Connect with us

Today News

بااختیار مقامی حکومتوں کی اصل رکاوٹ

Published

on


1999 کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا اقتدار ختم کر کے بغیر مارشل لا لگائے ملک کا اقتدار سنبھالا تھا اور قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑی تھیں تو ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جو ارکان اسمبلی تھے، ان کی مدت جنرل پرویز نے ختم کر دی تھی جس کے نتیجے میں ایک خلا موجود تھا۔ عوام سے منتخب جو ارکان اسمبلی تھے وہ فارغ ہو چکے تھے۔

اس سے قبل جب جنرل ضیا الحق نے 1977 میں جب مارشل لا لگایا تھا اس وقت بھی ملک میں کوئی بلدیاتی نظام نہیں تھا اور جب 1969 میں جنرل یحییٰ نے اقتدار سنبھالا تو جنرل ایوب کا بی ڈی سسٹم جسے بیسک ڈیموکریسی کا بلدیاتی نظام کہا جاتا تھا، وہ بھی ختم کیا جاچکا تھا۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ملک کو کوئی بلدیاتی نظام دیا تھا نہ ہی بلدیاتی انتخابات کرائے تھے جو دنیا میں جمہوریت کی نرسری سمجھے جاتے تھے۔

طویل اقتدار میں رہنے والے جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف جنھیں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی سیاسی حکومتیں آمر قرار دیتی ہیں، نے ملک کو تین بلدیاتی نظام دیے تھے اور جنرل ایوب نے دو بار، جنرل ضیا الحق نے تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے دو بار ملک میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ آمروں کے اقتدار میں ارکان اسمبلی نہیں ہوتے، اس لیے بلدیاتی الیکشن کرانا ان کی ضرورت ہوتا ہے تاکہ غیر سول حکومتیں ارکان اسمبلی کی غیر موجودگی میں عوام سے رابطے میں رہیں کیونکہ بلدیاتی ادارے بھی عوام کے ووٹوں کے ذریعے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم اور بلدیاتی نمایندوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔

جنرل ایوب، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز کے ملک کو دیے گئے بلدیاتی نظاموں میں بی ڈی ممبر،کونسلر اور چیئرمین اور ناظمین ہوتے تھے۔ بی ڈی ممبر اور کونسلر اپنی یوسی ٹاؤن، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلع کونسل کے سربراہوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جب کہ جنرل پرویز نے 2001 میں ملک کو ضلعی حکومتوں کا جو بااختیار نظام دیا تھا وہ بی ڈی سسٹم اور 1979 کے بلدیاتی نظام کے مقابلے میں منفرد نہایت بااختیار، بیورو کریسی کی ماتحتی سے پاک مضبوط مقامی حکومتوں کا نظام تھا جس میں کمشنری نظام ہی ختم کر دیا گیا تھا اور صوبائی سیکریٹریوں، کمشنر، ڈپٹی اور اسسٹنٹ کمشنروں کے عہدے ہی ختم کرکے منتخب ضلعی و سٹی ناظمین کے ماتحت ڈی سی او، ڈی اوز کر دیے گئے تھے جو ضلعی ناظمین کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تو بااختیار ناظمین ان کا تبادلہ کرا دیتے تھے کیونکہ یہ بیورو کریٹس عوام کے منتخب نمایندوں کی بات ماننے کے نہیں بلکہ اپنی چلانے کے عادی رہے تھے مگر ضلعی نظام میں ان کی اہمیت نہیں رہی تھی۔

ضلعی حکومتوں میں ارکان اسمبلی کی بھی اہمیت ختم ہو گئی تھی نہ انھیں مداخلت کا اختیار تھا اور انھیں ترقیاتی کاموں کے نام پر جو سالانہ فنڈز ملتے تھے وہ بھی بند ہو گئے تھے اور عوام نے بھی اپنے علاقائی مسائل کے حل کے لیے ارکان اسمبلی کے پاس جانا ہی چھوڑ دیا تھا جس پر بیورو کریسی اور ارکان اسمبلی سخت پریشان تھے ان کی کمائی بھی بند ہو گئی تھی۔ صوبوں میں بلدیاتی وزیر تو تھے مگر ان کی پہلے جیسی اہمیت رہی تھی نہ وہ ناظمین پر حکم چلا سکتے تھے۔ وفاقی وزیر بلدیات اور ان کا محکمہ بھی غیر موثر ہو چکا تھا اور ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وفاقی ادارے قومی تعمیر نو، بیورو کے ماتحت رہ کر خود مختیاری سے بہترین کام کر رہی تھیں جس سے 2002 میں قائم ہونے والی صوبائی حکومتیں بھی پریشان اور بلدیاتی معاملات میں بے اختیار تھیں جس کے بعد صوبائی حکومتوں، ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی نے مل کر جنرل پرویز کے ذریعے ضلعی حکومتوں کے اختیارات کچھ کم کرائے تھے مگر ضلعی نظام ختم نہیں کرا سکے تھے کیونکہ جنرل پرویز نے ضلعی نظام کو 2008ء تک آئینی تحفظ دلا دیا تھا۔ جنرل پرویز نے وردی اتار کر 2008 میں صدر مملکت کے طور پر 2008 میں جماعتی انتخابات کرائے جو پانچ سالہ مدت پوری ہونے پر 2007 میں ہونے تھے مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث نہیں ہو سکے تھے۔

1973 کے متفقہ آئین میں مقامی حکومتوں کے لیے آئین میں آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 32، آرٹیکل 07 اور آرٹیکل 226 رکھے گئے تھے مگر ان پر کبھی عمل نہیں کیا گیا بلکہ صوبائی حکومتوں نے عمل ہونے نہیں دیا۔ اٹھارہویں ترمیم میں (ن) لیگ اور پی پی نے اپنے وسیع تر مفاد کے لیے جب صوبوں کو بااختیار بنایا اور وفاق سے بلدیاتی نظام صوبوں کے مکمل کنٹرول میں آیا تو صوبائی حکومتوں اور ارکان اسمبلی نے اطمینان کا سانس لیا اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے منحرف ہو گئیں جو آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی آئین کا تحفظ کرنے والوں نے اس آئینی خلاف ورزی پر آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔

صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں پر قابض ہیں سب کے اپنے اپنے کمزور بلدیاتی نظام تو ہیں مگر آئین کے تحت بااختیار نہیں۔ وزرائے اعلیٰ بادشاہ بن کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بلدیاتی اداروں کو فنڈ دے رہے ہیں نہ اختیار بلکہ مقامی حکومت کا کہیں وجود نہیں۔ وفاق اور صوبے اپنے اپنے ارکان کو غیر آئینی طور پر ترقیاتی نام پر فنڈز دے رہے ہیں۔ پنجاب اور اسلام آباد میں تو بلدیاتی ادارے ہی موجود نہیں۔ سندھ و کے پی اور بلوچستان کے کمزور بلدیاتی ادارے بیورو کریسی کے ماتحت ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کے فنڈز پر قابض اور صرف اپنے ارکان اسمبلی کو خوش کر رہی ہیں اور منتخب بلدیاتی اداروں کو عدلیہ سے بھی ریلیف نہیں مل رہا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، 19 تا 21 رمضان خصوصی تھریٹ ایڈوائزری جاری

Published

on



راولپنڈی:

شہر بھر میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ 19 سے 21 رمضان المبارک کے دوران سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

یہ مراسلہ تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس پی سیکیورٹی، سرکل افسران اور تھانوں کے سربراہان کو بھجوا دیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق شہر بھر میں اہم تنصیبات، جوائنٹ چیک پوسٹس، ون ویلنگ پکٹس اور رمضان المبارک کے حوالے سے مساجد، امام بارگاہوں اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

تمام ڈویژنل ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیک پوسٹس اور دیگر سیکیورٹی پوائنٹس پر تعینات اہلکاروں کو ہر دو گھنٹے بعد چیک کریں اور سیکیورٹی صورتحال سے بریف کریں۔

اسی طرح اہم سرکاری عمارتوں، نور خان ایئر بیس چکلالہ، پولیس لائنز، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بھی مسلسل چیک کرنے اور فورس کو ہائی الرٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مراسلے میں بس اسٹینڈز اور مصروف ٹرانسپورٹ اڈوں پر بھی اضافی نگرانی کے لیے فورس تعینات رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تمام پولیس دفاتر، تھانوں اور چوکیوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

ایس پی اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس لائنز کی سیکیورٹی ڈیوٹی کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور ایک افسر کو 24 گھنٹے کے لیے تعینات کیا جائے جو ہر گھنٹے ڈیوٹی چیک کر کے رپورٹ پیش کرے۔

مزید برآں رمضان المبارک کے دوران رمضان سہولت بازاروں، دسترخوانوں، شاپنگ مالز اور رش والے مقامات پر بھی مناسب سیکیورٹی ڈیوٹی تعینات رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مراسلے میں سحری اور افطاری کے بعد ون ویلنگ کی روک تھام کے لیے قائم پکٹس پر تعینات اہلکاروں کو مکمل بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ایس پی سیکیورٹی کو ضلع کچہری، نیو جوڈیشل کمپلیکس، انسداد دہشت گردی عدالت اور ہائی کورٹ کی سیکیورٹی کا بذات خود جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے، ایران

Published

on



تہران:

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔

دوسری جانب ایرانی صدر نے جنگی صورتحال کے دوران قوم سے خطاب اور سوشل میڈیا پیغام میں کردستان کے عوام کا ایران کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ شہداء اور زخمیوں کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

ایرانی صدر نے گورنرز اور مسلح افواج کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کو سختی سے کچلا جائے اور قومی سلامتی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ علیحدگی پسند عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی فوج نے فضا اور سمندر پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا، پینٹاگون

Published

on



واشنگٹن:

امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی آپریشن اب ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جبکہ میدان جنگ میں امریکی فورسز کو نمایاں برتری حاصل ہو رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی منصوبے کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور امریکی افواج بتدریج ایرانی فضائی اور بحری حدود پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کو امریکی فوجی طاقت کے بارے میں شدید غلط فہمی تھی اور ایران کو یقین تھا کہ امریکا اس جنگ کو آگے نہیں بڑھا سکے گا تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔

پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی فوج کے پاس جدید ہتھیاروں اور اسلحے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس کی بدولت مزید کارروائیوں کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے ایران کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ امریکا اس جنگ میں پھنس چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی رفتار اور دورانیہ امریکا خود طے کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنازعہ چار ہفتے بھی جاری رہ سکتا ہے، آٹھ ہفتوں تک بھی جا سکتا ہے یا اس سے زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں تقریباً 83 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو امریکی کارروائیوں کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending