Connect with us

Today News

سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے

Published

on



عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں کمی جبکہ چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 34ڈالر کی کمی سے 5ہزار 110ڈالر کی سطح پر آگئی۔

عالمی مارکیٹ میں کمی سے مقامی مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 3ہزار 400روپے کی کمی سے 5لاکھ 33ہزار 762روپے کی سطح پر آگئی۔

اسی طرح، فی دس گرام سونے کی قیمت 2 ہزار 915روپے گھٹ کر 4لاکھ 57ہزار 614روپے کی سطح پر آگئی۔

سونے کے برعکس، فی تولہ چاندی کی قیمت 104 روپے کے اضافے سے 8ہزار 914 روپے جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 89روپے کے اضافے سے 7ہزار 642روپے کی سطح پر آگئی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

جنگ بدر میں نوجوانوں کا کردار

Published

on


مسلمانوں اور کفار کے درمیان جو پہلی جنگ ہوئی اس کا نام جنگ بدر ہے۔ کفار نے یہ جنگ مسلمانوں پر زبردستی مسلط کی تھی اور وہ اس لیے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ صرف ایک معبود حقیقی کی عبادت کی جائے۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ مکہ میں بت پرستی زوال پذیر نہ ہو اور پوری عرب قوم بت پرست ہی رہے۔ کیوں کہ یہی ان کے آباء و اجداد کا مذہب تھا۔

دعوت توحید دینے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر آنحضور ﷺ نے اﷲ کے حکم سے امت مسلمہ کو ہجرت کرنے کا حکم فرمایا۔ چناں چہ مکہ سے تمام مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے۔ مدینہ پہنچے کے بعد بھی کفار نے مسلمانوں کو چین سے نہ رہنے دیا اور ابھی انہیں نئی سرزمین پر منتقل ہوئے دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ کفار مکہ نے مسلمانوں کی مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کردیا۔

حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آنحضرتؐ نے لوگوں کو جنگ کے لیے تیار کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق مسلمانوں کا مختصر سا قافلہ جس کی کل تعداد313 تھی، ان میں انصار اور مہاجر سب شامل تھے اور قبائل میں اوس اور خزرج بھی شامل تھے۔ اس قافلے کے ساتھ60 اونٹ، 3 گھوڑے، 60 زرہیں اور چند تلواریں تھیں۔ جب کہ دشمن کی تعداد 1000نفوس پر مشتمل تھی اور وہ ہر طرح سے لیس تھے۔ ان کے پاس 700 زرہیں، 70 گھوڑے، لاتعداد اونٹ، بے شمار تلواریں اور نیزے تھے۔ ان دونوں افواج کا آمنا سامنا 17رمضان المبارک2ھ بدر کے مقام پر ہُوا۔ 313 مسلمانوں کا یہ قلیل لشکر اس جنگ میں جس جوش و خروش کے ساتھ لڑا وہ قابل دید تھا۔ انھوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لشکر کو ایک ہی دن میں شکست فاش سے دوچار کیا۔

اس جنگ میں جہاں بڑے اپنا جوش اور ولولہ دکھا رہے تھے وہاں جوان اور بچے بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہ تھے۔ بچوں نے محاذ جنگ پر بڑوں ہی کی طرح کارنامے سرانجام دیے۔ یہ بچے اپنے بڑوں کے شانہ بہ شانہ وسط میدان پہنچے اور ایک ایسا لاثانی اور لافانی کارنامہ انجام دیا جو شاید بڑوں کے لیے بھی ناممکن ہوتا۔ کیوں کہ ابوجہل تلواروں کے سائے میں تیروں اور نیزوں کی باڑھ میں تھا، اس کے ساتھی کہتے جاتے تھے کہ دیکھو ابو الحکم (ابوجہل کا لقب) کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اتنے پہرے کے باوجود دو نوجوان اس تک پہنچنے اور اسے جہنم واصل کرنے میں کام یاب ہوگئے۔

اس جنگ میں شریک ایک برگزیدہ صحابی جناب عبدالرحمن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ کے روز صف کے اندر تھا کہ دیکھا دائیں اور بائیں دو نوجوان کھڑے ہیں، ان کی موجودی سے میں بہت حیران ہُوا، اتنے میں ایک نوجوان نے دوسرے سے چھپتے ہوئے مجھ سے آہستہ سے پوچھا:

چچا جان! ابوجہل کہاں ہے۔۔۔ ؟

میں نے جواب میں کہا: تمہیں ابوجہل سے کیا سروکار ؟

اس نے کہا: مجھے پتا چلا ہے کہ ابوجہل آنحضور ﷺ کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو زندہ نہیں چھوڑوں گا خواہ اس میں میری جان ہی چلی جائے۔

مجھے اس نوجوان کی بات پر تعجب ہُوا، ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ دوسرے نوجوان نے بھی اسی انداز سے پوچھا۔ میری نظریں میدان کار زار ہی پر مرکوز تھیں کہ اچانک مجھے ابوجہل نظر آیا تو میں نے ان نوجوانوں سے مخاطب ہوکر کہا:

 وہ رہا دشمن اسلام اور تمہارا شکار۔

یہ دیکھتے ہی ان دونوں نے شیر کی طرح اس پر حملہ کر دیا، پھر اسے خون میں لت پت چھوڑا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر میدان جنگ کا واقعہ بیان کیا۔

آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: تم دونوں میں سے کس نے ابوجہل کو قتل کیا۔۔۔ ؟

دونوں بہ یک وقت بولے: میں نے۔

 آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اچھا ذرا اپنی اپنی تلوار دکھاؤ۔

دونوں نے تلواریں دکھائیں جن پر خون لگا ہوا تھا۔

 پھر آپؐ فرمایا: واقعی! تم دونوں نے ہی اسے جہنم رسید کیا ہے۔

 تاریخ اسلام اور کتب احادیث میں دونوں بچوں کا نام معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفرا ہے۔ تاریخ ابن ہشام میں دوسرا نام معوذ بن عفرا لکھا ہے۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ)

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن عمروؓ کہتے ہیں کہ ابوجہل کو میں نے نشانے پر لیا، اس کی پنڈلی کا نشانہ لے کردو ٹکڑے کیے، ایک حصہ دور جاگرا، ادھر میں نے ابوجہل کی ٹانگ کاٹی، ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرا بازو کاٹا جو چمڑی سے لٹک کر رہ گیا تھا، لیکن میں اسی طرح محاذ جنگ پر ڈٹا رہا۔ آخر جب تکلیف بڑھی تو میں نے اس بازو کو زمین پر رکھا اور ایک ٹانگ سے دبا کر دوسرے ہاتھ سے زور دار جھٹکا لیا، جس کی وجہ سے وہ بازو میرے جسم سے الگ ہوگیا اور تکلیف میں کمی ہوگئی۔ اس کے بعد معوذؓ اس کے پاس پہنچے اور کاری ضربیں لگا کر اسے نیم مردہ کردیا، بس صرف سانس چل رہی تھی اس کے بعد معوذ بھی بے جگری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اور ابوجہل کا سر حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ نے کاٹ کر آنحضورؐ کی خدمت میں پیش کیا جسے دیکھ کر آپؐ نے فرمایا: ’’یہ آج کے فرعون کا سر ہے۔‘‘

روایت میں آیا ہے کہ حضرت معاذ ؓ اپنے ایک ہاتھ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے رہے۔ وہ خلیفہ سوئم حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے جب کہ معوذؓ میدان بدر ہی میں شہادت کے منصب پر فائز ہوگئے تھے۔ اس لیے ابوجہل کا جنگ کے میدان میں چھوڑا ہوا مال حضرت معاذ بن عمروؓ کو پورا ملا مگر تلوار حضرت عبداﷲ ابن مسعودؓ کو ملی، جنہوں نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (سنن ابی داؤد)





Source link

Continue Reading

Today News

’’جس کو بخشا تھا پیمبرؐ نے حمیرا کا لقب‘‘

Published

on


سترہ رمضان المبارک حضور ختمی مرتبت سیّد المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی چہیتی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہؓ کا یوم وصال ہے جسے حضورؐ پیار سے حمیرا کے لقب سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ یہی وہ پاک باز اور پاک نگاہ ہستی ہے جس کے نام کے ساتھ عفت و عصمت، تقدس و تحرم اور پاک نگاہی و پاک دامنی کی آبرو وابستہ ہے۔ یہی وہ مہتمم بالشان شخصیت ہے جس کے والد ماجد کو سرکار رسالت مآبؐ کی حیات طیبہ میں ہی سترہ نمازیں آپؐ کے مصلّے پر کھڑے ہو کر پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے۔

آقائے گیتی پناہ ﷺ کی یہی وہ بلند مرتبہ زوجہ محترمہ ہے جس کے حجرہ مبارکہ میں دیگر ازواج مطہراتؓ سے مشورے کے بعد حضور ﷺ وصال سے چند یوم قبل اپنی حیات عارضی کے لمحے گزار کر حیات جاوداں کی طرف عازم سفر ہوئے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ یہی وہ حضورؐ کی محبوب ترین زوجہ ہیں جب شدید عالم علالت میں آپؐ نے مسواک کرنے کی تمنا کا اظہار فرمایا تو سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے پہلے مسواک خود چبا کر نرم کرنے کے بعد اپنے شوہر محترم ﷺ کو پیش کی۔ یہ لامثال سعادت بھی حضورؐ کی انھی زوجہ محترمہؓ کو حاصل ہے کہ بہ وقت وصال رحمۃ للعالمینؐ کا سر اقدس ان کی آغوش میں تھا۔ حتیٰ کہ رفعت و عظمت حجر ہ عائشہؓ کے کیا کہنے کہ وہ مدفن رسالتؐ بھی بن گیا۔ اور طلوع آفتاب قیامت تک یہاں ناصرف غلامان محمد عربی ﷺ کی جبین ارادت جھکتی رہے گی بلکہ صبح و مسا ان گنت ملائکہ کا نزول رہے گا۔

انھی زوجہ محترمہؓ کو پیدائشی مسلمان ہونے کا شرف بھی حاصل ہے کیوں کہ معتبر روایات میں آیا ہے کہ جب سیّدہ عائشہ ؓ نے آنکھ کھولی تو اپنے والدین کو مسلمان پایا۔ والد ماجد بھی ناصرف مسلمان تھے بل کہ قربت بارگاہ رسالت مآبؐ میں غایتوں کی غایت اولیٰ پر تھے۔ والدہ ماجدہ ام رومانؓ بھی ممتاز صحابیات میں شامل تھیں۔ ہمشیرہ حضرت اسماءؓ اور بھائی محمد بن ابوبکرؓ بھی دولت ایمان سے بہرہ یاب تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان ایمان افروز سعادتوں سے مشرف ہونے کی وجہ سے عہد طفولیت سے ہی آپؓ پر کفر و شرک کا سایہ تک نہیں پڑا تھا۔ تمام ازواج مطہراتؓ میں مجرد آپؓ کو یہ سعادت اور انفرادیت حاصل ہے کہ حضور سرور کونین ؐ کو نکاح سے قبل ہی حضرت جبریل امینؑ کے توسط سے حضرت عائشہ ؓ کے حبالہ زوجیت کی اطلاع دے دی گئی تھی۔ چناں چہ بخاری شریف باب مناقب عائشہؓ میں اس کی صراحت آئی ہے کہ عالم رویاء میں کوئی فرشتہ ریشم میں ملبوس آپؐ کو کوئی چیز پیش کر رہا ہے۔ حضور ؐ نے وہ کھول کر دیکھا تو سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ تھیں۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورؐ کی سیّدہ عائشہ ؓ کے ساتھ غایت محبت کا ادراک دیگر ازواج کو بھی تھا۔ اور اس احساس کا عملی اظہار حضورؐ کے آخری ایام میں حجرہ عائشہ ؓ کا انتخاب تھا۔ جس کی اجازت دیگر امہات المومنینؓ نے بہ رضا و رغبت دی تھی۔

انھی زوجہ محترمہؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ کنج عزلت میں رفاقت نبوتؐ میسر ہوتی تو متعدد مرتبہ وحی کا نزول بھی ہوتا۔ مستدرک الحاکم میں آپؓ کی یہ فضیلت بھی رقم ہے کہ آپؓ نے جبریل امینؑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آپؓ تمام ازواج رسولؐ میں اس اعتبار سے بھی ممیز تھیں کہ آپؓ کنواری تھیں۔ اور سب سے بڑا اعزاز جو تنہا آپؓ کو حاصل ہے وہ کلام اﷲ کا آپؓ کی تقدیس و تحریم پر گواہ ہونا ہے اور صرف ایک دو آیات نہیں سورۃ نُور کا پورا ایک رکوع آپؓ کی شان عصمت کے سلسلے میں نازل ہُوا۔ اس کا اجمالی پس منظر یہ ہے کہ جب معاندین اسلام کو معرکہ ہائے حق و باطل میں پے در پے ہزیمت اٹھانا پڑی اور تخت و تاج و کفر کی دھجیاں ہوائے بسیط میں بکھرنے لگیں تو منافقین نے حضورؐ کی ایسی محبوب ترین زوجہ کی ردائے عصمت کو اپنے شر کے ناپاک چھینٹوں سے آلودہ کرنے کی جسارت کی جسے آپؐ احساس محبت سے لبریز لہجے میں حمیرا کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

کتب سیرہ میں لفظی اختلاف سے یہ واقعہ درج ہے: ( مفہوم) غزوہ بنو المصطلق میں رفاقت رسولؐ معظمؐ کے لیے قرعہ فال سیّدہ عائشہؓ کے نام نکلا۔ واپسی پر آپؓ فطری تقاضے کے لیے پڑاؤ سے دور نکلیں تو ان کے گلے کا ہار جو ان کی ہمشیرہ نے تحفتاً دیا تھا، گم ہوگیا۔ اس اثناء میں لشکر اسلام آگے نکل گیا آپ ایک عجیب عالم تذبذب میں وہیں لیٹ گئیں اور نیند غالب آگئی۔ حضور ﷺ کے صحابی صفوان بن معطلؓ سب سے پیچھے رہ کر جیش اسلام کی گری پڑی چیزیں تلاش کرتے وہاں پہنچ گئے آپؓ نے زوجہ رسولؐ کو محو استراحت دیکھا تو انا ﷲ و انا علیہ راجعون پڑھا تاآں کہ سیّدہ بیدار ہوگئیں، صفوان نے سواری آپؓ کے قریب کھڑی کی تو آپ اس پر سوار ہوگئیں اور لشکر کی اگلی قیام گاہ تک پہنچ گئیں۔ اب ذریت طاغوت کا دجل و فریب اور عیارانہ طرز عمل دیکھیے کہ ان کے ہاتھ ایسا شر پسندانہ ہتھیار آگیا جس نے مزاج نبوتؐ پر زبردست گراں باری پیدا کر دی۔ مگر امام الانبیاءؐ نے اپنی بے مثال فطرت سلیمہ اور رفیع الشان شکیبائی کا عدیم لانظیر مظاہرہ فرمایا اور ناقابل بیان تکلیف کے باوجود جس ضبط نفس، بے پایاں عزیمت و حوصلے اور کمال قوت برداشت کا مظاہرہ فرمایا وہ یقیناً دانائے سبل، ختم الرسل اور مولائے کُل ﷺ کے ارتفاع تدبّر کا ہی کمال تھا اس حد درجہ حساس معاملے سے عہدہ برآ ہونا خصائص آدمیت کی معراج پر ہونے کے باوجود کسی عام آدمی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ آپؐ نے اپنی محبوب زوجہؓ کی انتہائی تشویش اور اپنے انتہائے تذبذب کو کمال بردباری سے برداشت کرتے ہوئے معاملہ وحی حق پر چھوڑ دیا۔ جب بے قراری نبوتؐ حد سے بڑھنے لگی تو سورۃ نور کی آیات کا نزول ہوا جس میں خود خالق ارض و سما نے سیدہ عائشہؓ کی طہارت و عصمت کا ایسا اعلان فرمایا جو حقیقت میں شر پسندوں کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ تھا۔ اﷲ رب العزت کی گواہی کے نزول کے ساتھ ہی حضور ﷺ کے رخ انور پر مسرت و ابتہاج کی لہر دوڑ گئی اور لب مصطفی ﷺ پر تسکین و طمانیت کا ایک ہالہ سا بن گیا۔ اب قیامت تک ان آیات مقدسہ کی تلاوت ہوتی رہے گی اور رفعت و مقام عائشہؓ آشکار ہوتی رہے گی۔

تیری عصمت کی گواہی دی کلام اﷲ نے

تیری عزت کے نشاں ہیں گردش ایام پر

جس کو بخشا تھا پیمبرؐ نے حمیرا کا لقب

مہر و ماہ کی رونقیں قربان اس کے نام پر

جس پہ باندھا تھا خدا کے دشمنوں نے اتہام

آج تک انسان شرمندہ ہے اس الزام پر

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ طبعاً فیاض فطرت تھیں ایسا کیوں نہ ہوتا آپؓ اس عظیم باپ کی لخت جگر تھیں جس نے اسلام کے دور ابتلاء میں گھر کی کل کائنات بانی اسلام حضور سید المرسلینؐ کے قدموں پر نچھاور کر دی۔ آپؓ اس ذی شان ہستیؐ کی اہلیہ تھیں جو سائل کے دست طلب دراز کرنے پر ریوڑ کے ریوڑ عطا کر دیتا اور خود فاقہ کشی اختیار کرتا۔ چناں چہ فراخ دلی اور وسعت قلبی کے وہی اثرات آپؓ کی فطرت مطہرہ میں پائے جاتے تھے۔ بالخصوص رمضان المبارک میں تو آپ کا دست فیض اور بھی کشادہ ہو جاتا۔ سیّدہ عائشہ زہد و اتقاء، محبت و خشیت الٰہی سے معمور تھیں۔ فقہی امور میں بڑے نام ور اور جلیل القدر صحابہ کرام آپؓ سے مشورہ و راہ نمائی حاصل کرتے۔ اسی لیے سیرت نگار اس بات پر متفق ہیں کہ علمی کمالات، دینی اور خانگی امور کی تشریحات اور حضور سرور کائناتؐ کی تعلیمات کی اشاعت میں تمام ازواج مطہراتؓ میں سیّدہ عائشہ ؓ کا کوئی اور حریف نہیں ہو سکتا۔ آپؐ نے سترہ رمضان المبارک داعی اجل کو لبیک کہا اور جنّت البقیع میں آسودہ ہوئیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

مخدوش صورتحال! – ایکسپریس اردو

Published

on


ایران پر مسلط کی گئی ہولناک جنگ کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ہر جانب بربادی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو یہ نہیں معلوم کہ اس تباہی کا دورانیہ کتنا ہو گا۔ امریکی صدر‘ بذات خود چار سے پانچ ہفتے کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر انھیں کے عسکری کمانڈر‘ اس اعلان کی نفی کر رہے ہیں۔ غور کیجیے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے ایماء پر اتنا بڑا قدم کیونکر اٹھا لیا؟ یہ ایسا سوال ہے جس پر پورے امریکا میں مدلل بحث جاری ہے۔نیتن یاہو‘ جو کہ بنیادی طور پر غزہ کی جنگ کے بعد‘ ایک جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ وہ تو طویل عرصے سے ‘ ہر امریکی صدر کو ایران پر یلغار کرنے کا کہہ رہا ہے۔

پھر کیا وجہ ہے کہ پرانے امریکی صدور‘ اس خونی تمنا کو پورا کرنے سے انکار کرتے رہے۔ مگر ٹرمپ نے نہ صرف ایک جنگی جنونی کی بات مانی ‘ بلکہ اس کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کے لیے‘ پورے ملک کے وسائل داؤ پر لگا دیئے؟ یہودی شدت پسندوں کی توقع سے بڑھ کرامریکا کی دفاعی ساکھ پر بھی سوالہ نشان کھڑے کروا دیئے؟ یہ حد درجہ سنجیدہ سوالات ہیں۔ پہلی بات ‘ جو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس برس کے آخر میں امریکا‘ مڈٹرم الیکشن کی طرف جا رہا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے حساب سے ٹرمپ اور اس کی سیاسی جماعت ‘ حد درجہ شکست کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی ریٹنگ ‘ شرمناک حد تک کم ہو چکی ہے۔ امریکی صدر‘ تجزیاتی رپورٹوں سے حد درجہ پریشان بلکہ خوف زدہ ہے۔ ایک تقریر کے دوران ‘ فی البدیہہ مونہہ سے نکل گیا کہ امید ہے کہ اس برس کے آخر میں‘ میرے خلاف عدم اعتماد کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ مجھے گرفتاری کا مونہہ بھی نہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ‘ ٹرمپ ‘ کے متعلق امریکی میڈیا اور سیاسی مخالفین‘ ثبوت مہیا کر رہے ہیں کہ وہ شدید مالیاتی بے ضابطگیوں میں ملوث ہے۔ اقتدار کے دوران اپنے کاروبار کو بہت بڑھاوا دینے کی کوشش کی ہے ۔

جس میں کرپٹو کرنسی کی دکان داری سرفہرست ہے ۔ کرپٹو میں ٹرمپ خاندان کی کمپنی ‘ کمزور ممالک کے طاقت ور حلقوں کو حصص خریدنے پر زور دے رہی ہے۔ کاروباری معاہدے خاندان کے افراد کے ذریعے طے پا رہے ہیں۔ اس لیے یہ مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت بن جاتی ہے کہ ٹرمپ اپنے ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدے کو استعمال کر رہے ہیں۔ کسی طاقتور ملک نے امریکی صدر کی کرپٹو کرنسی کی کمپنی کو اہمیت نہیں دی ۔ مگر ہمارے جیسے ملک جو ہر طریقے سے امریکا کے سامنے زانوئے ادب طے کر چکے ہیں وہ بخوشی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ امریکا کے آزاد میڈیا میں اس کی باز گشت حد درجہ طاقتور طریقے سے سامنے آ رہی ہے۔ تھوڑا سا مزید گہرائی میں جائیے تو ایک اور خوفناک ترین بحران سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔ ایپسٹین فائلز وہ دستاویزات ہیں جو موساد کے ایک مستند کارندے یعنی اپیسٹین کی موت کے بعدوقفے وقفے سے عوام کے سامنے لائی جا رہی ہیں۔ یہ کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی وہ طویل داستان ہے جس میں امریکا اور یورپ کی اشرافیہ مکمل دھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایپسٹین ایک حد درجہ اعیار انسان تھا جس نے امریکا میں ایک جزیرہ خرید رکھا تھا ۔ وہاں منظم نظام کے ذریعے کم عمر بچیوں کو لایا جاتا تھا۔ پھر دنیا کے امیر ترین لوگ وہاں داد عیش دینے پہنچ جاتے تھے ۔

برطانیہ کے بادشاہ کا بھائی بھی اسی سلسلہ میں گرفتار کیا گیا۔ اس میں ملوث چند لوگ بدنامی کے خوف سے خود کشی بھی کر چکے ہیں۔ چند سابقہ صدور اور وزرائے اعظم گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔یہ ایک ایسا سکینڈل ہے جس کی وسعت بڑھتی جا رہی ہے۔ اب تک جو مواد شائع کیا گیا ہے، اس میں ٹرمپ کا نام کم از کم 28ہزار جگہ آتا ہے۔ امریکی انتظامیہ ابھی تک مکمل فائلز اور ان کا مواد ‘ پبلک کے سامنے نہیں لا رہی کیونکہ امریکی صدر کے ملوث ہونے کے مزید ثبوت عام لوگوں کے سامنے آ سکتے ہیں۔بالکل اسی طرح امریکی عدالتوں میں ‘ ایپسٹین فائلز میں ملوث لڑکیوں نے عدالتوں میں موجودہ صدر کے خلاف مقدمے بھی دائر کر رکھے ہیں۔ اب آپ کڑیوں سے کڑیاں ملانی شروع کر دیں۔ اس برس کے آخر میں مڈٹرم الیکشن کا خوف ‘ کرپشن کے الزامات اور موساد کی جانب سے ایک ایجنٹ کی شائع کردہ معلومات ۔ مجموعی طور پر اگر ہم دیکھیں تو ٹرمپ کا تمام سیاسی مستقبل اسرائیل کے ہاتھوں میں جا چکا ہے ۔نیتن یاہو کے پاس ‘ ٹرمپ کے متعلق مبینہ طور پر ایسی شرمناک تفصیل موجود ہیں جو اس کے سیاسی اور کاروباری معاملات کو فنا کر سکتی ہیں۔

مگر یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ ایران کے رہبراعلیٰ اور ان کی ٹیم گزشتہ تین دہائیوں سے مکمل طور پر اقتدار میں ہے ۔ ایرانی انقلاب آنے کے بعد توقع تھی کہ رضا شاہ پہلوی نے مخالفین سے نبٹنے کے لیے جو سخت گیر پالیسی اپنا رکھی تھی اس سے نجات مل جائے گی۔مگر معاملہ بالکل متضاد نکلا ۔ سابقہ جبر کے مقابلے میں نئی طرز کی سخت گیری پالیسی کا اجرا کر دیا۔ جس سے ایران جیسا ترقی پسند تشدد پسندی کی غار میں گھستا چلا گیا ۔ ایران کی مذہبی قیادت کسی کے سامنے جواب دہ نہیں تھی اور نہ ہی آج ہے ۔

وہاں الیکشن تو ہوتے رہے ۔ بہتر کردار کے صدور بھی چناؤ کے ذریعے اقتدار میں آتے رہے ۔ مگر ان کو مکمل بااختیار کبھی بھی نہیں کیا گیا۔ رہبر اعلیٰ کے سامنے ایرانی صدر کی حیثیت کچھ بھی نہیںتھی۔ ریاست اور حکومت کا پورا زور ‘ اس بات پر تھا کہ خواتین نے باقاعدہ طور پر چادر لی ہوئی ہے یا نہیں۔اگر کوئی بچی ‘ اپنی مرضی سے چادر نہ اوڑھے تو وہ فوری طور پر حکومتی گرفت میں آجاتی تھی۔ یہ نقطہ بھلا دیا گیا کہ ڈر اور خوف سے حکومتیں مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔ساتھ ساتھ ایک اور معاملہ بھی چلتا رہا ۔ وہ تھا کہ نعرے بازی کی حد تک امریکا اور اسرائیل کو ختم کرنے کی زبانی جمع خرچ کی گئی ۔ مگر اس کے لیے جو تیاری کرنی چاہیے تھی ‘ اس سے مکمل گریز کیا گیا ۔مذہبی نعروں کو ‘ ریاستی پالیسی بنا دیا گیا۔ عرض کرنے کا مقصد بالکل سادہ ہے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جو نفرت بٹھائی گئی ۔ اس کے حساب سے کوئی عسکری تیاری نہیں کی گئی۔

امریکا اور اسرائیل‘ایران کی ساری کمزوریوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔ انھوں نے حد درجہ عیاری سے ایران کی بلند ترین انتظامی اور عسکری سطح پر اپنے ایجنٹ بٹھا دیئے تھے ۔ موساد اور سی آئی اے دونوں ایرانی نظام میں بھرپور طریقے سے سرایت کر چکے تھے۔ بلکہ سچ بات تو یہ ہے کہ نظام پر اندر سے قابض ہو چکے تھے ۔ اس میں ہندوستانی ریاستی عنصر بھی شامل تھا۔ ایران کے زیرک ترین رہنما آخری وقت تک یہ بھانپ نہ سکے کہ ہندوستان‘ اسرائیل اور امریکا کے منفی ہتھکنڈے ان کی سالمیت پر ضرب کاری لگا چکے ہیں۔

غداری کا المیہ دیکھئے کہ آیت اللہ اور ان کی ٹیم کے تمام سربراہان کی موجودگی کی اطلاع اسرائیل کو ایران سے ہی باہم پہنچائی گئی تھی ۔ امریکی اور اسرائیلی ایئرفورس نے جو کارروائی کی‘ اس سے ملک اپنی بلند ترین سطح کی قیادت سے محروم ہو گیا۔ تین دہائیوں سے موجود راہبر اعلیٰ کی شہادت ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ اس خلا کو پورا کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ایران‘ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اسرائیل اور امریکی ٹھکانوں پر ڈرونز اور میزائلز سے حملہ آور ہے مگر یہ قوت بھی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے ۔ ثبوت یہ ہے کہ ایرانی جوابی حملے اسی فیصد تک کم ہو چکے ہیں۔ اس کی فضائیہ اور بحریہ کو تقریباً تقریباً ختم کیا جا چکا ہے۔ آنے والے دن اس ملک کے لیے بہت مخدوش نظر آتے ہیں ۔

یہ جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر نکل سکتی ہے ۔ جو سازش ایران کے خلاف کی گئی وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی صورت میں پاکستان کے خلاف بھی کی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے بھی وہی کردارہیں جو ہمسایہ ملک یعنی ایران کی تباہی میں ملوث نظر آتے ہیں۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے بروقت طالبان کے خلاف صائب قدم اٹھایا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ابھی تک مشرق وسطیٰ سے یہ جنگ پاکستان آنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں ہیں۔ مگر حتمی طور پر کچھ بھی کہنا ممکن نظر نہیں آتا ۔ پاکستان کے ریاستی اور حکومتی قائدین‘آج کے دن تک ایک بہتر خارجہ پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ مگر ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام اس قدر بڑھ چکا ہے جس سے نبردآزما ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی معاملات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی روش کو ختم کیا جائے اور ملک میں مقبول سیاسی فریقین کو حکومت سونپی جائے تاکہ ہم اندرونی خلفشار سے نجات پا سکیں۔شاید ہم جنگ کا ایندھن بننے سے بچ جائیں۔





Source link

Continue Reading

Trending