Connect with us

Today News

رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران بھی 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں

Published

on



رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے دوران بھی ملک میں مہنگائی میں اضافہ کا رجحان جاری ہے۔

حالیہ ہفتے ہفتہ وار مہنگائی میں 0.37 فیصد اضافہ ہوا ہے اور سالانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 4.70 فیصد رہی ہے۔ حالیہ ہفتے 13 اشیائے ضروریہ مہنگی اور 11اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق انڈے 8.13 فیصد، ٹماٹر 10.04 فیصد، آلو 5.09 فیصد، پیاز 6.08 فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں 0.43 فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں 0.50 فیصد، ککنگ آئل کی قیمتوں میں0.37 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 2.40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

چکن 10.46 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں 1.023 فیصد، گڑ 0.30 فیصد، مٹن کی قیمتوں میں 0.65 فیصد، بیف کی قیمتوں میں 0.66 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 0.51 فیصد، پرنٹڈ لان کی قیمتوں میں 0.43 فیصد، سرسوں کے تیل کی قیمتوں میں 0.24 فیصد، پیٹرول کی قیمتوں میں 3.06 فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں 1.84 فیصد، ایل پی جی کی قیمتوں میں 5.61 فیصد اور کیلوں کی قیمتوں میں 3.85 فیصد اضافہ ہوا۔

اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار پچھلے ہفتے کی سطع پر ہی برقرار رہنے کے ساتھ 4.57فیصد اور 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 5.95 فیصد رہی۔

اسی طرح، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.16 فیصد اضافے کے ساتھ 4.91 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 4.16 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.53 فیصد اضافے کے ساتھ 3.58 فیصد رہی ہے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سیاسی جماعتوں میں جمہوریت – ایکسپریس اردو

Published

on


الیکشن کمیشن کی طرف سے قانونی طور پر منتخب تسلیم نہ کیے جانے والے چیئرمین بیرسٹرگوہر خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک جمہوری پارٹی ہے جس میں فیصلے جمہوری طور پرکیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی میں مکمل جمہوریت ہے۔

بیرسٹرگوہرکو بانی نے اپنی غیر موجودگی میں پی ٹی آئی کا چیئرمین نامزد کیا تھا اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے پشاور کے قریب ایک الیکشن کرایا تھا جو حقیقی طور پر جمہوری الیکشن نہیں تھا بلکہ بانی کے فیصلے کی توثیق کے لیے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس تھا جس کے لیے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اجلاس میں بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا مگر الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر کی چیئرمین شپ تسلیم نہیں کرتا کیونکہ پارٹی کی طرف سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ چیئرمین کا انتخاب بلامقابلہ ہوا مگر دو سال گزرنے کے بعد بھی پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق دوبارہ چیئرمین کا الیکشن نہیں کرایا اور الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کا مذکورہ الیکشن تسلیم نہیں کرتا، مگر پی ٹی آئی اپنے بانی کے نامزد گوہر خان کو ہی چیئرمین تسلیم کرتی ہے اور پارٹی نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج بھی نہیں کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے کے لیے بانی نے ہی ایک غیر سیاسی شخصیت سلمان اکرم راجہ کو نامزد کیا تھا جن کا پارٹی نے انتخاب نہیں کیا تھا۔

ویسے تو ملک میں درجنوں سیاسی پارٹیاں الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں جن میں چند ایک کے سوا بے مقصد رجسٹرڈ پارٹیاں کبھی اپنا ایک رکن صوبائی اسمبلی بھی منتخب نہیں کرا سکیں مگر چند افراد پر مشتمل ان تانگہ پارٹیوں کا بوجھ ملک پر مسلط ہے اور یہ نام نہاد پارٹیاں دکھاؤے کے لیے الیکشن بھی لڑتی ہیں اور انتخابی نشان بھی لیتی ہیں جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپر پر ان رجسٹرڈ پارٹیوں کے انتخابی نشان بھی چھاپنے پڑتے ہیں جس سے بیلٹ پیپر چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے اور بے شمار پارٹی امیدواروں کے نام و انتخابی نشانوں میں بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کے انتخابی نشان ڈھونڈنا ووٹروں کے لیے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹ مسترد ہوتے اور بڑی پارٹی کے لاکھوں ووٹ بھی ضایع ہوتے ہیں مگر ملک میں اس کو جمہوریت کہا جاتا ہے اور درجن ووٹ بھی نہ لینے والی پارٹی کا انتخابی نشان بیلٹ پیپر پر چھاپنا الیکشن کمیشن کا قانون ہے جب کہ لاتعداد آزاد امیدوار بھی الیکشن لڑتے ہیں جس کی وجہ سے انتخابی نشان کم پڑ جاتے ہیں اور بے شمار انتخابی نشان ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور ووٹ ضایع ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی میں بھی ایک جیسی ہی جمہوریت ہے، جہاں ایک جیسے ہی الیکشن ہوتے ہیں، سربراہی کا تو مقابلہ ہی نہیں ہوتا وہ تو ہر بار بلا مقابلہ ہی منتخب ہو جاتا ہے اور پھر اسی کی مرضی کے دوسرے عہدیدار منتخب قرار پاتے ہیں مگر یہ پارٹی الیکشن اعلانیہ پروگرام اور پارٹی طریقہ کارکے مطابق بڑے شہروں میں ہوتے ہیں مگر چیئرمین کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کا الیکشن خانہ پری کے لیے شہرکی بجائے گاؤں میں ہوا، جسے الیکشن کمیشن نے تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔ ملک میں جماعت اسلامی واحد پارٹی ہے جہاں عہدوں کے امیدوار خود امیدوار نہیں بنتے بلکہ جماعت اپنے طریقے کار کے تحت اپنا امیر منتخب کرتی ہے جہاں پہلے سے کوئی نامزدگی نہیں ہوتی۔

بانی پی ٹی آئی نے اقتدار سے قبل اپنی پارٹی میں انتخابات کرائے تھے، جس کے نتائج دیکھ کر خود بانی نے نتائج تسلیم نہیں کیے تھے اور پی ٹی آئی میں منصفانہ الیکشن کرانے کی غلطی پھر انھوں نے نہیں کی اور الیکشن کی بجائے نامزدگیاں ہی ہوتی آئی ہیں۔ پی ٹی آئی میں گوہر خان نے جس جمہوریت کی بات کی ویسی ہی جمہوریت دیگر بڑی پارٹیوں میں بھی رائج ہے مگر پی ٹی آئی ملک کی واحد پارٹی ہے جس کے اسیر بانی کو اپنے پارٹی رہنماؤں پر اعتماد نہیں اور اس لیے انھوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر بھی اپنی پارٹی سے نہیں لیا بلکہ پی ٹی آئی سے تعلق نہ رکھنے والے اپنی اپنی پارٹی کے اکلوتے رکن محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصرکو ہی قابل سمجھا اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کو نظرانداز کر کے اپوزیشن لیڈر دوسری پارٹیوں کے سربراہوں کو بنوایا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی میں کوئی جمہوریت نہیں بلکہ بانی کی شخصی حکمرانی ہے اور اپنی مرضی سے ہی نامزدگیوں پر یقین رکھتے ہیں اور پارٹی میں بھی بانی کا ہر فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے اور پارٹی میں غیر جمہوری فیصلہ تسلیم نہ کرنے والا کوئی اکبر ایس بابر جیسا اصول پرست رہنما موجود نہیں بلکہ سب ’’یس مین‘‘ ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ پارٹی میں اتحاد نہیں بلکہ بہت زیادہ گروپنگ ہے مگر سب بانی کو ہی سربراہ تسلیم کرتے ہیں۔ بانی کی پارٹی میں اتنی مضبوط گرفت ہے کہ وہ اپنے آمرانہ من مانے فیصلوں سے اپنی پنجاب اور کے پی کی حکومتیں ختم کرا دیتے ہیں اور جیل میں رہ کر کے پی کا وزیر اعلیٰ تبدیل کرا دیتے ہیں، پی ٹی آئی میں جو ہو رہا ہے اس جیسی مثال کسی اور پارٹی میں موجود نہیں۔ ویسے ہر پارٹی کا سربراہ پارٹی میں آمر ہوتا ہے صرف پیپلز پارٹی میں دو سربراہ ہیں اور دونوں ہی کی پارٹی میں چلتی ہے کیونکہ دونوں باپ بیٹے ہیں ، مگر پی ٹی آئی واحد پارٹی ہے جہاں بانی کا ہر فیصلہ تسلیم کیا جاتا ہے اور دوسری بڑی پارٹیوں کا بھی حال مختلف نہیں اور پارٹی سربراہ کا ہر فیصلہ ہی جمہوریت کہلاتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

برطانیہ؛ یہودی مقامات کی جاسوسی، 10افراد گرفتار

Published

on



برطانوی پولیس نے یہودی مقامات کی جاسوسی کے شبے میں 10 افراد کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق گرفتاری لندن میں عمل میں آئی ہے۔برطانوی پولیس کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

 پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں ایک ایرانی شہری جبکہ 3ایرانی نژاد برطانوی شہری شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان 4 افراد کی مدد کے الزام میں مزید6افراد کو بھی ہیرو سے گرفتار کیا ہے، گرفتار ہونیوالے تمام 10 افراد پولیس کی تحویل میں ہیں۔

میٹ پولیس کا کہنا تھا کہ تحقیقات اور گرفتاریوں کا تعلق یہودی کمیونٹیز کے افراد اور مقامات کی نگرانی سے ہے، وٹفورڈ، بارنٹ اور ویمبلے کے ایڈریسز پر تلاشی جاری ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز بھیج کر دکھائیں، ایران کا ٹرمپ کو چیلنج

Published

on



ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بحری جہاز بھیج  کر دکھائیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر امریکا اپنے بحری جہاز بھیجنا چاہتا ہے تو وہ آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزار کر دکھائے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرسکتی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق اگر حالات کا تقاضا ہوا تو کمرشل جہازوں کے ساتھ امریکی نیوی بھی آبنائے ہرمز میں جائے گی جبکہ جہازوں کے انشورنس کے معاملے میں امریکی مالیاتی ادارے بھی مدد فراہم کریں گے۔

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک خصوصاً سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کا برآمد شدہ تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

 



Source link

Continue Reading

Trending