Connect with us

Today News

ایران کے خلاف جنگ – ایکسپریس اردو

Published

on


بھارت میں ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الہی نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے متعدد بار آیت اﷲ خامنائی کو محفوظ مقام یا کسی دوسرے جگہ منتقل ہونے کی تجویز دی تھی۔

تاہم انھوں نے ہر بار اس پیشکش کو مسترد کر دیا ۔ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق آیت اﷲ خامنائی کا موقف واضح تھا کہ وہ اپنی قوم کو خطرہ میں چھوڑ کر خود محفوظ مقام پر منتقل نہیں ہوں گے۔

ان کے بقول خامنائی نے کہا تھا کہ پہلے پوری ایرانی قوم کو کسی دوسرے شہر منتقل کیا جائے ۔پہلے عوام کو زیر زمین بنکرز میں منتقل کیا جائے ۔

اس کے بعد ہی میں کہیں جاؤں گا۔ نمایندہ نے مزید بتایا کہ حملہ کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے گھر میں قائم دفتر میں موجود تھے جہاں اچانک میزائل حملہ کیا گیا۔

امریکی سینٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے ۔خفیہ بریفنگ کے بعد انھیں یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں۔

صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے ۔یہ جنگ ایران کے خلاف امریکا کو کسی فوری خطرہ کے بغیر شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضایع ہو رہی ہیں۔

انھیں جیسے خیالات کا اظہار دوسرے ڈیموکریٹک لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کا جواز بار بار تبدیل کیا جارہا ہے ۔

کبھی رجیم چینج کبھی نیوکلیئر ہتھیار کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا موقف اپنایا جا رہا ہے۔ سینیٹر بلومینٹل اور سینیٹر برنی سینڈر نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انھی خیالات کا اظہار کیا کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا ٹرمپ نے اس کی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔

امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس میک گریگر نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ متنازعہ دورہ اسرائیل کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو کو ایران کے خلاف اپنے بھرپور تعاون اور امداد کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

میک گریگر کا کہنا ہے کہ امریکا کی بحریہ ایران کے خلاف کارروائی کے لیے بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے ۔انھوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تمام اڈے اور بندرگاہی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔

جس کی وجہ سے ہمیں بھارت اور بھارتی بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہماری توقعات کے برخلاف اب تک بہت اچھا کام کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کب تک برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

کیونکہ اس میں لاجسٹک سب سے کمزور پہلو ہے ۔میک گریگر نے کہا کہ آرمی کو دوبارہ رسد بھیجنا پڑتی ہے۔

سامان بحری یا فضائی راستے سے پہنچانا پڑتا ہے ،ایران ایک براعظمی طاقت ہے اس کی آبادی 93ملین ہے اور رقبہ کے لحاظ سے یہ مغربی یورپ کے برابر ہے ۔

امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر نے کہا کہ ایران کے تمام صوبوں میں موجود میزائل سسٹم اور ذخائر اب بھی محفوظ ہیں انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تنازعہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ اسرائیل اس صورتحال میں کیا کرے گا۔میک گریگر نے زور دیا کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اسرائیل کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

جس کے بارے میں انھیں بہت تشویش ہے۔ جب کہ چین اور روس دونوں ملک ایرانی حکومت کے ساتھ قریبی رابطہ میں ہیں اور اسے سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں۔

انٹیلی جنس ذرائع اور فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی ڈرون حملے آبنائے ہرمزکو کئی ماہ تک مفلوج کر سکتے ہیں ۔اگر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئیں تو انھیں صاف کرنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں ۔

ایران ڈرون بنانے والا بڑا ملک ہے اور وہ ہر ماہ تقریباً 10ہزار ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔میزائلوں کے برعکس ایران ڈرونز کے ذریعہ لڑائی جاری رکھنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے شاہد ڈرون کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ارکان کانگریس کو ان کیمرہ بریفنگ میں بتایا کہ شاہد ڈرون امریکی فورسز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ امریکی وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے تسلیم کیا کہ ایرانی شاہد ڈرون طیارے توقع سے بڑا مسئلہ ثابت ہو رہے ہیں ۔

نیچی اور آہستہ پرواز کے حامل یہ ڈرون طیارے بیلسٹک میزائلوں کے نسبت ائیر ڈیفنس سسٹم کو باآسانی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں میزائل اور ڈرون ختم ہونے کی صورت میں ایران اپنی 5سے6ہزار سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کر سکتا ہے ۔

موجودہ امریکا اسرائیل ایران جنگ کا مستقبل کیا ہے ؟ اس کا پتہ9مارچ سے13مارچ تک چلے گا۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

افغان طالبان کے نئے فوجداری قوانین، جبر اور مظالم کی منظوری

Published

on


افغان طالبان رجیم کی صنفی امتیازی پالیسیوں اور سخت پابندیوں نے افغان معاشرے کو گھٹن زدہ بنا دیا ہے.

ایمنسٹی انٹرنیشنل  کے مطابق افغانستان میں خواتین، اقلیتیں اور مخالفین شدید خطرات سے دوچار ہیں. افغان طالبان کے نام نہاد فوجداری ضابطہ نے صنف، مذہب اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز اور ظلم کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا۔

طالبان رجیم کے نئے قوانین مذہبی اقلیتوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کیخلاف امتیازی سزاؤں کو باقاعدہ قانونی جواز دیتے ہیں۔ فوجداری ضابطہ میں طالبان قیادت پر تنقید کو بھی جرم قرار دے دیا گیا۔

نام نہاد فوجداری قوانین نے خواتین کے خلاف تشدد اور امتیاز کو قانونی شکل دے کر انہیں سماجی زندگی سے بے دخل کرنے کی راہ ہموار کی۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے نام نہاد فوجداری قوانین دراصل ریاستی سطح پر امتیاز اور جبر کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہیں۔

افغان طالبان کی پالیسیاں افغانستان کو انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 طالبان قوانین کا اصل مقصد خواتین اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو مکمل طور پر خاموش کرانا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے، صدر مملکت اسلاموفوبیا کے تدارک کے دن پر پیغام

Published

on



صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اسلام امن، ہمدردی اور انصاف کا دین ہے لہٰذا اسلام کو انتہا پسندی سے جوڑنا لاعلمی کی عکاسی ہے۔

اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے، عالمی برادری نفرت انگیز جرائم کے خلاف قانونی تحفظ مضبوط بنائے، اظہارِ رائے کی آزادی نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

صدر زرداری نے کہا کہ مذہبی تنوع کے احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ضروری ہے، کرائسٹ چرچ سانحہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا واقعہ تھا۔ پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی فورمز پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی، معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس ایکٹ 2025 نافذ کیا جا چکا ہے، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آزاد نیشنل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ عالمی برادری تعصب کے خاتمے اور مکالمے کے فروغ کے لیے مل کر کام کرے، مذہبی عقائد کا احترام اور مساوی قانونی تحفظ عالمی ذمہ داری ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

پیغام ماضی، تحریک پاکستان سے حقیقی آزادی تک

Published

on


انگریزوں اور ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھنے کے بعد قائد اعظم نے ایک علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کی۔

قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں ، جن کا رنگ، نسل اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے

قرارداد پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر سید حسن رضوی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کہتے تھے کہ اس وقت ہم انگریزوں کے غلام ہیں، انگریز جانے والے ہیں اور ہم آزاد ہونے والے ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان نہ بنایا تو ہم انگریزوں کے بعد ہندوؤں کے غلام ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر سید حسن رضوی نے کہا کہ ہندو ہمارے بدترین دشمن ہیں، مسلمان اکثریت علاقے ہیں ان کو ملا کر ایک الگ ملک بنایا جائے، یہ بالکل الگ ملک ہونا چاہئے جس کا نام پاکستان ہو۔

انہوں نے بتایا کہ قائد اعظم  کراچی میں سندھ مدرستہ السلام  آیا  کرتے تھے جہاں وہ لیکچر دیتے، قائد یہاں انگریزی میں نعرے لگواتے تھے جن کا ترجمہ ہمارے پرنسپل کرتے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قائد اعظم کے جانے کے بعد ٹرک آتے تھے جن میں تمام لڑکے سوار ہو جاتے۔ یہ ٹرک پورے کراچی کے چکر لگاتے  اور نوجوان قائد اعظم کے ہی نعروں کو دہراتے۔

نعرے یہی ہوتے تھے، پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد  اور بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان۔





Source link

Continue Reading

Trending