Connect with us

Today News

بجلی سبسڈی کیلیے ایک کھرب منظوری کی کوشش، آئی ایم ایف کا اعتراض

Published

on



اسلام آباد:

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے آئندہ مالی سال کے لیے پاکستان کی جانب سے بجلی کے شعبے میں تقریباً ایک کھرب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

اس رقم میں 400 ارب روپے سے زائد بجلی چوری اور نظام کی نااہلیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں۔

بجلی کے شعبے میں مسلسل مالی خسارے اور ہر سال بھاری بجٹ مختص کیے جانے سے حکومت کا یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے کہ گزشتہ 2برسوں میں اس شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال 2026-27 کے لیے بجلی سبسڈی کی مد میں تقریباً 990 ارب روپے درکار ہوں گے، جو رواں سال کے مقابلے میں 11 فیصد یا تقریباً 100 ارب روپے زیادہ ہیں۔

یہ اضافی 100 ارب روپے تقریباً اس رقم کے برابر ہیں جو حکومت بجلی صارفین سے کراس سبسڈی کے نام پر وصول کرتی ہے، جس کے تحت ماہانہ 300 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایت دینے کے لیے دیگر صارفین سے فی یونٹ 7 سے 12 روپے تک اضافی وصول کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اس بجٹ تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ سبسڈی کی رقم کو موجودہ مالی سال کے 893 ارب روپے سے کم رکھا جائے۔

پاور ڈویڑن کا موقف تھا کہ کے الیکٹرک کے قرضوں کی معافی اور گردشی قرضے پر زیادہ سودی ادائیگیوں کے باعث اضافی سبسڈی درکار ہوگی، خاص طور پر اس لیے کہ چین نے توانائی کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے صرف وزارت خزانہ ہی آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت پر موقف دے سکتی ہے۔

موجودہ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف گردشی قرضے کے بہائو  کی اجازت تو دے رہا ہے لیکن ایک مقررہ حد کے اندر۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے اگلے مالی سال میں گردشی قرضے میں 500 ارب روپے سے زائد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ یہ اضافہ 300 سے 325 ارب روپے کے درمیان محدود رہے، جو رواں سال کی سطح سے بھی کم ہو۔

گزشتہ ماہ وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا تھا کہ بجلی چوری اور نظام کی نااہلی کے اخراجات ٹیرف میں شامل نہیں کیے جاتے بلکہ وزارت خزانہ انھیں سبسڈی کی صورت میں ادا کرتی ہے۔

تاہم یہ سبسڈی دراصل ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں،گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 606 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا۔وزیر توانائی نے میڈیا بریفنگ میں اعتراف کیا تھا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی چوری اور کم وصولیوں کے باعث حکومت کو 497 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے باعث نقصانات کم نہیں کیے جا سکے۔

تاہم ذرائع کے مطابق سندھ میں زیادہ نقصانات کے بارے میں آئی ایم ایف کے سوال کا پاور ڈویڑن کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔حیدرآباد اور سکھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈز کی مدت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت نئے بورڈ ممبران کی تقرری کے عمل میں ہے۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بجائے اب نیٹ بلنگ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت قومی گرڈ سے بجلی تقریباً 60 روپے فی یونٹ تک فروخت کی جائے گی جبکہ شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی 9 روپے فی یونٹ سے بھی کم قیمت پر خریدی جائے گی۔

حکومت نے گردشی قرضے کے مجموعی حجم کو کم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1.23 کھرب روپے کا نیا قرض بھی حاصل کیا ہے۔حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گردشی قرضے کے بہائو  کو 2031 سے پہلے صفر تک لانا ممکن نہیں ہوگا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، 19 تا 21 رمضان خصوصی تھریٹ ایڈوائزری جاری

Published

on



راولپنڈی:

شہر بھر میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ 19 سے 21 رمضان المبارک کے دوران سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز ملک طارق محبوب نے اس حوالے سے باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

یہ مراسلہ تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس پی سیکیورٹی، سرکل افسران اور تھانوں کے سربراہان کو بھجوا دیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق شہر بھر میں اہم تنصیبات، جوائنٹ چیک پوسٹس، ون ویلنگ پکٹس اور رمضان المبارک کے حوالے سے مساجد، امام بارگاہوں اور اقلیتی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

تمام ڈویژنل ایس پیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چیک پوسٹس اور دیگر سیکیورٹی پوائنٹس پر تعینات اہلکاروں کو ہر دو گھنٹے بعد چیک کریں اور سیکیورٹی صورتحال سے بریف کریں۔

اسی طرح اہم سرکاری عمارتوں، نور خان ایئر بیس چکلالہ، پولیس لائنز، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بھی مسلسل چیک کرنے اور فورس کو ہائی الرٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مراسلے میں بس اسٹینڈز اور مصروف ٹرانسپورٹ اڈوں پر بھی اضافی نگرانی کے لیے فورس تعینات رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تمام پولیس دفاتر، تھانوں اور چوکیوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

ایس پی اور ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس لائنز کی سیکیورٹی ڈیوٹی کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور ایک افسر کو 24 گھنٹے کے لیے تعینات کیا جائے جو ہر گھنٹے ڈیوٹی چیک کر کے رپورٹ پیش کرے۔

مزید برآں رمضان المبارک کے دوران رمضان سہولت بازاروں، دسترخوانوں، شاپنگ مالز اور رش والے مقامات پر بھی مناسب سیکیورٹی ڈیوٹی تعینات رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مراسلے میں سحری اور افطاری کے بعد ون ویلنگ کی روک تھام کے لیے قائم پکٹس پر تعینات اہلکاروں کو مکمل بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

ایس پی سیکیورٹی کو ضلع کچہری، نیو جوڈیشل کمپلیکس، انسداد دہشت گردی عدالت اور ہائی کورٹ کی سیکیورٹی کا بذات خود جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے، ایران

Published

on



تہران:

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔

دوسری جانب ایرانی صدر نے جنگی صورتحال کے دوران قوم سے خطاب اور سوشل میڈیا پیغام میں کردستان کے عوام کا ایران کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ شہداء اور زخمیوں کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

ایرانی صدر نے گورنرز اور مسلح افواج کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کو سختی سے کچلا جائے اور قومی سلامتی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ علیحدگی پسند عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے اور ملک کی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔





Source link

Continue Reading

Today News

امریکی فوج نے فضا اور سمندر پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا، پینٹاگون

Published

on



واشنگٹن:

امریکا کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ایران میں جاری امریکی فوجی آپریشن اب ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جبکہ میدان جنگ میں امریکی فورسز کو نمایاں برتری حاصل ہو رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری فوجی کارروائی منصوبے کے مطابق کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور امریکی افواج بتدریج ایرانی فضائی اور بحری حدود پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کو امریکی فوجی طاقت کے بارے میں شدید غلط فہمی تھی اور ایران کو یقین تھا کہ امریکا اس جنگ کو آگے نہیں بڑھا سکے گا تاہم حالات اس کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔

پیٹ ہیگستھ کے مطابق امریکی فوج کے پاس جدید ہتھیاروں اور اسلحے کا وسیع ذخیرہ موجود ہے، جس کی بدولت مزید کارروائیوں کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے ایران کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ امریکا اس جنگ میں پھنس چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی رفتار اور دورانیہ امریکا خود طے کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تنازعہ چار ہفتے بھی جاری رہ سکتا ہے، آٹھ ہفتوں تک بھی جا سکتا ہے یا اس سے زیادہ عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں تقریباً 83 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو امریکی کارروائیوں کی مؤثریت کو ظاہر کرتی ہے۔





Source link

Continue Reading

Trending