Today News
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور کرنے کا کام
ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے، امریکا اور اسرائیل مسلسل ایران کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں، ادھر پاکستان کی افواج افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جب کہ پاکستان کے اندر بھی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، ایرانی میزائل خلیجی ملکوں پر بھی گر رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 55 روپے لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔
اب ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے، پٹرول کی 321 روپے17 پیسے فی لٹرہو گئی ہے، گزشتہ رات 12 بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کیا ہے کہ خطے میں جنگ کی صورت حال کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا پڑی ہیں ،عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مشکل فیصلہ ہے۔
انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے، اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ’’کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔‘‘
نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے قوم کو یہ مژدہ بھی سنایا ہے کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اس سے متعلق بہت فکر مند ہیں۔
وزیراعظم نے خود اجلاس کی صدارت کی ہے جس میں صورت حال کاجائزہ لیا گیا۔ صورت حال کو متوازن رکھنے کے لیے ہم نے کوئی راستہ نکالنا تھا، ہم نے دوسرے ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے۔
پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی کم کرائی جائے، اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگے گی اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھاکہ روز جائزہ لیتے ہیں، قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھاکہ کوئی شک نہیں کہ ہم غیرمعمولی حالات سے گزر رہے ہیں، پڑوس میں شروع ہونے والی صورت حال نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیا ہے، ہم نے صورت حال کے مطابق اپنے ذخائر کو بڑھا لیا تھا اور ہماری کوشش ہے کہ بطور ریاست اس کام کو حکمت کے تحت آگے لے کر چلیں۔
پاکستان کے اردگرد صورت حال خاصی گھمبیر ہے۔ اس میں خاصی سچائی موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس جو محفوظ ذخائر ہیں، اس کی صورت حال اتنی سنگین ہے کہ فوری طور پر اتنا بڑا اضافہ کرنا پڑا کیونکہ میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی گئی ہے کہ اگر صرف عالمی منڈی میں اضافے کوصارفین تک منتقل کیا جاتا تو پٹرول کی قیمت میں 32 سے35 روپے اضافہ کیا جانا تھا لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت کو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بھی 20روپے60 پیسے فی لیٹر بڑھانا پڑ گئی۔
یوں پٹرول پر لیوی 85روپے سے بڑھا کر 106روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔ اس خبر میں کس حد تک صداقت ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن کومن سینس کو بھی استعمال کریں تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت نظر نہیں آتی کیونکہ حکومت چند روز قبل یہ اعلان کر چکی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اٹھائیس روز کے لیے موجود ہیں۔
اس اعلان کو مدنظر رکھا جائے تو کم ازکم اگلے دو ہفتوں تک پاکستان میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ممکن ہے اتنے عرصے میں جنگ کی صورت حال میں کمی آ جاتی۔
بہرحال میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ جمعہ کے روز وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت پٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک اور کھپت کے بارے میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل 15 روز کے بجائے ہفتہ وار کیا جائے گا۔ اجلاس میں آن لائن اور ورک فرام ہوم کے بارے میں سفارشات پیر کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ان اقدامات کے باعث ایندھن اسٹاک کے مؤثر استعمال اور طلب میں کمی ہو سکے گی ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو بھی پٹرول پمپ مصنوعی قِلّت کے اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو اس کو فوراً سیل کرکے لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی کی جائے۔
وزارت پٹرولیم نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔
وزیراعظم نے وزیر پٹرولیم کو ہدایت دی کہ وہ صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی بچت اور ان کی عوام کو بلاتعطل فراہمی کے حوالے سے لائحہ عمل و منصوبہ بندی تیار کریں۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، جس کے ذریعے صوبوں کے ساتھ ریئل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔ادھر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ڈیلرز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا کوٹہ فکس کر دیا گیا ہے۔
میڈیا میں پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین کے حوالے سے خبر میں بتایا گیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پٹرول پمپوں کو ان کی ڈیمانڈ کاصرف 50فیصد پٹرول اور ڈیزل فراہم کررہی ہیں۔ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے 20روز کے ذخائر موجود ہیں لیکن صارفین کی جانب سے گھبراہٹ میں اوور فلنگ اورڈیمانڈبڑھنے سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ایسے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے پٹرولیم ڈیلرز کو مطلوبہ سپلائی نہیں دیں گی تو پٹرول پمپوں کی بندش کے خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان کی زیرِ صدارت اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔
پاکستان میں منافع خور بزنس گروپس، بیوروکریسی کے شرارتی دماغ اور بلیک مارکیٹرز ہر وقت ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں جب انھیں کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ جنگ ہو، زلزلہ ہو یا دیگر قدرتی آفات ہوں، اس گروہ کا مقصد حالات سے فائدہ اٹھا کر اپنی دولت کو کئی گنا بڑھانا ہوتا ہے۔
اس وقت غور کیا جائے تو جنگ پاکستان سے دور ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو بڑی حد تک تیل پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریز بھی موجود ہیں۔ پاکستان کے پاس گیس کے بھی ذخائر موجود ہیں۔
کوئلے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان انتہائی مشکل وقت میں بھی گزارا کر سکتا ہے۔ جہاں تک آبنائے ہرمز بند ہونے کا تعلق ہے تو حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اس آبنائے میں بین الاقوامی ٹریفک مکمل طور پر بند نہیں ہے۔
پاکستان زیادہ تر تیل سعودی عرب سے خریدتا ہے۔ سعودی بندرگاہ بحیرۂ احمر پر واقع ہے۔ پاکستان کی حکومت اگر آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہوئی ہے، جیسا کہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے تو یہ بھی ادھورا سچ لگتا ہے۔
آئی ایم ایف کی پالیسی اور ٹارگٹس کا تعلق ریونیو کی وصولی سے ہے۔ پاکستان میں ریونیو کا جو ٹارگٹ مقرر کر رکھا ہے، اگر آئل امپورٹ پر اخراجات زیادہ ہوتے ہیں اور ٹارگٹ پورا کرنے میں شارٹ فال نظر آتا ہے تو اسے کسی دوسری مد سے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان کے پارلیمانی ڈھانچے پر اٹھنے والے اخراجات پر غور کیا جائے تو اس کا تخمینہ بھی کروڑوں روپے مہینہ ہو گا۔ اسے اگر سالانہ بنیادوں پر جمع کیا جائے تو یہ رقم کئی اربوں تک پہنچ جائے گی۔
اگر پاکستان کے پارلیمنٹیرینز جنھوں نے ابھی حال ہی میں اپنی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز میں اضافہ کیا ہے، اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز ایک ماہ یا دو تین ماہ کے لیے اپنی تمام تنخواہیں اور مراعات بحق عوام قومی خزانے میں جمع کروا دیں تو ریونیو کا شارٹ فال کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔
اسی طرح کئی اور مدات ایسی ہیں، جن کے لیے مختص کی گئی رقوم کو ہنگامی بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی لیوی اور خرید پر اٹھنے والے اخراجات کے لیے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف بہتر منصوبہ بندی کی ہے اور احساس ذمے داری کی ہے۔
Today News
ایران جنگ؛ ضمیر ملامت کرتا ہے، امریکا کے اہم سیکیورٹی عہدیدار نے استعفیٰ دیدیا
امریکا کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں مزید شامل ہونے سے انکار کردیا۔
انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔
جو کینٹ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں امریکی جوانوں کی جانیں اور ملک کی دولت و خوشحالی دونوں کو متاثر کرتی ہیں، اور موجودہ حالات میں وہ اگلی نسل کو ایسے خطرات میں دھکیلنے کے حق میں نہیں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو صدر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہموں کے دوران پیش کیں اور اپنی صدارت کے ابتدائی دور میں نافذ کیں لیکن موجودہ ایران جنگ کے تناظر میں وہ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
انھوں نے وضاحت کی کہ ایران نے امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا اور موجودہ جنگ اسرائیل اور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ جو کینٹ کو اس عہدے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا اور امریکی سینیٹ نے جولائی 2025 میں ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔
جو کینٹ نے بتایا کہ وہ ایک تجربہ کار فوجی ہیں جو گیارہ بار محاذ جنگ پر جا چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی شریک حیات کو اسرائیل میں جاری جنگ میں کھو دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس کا امریکی عوام کے لیے کوئی فائدہ نہ ہو اور جس کی قیمت امریکی جوانوں کی جانوں سے ادا کی جائے۔
Today News
کراچی میں ہتھوڑے کے وار اور فائرنگ کے واقعات میں خاتون سمیت 3 افراد زخمی
شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور ہتھوڑے کے وار سے خاتون سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے جس میں ایک شخص ڈاکوؤں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
تفصیلات کے مطابق کھوکھراپار ڈھائی نمبر میں قائم ایل پی جی گیس شاپ پر موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران فائرنگ کر کے دکاندار کو ٹانگ پر گولی مار کر زخمی کیا اور دکان سے نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔
مضروب کو فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی شناخت 45 سالہ ریاست کے نام سے کی گئی۔
شرافی گوٹھ کے علاقے میں قائم الجنت ریسٹورنٹ گلی نمبر ایک میں فائرنگ سے 24 سالہ اعجاز خان نامی نوجوان زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال لیجایا گیا۔
شرافی گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ذاتی جھگڑے کے دوران پیش آیا ہے کی مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔
دریں اثنا الفلاح کے علاقے عظیم پورہ نیئر پارک کے قریب گھر میں جھگڑے کے دوران ہتھوڑے کے وار سے زینب نامی خاتون زخمی ہوگئی۔
الفلاح پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ گھر کے اندر پیش آیا ہے جس میں شوہر ابرار نے جھگڑے کے دوران بیوی کو ہتھوڑے کے وار سے زخمی کیا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال لیجایا گیا اس حوالے سے پولیس مزید معلومات حاصل کر رہی ہے۔
Source link
Today News
بارش کے باعث لاہور وائٹس کا خواب ادھورا رہ گیا، ایبٹ آباد فائنل میں پہنچ گیا
پشاور:
پشاور میں کھیلے جانے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بارش کے باعث میچ مکمل نہ ہو سکا اور بالآخر منسوخ کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ایبٹ آباد کی ٹیم پوائنٹس اور بہتر اوسط کی بنیاد پر فائنل میں پہنچ گئی۔
میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے لاہور وائٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 194 رنز بنائے اور ایبٹ آباد کو جیت کے لیے 195 رنز کا ہدف دیا۔
لاہور وائٹس کی جانب سے عمران ڈوگر نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 31 گیندوں پر 62 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔
ان کے علاوہ محمد اخلاق نے 42، فرحان یوسف نے 33 جبکہ محمد محسن نے 24 رنز اسکور کیے۔
ایبٹ آباد کی جانب سے شہاب خان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 28 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
تاہم بارش کے باعث ایبٹ آباد کی اننگز کا آغاز ہی نہ ہو سکا اور امپائرز نے طویل انتظار کے بعد میچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس طرح ٹورنامنٹ کے قوانین کے مطابق ایبٹ آباد کی ٹیم بہتر پوائنٹس اور رن ریٹ کی بنیاد پر فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئی۔
اب قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں ایبٹ آباد کا مقابلہ کراچی وائٹس سے ہوگا، جس کے بعد شائقین کرکٹ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business