Connect with us

Today News

تضاد – ایکسپریس اردو

Published

on


صدر ٹرمپ نے بالآخر ایران پر حملہ کردیا اور اپنے ساتھ اسرائیل کو شامل کرکے ایران کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، تاہم ایران امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا مردانہ وار مقابلہ کر رہا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ایک سپرپاور کی طاقت میں اور ایک عام ملک کی فوجی طاقت میں فرق تو موجود ہے، چنانچہ امریکی و اسرائیلی حملے ایران کے لیے یقینا مہلک ثابت ہو رہے ہیں۔ ایران کی فوجی تنصیبات ہی نہیں شہروں کو بھی نشانے پر لیا گیا ہے۔

کافی انسانی جانوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس نے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے مگر امریکی بیان میں یہ تضاد بڑا عجیب ہے کہ اس نے ایرانی ایٹمی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔

اس نے چند ماہ قبل بھی ایران پر بڑا حملہ کرکے اس کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا اگر ایران کا ایٹمی پلانٹ پہلے ہی تباہ ہو چکا تھا تو اب پھر سے کون سے ایٹمی پلانٹ کو تباہ کیا گیا ہے؟

بہرحال ایران کا جو بھی فوجی یا ایٹمی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ تو ہو ہی جائے گا مگر ایران کے رہبر اعلیٰ کی ان کے خاندان کے ساتھ شہادت ایک ایسا نقصان ہے جسے ایرانی کبھی بھی نہیں بھلا پائیں گے۔

اس پر صرف ایرانی ہی نہیں پورا عالم اسلام رنجیدہ ہے۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب ایران نے واضح طور پر یہ کہہ دیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تو پھر ایران پر کیوں شک و شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

لیکن یہ عجب امریکی انصاف ہے کہ اسرائیل کو تو ایٹمی ہتھیار بنانے کی پوری آزادی حاصل ہے مگر ایران کو یہ رعایت نہیں۔

ایرانی حکومت بھی بار بار یہ اعلان کر چکی تھی کہ وہ جوہری صلاحیت اپنی سماجی ضروریات کے لیے حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے مگر اسرائیل اور امریکا نے دراصل اس بہانے ایران کی حکومت کو ختم کر کے وہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کا پہلے سے منصوبہ بنا رکھا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، البتہ اسرائیل ضرور مشرق وسطیٰ میں اپنی چوہدراہٹ کے راستے میں ایران کو ایک بڑی رکاوٹ خیال کرتا ہے۔

افسوس اس بات پر ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں اپنی سوچ اور حقائق کو سامنے رکھنے کے بجائے نیتن یاہو کی سوچ اور اسرائیل کے ایران کے بارے میں جھوٹے بیانیے کو سامنے رکھا اور ایران کو اسرائیل کا ہی نہیں اپنا بھی دشمن سمجھا۔

جب کہ سب ہی جانتے ہیں کہ امریکا کو ایران سے ہرگز کوئی براہ راست خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی ایران امریکا سے کسی بھی قسم کے تصادم کا ارادہ رکھتا ہے مگر صدر ٹرمپ نے ایران کو اسرائیل کی نظر سے دیکھا اور اسے اپنا دشمن سمجھا، ساتھ ہی ایران کی رجیم چینج کو اپنا مین ٹارگٹ بنا لیا۔

اس وقت ان کا ایران پر حملہ وہاں کی حکومت کو ختم کرکے نئی اپنی پسند کی حکومت کو قائم کرنا ہے۔ انھوں نے اسی مقصد کے تحت ایران پر اب بڑا حملہ کیا مگر کیا ایران نے سرنڈر کر دیا ہے؟ نہیں ایسا تو نہیں ہوا اور شاید آگے بھی ایسا نہ ہو سکے، کیونکہ ایران اس سے پہلے سے امریکی ہی نہیں، اسرائیلی جارحیت کا بھی مقابلہ کر رہا ہے۔

گزشتہ سال مئی کے مہینے میں بھارت نے بھی پاکستان پر بھرپور فضائی اور زمینی حملے کر کے یہ سمجھا تھا کہ وہ پاکستان کو فتح کرکے دم لے گا مگر بھارتی جارحیت کا پاکستان نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ اب وہ پاکستان پر براہ راست حملہ آور ہونے کا اپنا مذموم منصوبہ ترک کرکے افغان دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحیت کرکے دراصل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک زمانے تک ایران کے خلیجی ممالک سے تعلقات خراب رہے ہیں کیونکہ وہ ایران کو اور ایران ان کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا۔

چینی حکومت نے ان تمام عرب ممالک کے آپسی گلے شکوے دور کرا کے ان میں اتحاد کرا دیا تھا۔ چین نے دراصل یہ نیکی اس لیے انجام دی کہ وہ جانتا تھا کہ امریکا ان تمام ممالک کو باہم لڑا کر اپنا الّو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ اب اس وقت محض اسرائیل کی خوشنودی کے لیے امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا ہے۔

ادھر ایران اسرائیل پر تو حملے کر ہی رہا ہے، ساتھ ہی اس نے خلیجی ممالک پر بھی حملے کیے ہیں۔ بس یہ ایران سے بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔

ایرانی حملوں نے خلیجی ممالک کی حکومت کو ناراض ضرورکردیا ہے مگر ان کی جانب سے ایران پر کوئی جوابی حملہ نہیں کیا گیا ہے جو ان کا بڑا پن ہے تاہم اس سے اسرائیلی سازش ضرورکامیاب ہوگئی ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے تعلقات پھر سے خراب ہوگئے ہیں۔

اس وقت صدر ٹرمپ کھلے عام ایرانیوں کو اپنے ہی ملک کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسا رہے ہیں مگر ایرانی ان کی خواہش کو پورا کرتے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔

صدر ٹرمپ کا ایرانی عوام کو بغاوت کے لیے اکسانا کوئی اچھا اقدام نہیں ہے اگر یہی ریت دوسرے امریکی مخالف طاقتور ممالک جیسے چین اور روس نے بھی اپنا لی اور وہ امریکی عوام کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کرنے لگیں تو کیا اس سے امریکا خوش ہوگا؟

حقیقت یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کی محبت میں تمام حدود کو پار کر چکا ہے اور اس محبت میں ماضی کو بھی فراموش کر چکا ہے۔ شیکسپیئر نے اپنی ایک کہانی ’’مرچنٹ آف وینس‘‘ میں یہودیوں کی فطرت کی خوب عکاسی کی ہے۔

صیہونیوں نے کسی سے جب بھی دوستی کی صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھا۔ اس وقت بھیان کی امریکا اور برطانیہ سے دوستی صرف مصلحتوں کے تحت ہے۔ آج وہ جس ملک یعنی اسرائیل کے مالک بنے ہوئے ہیں تو وہ بھی امریکا اور برطانیہ کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔

صدر ٹرمپ کی بھی عجیب منطق ہے کہ ایک جانب وہ خود کو امن پسند کہتے نہیں تھکتے اور خود کو امن کا پیامبر سمجھتے ہیں۔ وہ بڑے فخر سے بار بار کہتے ہیں کہ انھوں نے کئی ممالک کی باہمی جنگوں کو ختم کرایا ہے مگر یہ کیسا اندھیر ہے کہ خود ایران پر حملہ آور ہو چکے ہیں اور اسے نیست و نابود کرنے کے در پے ہی۔ ان کے بارے میں خود ان کے ساتھی سچ ہی کہتے ہیں کہ ٹرمپ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

بچی نے پیسے جمع کرکے دکان خرید لی، اپنی ماں کو ہی ملازم رکھ لیا

Published

on



عام طور پر 12 سال کی عمر میں بچے کھیل کود اور تعلیم تک محدود ہوتے ہیں، لیکن چین کے ایک صوبے میں ایک کم عمر بچی نے اپنی سمجھداری اور کاروباری ذہن سے سب کو حیران کر دیا۔ 

لی یوئی نامی اس بچی نے اپنی جمع پونجی سے دکان خرید کر نہ صرف کاروبار شروع کیا بلکہ اپنی والدہ کو تنخواہ پر کام بھی دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی چین کے صوبے جیانگشی سے تعلق رکھنے والی لی یوئی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران چینی نئے سال پر ملنے والی رقم کو خرچ کرنے کے بجائے بچت میں تبدیل کیا۔ اس نے تقریباً 44 ہزار یوآن، یعنی پاکستانی کرنسی میں 17 لاکھ روپے سے زائد رقم جمع کی اور اسے کسی کاروبار میں لگانے کا فیصلہ کیا۔

بچی کا خیال تھا کہ بینک میں رقم رکھنے سے حاصل ہونے والا منافع بہت کم ہوتا ہے، اس لیے اس نے مختلف مواقع تلاش کرنے شروع کیے۔ اسی دوران اسے ایک اسٹیشنری شاپ فروخت کےلیے دستیاب نظر آئی، جسے اس نے خریدنے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ اس کی والدہ نے اسے ممکنہ نقصان سے خبردار بھی کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق فروری میں چینی نئے سال کے موقع پر لی یوئی نے دکان کو نئے سامان سے بھر کر باقاعدہ کاروبار کا آغاز کیا۔ مارچ میں اسکول کھلنے کے بعد اس نے اپنی والدہ کو ماہانہ 3 ہزار یوآن تنخواہ پر ملازم رکھ لیا، جو اب روزمرہ کے امور سنبھالتی ہیں۔

بچی خود کاروبار کے اہم فیصلے کرتی ہے، سپلائرز سے بات چیت کرتی ہے، قیمتیں طے کرتی ہے اور حکمت عملی بناتی ہے۔ وہ روزانہ صبح دکان کھولتی ہے، سامان کا جائزہ لیتی ہے اور پھر اسکول چلی جاتی ہے۔ اسکول کے بعد وہ دکان پر آکر ہوم ورک بھی کرتی ہے اور شام ساڑھے آٹھ بجے تک اپنی والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے۔

لی یوئی نے جدید تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال بھی خود سیکھ لیا ہے تاکہ کاروباری امور کو بہتر انداز میں چلا سکے۔ جب کچھ عرصہ قبل دکان کی آمدنی میں کمی آئی تو اس نے قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اشیا کی قیمتیں تقریباً 50 فیصد کم کرنے سے خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔

اگرچہ بچی نے اپنی آمدنی کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس نے دکان پر لگائی گئی ابتدائی سرمایہ کاری واپس حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی مرحلے پر بیٹی کی تعلیم متاثر ہوئی تو وہ کاروبار فوری طور پر بند کردیں گی۔



Source link

Continue Reading

Today News

امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والے علی لاریجانی شہید کون تھے؟

Published

on


ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں سب سے نمایاں مقام رکھنے والے علی لاریجانی کو بے خوف نڈر اور بہادر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکا کو للکارنے والے علی لاریجانی کو اسرائیل نے ہٹ لسٹ میں سرفہرست رکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود غیور و دلیر رہنما عوامی مقامات پر بھی نظر آتے تھے۔

علی لاریجانی اسرائیلی و امریکی قتل کی دھمکیوں کے باوجود چند ہی روز قبل یوم القدس کی ریلی میں ہزاروں شرکا کے ہمراہ ہاتھ ملاتے اور سیلفیاں لیتے نظر آئے۔ وہ مطمئن، پُرعزم اور بے خوف تھے۔

علی لاریجانی سیاست کے میدان کے بھی شہہ سوار تھے۔ طویل عرصے تک پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہے اور ساتھ ہی ایران کے جوہری مذاکرات اور قومی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہادت پر علی لاریجانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے دشمنوں کو اس عمل پر پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ان پر حملہ ایک دن پہلے ہونا تھا لیکن آخری لمحے میں اسے مؤخر کر دیا گیا۔

بعد ازاں ان کے ایک خفیہ ٹھکانے پر حملہ کیا گیا جہاں وہ مبینہ طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ موجود تھے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں ان کی ہلاکت یا زندہ بچ جانے کے بارے میں واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔

عراق میں پیدا ہوئے

علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ ایران منتقل ہوئے اور تہران میں تعلیم حاصل کی۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انہوں نے ریاستی اداروں میں تیزی سے ترقی کی اور مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے

اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران علی لاریجانی کئی اہم عہدوں پر رہے، وزیر ثقافت بنے، سرکاری نشریاتی ادارے کی سربراہی کی ، ایک دہائی تک پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور ایران کے چیف نیوکلیئر مذاکرات کار کی کلیدی ذمہ داری بھی نبھائی۔

بطور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار 2005 سے 2007 کے دوران انھوں نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

2015 کے جوہری معاہدے کی حمایت بھی کی جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل میں اہم کردار

2025 میں انھیں دوبارہ ایران کی اعلیٰ سلامتی کونسل یعنی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کیا گیا۔ اس عہدے کے بعد وہ جنگ کے دوران تہران کی قیادت میں مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔

امریکا نے گرفتاری پر انعام بھی رکھا

امریکا نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اعلیٰ شخصیات کے بارے میں معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں علی لاریجانی کا نام بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

علی لاریجانی کے خاندان کی سیاسی اہمیت

علی لاریجانی کا خاندان بھی ایران کی سیاست میں خاص اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ان کے بھائی صادق لاریجانی بھی اسلامی جمہوریہ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صادق لاریجانی اس وقت مجمع تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ ہیں، جو ایران کا ایک اہم ادارہ ہے اور پارلیمنٹ اور آئینی نگران ادارے گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کی صورت میں آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

ایران کی سیاست میں اہم کردار

تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کو ایران کے ان رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ریاستی اداروں، پارلیمنٹ اور سکیورٹی ڈھانچے کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ایران کی پالیسی سازی کے اہم چہروں میں شامل کیا جاتا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا

Published

on



ملائشیین فٹبال فیڈریشن کو جعلی دستاویزات پر کھلاڑیوں  کو کھلانا مہنگا پڑ گیا۔

ایشین کوالیفائنگ راونڈ سے چھٹی کے ساتھ پچاس ہزار ڈالر جرمانہ بھی ہوگیا، ملائیشیا نے سات غیرملکی کھلاڑیوں کو جعلی دستاویزات بناکر شہریت دےکر ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔

رپورٹس کے مطابق  ایشین فٹبال کیفیڈریشن  نے ملائشین فٹبال فیڈریشن کو اپنے فیصلے سےآگاہ کردیاہے جس کے تحت ملائیشیا نے اے ایف سی ڈسپلنری اور ایتھکس  رولز  چھپن کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس بنا پر نیپال اور ویتنام کے خلاف اے ایف سی کوالیفائر میں جن میچز میں ملائیشیا نے کامیابی پائی تھی، اس کے نتائج کو بدل کر فیصلہ تین صفر سے  ویتنام اور نیپال کو فاتح قرار دے دیا گیاہے۔

میچز سے محروم کرنے کے ساتھ ملائیشیا کی فٹبال فیدریشن کو ایک لاکھ چھیانوے ہزار ایک سو ایک انیس ملائیشین رنگٹ جرمانہ بھی کیاگیاہے۔



Source link

Continue Reading

Trending