Today News
آبنائے ہرمز – ایکسپریس اردو
کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران کی جنگ کب تک جاری رہے گی؟ سوال یہ ہے سینتالیس سال سے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا دورکیا، اب اختتام کو پہنچ رہا ہے؟ ایسا گمان کیا جا رہا تھا کہ اگر امریکا اور اسرائیل، ایران پر حملہ کریں گے تو ایران میں نیاانقلاب آجائے گا۔
وہاں کے عوام، حکومت کے خلاف اٹھ کھڑیں ہوںگے، لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے، مگر ایسا ہوا کہ ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای پر حملہ کیا گیا اور وہ اس حملے میں شہید ہوگئے۔
ایسا سمجھا گیا کہ ایسا ہونے کے بعد ایرانی حکومت کے حوصلے پست ہو جائیں گے، مگر ایسا بھی کچھ نہ ہوا۔ تمام نظریاتی اختلافات کو ایک طرف کر کے ایران کے عوام اس وقت ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ تمام عرب ممالک اس جنگ کے دوران ایک طرف کھڑے نظر آئے اور ایران دوسری طرف۔
ایران نے ان عرب ممالک کو نشانہ بنایا، حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے تھے۔ اس ایک ہفتے کی جنگ میں ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے اور بڑے میزائل داغ دیے ہیں۔
کیا ایران میزائل ٹیکنالوجی میں اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ مسلسل مہینوں تک ان میزائل سے جنگ لڑسکتا ہے؟ ایران پر بھاری مقدار میں ہتھیاروں کے ساتھ حملے کیے گئے مگر ایران ڈٹ کرکھڑا رہا، اگر یہی صورتحال چند ہفتوں تک رہی تو امریکا اس جنگ میں اربوں ڈالر ہار جائے گا۔
امریکا کی یہ خواہش ہے کہ حالات کو اس نہج تک لایا جائے کہ امریکا اپنی فوج کو ایران کی سر زمین پر اتارے۔ ایران کے عوام کو بغاوت پر اکسائے اور اس طرح رضا پہلوی کو ایران کا اقتدار دے دیں۔
اس منصوبہ بندی کے تحت اسرائیل کا اثرورسوخ ایران کی حدود میں بڑھے گا، اگر اس جنگ کا دورانیہ طویل ہوتا ہے تو مفاہمت کا کوئی راستہ بھی ضرور نکلے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے اندر ایسے لوگوں کی اہمیت بڑھے گی جو مفاہمت کی طرف جائیں گے۔
امریکا کے اندر یہ بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں اسرائیل نے دھکیلا ہے اور اس بات کا حل یہی ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو۔
موجودہ رجیم امریکا کی شرائط پر ایران کے اندر ریفارمز لانے پر آمادہ ہوجائے اور یہی طریقہ ہوگا اسرائیل کے اثر و رسوخ کو روکنے کا۔ اسرائیل کی تشویش بڑھ رہی ہے کہ امریکا کہیں کوئی ایسا قدم نہ اٹھا لے اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر۔
ایران میں اگر موجودہ حکومت یا رجیم قائم نہیںرہتا تو یہ خبر دوسرے عرب ممالک کے لیے بھی اچھی نہیں۔ وہ بھی اسرائیلی تسلط کا شکار ہو جائیں گے۔
اسرائیل اور ہندوستان کے روابط تو پہلے سے ہی مضبوط تھے مگر دونوں کے مشترکہ عزائم نے ان کو مزید قریب کر لیا ہے۔
پچھلے دو، تین سالوں میں ان دونوںکے تعلقات کو مزید تقویت ملی ہے۔ دونوں کا ہدف یہ ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے ۔ ان عزائم میں اب افغانستان بھی ہیں۔
جب ہم گوادر میں گوادر سٹی اور پورٹ بنا رہے تھے، سی پیک منصوبے کو آگے لے کر بڑھ رہے تھے تو ہندوستان، ایران کا دوست تھا۔
ایران نے گوادر سے چند میلوں کے فاصلے پر اپنا چاہ بہار پورٹ ہندوستان کے حوالے کردیا اور ہندوستان نے وہ وفاداریاں نبھائیں اور موقع پرستی دکھائی کہ جنگ کے معاملے میں ایران کے خلاف تیسرا بڑا اتحادی بن گیا۔
آج ہندوستان کے پورٹ، امریکی جہازوں کو سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں اور امریکا نے ایران کے جنگی سمندری جہاز سری لنکا کے قریب تباہ کردیے۔ ایران کے سو سے زائد لوگ مارے گئے۔ ہندوستان نے اس جنگ میں ایران کو پیٹھ دکھائی اور موقعہ پرستی کا مظاہرہ کیا۔
حالات کیا رخ اختیارکرتے ہیں اورکیا صورتحال ہوتی ہے، وہ اگلے دو ہفتوں میں واضح ہو جائے گا۔ سیستان اور نارتھ موجودہ کرد قبیلوں کو اکسایا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کے خلاف گوریلا وارکی شروعات کریں۔
ایسی صورت میں فارسی بولنے والے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوںگے، پھر وہ چاہے حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔
امریکا نے اگر ایسی حکمتِ عملی پر عمل کیا تو وہ ان کے گلے میں پڑے گی۔ یہ خانہ جنگی ایران کو تین حصوں میں بانٹنے کی کوشش ہوگی جو کہ فارسی بولنے والی اکثریت ایسا کبھی بھی نہیں چاہے گی۔
یہ ضرور ہے کہ اسرائیل اور امریکا عراق کی طرح، ایران کوکچھ وقت کے لیے تین حصوں میں تقسیم کریں، دو حصوں میں اپنی فوجیں رکھیں۔
ہم نے افغانستان میں بھرپور فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے اور اب افغانستان سے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑنا آسان نہیں رہا۔ آبنائے ہرمزکی بندش کے باعث قطر نے گیس کی فراہمی بند کردی ہے، لہٰذا ہمارے تیل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔
ہماری برآمدات اس رسد سے ہوتی تھیں وہ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ صرف چند ہفتوں تک اس مشکل کو برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن مزید نہیں۔ جاپان جیسے ممالک میں تیل کی فراہمی غیر یقینی بن گئی ہے اور یہ پریشر یقینا تمام ممالک پر بڑھے گا۔
فیس سیونگ کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کرکے اس جنگ کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس لیے ثالثی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس پسِ منظر میں پاکستان کے لیے بہت کچھ سیکھنے کو ہے !
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بنیادیں تاریخ سے جوڑے، اس سے یہاں حب الوطنی کا جذبہ بڑھے گا نہ کہ عرب اور افغانیوں سے جن کو ہم نے اپنی تاریخ کا ہیرو بنایا ہے۔
ایران کی تہذیب چھ ہزار سال پرانی ہے اور اس تہذیب کے اثرات ہم پر بھی واضح ہیں جو کہ مثبت اثرات ہیں۔ ان کے شاعر جامی، رومی، عطا اور عمرِ خیام کی شاعری کے اثرات ہمارے شاعروں کی شاعری میں واضح ہیں جیساکہ بابا بلھے شاہ، سلطان باہو، شاہ عبداللطیف کی شاعری جو ہماری قوم کا لاشعور اور حقیقی بیانیہ ہے۔
ہمیں اس تہذیب کو اجاگرکرنا ہوگا۔ فارسی انگریزوں کے آنے سے پہلے ہماری دفتری زبان تھی۔ سندھ میں تالپروں کے دورِ حکومت میں فارسی زبان کو بہت فروغ ملا اور مغل دور میں فارسی دفتری زبان رہی۔
ایران کو مذاکرات اور صلح کا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ جس کے ذریعے وہ دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکے۔ ایک ایسا ایران جو Plural ہو۔ وہ سیکولر نہ سہی لیکن رواداری رکھتا ہو اور یہی سب سے بڑا ہتھیار ہے اسرائیل جیسے ممالک کو منہ توڑ جواب دینے کا۔
تمام مسلم مالک اس بات کو محسوس کریں کہ ہمیں آپس میں لڑوایا جاتا ہے۔ فرقہ واریت کو ہوا دی جاتی ہے۔ لیکن جب ایران ڈٹ کرکھڑا ہوا تو سب نے ایران اپنا ہیرو تصورکیا۔ اسرائیل نے امریکا کو استعمال کیا اور تمام مسلم امہ کا غم و غصہ امریکا کے حصے میں ڈال دیا۔
ہمارے لیے بھی راستے بنائے گئے۔ سوویت یونین کے خلاف، امریکا نے ہماری سرزمین کو استعمال کیا، عرب ریاستوں نے فنڈنگ کی۔
مجاہد آئے اور پھر وہ ہی 9/11 کے حصے دار بنے۔ یہاں ہتھیاروں کا استعمال عام ہوا۔ ہندوستان نے ہمارے خلاف واویلا مچایا ۔ دنیا کے سامنے پاکستان کا کیس کمزور پڑگیا۔
اس بھنور سے سے تو ہم نکل آئے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ بہرحال یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔
Today News
پرعزم – ایکسپریس اردو
جی خوش ہوگیا ایک خصوصی کا بیان پڑھ کر کہ صوبائی حکومت صحافیوں کی فلاح وبہبود کے لیے ’’پرعزم‘‘ ہے، اگرچہ ہمارے اپنے لیے اس میں کوئی خوش خبری نہیں ہے کیوں کہ جس طرح تمام عمر ’’غریب‘‘ ہونے کے لیے ترستے رہے ہیں اورغربت کی سعادت کبھی نہ پاسکے۔
اسی طرح صحافی ہونے کے لیے بھی زندگی بھرترستے رہے ہیں لیکن صحافی ہونے کا مقام بلند بھی نہیں پاسکے ہیں، اس لیے دونوں سعادتوں کے لیے دل پر پتھر بلکہ چٹان رکھ چکے ہیں کہ
شفا اپنی قسمت میں تھی ہی نہیں
کہ مقدور بھر تو دوا کرچکے
بات اگر انصاف کی ہوتی اورتحریک کی نہ ہوتی تو میرٹ اورسینارٹی کی بنیاد پردونوں سعادتیں ہمیں مل جاناچاہیے تھیں لیکن کچھ تو کیا؟ کسی کچھ کے کچھ بھی نہ بن پائے، اس لیے صبر کو وظیفہ کرچکے ہیں۔ ویسے اس کے سوا ہم اورکربھی کیا سکتے ہیں ۔
اس عشق کی تلافی مکافات دیکھنا
رونے کی حسرتیں ہیں جب آنسو نہیں رہے
دراصل اس میں تھوڑی سی کنفیوژن ہے، ہمارے اورآپ کی سوچ کے درمیان ۔ شاید آپ اسے عام غربت اورصحافت سمجھ رہے ہیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔
ہم سرکاری طورپر رجسٹرڈ اورغربت کی بات کر رہے ہیں ورنہ وہ تو کسی اندھے ،گونگے اورلولے لنگڑے کو پتہ ہے کہ عوام بھی اورساتھ ہی کالانعام بھی ہیں۔
خیر چھوڑئیے! یہ رونا دھونا تو ہمارا روز کاکام ہے، بات ’’پرعزم‘‘ کی کررہے ہیں جو صوبائی حکومت صحافیوں کے بارے میں ہوچکی ہے۔
یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا، وہ بھلے ہی ہمیں اپنا نہ سمجھیں، ہم تو ان کو اپنا سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی سہی ۔ کم زوربلکہ نہ ہونے کے برابر سہی اپنی برادری سے تعلق تو ہے یا رہا ہے
گو واں نہیں یہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
تشویش اگر ہے تو وہ اس لفظ ’’پرعزم‘‘ سے ہے، یہ ان الفاظ میں جو بیانوں کے بیانوں کا جزو اعظم ہوتے ہیں جیسے پہلی ترجیح ، جنگی بنیادوں پر، ترجیحی بنیادوں پر ، سنجیدگی کے ساتھ ، میرٹ کی بنیادپر ، بانی کے وژن کے مطابق۔ ایک نیا اضافہ ہے ’’پرعزم‘‘ ۔کیاخوبصورت للچانے والا اورمنہ میں پانی بھر لانے والا لفظ’’پرعزم‘‘ ہے۔
اگرچہ اس کے ساتھ تھوڑا ڈاؤٹ بھی ہے بلکہ اب یہ ڈاؤٹ بڑا بھی ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہردوسرے سرکاری بیان میں کوئی نہ کوئی تو کسی نہ کسی طرح ’’پرعزم‘‘ ہوتا ہے اوروزیراعلیٰ اور ان کے وزیر تو ’’سینئر پرعزم‘‘ ٹھہرے ۔
سارے وزیر کسی نہ کسی کام کے لیے’’ پرعزم‘‘ اورسارے کے سارے مشیران کرام اورمعاونین عظام بھی ’’پرعزم‘‘ بلکہ بیانان کے تسلسل کو پرعزم اعظم ہوچکے ہیں اورمنتخب نمائندے۔
تو۔۔ ’’پر‘‘کو انگریزی میں فل کہتے ہیں جس میں پر سے زیادہ شدت سے اکثر لوگ اتنے ’’فل اورپر‘‘ہوجاتے ہیں کہ چورن اورسانس کے لیے بھی جگہ نہیں رہتی۔
ایک ’’بزرگ‘‘ کاتاریخی واقعہ ہے کہ اب اس ’’پر اورفل‘‘ ہونے کی وجہ سے وہ ’’گزرگ ‘‘بھی ہوگئے تھے، دراصل ان بزرگ کے اندر میٹر نہیں تھا ، شاید زیادہ بوجھ یارف استعمال سے ڈیڈ ہوچکا تھا چنانچہ جب وہ کسی چہلم یا برسی کی ’’وارادات‘‘ پر جاتے تھے اورایک شاگرد کو خصوصی طورپر ساتھ لے جاتے تھے تاکہ انہیں بروقت سرخ جھنڈی دکھا کر فل اسٹاپ کااشارہ دے دیں ۔
اب ان کی بدقسمتی یاعوام کی خوش قسمتی سے ایک مرتبہ وہ ایک بہت مرغن چرغن واردات پر گئے تو وہاں انتظام یہ تھا کہ خصوصیوں کے لیے الگ اورعوامیوں کے لیے الگ الگ انتظام تھا اوروہ شاگرد یا میٹر اس سے جدا ہوگیا۔
بزرگ دسترخوان پر بیٹھ گئے تو دستر خوان کے لوازمات اورشمولات دیکھ کر سب کچھ بھول گئے اورمیدان کارزار میں اتر گئے ، حملے پر حملے، فتوحات پر فتوحات اورمال غنیمت پر مال غنیمت ، چرتے چلے گئے ، بڑھتے چلے گئے، ٹھونستے چلے گئے۔
وہ شاگرد اپنا کام ختم کرکے استاد کی خبر لینے آئے تو باقی سارے لوگ اٹھ چکے تھے، صرف استاد اکیلے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اس نے بلایا چلایا لیکن استاد نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔
پانی لاکر منہ سے برتن لگایا تو بھی کچھ نہ ہوا ، اس نے جیب سے چورن کی شیشی نکالی جو اسی ہنگامی حالات کے لیے جیب میں رکھتا تھا، چورن کھلانا چاہا، تب اتنے میں کچھ اورلوگ بھی آگئے، جن میں استاد جی کو جاننے والا ایک بزرگوار بھی تھا، اس نے شاگرد کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، فضول ہے برخوردار، میں اسے جانتا ہوں، چورن تو کیا اس نے سانس کے لیے بھی جگہ نہیں چھوڑی ہوگی، اس لیے ’’پھر‘‘ ہوچکے ہیں۔
یہی ہوتا ہے ہمیشہ زیادہ ’’پر‘‘ ہونے کے کا کہ سانس کی ’’ھ‘‘ بھی ’’پر‘‘ میں داخل ہوکر اسے ’’پھر‘‘ بنا دیتی ہے، اس لیے ہمارا ان ’’پرعزموں‘‘ کو بھی مشورہ ہے کہ ذراسنھبل کے پر عزم ہوجائیے گا کہ’’ پر‘‘ اور ’’پھر‘‘ میں صرف دوچشمی (ھ) کافرق ہے یا ایک آہ کا ۔
کھلے گا ترک تعلق کے بعد باب فنا
یہ ایک آہ کا پردہ بھی اب ہٹا ہی دو
ہمیں ان پرعزم جنابان عالی کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، جب وہ کہتے ہیں کہ پرعزم تو پرعزم ہی ہوں گے لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ کوئی آخری بار تو نہیں، سلسلہ اب بھی پہلی ترجیحات کا ، ترحیجی بنیادوں کا، جنگی بنیادوں پر تعمیر کا ، اسپرٹ آف میرٹ ، کام اور بانی کے وژن کا بھی پرعزم ہونے کا ہے۔ کیاپتہ آگے کچھ اورنہ نکل آئے ۔
یہاںپر ایک چھوٹی سی تشویش نے دم ہلانا شروع کردی ہے۔ نانی کی آنکھ کو خدا صحیح سلامت رکھے، کچھ تشویشناک چیزیں آرہی ہیں ورنہ پھر ’’وژن‘‘ کاکیابنے گا ، خدا ہر بری نظر سے بچائے بلکہ اچھی نظروں سے بھی۔ بہرحال ہمارا اورتو کچھ نہیں ہے، بس صرف دعا ہے اوروہ ہم دیتے رہیں گے ، بانی کو بھی، وژن کو بھی اورپراعظموں کو بھی ۔
Today News
امت مسلمہ کے لیے علی لاریجانی کی شہادت بہت بڑا نقصان ہے، جعفریہ الائنس
کراچی:
جعفریہ الائنس کے ترجمان نے ایران کی اہم سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ سے تعزیت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق علی لاریجانی صہیونی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر لڑتے ہوئے شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔
ترجمان جعفریہ الائنس کا کہنا تھا کہ علی لاریجانی کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے تاہم یہ قربانی انقلابِ اسلامی کو مزید طاقتور بنائے گی اور مزاحمت کے جذبے کو نئی قوت دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی لاریجانی نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر امام حسین کے شہادت سے متعلق قول کو دہرایا جو ان کے عزم اور نظریاتی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
جعفریہ الائنس کے سیکریٹری اطلاعات احسن مہدی کے مطابق، علی لاریجانی کی شہادت ایک عظیم مثال ہے جو آنے والی نسلوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایسی قربانیاں تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور حق و باطل کی جنگ میں سچائی کی فتح کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔
Today News
فلسفی سے فیلڈ کمانڈر تک، شہید علی لاریجانی، ایران ایک بڑے دماغ سے محروم ہو گیا
ایران کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی شخصیت علی لاریجانی کی شہادت نے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری 67 سالہ علی لاریجانی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، اسی حملے میں ایران کی بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی شہید ہوئے۔
علی لاریجانی کو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جا رہا تھا۔
وہ نہ صرف ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری تھے بلکہ جنگی حالات میں سیاسی و عسکری حکمت عملی کے مرکزی کردار بھی بن چکے تھے۔
3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے جبکہ ان کے بھائی بھی ایران کے اعلیٰ اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
شہید علی لاریجانی نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، انہوں نے امانوئل کانٹ جیسے مغربی فلسفی پر تحقیق کی اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اپنے کیریئر کے آغاز میں انہوں نے پاسداران انقلاب میں خدمات انجام دیں، بعد ازاں وہ وزیر ثقافت، سرکاری ٹی وی کے سربراہ اور پھر طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے۔
2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں بھی ان کا کلیدی کردار تھا جس سے وہ ایک معتدل اور عملی سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے۔
تاہم حالیہ جنگی حالات نے ان کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا تھا، ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے خلاف ان کے بیانات انتہائی سخت ہو گئے تھے، اور وہ کھل کر مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آئے۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور امریکی افواج کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹس کے مطابق لاریجانی تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے انہیں نشانہ بنایا۔ ان کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سیاسی قیادت، عسکری حکمت عملی اور سفارتی رابطوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے تھے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business