشت گرد تنظیموں کی سہولت کاری سے علاقائی امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے، افغان طالبان رجیم کو پاکستان یا دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ آپریشن غضب للحق پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا ہی تسلسل ہے، یہ آپریشن افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردی کی سرپرستی کے مکمل خاتمے کی قابل یقین ضمانت اور عملی اقدامات تک جاری رہے گا، ہمیں کوئی جلدی نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق صحافیوں کو بتایا گیا کہ خوارج اسلام کی ایک مسخ شدہ اور خود ساختہ اسلامی نظریے کی ترویج کر رہے ہیں، اسلام کا دہشت گردی اور خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے، معصوم انسانی جانوں کا قتل عام، خواتین پر مظالم ، مساجد پر حملے اور ان کا دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہماری مذہبی اور معاشرتی روایات کے منافی ہے ایسے خودساختہ مذہبی عقائد کا پرچار کرنے والے خوارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تمام مکتبہ فکر کے علماء نے خوارج اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جنگ کو افضل جہاد قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں، سہولت کاری کے مراکز اور بارڈر سے متصل لانچنگ پیڈز کوخفیہ اطلاعات کی بنیاد پر نشانہ بنا رہا ہے، سویلین آبادیوں کو نشانہ بنانے کا تاثرحقائق کے منافی بلکہ دہشت گردی کے نتیجے میں معصوم پاکستانی جانوں کے ضیاع سے رو گردانی کے مترادف ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ طالبان ریجیم کے ہاتھوں زیر عتاب طبقات غضب للحق کو خوش آئند پیش رفت قرار دے رہے ہیں، افغان آفیشل سوشل میڈیا اکاوٴنٹس اور ان کے ہندوستانی سرپرست میڈیا کی طرف سے من گھڑہت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، پاکستان کے اندربھی روزانہ کی بنیاد پر 200 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈآپریشنز کامیابی کے ساتھ کئے جا رہے ہیں، باہمی اتحاد اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ناگزیر ہے۔
صحافیوں کو بتایا گیا کہ ایران اور خطے کے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کو خطرہ قرار دینے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، پاکستان تمام طاقتوں اور ممالک کے ساتھ تعمیری اور مثبت روابط پر یقین رکھتا ہے اور اپنی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔
Today News
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ
امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کے لیے وار پاورز قرارداد پر آج ووٹنگ متوقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس قرارداد کا مقصد صدر ٹرمپ کو پابند کرنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں۔
ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بادشاہ نہیں ہیں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکا کے قومی مفاد میں ہے تو انہیں کانگریس میں آ کر اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما ایران جنگ اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کے خدشے کو بنیاد بنا کر محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ کے لیے بھی ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو مکمل فنڈنگ اور عملہ فراہم کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے اور صدر کو جنگ سے پہلے کانگریس کی اجازت لینا بے حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی سینیٹ میں اسی نوعیت کی قرارداد پارٹی بنیادوں پر ووٹنگ کے باعث مسترد ہو گئی تھی۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے حق اور مخالفت میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔
اسی دوران امریکی محکمہ دفاع نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے دو مزید فوجیوں کے نام بھی جاری کیے ہیں جن کی شناخت چیف وارنٹ آفیسر رابرٹ مارزن اور میجر جیفری اوبرائن کے طور پر کی گئی ہے۔
امریکہ میں سیاسی محاذ پر ایک اور پیش رفت میں ریپبلکن سینیٹر نے اچانک اپنی تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما ورجینیا میں انتخابی حلقہ بندیوں کی نئی مہم کی حمایت کر رہے ہیں جو رواں سال کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اہم سیاسی معاملہ بن چکی ہے۔
Today News
دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن حکمت عملی
آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے، انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔ دوسری جانب آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے مذکورہ عناصر کے 50 ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔
پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی سیکیورٹی چیلنجز میں سرحد پار دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے۔ بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور پیچیدہ سرحدی پٹی ایسے عوامل سے متاثر رہی ہے جنھوں نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بارہا نقصان پہنچایا۔ ایسے حالات میں عسکری قیادت کی جانب سے سرحدی علاقوں کا دورہ، وہاں تعینات افسران اور جوانوں کے حوصلے کو سراہنا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینا نہ صرف ایک روایتی عسکری عمل ہے بلکہ اس بات کا واضح اظہار بھی ہے کہ ریاست پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔
جنوبی وزیرستان اور اس سے ملحقہ قبائلی خطے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے اہم ترین میدان رہے ہیں۔ دو دہائیوں پر محیط اس جنگ میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ہزاروں جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاورکی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد پاکستان کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی کوششوں کی حمایت کی ہے کیونکہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستانی مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ ظاہرکرتے ہیں کہ افغان سرزمین کو بعض عناصر اب بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف دراصل پاکستان کی ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی خودمختار ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحدوں کے پار سے آنے والے خطرات کو نظر انداز کرے۔ اگر دہشت گرد عناصر سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کریں تو اس کا جواب دینا ریاست کا بنیادی حق اور ذمے داری ہے۔
آپریشن غضب للحق اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہے جو پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور انھیں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔ قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو کسی بھی قیمت پر پنپنے نہیں دے گا۔ ان علاقوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور دراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان خطرات کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل تیاریوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ہے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی قابل قدر ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کو نہ صرف جانی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔
افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی اس تناظر میں نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امن اور تعاون ہی خطے کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمے داریوں کا احساس کرے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ اگر افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور یکجہتی بے حد ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پورے ملک کی جنگ ہے اور اس میں ہر شہری کا کردار اہم ہے۔ میڈیا، سیاسی قیادت، سول سوسائٹی اور عوام سب کو مل کر اس عزم کا اظہار کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسیوں کی حمایت کریں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بعض دشمن قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔ دہشت گردی ان حربوں میں سے ایک اہم ہتھیار ہے جس کے ذریعے ملک کے اندر خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں سرحد پر باڑ کی تعمیر، جدید نگرانی کے نظام کا قیام اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ شامل ہے۔ ان اقدامات کے باعث غیر قانونی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود بعض عناصر دراندازی کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو مسلسل چوکس رہنا پڑتا ہے۔آپریشن غضب للحق اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں دراصل اسی حکمت عملی کا تسلسل ہیں جس کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور ان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج ملک کی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو۔ ایک پرامن خطہ نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ عوام کی زندگیوں میں بہتری بھی لاتا ہے۔ تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، اگر کوئی بھی قوت پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرے گی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔آخرکار یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں کامیابی کے لیے قومی عزم، عسکری صلاحیت اور سیاسی بصیرت سب کا یکجا ہونا ضروری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ اور آپریشن غضب للحق کے تحت جاری کارروائیاں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ پاکستان اپنے دفاع اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور سرحدی علاقوں میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی اور پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتی رہیں گی۔
-
Entertainment2 weeks ago
Atiqa Odho’s Surprising Opinion on Aurat March
-
Tech1 week ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
Final Expands Line-Up Of Gaming Earphones By Launching Two New Models
-
Sports2 weeks ago
Alarm over Pakistanis’ exclusion from Hundred competition
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Trouble in the streets of Kuala Lumpur
-
Tech1 week ago
Hackers Can Now Empty ATMs in Pakistan Without Cards
-
Tech2 weeks ago
Apple Set to Manufacture iPhones in Pakistan: Report
-
Tech2 weeks ago
New Details Confirm Samsung Galaxy S26 Ultra’s Powerful Upgrade