Connect with us

Today News

رجب بٹ نے اہلیہ سے بے وفائی اور دوست سے ناجائز تعلقات کا اعتراف کرلیا

Published

on



پاکستان کے معروف فیملی وی لاگر رجب بٹ ایک بار پھر تنازع کی زد میں آگئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی اہلیہ ایمان فاطمہ کو دھوکا دینے کا اعتراف کیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

رجب بٹ اپنی متنازع شخصیت، مختلف قانونی معاملات اور سوشل میڈیا تنازعات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ ان دنوں ان کے اور ان کی اہلیہ ایمان فاطمہ کے درمیان جاری اختلافات بھی موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ 

میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر اس وقت ہلچل مچ گئی تھی جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایمان فاطمہ کے حاملہ ہونے کے دوران رجب بٹ کا ایک اور سوشل میڈیا شخصیت کے ساتھ تعلق تھا۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ جب ایمان حاملہ تھیں اور رجب بٹ ملک سے باہر تھے تو ان کا نام انفلوئنسر فاطمہ خان کے ساتھ جوڑا جانے لگا اور ان کے مبینہ تعلقات کی خبریں وائرل ہوگئیں۔

ابتدائی طور پر رجب بٹ نے اس معاملے پر واضح طور پر زیادہ بات نہیں کی تھی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ تعلق ان کی شادی سے پہلے ختم ہوچکا تھا۔ دوسری جانب کچھ عرصہ قبل ایمان فاطمہ کے بھائی نے بھی اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے مبینہ بے وفائی کا ذکر کیا تھا۔

اب رجب بٹ نے خود ایک بیان میں تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو دھوکا دیا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے اس عمل پر عوامی طور پر معافی مانگی تھی اور ایمان فاطمہ نے انہیں معاف بھی کر دیا تھا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سمجھ نہیں پائے کہ ایمان نے انہیں کیوں معاف کیا، اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ معافی کے باوجود اہلیہ نے ان سے آئی فون 17 بھی لیا۔

 

 

 

 

View this post on Instagram

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اس بیان کے بعد انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستانی اداکارہ کرن اشفاق نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس سے بدتر شخص کبھی نہیں دیکھا۔ جبکہ دیگر صارفین نے ایمان فاطمہ کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا اور بعض نے اس عمل کو مذہبی اعتبار سے قابلِ سزا قرار دیا۔

 



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سانحہ گل پلازہ: بورڈ آف ریوینیو گل پلازہ کی اہم دستاویزات پیش کرنے میں ناکام

Published

on


سانحہ گل پلازہ، بورڈ آف ریوینیو گل پلازہ کی اہم دستاویزات پیش کرنے میں ناکام، جوڈیشل کمیشن نے سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

رجسٹرار جوڈیشل کمیشن اقبال حسن کی جانب سے جاری کیے گئے سمن میں کہا گیا ہے کہ 10 مارچ کو بورڈ آف ریونیو کمیشن کی جانب سے خط لکھ کر 13 مارچ تک ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔

بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تاحال ریکارڈ پیش نہیں کیا جاسکا ہے۔ لہذا 25 مارچ تک گل پلازہ سے متعلق ریکارڈ وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے، ریکارڈ کے ساتھ وضاحت بھی پیش کی جائے کہ 13 مارچ کے احکامات پر کیوں عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

اگر 25 مارچ تک گل پلازہ کا ریکارڈ نہیں پیش کیا گیا تو قانون کے مطابق ضروری کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ طلب کیئے گئے ریکارڈ میں ریوینیو انٹریز، منتقلی اور رجسٹریز کا تمام ریکارڈ پیش کیا جائے۔

نوٹی فیکشن، الاٹمنٹ، ٹرانسفرز اور گل پلازہ سے متعلق جو بھی آرڈرز ہیں پیش کریں۔ بورڈ آف ریونیو گل پلازہ کے نقشے و دیگر جو بھی ریکارڈ ہے اس حوالے سے اسے پیش کریں۔





Source link

Continue Reading

Today News

میکسیکو ایران کے فٹبال ورلڈ کپ میچز کی میزبانی کے لیے تیار

Published

on



میکسیکو ایران کے فٹبال ورلڈ کپ میچز کی میزبانی کے لیے تیار ہے مگر فیفا نے واضح کردیا کہ فی الحال ٹورنامنٹ کا شیڈول تبدیل نہیں کیا جا رہا۔

میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شینباؤم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم ایران کے میچز کی میزبانی کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے فیفا سے اپنے میچز سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے امریکا سے منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیفا نے کہا ہے کہ ہم تمام ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہمارا موجودہ شیڈول کے مطابق ہی ٹورنامنٹ کروانے کا ارادہ ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

نیب ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے آرڈیننس کیخلاف درخواست پر سماعت

Published

on


اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے آرڈیننس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی، جہاں عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپریل کے پہلے ہفتے تک جواب طلب کرلیا۔

دورانِ سماعت وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کے لیے یہ قانون سازی کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ ریمانڈ میں توسیع کا آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور ایک مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا۔

درخواست گزار کے مطابق ریمانڈ کی مدت میں اضافہ آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے اور اس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10-A کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حالیہ صدارتی آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔





Source link

Continue Reading

Trending