Connect with us

Today News

دنیا میں جنگ کے بادل ہیں جبکہ پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی طاقت بنایا، شرجیل میمن

Published

on


صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر تمام خواتین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ دن سب کا دن ہے، معاشرے کو اکثر مردوں کی اجارہ داری والا سمجھا جاتا ہے جبکہ خواتین کو دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم بن کر اس سوچ کے خاتمے کا آغاز کیا اور ایک خاتون نے ملک چلا کر دکھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جبکہ پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی طاقت بنایا اور ملک کو میزائل ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کا کریڈٹ بے نظیر بھٹو کو جاتا ہے، ان دو عظیم لیڈروں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ فرسٹ ویمن بینک اور پہلا خواتین پولیس اسٹیشن بھی پیپلز پارٹی نے قائم کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی مینیجنگ ڈائریکٹر کنول بھٹو نے کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے موقع پر 300 الیکٹرک اسکوٹیز تقسیم کی جائیں گی، اس سے قبل 200 اسکوٹیز بھی دی جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کو اسکوٹیز کی فراہمی انہیں بااختیار بنا رہی ہے اور اس اسکیم کو کامیاب بنانے میں صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل ٹرانسپورٹ کی بڑی رکاوٹ دور کر رہی ہے جبکہ بجلی سے چلنے والی اسکوٹیز ماحول دوست توانائی کو فروغ دے رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 550 الیکٹرک بسیں سڑکوں پر چل رہی ہیں جبکہ مزید 500 جلد سڑکوں پر آجائیں گی اور سندھ میں ای وی ٹیکسی سروس بھی جلد شروع کی جائے گی۔

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا تصور بھی پیپلز پارٹی نے پیش کیا جس سے ہزاروں خواتین خود کفیل ہوئیں اور دوسروں کو بھی مضبوط بنایا، یہ پروگرام بھی بے نظیر بھٹو نے شروع کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی اہمیت کو تسلیم کیا جبکہ یہ پروگرام صدر آصف علی زرداری نے شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 21 لاکھ گھر تعمیر کر کے دیے جا رہے ہیں اور ان گھروں کی ملکیت بھی خواتین کو دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میں خواتین کو ترجیح حاصل ہے، پیپلز پارٹی نے جنرل نشستوں پر بھی خواتین کو ٹکٹ دیا اور خواتین امیدواروں نے اپنے مد مقابل امیدواروں کو شکست دی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں گرلز کیڈٹ کالجز قائم کیے گئے ہیں اور جدید سہولیات سے آراستہ ایسے گرلز کیڈٹ کالجز پورے ملک میں کہیں نہیں ہیں جبکہ خواتین کے لیے پروگرام ان کا حق ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ڈکی بھائی سے رشوت لینے والے این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کو رہا کرنے کا حکم

Published

on



لاہور ہائیکورٹ نے ڈکی بھائی سے رشوت وصول کرنے اور اختیارت کا ناجائز استعمال کرنے والے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سابق ایڈیشنل ڈایکٹر این سی سی آئی اے چوہدری سرفرازکی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کی۔

عدالت نے ضمانت کو منظور کرتے ہوئے چوہدری سرفراز کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ دیگر ملزمان کی ضمانتیں پہلے ہی ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزام میں این سی سی آئی اے کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سمیت دیگر افراد کو معطل کر کے مقدمہ درج اور پھر گرفتار کیا گیا تھا۔

 



Source link

Continue Reading

Today News

پی ایس ایل: ویسٹ انڈیز کے اہم فاسٹ بولر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے

Published

on


ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر الزاری جوزف پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا حصہ بن گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے جاری پیغام کے مطابق الزاری جوزف کو آسٹریلیا کے اسپینسر جانسن کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

ٹیم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپینسر جانسن نجی وجوہات کے سبب پی ایس ایل کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسپینسر جانسن کو ڈائریکٹ سائن کیا تھا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے تحریری جواب جمع کرا دیا

Published

on


سانحہ گل پلازہ سے متعلق قائم جوڈیشل کمیشن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے اپنا تحریری جواب جمع کرا دیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق اگست 1979 میں کے ڈی اے نے گل پلازہ کا ابتدائی بلڈنگ اپروول پلان جاری کیا تھا تاہم ادارے کے ریکارڈ روم میں اس کی اصل ابتدائی فائل دستیاب نہیں۔ جواب میں کہا گیا کہ ابتدائی طور پر گل پلازہ میں کتنی منزلیں منظور کی گئیں اس بارے میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔

جواب کے مطابق 1998 میں نظرثانی شدہ بلڈنگ پلان میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور تین بالائی فلورز کی منظوری دی گئی تھی اور اسی سال پلان کے تحت 1043 دکانیں منظور کی گئیں۔

ایس بی سی اے نے بتایا کہ 2003 میں ایمنسٹی اسکیم 2001-2002 کے تحت گل پلازہ کی 1102 دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا جبکہ اس سے قبل 1998 میں 115 سب اسٹینڈرڈ دکانوں کی اندرونی تقسیم کی منظوری بھی دی گئی تھی، جو بعد میں ریگولرائزیشن میں شامل ہوئیں۔ مزید بتایا گیا کہ 2003 میں گل پلازہ کی 59 مزید دکانیں شامل کی گئیں جن میں 26 سب اسٹینڈرڈ تھیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ گل پلازہ کی عمارت میں فائر سیفٹی اور انخلا کے راستوں سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود نہیں جبکہ عمارت کی آخری انسپیکشن 22 فروری 2003 کو ریگولرائزیشن کے دوران کی گئی تھی۔ معائنے کے دوران خلاف ورزیاں سامنے آئیں تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت انہیں ریگولرائز کر دیا گیا۔

ایس بی سی اے کے مطابق 1992 میں گل پلازہ کے خلاف شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا اور عمارت میں سیڑھیاں مختلف مقامات پر اور مسلسل کنفیگریشن میں تعمیر کی گئی تھیں۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ آگ سے بچاؤ کی اسٹرکچرل مزاحمت کا جائزہ لینا ادارے کی ذمہ داری نہیں جبکہ عمارت میں کسی ممکنہ تبدیلی یا راستے بند ہونے سے متعلق وضاحت بلڈر اور بلڈنگ مینجمنٹ دیں گے۔

ایس بی سی اے کے مطابق تکمیل یا ریگولرائزیشن کے بعد عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بلڈر اور سوسائٹی پر ہوتی ہے اور عمارت مکمل ہونے کے بعد ادارہ نگرانی نہیں کرتا، اسی لیے موجودہ دکانوں کی درست تعداد معلوم نہیں۔





Source link

Continue Reading

Trending