Connect with us

Today News

وزیراعظم کی تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت

Published

on



اسلام آباد:

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بین الاقوامی سطح پر حالیہ کشیدگی کی وجہ سے ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے اقدامات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔

وزیراعظم کو عالمی سطح پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پاکستان کی معیشت، بالخصوص توانائی کی فراہمی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ملکی معاشی استحکام کے لیے بروقت اقدامات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی معیشت کو ہر ممکن استحکام فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری فیصلے کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے جن سے عوام کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ، وفاقی و صوبائی سطح پر تمام منتخب نمائندوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ تمام سرکاری ملازمین اور وزرا کو سادگی اور کفایت شعاری اختیار کرنی ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ مشکل وقت میں قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانا ضروری ہے اور جیسے ہی یہ مشکل مرحلہ گزرے گا اور معیشت مزید مستحکم ہوگی، حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے گی۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کفایت شعاری، سادگی اور بچت کے حوالے سے ہدایات صنعت اور زرعی شعبے پر لاگو نہیں ہوں گی تاکہ ملکی پیداوار، برآمدات اور غذائی تحفظ متاثر نہ ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ بچت اور کفایت شعاری کا بوجھ منصفانہ طور پر سب کو برداشت کرنا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ معاشرے کے مراعات یافتہ اور اشرافیہ طبقات کو ضروری ایڈجسٹمنٹس برداشت کرنے میں خود مثال قائم کرنی چاہیے۔

اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ملکی معیشت میں استحکام کے لیے کفایت شعاری اور سادگی پر مبنی متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور بچت کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کل کیا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈیزل، پیٹرول اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے پیشگی انتظامات کر رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے استعمال میں دانشمندانہ انتظام اور ایندھن کے محتاط استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مزید بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ آئی ٹی سرکاری وسائل کی بچت اور توانائی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے طلب اور رسد کی مستقل نگرانی کے نظام کی سہولت فراہم کرے گی تاکہ متعلقہ ادارے بروقت فیصلے کر سکیں۔

چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی حالیہ عالمی کشیدگی کے پیش نظر صوبوں میں معاشی سرگرمیوں، توانائی کے استعمال اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وزیر پاور سردار اویس لغاری، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر ماحولیات ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، معاون خصوصی ہارون اختر، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سرخ لکیر اور خطے کا مستقبل

Published

on


صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر پار کردی ہے۔ افغان حکومت دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کی یقین دہانیوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مصروف عمل ہے۔

دوسری جانب چین نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک سفارتی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع اور مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اورمکالمے کے ذریعے طے کریں۔

حالیہ دنوں میں افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کا یہ بیان کہ افغان حکومت نے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا کر’’ سرخ لکیر‘‘ عبور کر لی ہے، دراصل پاکستان کے اندر پائی جانے والی شدید تشویش اور غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

کسی بھی ریاست کے لیے اس کے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ سب سے پہلی ذمے داری ہوتی ہے، اگرکسی دوسرے ملک کی سرزمین سے ایسے اقدامات کیے جائیں جو شہری آبادی کو نشانہ بنائیں تو یہ نہ صرف بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ دو ہمسایہ ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کو بھی بری طرح متاثرکرتا ہے۔ پاکستان کی قیادت کا یہ واضح پیغام کہ ملک کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے میں پاکستان کسی قسم کی کمزوری دکھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دوسری جانب افغان حکومت کی طرف سے یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ افغانستان کسی بھی ملک کے ساتھ فوجی تصادم نہیں چاہتا اور اس کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیانات میں بظاہر کشیدگی کم کرنے کی خواہش جھلکتی ہے، تاہم زمینی حقائق اس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان نے متعدد مرتبہ یہ شکایت کی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود بعض شدت پسند گروہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ان گروہوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہونے کے شواہد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل ایک مستقل چیلنج بن چکے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان مسلسل جنگ، بیرونی مداخلت اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سوویت یونین کی مداخلت سے لے کر خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دور حکومت، نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی موجودگی اور پھر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تک افغانستان نے مسلسل ہنگامہ خیز حالات کا سامنا کیا ہے۔

اس طویل عرصے میں افغان ریاستی ادارے کمزور ہوتے گئے اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان اس پورے عرصے میں افغانستان کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتا رہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی سکیورٹی کے مسائل اور دہشت گردی کے خطرات پاکستان کے لیے مستقل چیلنج بنے رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف ادوار میں پاکستان نے افغان مفاہمتی عمل کی حمایت کی اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے لیے سفارتی کوششیں بھی کیں۔

تاہم موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے، افغان سرزمین سے پاکستان کے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی جو کوششیں ہوئی ہیں تو یہ ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔ عالمی برادری پہلے ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں ملوث ہے تو اس سے اس کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

اس تناظر میں چین کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس کے سفارتی روابط موجود ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کا افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ اور دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی تلقین اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ چین خطے میں استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں امن کے بغیر ترقی کے بڑے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اس خطے کا ایک اہم منصوبہ ہے جس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کو تجارتی اور اقتصادی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ ملک بھی علاقائی رابطوں اور تجارت کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔

چین اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کو علاقائی اقتصادی نظام میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرے اور خطے میں دہشت گردی کو فروغ نہ دے۔افغانستان کو اپنے علاقے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنا ہوں گی۔اگر افغانستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہ کی تو افغانستان پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا رہے گا اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے۔

پاکستان کے لیے یہ ایک حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کا بیان اسی توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک جانب انھوں نے افغان حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، اور دوسری جانب انھوں نے اس عزم کا بھی اظہارکیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ افغانستان دہشت گردی کے حوالے سے علاقائی ممالک کے لیے مسائل نہ پیدا کرے اور پورے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور باہمی اعتماد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک جامع میکنزم تشکیل دیا جانا چاہیے۔ علاقائی طاقتوں، خصوصاً چین کی سفارتی معاونت بھی کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

میڈیا اور عوامی حلقوں کی ذمے داری بھی اس موقع پر کم نہیں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔افغان حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کر کے افغانستان کبھی ترقی نہیں کرسکتا،اگر افغانستان نے ترقی کرنا اور تجارت کو فروغ دینا ہے تو اسے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔آخرکار یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن دونوں ممالک کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگ اور کشیدگی نے پہلے ہی اس خطے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے میں تعاون کر کے پورے خطے میں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس سے امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ حاصل ہو۔

 عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ معاشی تعاون، علاقائی رابطے اور مشترکہ ترقی اب بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی ستون بن چکے ہیں، اگر افغانستان اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں مثبت کردار ادا کرے تو نہ صرف اس کے اپنے عوام کو فائدہ ہوگا بلکہ پورا خطہ بھی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو موجودہ کشیدگی کے بادلوں کو چھانٹ کر ایک روشن اور پرامن مستقبل کی نوید دے سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

تیسرا ون ڈے؛ بنگلا دیش سے شکست کے بعد شاہین آفریدی کا بیان سامنے آگیا

Published

on



پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں شکست کے بعد بیان سامنے آگیا۔

میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے بتایا کہ ٹیم کی کارکردگی توقع کے مطابق نہ رہ سکی، خاص طور پر بیٹنگ لائن بہت کمزور دکھائی دی جس کی وجہ سے سیریز جیتنے میں ناکامی ہوئی۔

شاہین آفریدی نے کہا کہ ٹیم نے کھیل کے اہم لمحات میں صورتحال کو قابو میں نہ رکھا اور کئی مواقع ضائع ہوئے جس کی وجہ سے سیریز بنگلا دیش کے ہاتھوں گنوا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیم ابھی ترقی کے مراحل میں ہے اور آئندہ مقابلوں کے لیے تجربہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ڈھاکا میں کھیلے گئے میچ میں بنگلادیش کے 291 رنز کے جواب میں پاکستان ٹیم 9 وکٹوں کے نقصان پر 279 رنز تک محدود رہی اور یوں میزبان ٹیم نے سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ بنگلا دیش نے اچھی کرکٹ کا مظاہرہ کیا جس پر انہیں مبارکباد دیتا ہوں، انٹرنیشنل کرکٹ میں ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے، ہماری ٹیم میں نوجوان کھلاڑی تھے پھر بھی اچھی فائٹ کی۔



Source link

Continue Reading

Today News

آئی ٹی کورس، طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا،عید کے بعد شیڈول کا اعلان کروں گا، کامران ٹیسوری

Published

on



سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی مالی وسائل سے چلارہا تھا اور اب گورنر کے عہدے پر نہیں ہوں لیکن دو سال تک کلاس لینے والے  50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا اور عیدالفطر کے بعد شیڈول کا اعلان کروں گا۔

سعودی عرب سے ٹیلی فونک رابطے میں سابق گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ مفت آئی ٹی کورس کے 50 ہزار طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا، اب فلاحی اداروں اور مخیر دوستوں کے ساتھ مل کر جلد یہ آئی ٹی پروگرام شروع کروں گا، کورس کی تکمیل تک ان پڑھنے والے طلبا و طالبات کو مفت آئی ٹی کورس کی تعلیم فراہم کی جائے گی اور عید الفطر کے بعد کلاسز کی جگہ اور شیڈول کا اعلان کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ میرا قصور یہ ہے کہ میں نے کراچی سمیت صوبہ بھر کے بچوں کے لیے آئی ٹی پروگرام شروع کیا، جس میں ہر مذہب اور قومیت کے بچے کو ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر داخلہ دیا گیا اور 50 ہزار طلبا و طالبات مختلف آئی ٹی کورسز میں زیر تعلیم تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رمضان کی وجہ سے کلاسز معطل تھیں اور اس دوران مجھے گورنر کے منصب سے ہٹادیا گیا، میں اگلے روز عمرے پر سعودی عرب روانہ ہوگیا، اس دوران جس کمپنی نے ایجوکیشن سٹی کی مارکی لگائی تھی، جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی کہ انہوں نے سامان اٹھانا شروع کردیا ہے لیکن پھر یہ اطلاع ملی ہے کہ ایجوکیشن ٹینٹ سٹی والوں کو گورنر ہاؤس نے فی الحال روک دیا ہے۔

کامران ٹیسوری نے کہا کہ  اب گورنر ہاؤس میں آئی ٹی پروگرام جاری رکھنا نئے گورنر سندھ پر منحصر ہے، اگر وہ آئی ٹی پروگرام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اچھا اقدام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس آئی ٹی پروگرام کا ماہانہ خرچہ سوا کروڑ تھا جو سرکاری نہیں بلکہ اپنے وسائل سے پورا کررہا تھا۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ طلبہ کا کورس مکمل ہونے تک آئی ٹی پروگرام ہر صورت جاری رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہوں اور اس پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے جے ڈی سی، سیلانی اور بدر ایکسپو سے رابطہ کیا ہے اور ان زیر تعلیم طلبا وطالبات کے لیے کلاسز بحالی کےشیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وطن واپسی جلد ہوگی اور پھر فلاحی کام کے ساتھ سیاسی وعوامی رابطے کروں گا جبکہ امید رمضان دستر خوان ڈیفینس خیابان شجاعت میں اپنی رہائش گاہ پر شروع کردیا ہے۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ یہ یقینی بنایا ہے کہ نئے گورنر پر آئی ٹی کورس جاری رکھنے کا مالی بوجھ نہ پڑے، ان کا مزید کہنا ہے کہ کراچی کے یہی طلبہ آئی ٹی امتحان پاس کریں گے تو ہزاروں ڈالر ماہانہ کمائیں گے۔



Source link

Continue Reading

Trending