Today News
کے پی ٹی میں 50 ارب روپے کے گھپلے میں سابق چیئرمین سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج
کراچی:
ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے کراچی انٹرنیشنل کنٹینرٹرمینل کو قواعد و ضوابط نظر انداز کرتے ہوئے برتھیں دینے کے معاملے پر سابق چیئرمین کے پی ٹی سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اس معاملے سے قومی خزانے کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ 1996 میں بی او ٹی بنیاد پر دی گئی برتھیں 21 سالہ معاہدے کے تحت 2017 میں کے پی ٹی کو واپس ہونا تھیں تاہم معاہدہ ختم ہونے کے باوجود انہیں واپس نہیں لیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق 2017 میں معاہدہ ختم ہونے کے بعد کے پی ٹی مینول کے مطابق اوپن بڈنگ بھی نہیں کرائی گئی۔ مزید یہ کہ 2005 میں مزید دو برتھیں دے کر کے آئی سی ٹی کے کنٹرول کو 2029 تک توسیع دے دی گئی۔
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فیز ون اور فیز ٹو میں توسیع نہ کرنے سے متعلق قانونی رائے کو بورڈ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
ایف آئی اے نے مقدمے میں سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات، سابق جی ایم پی اینڈ جمشید زیدی اور کے آئی سی ٹی کے سابق سی ای او خرم سجاد عباس کو نامزد کیا ہے۔
اس کے علاوہ کے آئی سی ٹی میں 50 فیصد شیئرز رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو بھی بطور لیگل پرسن مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق بیرون ملک مقیم مرکزی ملزمان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Today News
ایران جنگ کب ختم کریں گے؟ ٹرمپ نے بتادیا
فروری کے اختتام سے اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے جاری ہیں جس سے دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنی لگی ہیں اور عالمی قوتیں بھی جنگ کے جلد خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسی تناظر میں ایک صحافی نے اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سوال کیا۔
جس پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں امریکی افواج ایران جنگ سے واپس آ جائیں گی لیکن فی الحال ایسا ہونا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا ابھی ایران چھوڑ دے تب بھی ایران کو اپنی فوجی صلاحیتیں بحال کرنے میں تقریباً 10 سال لگ سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ لیکن ہم ابھی ایران نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن بہت جلد ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کو کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے، تاہم نیٹو ممالک کی جانب سے تقریباً کوئی تعاون نہیں ملا۔
صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو ایک اچھے انسان قرار دیتے ہوئے شکوہ کیا کہ مجھے مایوسی ہوئی ہے کہ برطانیہ نے اب دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی جب کہ خطرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
Today News
ایران اور اسرائیل جنگ – ایکسپریس اردو
برطانیہ کے درجنوں اراکین پارلیمنٹ اور لارڈز نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر حکومت برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 1916ء کے بالفور معاہدے کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں اسی معاہدے سے 1948ء میں فلسطینیوں کا قتل عام ہوا ۔
نقبہ یعنی 1948کی عرب اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور اسرائیل وجود میں آیا ۔ خط میں 1917ء تا1948ء فلسطینیوں پر ہوئی تاریخی زیادتیوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ خط پر 45سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور لارڈ ز نے دستخط کیے ہیں۔
ارض فلسطین میں اسرائیل کا قیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت برطانوی سامراج نے کیا تھا۔ اسرائیل کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔
وہ اس طرح کہ انیسویں صدی کے شروع میں برطانوی سامراج کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ سرزمین حجاز ایران اور دیگر عرب علاقوں میں تیل اور کئی نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں ۔ صنعتی ترقی اور دنیا پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے یہ بلیک گولڈ ناگزیر تھا۔
یہ ہے اعلان بالفور کا تاریخی پس منظر، ان قیمتی قدرتی وسائل کی چوکیداری اور ان کی حفاظت کے لیے اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا کیونکہ دوسری طرف سوویت یونین بھی نظریاتی طور پر بڑی تیزی سے عرب خطے میں اپنا اثرورسوخ پھیلا رہا تھا۔
ایرانی شہنشاہیت کا خاتمہ امریکا کے لیے ایک ناقابل تلافی سٹرٹیجک تباہی تھی۔ انقلاب کی ابتداء میں ہی ایرانی پارلیمنٹ کو بم سے اُڑا دیا گیا جس میں 73اراکین پارلیمنٹ شہید ہوئے ۔
جس میں صدر، وزیر اعظم ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، سائنسدان اور مذہبی اسکالر کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا اور یہ حالات اسلامی انقلاب کے ابتدائی تین سالوں کے ہیں ۔ مزید یہ کہ 8سال تک عراق کو ایران پر حملہ آور رکھا اس کے پیچھے امریکا سمیت دنیا کے درجنوں ممالک تھے ۔
شہنشاہ ایران کے خلاف احتجاجی تحریک ابھی ابتدائی مراحل میں تھی کہ مغربی سامراجی میڈیا اور اس کے گماشتوں نے اسے مذہبی شیعہ تحریک کا نام دے دیا تاکہ باقی مسلم دنیا کو اس سے دور رکھا جائے ۔
اسلامی دنیا میں ایران کے خلاف تعصب پھیلانے کے لیے مذہب کا بھر پور استعمال کیا گیا ۔ لیکن اس کا توڑ امام خمینی نے یہ نکالا کہ انھوں نے مولانا مودودی سمیت اسلامی دنیا کے تمام اہم مذہبی رہنماؤں سے تعلق قائم کر لیا۔
پاکستان کا یہ مؤقف دراصل اس اصولی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پاکستان ہمیشہ علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں استحکام پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش اس خطے کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے ان کی ترسیلات زر انتہائی اہم ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کے سعودی عرب، ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات بھی ہیں۔46برس بیت گئے امریکی سامراجی سازشوں حملوں کا سیلاب تھما نہیں بلکہ گذشتہ برس جون میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 12روزہ جنگ میں ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے ۔
28فروری کو ایران پر موجودہ حملہ اسی جھوٹ کے ساتھ شروع کیا گیا۔ اصل مقصد رجیم چینج تھا۔ ان کو یقین تھا کہ جیسے ہی امریکا ، اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے ایرانی قوم لاکھوں کی تعداد میں امریکا اسرائیل کی حمایت میں نکل آئے گئی جنھیں ایرانی مذہبی قیادت نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔
لیکن ہوااس کے برعکس۔ دور نہ جائیں ابھی چند دن پیشتر لاکھوں ایرانی شہری پورے ایران خاص طور پر تہران اور اصفہان وغیرہ میں موجودہ مذہبی قیادت کی حمایت میں نکل آئے جس میں بے شمار خواتین بھی شامل تھیں ۔
جب کہ عین اسی وقت امریکی وزیر دفاع یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ایرانی اعلی قیادت زیر زمین چھپ گئی ہے جب کہ ایرانی صدر سمیت تمام اعلی قیادت یوم القدس پر لاکھوں ایرانی عوام کی سڑکوں پر قیادت کر رہی تھی۔
ایران رجیم چینج تو نہ ہو سکی لیکن اس جنگ کے تباہ کن اثرات نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اب امریکا اسرائیل ہر صورت اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔
لیکن ایران کسی صورت جنگ بندی پر آمادہ نہیں مگر اپنی شرائط پر ۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکا کی 18مختلف خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا کہ انھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو 20فروری کو ہی بتا دیا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ناممکن ہے اس کے باوجود ایران پر حملہ کردیاگیا ۔
موجودہ امریکا اسرائیل ایران جنگ بھیانک مرحلے میں داخل ہونے والی ہے 19مارچ اور اس کے بعد ۔ مارچ ، اپریل،مئی انتہائی خطرناک مہینے ہیں جو بہت کچھ تبدیل کرکے گزر جائیں گے ۔
سربراہان مملکت اور حکومتیں سخت خطرے میں ہیں ۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو بھی بدترین وقت میں داخل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ اﷲ خیر کرے۔
Today News
بند ہوتی گزرگاہیں اور دنیا کو درپیش نیا خطرہ
عالمی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال اور یکطرفہ فیصلوں نے ہمیشہ دنیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔ حالیہ صورتحال بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ تنازع ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، بین الاقوامی اتحادوں، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔
امریکا کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں ایران کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل ایک بڑی اسٹرٹیجک غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ اقدام اپنے اتحادی کے دفاع کے لیے کیا گیا، مگر اس کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے۔
ایران نے براہِ راست عسکری تصادم کے بجائے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ ہے آبنائے ہرمز کی بندش۔ یہ گزرگاہ دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے یومیہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر معیشتوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، سپلائی چین متاثر ہو رہی ہیں اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تباہ کن ہے۔ ایسے ممالک جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے مہنگی توانائی درآمد کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ان ممالک میں کرنسی کی قدر میں کمی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور مالیاتی عدم استحکام جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ غریب طبقات کے لیے زندگی مزید دشوار ہو چکی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کا حصول بھی ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک اس بحران سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتی ہے، اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے مالیاتی نظام پر فوری دباؤ ڈالتا ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی یہ لہر عوامی سطح پر بے چینی کو جنم دیتی ہے اور حکومتوں کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اورکرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوتی ہے، جس سے بیرونی قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں ایک عالمی تنازع ایک مقامی معاشی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس بحران نے نیٹو جیسے اہم عسکری اتحاد کی اندرونی سیاست کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
نیٹو، جو طویل عرصے سے مغربی اتحاد کی علامت رہا ہے، اب اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے اتحادی ممالک پر دباؤ ڈالنا کہ وہ اس کی فوجی کارروائی میں شامل ہوں، ایک ایسے رویے کی عکاسی کرتا ہے جو شراکت داری کے اصولوں کے برعکس ہے۔ یورپی ممالک کا اس دباؤ کو مسترد کرنا، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب عالمی سیاست میں یکطرفہ قیادت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
جرمنی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے کھل کر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہوں گے۔
ان ممالک کا کہنا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے قبل اس کے مقاصد، حکمت عملی اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل وضاحت ہونی چاہیے۔ یہ موقف نہ صرف ایک محتاط پالیسی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ یورپی ممالک اب اندھا دھند امریکی پالیسیوں کی پیروی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نیٹو کے اندر پیدا ہونے والے یہ اختلافات اس اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، اگر ایک اتحاد کے رکن ممالک ایک اہم عالمی بحران پر متفق نہ ہو سکیں تو اس اتحاد کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات کہ اگر اتحادی ساتھ نہ دیں تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے، دراصل اس اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جیو اسٹرٹیجی بھی اس بحران میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ خطہ نہ صرف توانائی کے وسائل سے مالا مال ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والی ہر تبدیلی عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں کے درمیان طاقت کا توازن ہمیشہ سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور دباؤ کے استعمال کرنا ایک اہم اسٹرٹیجک اقدام ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی جنگ کے علاوہ بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن کے ذریعے عالمی طاقتوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک غیر روایتی حکمت عملی ہے جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کا محتاط رویہ بھی قابلِ غور ہے۔ یہ ممالک توانائی کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے اس تنازع میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے سفارتی کردار ادا کرنے کی پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں اب جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے لگی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، استحکام اور اقتصادی ترقی ہے، اگر خطے کے ممالک مسلسل جنگ اور کشیدگی میں الجھے رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا۔
ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو ایک متوازن اور اصولی سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر امن، مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے۔
یہ تمام صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولنا ضروری ہے تاکہ عالمی توانائی کی فراہمی بحال ہو سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں چاہیے کہ وہ غیر جانبدارانہ ثالثی کے ذریعے فریقین کے درمیان مذاکرات کو فروغ دیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
اس کے علاوہ بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنگیں صرف تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور معاشی نقصان لاتی ہیں۔
اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ہی وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اگر دنیا نے اس بحران سے سبق نہ سیکھا تو مستقبل میں ایسے مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں جو عالمی نظام کو مزید کمزور کردیں گے۔
اس لیے ضروری ہے کہ اس موقع کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جائے اور عالمی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جو نہ صرف موجودہ بحران کو حل کریں بلکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا ہونے سے بھی روکیں۔
حرف آخر یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلوانا اور ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنا، وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عالمی معیشت کو استحکام فراہم کر سکتا ہے۔
نیٹو جیسے اتحادوں کو ٹوٹنے سے بچا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ایک بڑے سانحے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے مگر مستقل امن صرف مکالمے، برداشت اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Sports2 weeks ago
Bangladesh recall Litton, Afif for Pakistan ODI series – Sport
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Haris among 14 Pakistanis on The Hundred final list – Sport
-
Entertainment2 weeks ago
Fans React to Nadia Khan’s Wrinkles in Filter-Free Video
-
Today News2 weeks ago
prime minister contact Lebanon counterpart solidarity against israeli aggression
-
Entertainment2 weeks ago
Muneeb Butt Reveals Reason Of Blessings in His Income
-
Business2 weeks ago
Global markets turmoil intensifies on Iran war – Business