Connect with us

Today News

نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر نے کرکٹ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا

Published

on



نیوزی لینڈ کے نوجوان فاسٹ بولر بریٹ رینڈل فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 5گیندوں پر 5 وکٹیں لینے والے پہلے بولربن گئے، انہوں نے8گیندوں پر 6  کھلاڑیوں کو آوٹ  کرنے  والے پہلے بولر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

 سنٹرل ڈسٹرکٹ کے فاسٹ بولر بریٹ رینڈل نے یہ کارنامہ نیپئر میں  نارتھ ڈسٹرکٹ کے خلاف پلنکٹ شیلڈ  ٹورنامنٹ میں کیا، میچ میں رینڈل نے اپنے دوسرے اوور کی آخری گیند  اوپنر ہنری کوپر کو کیچ آؤٹ کراکر وکٹ  حاصل کی۔

اگلے اوور کی پہلی گیند پر ان کی گیند پر بیٹر راول  اسٹمپ آوٹ ہوگئے، اگلی ہی گیند پر گیند پرکارٹر کو وکٹ کے  پیچھے  کیچ آوٹ کراکربریٹ رینڈل نے ہیٹ ٹرک مکمل کی،چوتھی  گیند پر رابرٹ او ڈونل  کی وکٹ پانے والے  بریٹ  رینڈل  نے اگلی گیند پر کرسٹیان کلارک کو آوٹ کرکے  تہلکہ مچا دیا۔

 تاہم  بین پومارے نے رینڈل کو چھٹی وکٹ لے کر ڈبل ہیٹ ٹرک کا کارنامہ انجام دینے نہیں دیا، فرسٹ کلاس کرکٹ میں 8گیندوں پر 6وکٹیں لینے والے پہلے  بولر کا اعزاز پانے والے رینڈل نے 11 اوورز میں 25 رنز دے کر 7 کھلاڑیوں کو آوٹ کیا۔

 قبل ازیں ٹی ٹونٹی کرکٹ میں ڈبلن میں  کرٹس کیمفر نے  5 گیندوں  پر 5 وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ زمبابوے کی ویمن آل راونڈر کیلس نڈہلوو بھی  ڈومیسٹک ویمن ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں یہ اعزاز حاصل کرچکی ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کے خلاف امریکا جنگ میں کتنے ارب ڈالر پھونک چکا ہے؟ امریکی ٹی وی پروگرام میں انکشاف

Published

on



واشنگٹن:

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔

تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔

دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔





Source link

Continue Reading

Today News

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر

Published

on


جناب ممنون حسین گورنر سندھ کے منصب کا حلف اٹھا کر دفتر میں ابھی بیٹھے ہی ہوں گے کہ میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کتنا اچھا ہو اگران کے پہلے انٹرویو کا موقع مجھے میسر آئے۔اس خیال نے مجھے آسودہ کیا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے بے تکلف قہقہ بلند ہوا پھر پوچھا :’سب ٹھیک ہے، فاروق بھائی؟‘یہ نہال ہاشمی تھے۔ اِن کے اور میرے درمیان گفتگو اسی بے تکلفی سے ہوا کرتی تھی۔ میں نے بھی انھیں اپنا رٹا رٹایا جواب دیا: ’اب خیر، سب خیر۔نہال ہاشمی مزید کھلکھلائے پھر کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہوں چلے آؤ۔

گورنر ہاؤس میں اس وقت وہ کہاں براجمان تھے، یہ تو ذہن میں نہیں، اتنا یاد ہے کہ باتوں کا سلسلہ ابھی جاری تھا کہ اے ڈی سی کا وہاں سے گزر ہوا۔ نہال نے ان سے کہا کہ یہ ہمارے دوست فاروق ہیں، گورنر صاحب کے انٹرویو کے لیے آئے ہیں۔ اے ڈی سی نے کہ جیسے ایسے دفاتر کے اہل کار کیا کرتے ہیں، کسی توقف کے بغیر جواب دیا، ان کا اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے۔ ’اپائنٹمنٹ تو نہیں ہے لیکن یہ آئے ہوئے ہیں۔‘

سفید وردی میں ملبوس نوجوان نے میری طرف دیکھا پھر کہا کہ میں گورنر صاحب سے پوچھ کر آتا ہوں۔ نوجوان فوراً ہی پلٹا اور ہمیں لیتا ہوا گورنر کے چیمبر کی طرف روانہ ہوگیا۔ ہمارے ساتھ نہال ہاشمی تو تھے ہی، ایک صاحب اور بھی تھے۔ چلتے چلتے میں نے نہال سے پوچھا کہ یہ کیا کہانی ہے؟ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں مبارک باد دینے کے لیے پہنچا تو آپ کی یاد آئی ، یوں میں نے آپ کا نمبر ملا دیا۔ کہانی کا باقی حصہ آپ کے سامنے ہے۔ شکر گزاری کے طور پر میں نے ان کے ہاتھ پر نرمی سے تھپکی دی اور انھیں بتایا جس وقت آپ کا فون آیا، میں یہی سوچ رہا تھا کہ کسی طرح گورنر صاحب کا انٹرویو ہو جائے تو لطف آ جائے۔

’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے، فاروق بھائی!‘

نہال ہاشمی نے گورنر چیمبر میں داخل ہوتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔ جانے قبولیت کی وہ کیسی گھڑی تھی کہ میری خواہش پوری ہوئی، صرف میری خواہش پوری نہیں ہوئی، اس واقعے کے ٹھیک ربع صدی بعد نہال ہاشمی اسی چیمبر میں آن بیٹھے ہیں اور میں سحری کے بعد پاکیزہ ماحول میں بیٹھا خوش دلی سے ان واقعات کی ترتیب کو یاد کر رہا ہوں۔

 نہال ہاشمی سے میرے تعلق کا آغاز زیادہ خوش گوار نہیں تھا۔ تھر میں ترقیاتی کام کرنی والی کسی این جی او کی بے ضابطگی کی اطلاع مجھے ہوئی تو میں نے چھان بین کے بعد اسے شائع کر دیا۔ رپورٹ کی اشاعت سے کہرام تو مچا لیکن اس کے ساتھ ہی مجھے ایک نوٹس بھی موصول ہوا جس میں این جی او کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں کروڑوں روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ نوٹس بھیجنے والے وکیل کا نام نہال ہاشمی تھا۔ ان دنوں رپورٹنگ آسان نہ تھی۔رپورٹر کے پاؤں پکے بھی ہوتے تو اسے اپنی ساکھ کی فکر ہوتی۔ میں بھی اسی فکر میں پریشان تھا کہ برادر عزیز اصغر عمر سے ملاقات ہو گئی۔

یہ اصغر عمر کے کیرئیر کا ابتدائی دور تھا لیکن اس کے باوجود کورٹ رپورٹنگ میں ان کا نام گونج رہا تھا۔ کہنے لگے کہ اس میں فکر کی کیا بات ہے، یہ نوٹس تو ابھی واپس ہو جائے گا۔ کچھ دیر گزری ہو گی کہ ہم شاہراہِ فیصل کی کسی اونچی بلڈنگ کے مختصر سے دفتر میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ چائے پیتے پیتے اصغر عمر نے نہال ہاشمی کو مخاطب کیا اور پوچھا:’پھر اس نوٹس کا کیا ہو گا، نہال بھائی؟‘ ’کون سا نوٹس؟ رات گئی، بات گئی۔‘

بات واقعی رات کی ظلمت میں گم کہیں ہو گئی اور نہال ہاشمی کے ساتھ تعلق استوار ہو گیا۔ کہاں میں اس سانولے سلونے وکیل سے طویل لڑائی کے منصوبے باندھ رہا تھا اور کہاں چائے کی ایک پیالی نے صورت حال ہی بدل ڈالی۔ اس کایا کلپ میں عزیز بھائی اصغر عمر کی معاملہ فہمی کو تو دخل تھا ہی لیکن نہال ہاشمی کی رواداری اور کشادہ دلی کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟ اس واقعے نے مجھے صرف نہال ہاشمی سے ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ انسانی مزاج کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔

میری سمجھ میں یہ آیا انسان کو یک رخا نہیں ہونا چاہیے۔ رمز اس بات میں یہ ہے کہ نہال ہاشمی اگر ایک طرف مسلم لیگ ن کے کارکن تھے تو دوسری طرف وہ رفاہی سرگرمیوں کے لیے بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی ایک نمایاں شخصیت کے ہم کار بھی تھے۔ وسیع المشربی کی یہ خوبی اس زمانے میں کم از کم کراچی کی حد تک معدوم ہو رہی تھی کیوں اس شہر میں ان دنوں الطاف حسین کی سیاست اور اخلاقیات کا چلن عام تھا۔

نہال ہاشمی کا سیاسی سفر میرے سامنے ہے۔ وہ اس زمانے میں مسلم لیگ ن کا حصہ بنے جب الطاف حسین کا سورج نصف النہار پر تھا۔ سیاست کے لیے لوگ ان کے دست حق پرست پر بیعت کرتے یا پھر گھر بیٹھ جاتے۔ نہال ہاشمی نے اس کے الٹ کیا اور اپنی بساط کے مطابق کھڑے رہے۔ اس میدان میں ان کا اصل کریڈٹ وفاداری ہے۔ سیاسی اونچی نیچ کی پروا کیے بغیر اپنے سیاسی عقیدے سے انھوں نے وفا کی، خاص طور پر ۲۰۱۴ء سے۲۰۱۸ ء تک کے پر آشوب زمانے میں جب انھوں نے اپنے قائد اور جماعت کے حق میں پوری قوت سے آواز بلند کی اور سینیٹر شپ قربان اور قید و بند کا سامنا کر کے اس کی قیمت ادا کی۔

یہی سبب ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی متوسط طبقے کے اس عام کارکن کو یاد رکھا اور عزت سے نوازا۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقرر سے ہمارے کئی تصور ٹوٹے ہیں۔ اوّل یہ کہ بڑے مناصب صرف بڑے لوگوں کے لیے ہوتے ہیں اور دوم ،مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کے تقررنے یہ تاثر کمزور کر دیا ہے۔

نہال ہاشمی کے گورنر بننے سے سندھ میں مسلم لیگ ن کے احیا کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے۔ سندھ میں ن لیگ کی تنظیم اور کارکن دونوں مایوسی کا شکار رہے ہیں۔ وہ خود کو نظر انداز کیا ہوا اور پچھڑا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ سندھ میں اس جماعت کے اثر و نفوذ میں کمی ہوئی ہے۔ شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر اوردیگر لیگی کارکنوں اور راہ نماؤں نے ایسے حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ وہ مسلسل کام کرتے رہے ہیں۔ خواجہ طارق نذیر کئی دہائیوں تک مسلسل متحرک رہنے کے بعد تقریباً گوشہ نشین ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ناصر الدین محمود اور دیگر راہ نما خاموش ہیں یا کسی دوسری جانب دیکھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں گورنر کی حیثیت سے نہال ہاشمی کا تقرر مسلم لیگ ن سندھ کے لیے خوش آئند ہے۔ بہتر ہو کہ شاہ محمد شاہ، خواجہ طارق نذیر، علی اکبر گجر اور دیگر مخلص راہ نماؤں کو مرکز اور صوبے میں ذمے داریاں سونپی جائیں ۔ یوں یہ خوابیدہ جماعت سندھ میں ایک بار پھرطاقت پکڑ سکتی ہے۔

آخر میں گورنر صاحب کے لیے ایک ضروری مشورہ، صدر ممنون حسین مرحوم و مغفور نے خصوصی دل چسپی لے کر انجمن ترقیِ اردو کی عمارت تعمیر کرائی تھی اور اس ادارے کو تباہی سے بچایا تھا۔ بھائی نہال ہاشمی کو اپنے پیش رو کے اس ورثے کی حفاظت کرنی ہے اور قومی زبان کی خدمت کرنے والے ادارے کے سر پر دست شفقت رکھنا ہے۔میں ذاتی طور پر اُن سے بس یہی چاہتا ہوں۔





Source link

Continue Reading

Today News

پاکستان دوراہے پر! – ایکسپریس اردو

Published

on


تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی جنگیں انسانیت کے حق میں کبھی اچھی ثابت نہیں ہوئیں بلکہ ہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کی نئی داستان رقم ہوتی ہے۔ شکست و فتح سے قطع نظر جنگوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ یہ نت نئے مسائل کو جنم دینے کا سبب بنتی ہیں۔

دنیا کے طاقت ور حکمرانوں نے اپنی انا کی تسکین اور تکبر و گھمنڈ کے نشے میں چور ہو کر اپنے سے کمزور ملکوںو ریاستوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے اور اپنا تسلط قائم کرنے اور انھیں اپنا دست نگر بنانے کے لیے مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے اور خون کی ہولی کھیلنے سے دریغ نہ کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر زمین پر جو قیامت صغریٰ برپا کی جاپانی قوم کئی دہائیوں تک اس کے مضر اثرات سے باہر نہ آ سکی۔ نصف صدی سے زائد عرصہ گزر گیا لیکن امریکا پر کمزور ملکوں کو تسخیر کرنے کا جنون آج بھی سوار ہے، ویت نام، سیریا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام کے بعد اب ایران اس کے نشانے پر ہے۔ بدقسمتی سے امریکا پر صدر ٹرمپ جیسے شخص کی حکمرانی ہے جس کے قول و فعل میں اتنے تضادات ہیں کہ اعتماد و اعتبار کرنا آسان نہیں۔ اس پہ مستزاد ٹرمپ کے مشیران ووزرا ہیں جو انھیں بہکانے اور اکسانے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایران پر حملے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ انھیں ان کے مشیروں اور وزیروں نے بتایا کہ ایران امریکا پر حملے میں پہل کر سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر ایران پر ہم نے حملہ کیا۔ جنگ کا دائرہ اب پھیلتا جا رہا ہے۔

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے آڈیو بیان میں دو ٹوک اور صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے ہر اس شخص کے خون کا حساب لے گا جو حالیہ جنگ میں شہید ہوا ہے۔ ایرانی قوم کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رہے گی انھوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں بصورت دیگر ان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں کیوں کہ میں ان کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں۔

امریکا اور ایران ہر دو جانب سے قیادت کے سخت گیر بیانات اور غیر لچکدار رویے کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں جنگ کی شدت اور تباہ کاریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، امریکا نے ایران پر شدید ترین حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ اور B-2 طیارے حملے کے لیے روانہ کر دیے ہیں، مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ ایران میں اپنے مطلوبہ اہداف جلد حاصل نہ کرسکے اور ایران کی مزاحمت تادیر جاری رہی، جس کے امکانات بعیداز قیاس نہیں، تو وہ اپنی فتح کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے محدود پیمانے پر ایران پر ایٹمی حملہ بھی کر سکتے ہیں جو تباہی و بربادی کی یقینا ایک نئی خون آشام داستان رقم کرے گا، ٹرمپ نے پانچ ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دنیا بھر کے رہنما صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جی 7 گروپ نے امریکا سے جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس اور چین اگرچہ سفارتی سطح پر جنگ رکوانے کے لیے اپنی غیر مرئی کوشش کر رہے ہیں لیکن اسرائیل و امریکا کی ہٹ دھرمی کے باعث چین و روس کی کاوشیں ثمر آور ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔ روس یوکرین کے ساتھ جنگ میں الجھا ہوا ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے صدر ٹرمپ روس سے یوکرین کے خلاف جنگ رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن پیوٹن نے ٹرمپ کو مثبت جواب نہیں دیا۔ غالباً اسی باعث روس ایران امریکا جنگ رکوانے میں موثر کردار ادا نہیں کر پا رہا ہے۔ اس ضمن میں پاکستان کی پوزیشن بھی خاصی نازک ہے۔

اگرچہ پاکستان نے ایران پر امریکی حملے کی بھرپور مذمت کی ہے تاہم حکومتی سطح پر امریکی صدر ٹرمپ سے براہ راست ایسا کوئی مطالبہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ البتہ سفارتی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات اس جنگ کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

چوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان چند ماہ قبل ایک سیکیورٹی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔ سعودی عرب میں بھی قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران مسلسل بمباری کر رہا ہے۔ بقول مجتبیٰ خامنہ ای مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں موجود فوجی اڈے بند کیے جانے تک حملے جاری رہیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ وہ حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ سعودی عرب ایرانی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔





Source link

Continue Reading

Trending