Connect with us

Today News

عالمی یومِ خواتین پر حکومت سندھ کا اقدام؛  300 پنک الیکٹرک اسکوٹیز خواتین میں تقسیم

Published

on



محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت سندھ اور سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے عالمی یومِ خواتین کے موقع پر 300 پنک الیکٹرک اسکوٹیز تقسیم کی گئیں۔

پنک الیکٹرک اسکوٹیز کی تقسیم کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وہ تمام خواتین کو عالمی یومِ خواتین کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں کیونکہ خواتین نہ ہوتیں تو ہم بھی نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی یومِ خواتین صرف خواتین کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا دن ہے جسے ایک خاتون نے جنم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں طویل عرصے تک خواتین کو نظر انداز کیا جاتا رہا مگر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے خواتین کو بااختیار بنا کر نئی تاریخ رقم کی۔ ان کے مطابق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں خواتین نے ثابت کیا کہ وہ ملک چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایسے میں پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا تاریخی کارنامہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا ہے جبکہ پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دینے کا کریڈٹ بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو جاتا ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے تاریخی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ وومن بینک کا قیام، خواتین کے لیے پہلا پولیس اسٹیشن اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جیسے انقلابی اقدامات بھی پیپلز پارٹی نے متعارف کروائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی فلاحی منصوبہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جسے بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا اور اس کا آغاز صدر آصف علی زرداری کے دور میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اکیس لاکھ گھر بنانے کا اعلان کیا جن میں سے آٹھ لاکھ گھر تعمیر ہو چکے ہیں اور ان گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں خواتین کے لیے متعدد مواقع اور کوٹہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریال تالپور نے جنرل نشست پر انتخاب لڑا جبکہ آصفہ بھٹو زرداری اور شازیہ مری نے بھی جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے لڑکیوں کے لیے گرلز کیڈٹ کالج قائم کیا ہے اور خواتین کے لیے مختلف فلاحی پروگرام متعارف کروانا ہماری ذمہ داری اور فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے خواتین کے لیے پنک بس سروس شروع کی ہے جس میں خواتین ڈرائیورز کو بھی تعینات کیا گیا ہے اور یہ منفرد سہولت دنیا میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو پچاس لاکھ اسکوٹیز فراہم کرنے کا پروگرام شروع کر رہی ہے اور اس کے لیے کسی سفارش یا پرچی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اسکوٹی حاصل کرنے کے لیے مستقل ڈرائیونگ لائسنس اور تعلیم یا ملازمت کا ثبوت درکار ہوگا جبکہ خواتین کو مفت ڈرائیونگ ٹریننگ بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت خواتین کو مفت اسکوٹیز دی جا رہی ہیں تاکہ انہیں پیٹرول کے اخراجات اور سفر کی مشکلات سے نجات مل سکے اور پنک اسکوٹی پروگرام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کیا جاتا ہے لیکن سندھ حکومت نے ایسے تاریخی کام کیے ہیں جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر سے پورے پاکستان کے لیے کوئلہ نکال کر بجلی پیدا کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے اور جس ڈمپر سے کوئلہ نکالا جاتا ہے اس کے ڈرائیور بھی خواتین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواتین کو خود کفیل بنانا چاہتے ہیں اور معاشرے کی سوچ میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھر میں خواتین کو بااختیار بنایا گیا ہے اور وہاں ڈمپر ڈرائیور بھی خواتین ہیں۔

تقریب میں صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، قاسم سراج سومرو، ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پیپلز پارٹی لیڈیز ونگ، خواتین ارکانِ اسمبلی، سماجی شخصیات اور دیگر نے شرکت کی جبکہ تقریب سے صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی، نفیسہ شاہ، شرمیلا فاروقی، شرمین عبید چنائے، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ایم ڈی کنول نظام بھٹو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مشرق وسطیٰ تنازع، درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا ہوگا

Published

on



کراچی:

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور اتار چڑھاؤ کی نئی لہر پیدا کر رہا ہے۔

اگرچہ یہ تنازع بیرونی ہے، لیکن اس کے اثرات ملکی معیشت کے لیے خاصے اہم ثابت ہو سکتے ہیں،بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کا ’’پٹرول بم‘‘ پاکستان کی معیشت پر شدید اثر ڈال رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مالیاتی توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ بیرونی کھاتوں پر بھی دبائو بڑھ سکتا ہے۔

7 مارچ 2026 کو پٹرولیم لیوی میں نظرثانی کے بعد پٹرول پر یہ لیوی 100 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا ،اندازہ ہے کہ ماہانہ درآمدی بل میں تقریباً 60 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوگا، جس سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ مزید بگڑ جائے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جس نے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد سے کم رکھنے کی پیش گوئی کی تھی، اب مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی پیش گوئی پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کے باعث خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، جو حالیہ عرصے میں غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی تھیں، ان میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے ،بین الاقوامی تجارتی مرکز کے Trademap.org کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر تجارت ہونے والی تقریباً 3 ٹریلین ڈالر مالیت کی معدنی مصنوعات میں سے 560 ارب ڈالر کی برآمدات خلیجی ممالک سے ہوئیں۔

ان میں سے تقریباً 210 ارب ڈالر کی برآمدات متحدہ عرب امارات اور قطر سے کی گئیں۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمد کرنے والا ملک ہے اور پاکستان نے 2024 میں قطر سے 3.5 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی ایل این جی درآمد کی، جو اس کی مجموعی ایل این جی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چین، جنوبی کوریا اور بھارت کے بعد پاکستان قطر کی ایل این جی کے اہم خریداروں میں شامل ہے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کھاد کی صنعت کو بھی متاثر کرے گا اور اس کے نتیجے میں زرعی شعبہ اور خوراک کی قیمتوں کا استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مجموعی تجارتی درآمدات میں ایندھن کی درآمدات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ جہاں پاکستان کی تجارتی ساخت بڑی حد تک ایندھن کی درآمدات پر منحصر ہے، وہیں دیگر علاقائی ممالک کی تجارت صنعتی اور پیداواری شعبوں سے جڑی ہوئی ہے جو آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے اتنی متاثر نہیں ہوتی۔

ان ممالک کے پالیسی سازوں کے پاس ایسے متبادل موجود ہیں جن کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔

اس کے برعکس پاکستان کو دوہری مشکل کا سامنا ہوگا کیونکہ ایک طرف قیمتیں بڑھیں گی اور دوسری جانب ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بجلی کی پیداوار بھی بڑی حد تک درآمدی ایل این جی پر منحصر ہے۔ ورلڈ ڈیولپمنٹ انڈیکیٹرز کے مطابق پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا 17 فیصد حصہ تیل سے حاصل ہوتا ہے جبکہ مشرق ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک میں یہ اوسط ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ایک اور بڑا علاقائی تنازع پاکستان کے معاشی پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، جو پہلے ہی متعدد داخلی مسائل سے نبرد آزما ہیں۔ ضروری ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کیا جائے اور توانائی کے ذرائع کو قابلِ تجدید اور مقامی متبادل سے تبدیل کیا جائے۔

مثال کے طور پر اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیا جائے جو مقامی طور پر پیدا ہونے والی شمسی توانائی سے چارج ہو سکیں۔

مزید یہ کہ پٹرولیم لیوی میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بجلی کے شعبے میں صلاحیت سے متعلق ادائیگیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک، ساتھی ملزمہ گرفتار، تیسرا ڈاکو فرار

Published

on



کراچی:

شہر قائد میں راشد منہاس روڈ نجی اسکول کے قریب شہری کی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا ، ڈاکو کی ساتھی ملزمہ ڈاکو کو پولیس نے گرفتار کر لیا ، تیسرا ڈاکو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سمن آباد کے علاقے راشد منہاس روڈ گلشن چورنگی سے سہراب گوٹھ کی جانب جاتے ہوئے نجی اسکول کے قریب فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوگیا۔

زخمی شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ 

ایس ایچ او سمن آباد انسپکٹر زبیر اعوان کا کہنا ہے کہ مارا جانے والا شخص ڈاکو ہے ، واقعے کے مطابق موٹرسائیکل سوار دو ڈاکو اور ان کے ساتھی خاتون شہری کو اسلحہ کے زور پر روک رہے تھے جس پر شہری نے کچھ فاصلے پر جا کر اپنے لائسنس یافتہ پستول سے فائرنگ کر دی۔

جس کے نتیجے میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کا ساتھی ڈاکو موقع سے فرار ہوگیا ، ڈاکو ملزمہ قریب چھپ گئی ، پولیس نے حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملزمہ ڈاکو کو گرفتار کر لیا۔ 

مارے جانے والے ڈاکو کی شناخت 25 سالہ سلمان کے نام سے کی گئی جبکہ گرفتار ملزم کی شناخت نہا کے نام سے کی گئی ، تیسرے ڈاکو کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہے ہے ۔





Source link

Continue Reading

Today News

لاہور، 19 کروڑ کی ڈکیتی کے ملزمان سے پولیس مقابلہ، مرکزی ملزم ہلاک، 3 فرار

Published

on



لاہور:

شہر کے علاقے گجومتہ میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلے کے دوران 19 کروڑ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ایک ڈاکو ہلاک جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت زازے پٹھان کے نام سے ہوئی ہے جو ایک روز قبل ڈیفنس کے علاقے میں 19 کروڑ روپے کی بڑی ڈکیتی کی واردات میں ملوث تھا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس نے مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ڈاکو مارا گیا جبکہ اس کے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کی گاڑی قبضے میں لے لی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان ایک کیفے میں واردات کے بعد فرار ہوئے تھے۔ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے گاڑی کا نمبر ٹریس کیا گیا جس کے بعد کاہنہ پولیس نے گجومتہ کے قریب گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

اس دوران ایس ایچ او کاہنہ عامر شہزاد اور دیگر اہلکاروں کے ساتھ ملزمان کا فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

 

واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

 

پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو کی لاش مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔





Source link

Continue Reading

Trending