Today News
سلیکٹرز پر بھی جرمانہ کریں
’’ برا نہ مانیے گا آپ نے جس طرح ورلڈکپ میں پاکستان کی شکست کا تمام تر ملبہ کوچ مائیک ہیسن پر ڈالا وہ مجھے اچھا نہیں لگا، اس شکست کے اصل ذمہ دار تو کھلاڑی اور سلیکٹرز ہیں، ان کو بھی تو کچھ کہیں‘‘
امریکا سے ایک دوست نے فون پر مجھ سے یہ شکوہ کیا تو میں نے انھیں بتایا کہ وہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ ایک رپورٹ تھی، میں اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ صرف کوچ نہیں بلکہ کپتان ، تمام کھلاڑی اور سلیکشن کمیٹی بھی اس ناکامی کے یکساں ذمہ دار ہیں۔
کوچ صرف بتا سکتا ہے پلانز پر عمل کرنا تو کھلاڑیوں کا ہی کام ہوتا ہے،البتہ یہ بھی درست ہے کہ ہیسن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، من مانیاں کیں،میدان کے فیصلوں اور سلیکشن میں مداخلت بھی کرتے رہے۔
ان کے نزدیک اسلام آباد یونائٹیڈ سے اچھے کرکٹرز کہیں اور ہیں ہی نہیں، اسی لیے اب وہ بورڈ حکام کی نظروں سے اتر چکے ہیں، بنگلہ دیش سے سیریز کیلیے اسکواڈ کی تشکیل میں بھی انھوں نے دخل اندازی کی کوشش کی لیکن اس بار انھیں اہمیت نہیں ملی۔
ویسے ہر شکست کے بعد ہم کوچ، کپتان اور کھلاڑیوں کو تو برا بھلا کہتے ہیں لیکن سلیکشن کمیٹی کو بھول جاتے ہیں،درحقیقت چند روز قبل تک تو مجھے بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اب سلیکٹرز کون ہیں۔
جب پی سی بی کی ویب سائٹ پر دیکھا تو علیم ڈار اور اسد شفیق کے نام ہی موجود تھے،علیم بھائی کی بطور امپائر قابلیت پر کسی کو کوئی شک نہیں،انھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا لیکن وہ سلیکٹر بن کر غلطی کر گئے، شاید دنیا میں پہلی بار کوئی امپائر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہوا ہو۔
اسد شفیق خاموش طبع قسم کے ’’یس مین‘‘ ہیں، کیا ان دونوں نے اکیلے ورلڈکپ اسکواڈ منتخب کیا تھا؟ یقینی طور پر ایسا نہیں تھا، ہیسن نے بعض تبدیلیاں کروائیں، بابر اعظم شامل نہیں تھے کوچ کے اصرار پر انھیں لیا گیا۔
گوکہ کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں لیکن عاقب جاوید وہ چہرہ ہیں جو پس پردہ کافی متحرک رہتے ہیں، چند روز قبل علیم ڈار مستعفی ہو گئے، ان کے ’’قریبی ذرائع‘‘ یہ دعوے کر رہے ہیں کہ رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی، وہ اکثر کوچ سے بحث کرتے تھے اور تنخواہ وصول نہیں کی۔
البتہ اگر ایسا تھا تو ان کو پہلے ہی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا جیسا کہ ماضی میں صلاح الدین صلو،اقبال قاسم اور عبدالقادر مرحوم نے کیا تھا،ویسے تنخواہ تو علیم ڈار کو ملتی تھی، ان کے جانے پر اب عاقب کا نام بھی باقاعدہ طور پر سلیکشن کمیٹی میں شامل ہو گیا، اسد شفیق برقرار رہے، مصباح الحق اور سرفراز احمد بھی باضابطہ طور پر سلیکٹر بن گئے، پہلے بھی وہ سلیکشن کے عمل میں موجود رہتے تھے۔
میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ مصباح اور سرفراز فلاپ چیمپئنز کپ پروجیکٹ میں دیگر مینٹورز کی طرح 50،50 لاکھ روپے ماہانہ لینے والوں میں شامل تھے، باقی کو تو فارغ کر دیا گیا یہ دونوں نظرثانی شدہ تنخواہ پر پی سی بی کے پے رول پر برقرار رہے۔
سرفراز تو پھر بھی جونیئر لیول کی ٹیموں کے ساتھ مصروف نظر آتے تھے لیکن مصباح کو کہیں نہیں دیکھا گیا،وہ ماضی میں بھی مختلف حیثیتوں میں بورڈ کے ساتھ وابستہ رہ چکے لیکن کامیابیاں ہاتھ نہیں آئیں۔
چیئرمین کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسی پوسٹ ہو جو انھیں نہیں ملی، ایک وقت میں تو وہ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ دونوں پوزیشنز پر قابض تھے جس پر عاقب خوب شور مچایا کرتے تھے، یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ بھی ایک وقت سلیکٹر کے ساتھ عبوری کوچ بنے۔
اب وہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ہیں،مصباح پر لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے پلیئرز کو خاص ترجیح دیتے ہیں، انھیں اس حوالے سے محتاط رہنا ہوگا،ویسے اب ان کا بیٹا بھی کرکٹ کھیل رہا ہے ایسے میں انھیں سلیکشن کمیٹی سے دور ہی رہنا چاہیے تھا۔
سرفراز کی شمولیت بہتر فیصلہ ہے، ان کے پاس کرکٹنگ دماغ موجود ہے،البتہ ان کو بھی مصلحت پسندی سے دور رہنا ہوگا، اگر بطور سلیکٹر آپ کو کوئی بات پسند نہ آئے، رائے کو اہمیت نہ ملے تو ماہانہ چیک کی رقم دیکھے بغیر اسی وقت احتجاج ریکارڈ کرائیں بعد میں شہیدوں میں نام لکھوانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
عاقب بھائی جب بورڈ میں نہیں تھے تب بڑے دلیر لگتے تھے، ان کے دوٹوک تبصروں کی وجہ سے لاہور قلندرز کو کئی بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، البتہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ کیریئر کے اس دور میں وہ بھی اب سکون چاہتے ہوں گے۔
خیر اب نئی سلیکشن کمیٹی بن ہی گئی ہے تو پی سی بی کو چاہیے کہ اسے جوابدہ بھی بنائے، پلیئرز کی طرح تمام سلیکٹرز سے بھی الگ معاہدے کریں، جس طرح ورلڈکپ میں خراب کارکردگی پر کھلاڑیوں پر50،50 لاکھ روپے جرمانہ ہوا ویسے ہی اگر ٹیم ہارے تو جس نے ناکام کرکٹرزکو منتخب کیا ان پر بھی جرمانہ ہونا چاہیے، کوئی آئی سی سی یا اے سی سی ٹورنامنٹ جیتیں تو انعام بھی دیں،اس سے بہتری آ سکتی ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں اب اتنا ٹیلنٹ باقی نہیں رہا لیکن میں اس سے متفق نہیں ہوں،257 ملین پاکستانیوں میں سے اگر 15 باصلاحیت کرکٹرز تلاش نہیں کر سکتے تو اس میں قصور آپ کا ہی ہے۔
موجودہ ٹیم پورے پاکستان کے ٹیلنٹ کی نمائندگی نہیں کرتی، ہر گلی محلے میں آپ کو اچھے کھلاڑی مل سکتے ہیں، انھیں تلاش کریں اور تراش خراش کر ہیرا بنائیں،اس کے لیے ہمیں صرف اپنے کام سے ایماندار سلیکٹرز کی ضرورت ہے۔
سلیکشن کمیٹی سے یہ درخواست ہے کہ پلیز کسی ایک فارمیٹ میں اچھا کھیل پیش کرنے والے کو زبردستی دوسرے میں نہ لائیں، یہاں کوئی ٹیسٹ میں اچھا کھیلے تو ٹی ٹوئنٹی میں لے آتے ہیں،اسی طرح ٹی ٹوئنٹی میں بہتر کھیلنے والا ٹیسٹ کیپ پا لیتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
سلیکٹرز کی خوش قسمتی ہے کہ محسن نقوی جیسا چیئرمین ملا جو انھیں فری ہینڈ دیتا ہے، سلیکشن میں ان کا کردار نہیں ہوتا مگر ٹیم ہارے تو تنقید چیئرمین پر ہی ہوتی ہے، اب کوئی اسکواڈ منتخب ہو تو سلیکٹرز باقاعدہ پریس کانفرنس میں بتائیں کہ کسے کیوں منتخب کیا یا کیوں ڈراپ کیا۔
اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی خود لے،آف سیزن میں ٹیلنٹ ہنٹ کریں، کب تک وہی چند گنے چنے فلاپ کھلاڑی متواتر مواقع پاتے رہیں گے، اگر اگلے ورلڈکپ میں ہمیں بہتر نتائج چاہیئں تو ابھی سے کوشش کرنا ہوگی، آغاز حقدار کرکٹرز کو موقع دینے سے ہی ہو سکے گا، ورنہ سلیکٹرز کو پھر کوئی نئی نوکری ڈھونڈنا پڑے گی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
Today News
اسپین کا مثبت موقف – ایکسپریس اردو
عالمی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر سفارتی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ ایک وسیع سیاسی پیغام بھی رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یورپی ملک اسپین نے ایسا ہی ایک قدم اٹھایا ہے جس نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑدی ہے۔
اسپین نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو باضابطہ طور پر واپس بلا لیا ہے اور اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خصوصاً غزہ کی صورتحال اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کا اپنے سفیرکو واپس بلانا سفارتی زبان میں تعلقات کی سنگینی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو صرف ایک معمولی سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسپین کی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ دراصل اچانک نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں سے جاری سفارتی کشیدگی موجود تھی۔ گزشتہ برس جب غزہ میں جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا اور انسانی بحران مزید سنگین ہوتا گیا تو اسپین کی حکومت نے اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید شروع کر دی۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متعدد مواقع پر کہا کہ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہیں اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کے بیانات نے نہ صرف یورپ میں بلکہ اسرائیل کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسپین یورپ کے ان ممالک میں شامل رہا ہے جو فلسطینی مسئلے کے حوالے سے نسبتاً واضح مؤقف رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس اسپین نے باقاعدہ طور پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں تھا بلکہ اس نے یورپی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات میں واضح سرد مہری پیدا ہو گئی تھی۔
اسرائیل نے اس فیصلے کو یکطرفہ اور غیر ذمے دارانہ قرار دیا جب کہ اسپین نے اسے انصاف اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قدم قرار دیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ نے اس تنازع کو مزید گہرا کردیا۔ جب 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی تو اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں نے بارہا اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسپین کی حکومت بھی ان ممالک میں شامل تھی جنھوں نے کھل کر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس مسئلے کا حل صرف سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کئی بار اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن اس کے نام پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا یا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اس حد تک سنگین ہو چکا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ۔ حالیہ مہینوں میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور خطے میں جنگ کے امکانات کی باتیں ہونے لگیں تو اسپین نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ کسی بھی نئی جنگ کے حق میں نہیں۔
اسپین کی حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے اور اگر ایک اور بڑی جنگ شروع ہو گئی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
اسی تناظر میں اسپین نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی اڈوں کو کسی ایسے حملے کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو ایران کے خلاف ہو۔
یہ موقف دراصل اسپین کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق اسپین کا یہ اقدام صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ یورپی سیاست کے اندر بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
یورپ کے اندر اس وقت دو مختلف نقطہ نظر موجود ہیں۔ کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ مضبوط اتحاد برقرار رکھنے کے حامی ہیں جب کہ کچھ ممالک اسرائیل کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے جیسے ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرکے ایک الگ راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ اختلافات یورپین یونین کے اندر بھی نظر آ رہے ہیں۔ یورپی یونین ایک مشترکہ خارجہ پالیسی بنانے کی کوشش ضرورکرتی ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک مختلف حکمت عملی اختیارکر رہے ہیں۔
اسپین کے سفیرکی واپسی کے بعد اسرائیل اور اسپین کے تعلقات مزید کمزور ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے بھی اس سے پہلے اسپین کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔
اس طرح دونوں ممالک کے درمیان سفارتی نمائندگی پہلے ہی کم سطح پر آ چکی تھی اور اب اسپین کے حالیہ اقدام نے اس کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس طرح کے سفارتی اقدامات واقعی کسی بڑے سیاسی حل کی طرف لے جا سکتے ہیں یا نہیں۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات عالمی دباؤ پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ایک کے بعد ایک ممالک کسی پالیسی پر اعتراض اٹھاتے ہیں تو اس سے بین الاقوامی سطح پر بحث شروع ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں پالیسیوں میں تبدیلی بھی آئے۔
دوسری جانب بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ سفیروں کو واپس بلانے جیسے اقدامات سے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، لیکن اسپین کی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا مقصد تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنا نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام دینا ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے اسپین نے دراصل یہ ظاہرکرنے کی کوشش کی ہے کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون اس کی خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔ اگرچہ عالمی سیاست میں اکثر ممالک اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن کبھی کبھی ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب اخلاقی مؤقف اختیار کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے مہینے عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ غزہ میں جاری بحران اور عالمی طاقتوں کی مختلف حکمت عملی اس خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔
ایسے ماحول میں اسپین جیسے ممالک کی جانب سے سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں ایک نئے سیاسی رجحان کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں مزید یورپی ممالک بھی اسی طرح کے اقدامات پر غورکریں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر عالمی موقف میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اسپین کے اس اقدام کے فوری نتائج کیا نکلیں گے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس فیصلے نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو ضرور جنم دیا ہے۔
یہ بحث اس بات کے گرد گھوم رہی ہے کہ کیا عالمی برادری انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو واقعی اہمیت دیتی ہے یا پھر یہ اصول صرف بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔
اسپین کے اس فیصلے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ کیا اور یورپی ممالک بھی آنے والے دنوں میں ایسا کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اسپین نے ایک بڑا مثبت قدم اٹھایا ہے اور وہ کام کیا ہے جو تاریخ یاد رکھے گی۔
جب ظلم ہورہا ہو تب آپ کس کے ساتھ کھڑے تھے، اس سے ہی ایک قوم کے کردارکی مضبوطی کا اندازہ ہوتا ہے۔
Today News
ٹرمپ دلدل میں پھنس گئے؟
اسرائیلی حکمران سابق امریکی صدورکو ایران پر حملہ کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں مگر کسی بھی امریکی صدر نے اسرائیل کے جھوٹے بیانیے پرکان نہیں دھرے۔
اب صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ایران مخالف بیانیے کو نہ صرف مان لیا ہے بلکہ ایران پر حملہ آور بھی ہو چکے ہیں۔ یہ شاید اس لیے کہ وہ شروع سے ہی ایران مخالف رویہ رکھتے تھے،کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی ایٹمی صلاحیت اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جب وہ 2016 میں پہلی دفعہ امریکا کے صدر منتخب ہوئے تھے انھوں نے اپنے سے پہلے صدر اوباما کے ایران کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کو فوراً ختم کر دیا تھا اور ایران کو پہلے کی طرح امریکی ہٹ لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔
وہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر 2020 میں وہ بائیڈن کے مقابلے میں صدارتی الیکشن ہار گئے اور اس طرح وہ ایران کے خلاف اپنی پالیسی پر عمل نہیں کر سکے۔
البتہ انھوں نے اپنی صدارت کے زمانے میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی زبردست مہم چلائی جس کے نتیجے میں کئی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا وہ تو تمام عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کرا لیتے مگر انھیں اس کے لیے وقت نہیں ملا کیونکہ ان کی پہلی صدارت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
اب جب سے وہ دوبارہ امریکی صدر منتخب ہوئے ہیں ایران کی جوہری صلاحیت انھیں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہے گو کہ ایران نے ابھی تک ایٹم بم نہیں بنایا ہے مگر وہ چاہتے ہیں کہ اسے اس حد تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا جائے یعنی کہ اس کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا جائے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
وہ ایران کے سخت مخالف ضرور ہیں مگر ابھی تک انھوں نے ایران پر کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔ امریکی اخبار لکھ رہے ہیں کہ نیتن یاہو وہ واحد اسرائیلی وزیر اعظم ہے جس نے ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران پر گزشتہ سال کے آخر میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا ہے مگر اب اس نئے سال کی 28 فروری کو ایران پر بھرپور حملہ کر دیا اور اسرائیل کو اس جنگ میں شامل رکھا ہے۔
امریکا کا ایران پر یہ حملہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کیونکہ اگر اسرائیل کی جوہری تنصیبات ان کا اصل ٹارگٹ ہیں تو انھیں تو وہ پہلے ہی تباہ کر چکے ہیں مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی ایٹمی صلاحیت کی آڑ میں وہ ایرانی حکومت کو ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے پہلے سابق امریکی صدر جونیئر بش بھی نائن الیون کے وقت عراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے غلط بیانیے کے ساتھ عراق پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔
صدر ٹرمپ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ظاہری طور پر ضرور ایک آزاد خیال انسان نظر آتے ہیں مگر اندر سے وہ بھی کٹر مذہبی شخص ہیں جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں وہائٹ ہاؤس میں نظر آئی جب پادریوں کے ایک وفد نے صدر ٹرمپ کے سر اور بازوؤں پر ہاتھ رکھ کر ان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
اس دوران ٹرمپ اپنی کرسی پر سر جھکائے بڑی سعادت مندی سے بیٹھے رہے اور اپنے اوپر جھاڑ پھونک کرواتے رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایران سے دشمنی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے ، اگر امریکا کو ایران سے واقعی کوئی خطرہ ہوتا تو امریکی عوام اور حزب اختلاف ضرور ان کا ساتھ دیتے مگر عوام اور پوری ڈیموکریٹ پارٹی ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگجویانہ مہم سے بے زار ہیں۔
جس کی مثال حال ہی میں امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دھمکی دی گئی ہے کہ جب تک وہ ایران پر امریکی حملے کی وجہ نہیں بتاتے وہ سینیٹ میں کوئی قانون پاس نہیں ہونے دیں گے۔
اب ٹرمپ ایران پر حملہ آور ہونے کی اصل وجہ بتا نہیں سکتے کیونکہ ایران پر حملے کی وجہ ان کا اپنا مائنڈ سیٹ اور دولت مند یہودیوں سے ان کے کاروباری معاملات ہیں۔
بہرحال ایران پر ٹرمپ کے حملے کو امریکی نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یہ جنگ امریکا کے مفاد میں نہیں بلکہ سراسر اسرائیلی مفاد میں ہے۔
اس جنگ میں امریکا کا کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے کیونکہ اس جنگ نے امریکا کو ایکجارح اسٹیٹ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی ملک پر حملہ کرکے اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔
پہلے امریکا اگر کسی حکومت کو اپنے لیے ناپسندیدہ سمجھتا تھا تو اسے سی آئی اے کے ذریعے گرا دیا جاتا تھا مگر اب تو ٹرمپ بحیثیت امریکی صدر اپنے ناپسندیدہ ملک کی حکومت کو گرانے کے لیے خود کارروائی کر رہے ہیں۔
وینزویلا کے بعد اب ایران پر ان کے حملے نے پوری دنیا میں ڈر و خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جس سے امریکا کے طاقتور دشمنوں کی ہمت افزائی ہو رہی ہے کہ وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق طاقت کے زور پر اپنے مفادات کو حاصل کر سکتے ہیں۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی نئی صدارت کا حلف اٹھاتے ہی دھونس اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ وہ کسی ملک پر پابندیاں لگانے لگے تو کسی پر قبضہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔
گویا وہ خود کو ہی سب کچھ سمجھنے لگے اور اقوام متحدہ کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رہی، ان کی اس انتہا پسندانہ پالیسی نے صرف دنیا کو ہی خوفزدہ نہیں کیا بلکہ امریکی عوام میں بھی ان کی مقبولیت میں کمی آنے لگی۔
اب ایک تجزیے کے مطابق امریکی عوام میں ان کی مقبولیت 30 سے 40 فی صد ہی باقی رہ گئی ہے اور اگر یہی حال رہا تو آگے چل کر ان کی حکومت خطرے کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایران پر حملہ کرتے وقت وہ بڑے فخر سے کہہ رہے تھے کہ ایران پر ان کے حملے کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج کا ہونا لازمی ہے کیونکہ وہاں کے عوام حکومت کے سخت خلاف ہیں اور وہ حکومت کا تختہ پلٹ دیں گے مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔
ایرانی حکومت اب بھی قائم و دائم ہے اور انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔
ٹرمپ دراصل اپنے مشیروں کے غلط مشوروں کا شکار ہوگئے ہیں، انھوں نے ایرانی حکومت کو گرانے کے لیے کردوں کو بھی ورغلایا تھا مگر انھوں نے بھی امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔
گوکہ امریکا نے اسرائیل کی محبت میں ایران پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں مگر اس کے باوجود ایرانی حکومت کا وجود قائم ہے۔
اب ٹرمپ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں اور وہ اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب ایران انھیں جنگ سے نکلنے نہیں دے رہا ہے کیونکہ وہ برابر اب بھی امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر بھیانک حملے کر رہا ہے۔
اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ ٹرمپ خود ہی تباہی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور اب اس سے نجات کے لیے اپنے پرانے دشمن روس سے مدد مانگ رہے ہیں جس سے یقینا ان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
Today News
ایران جنگ خاتمہ کب اورکیسے؟
ایران جنگ کا خاتمہ کس طرح سے ہوتا ہے اورکب ہوتا ہے، یہ حقیقت اپنی جگہ پر لیکن کیا امریکا دنیا کی وہ عظیم طاقت ہے جو سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بنی تھی؟ روس کی مدد کے بغیرکیا ایران یہ جنگ لڑ سکتا تھا؟ ماضی کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے۔
یہ نہیں معلوم کہ یہ مثال آج کی صورتحال سے مطابقت رکھتی بھی ہے کہ نہیں لیکن ایک حقیقت ضرور ہے کہ جب سوویت یونین، جنگ کے لیے افغانستان میں داخل ہوا، تو امریکا نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے افغانستان کو میدان جنگ اور پاکستان کو فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر استعمال کیا۔
جب کہ افغانستان کی ظاہرشاہی اشرافیہ ، افغان مذہبی جماعتوں کو اس جنگ میں ایندھن استعمال کیاجب کہ افغانستان کا ترقی پسند طبقہ سوویت یونین کا حامی تھا اور حکومت پر قابض تھا، وہ بھی اس جنگ کا ایندھن بنا۔
ادھر اسلامی ممالک میں سرگرم مجاہدین بھی اس جنگ کا ایندھن بننے کے لیے افغانستان میں پہنچائے گئے۔ یہی کام ایک لحاظ سے آج روس کر رہا ہے۔
یقینا آج جنگ کی صورتحال انتہائی مختلف ہے، یہ روس کے ریڈار سسٹم ہی تھے جو ایران کو ان کے ہدف اور ٹھکانوں کی نشاندہی کر رہے تھے اور ٹھیک ان ٹھکانوں کو ایران نے اپنا نشانہ بنایا۔
ایران نے نہ صرف ان اہداف کو نشانہ بنایا بلکہ بحرین، اردن اور اسرائیل میں نصب کردہ اسرائیل اور امریکی ریڈار سسٹم کو بھی ناکارہ بنا دیا۔
نوبت یہ آئی کہ امریکا کو اپنے دو بڑے جنگی بیڑے دور لے جانے پڑے کہ کہیں ان کو بھی کوئی نقصان پہنچے۔ مغرب کا میڈیا جو ایک آزاد میڈیا، آزادی رائے اور حقیقی خبروں کا دعویدار ہے وہ اس دفعہ اسرائیل کی شکست اور پسپائی کی واضح تصویر دنیا کو نہیں دکھا سکا اور نہ ہی سوشل میڈیا یا کسی با وثوق ذرائع سے کوئی خبر مل سکی۔
اس جنگ کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ایسا کہہ سکتے ہیں ختم ہونے کی بجائے یہ دراصل دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
عرب ممالک اس بات پر اب ضرور غورکریں گے کہ ان کے ملک میں موجود امریکی دفاعی اڈے ان کی حفاظت نہیں کرسکے۔ سوال یہ بھی اہم ہے کہ امریکا نے عرب ریاستوں کو اپنا مضبوط فوجی نظام نہیں بنانے دیا، وہ اس لیے کہ عرب ریاستیں دفاعی صورتحال میں ہمیشہ امریکا کی محتاج رہیں۔
سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیا عرب ریاستیں فطری طور پر آپس میںجڑی ہوئی ہیں؟ اگر ان کی زبان، ثقافت، تہذیب، جغرافیہ اور تاریخ ایک ہے تو عرب ریاستیں درجنوں میں کیوں، ایک کیوں نہیں؟
کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایسا چاہتی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی کہ تمام عرب ریاستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور ایک اسلامی اتحاد قائم کیا جائے ۔
اس کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ بھٹو صاحب بھی مارے گئے اور شاہ فیصل بھی۔ البتہ مشرقِ وسطیٰ نے اپنی تقدیر ضرور بدل ڈالی۔ متحدہ عرب امارات کو متحد کرنے والے تھے، ذوالفقار علی بھٹو! سترکی دہائی کا پسماندہ متحدہ عرب امارات آج کہاں پہنچ چکا ہے۔
عرب ریاستوں کا طرزِ حکومت جمہوری اقدار پر نہیں ہے۔2011 میں کچھ عرب ریاستوں میں عرب بہار Spring Revolution کی لہر آئی تھی، جس نے تیونس، مصر، لیبیا اور یمن کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔
مصر میں تحریر اسکوائر نے وہاں کی آمریت کی بنیادیں ہلادیں۔ جب وہاں کی مذہبی جماعت نے بائیں بازوکو اقتدار میں شراکت نہیں دی تو اس ٹکراؤ کا فائدہ ایک فوجی آمر نے اٹھایا۔ ایران میں بھی شہنشاہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد وہاں کے ترقی پسندوں کی آواز کو دبا دیا گیا۔
ایران جنگ کا خاتمہ بھی اتنی آسانی سے نہیں ہوگا۔ امریکا، ایران میں رجیم تو نہیں بدل سکا، لیکن موجودہ رجیم کا رہنا بھی اب اتنا آسان نہیں رہا۔
ایران کو اپنی معیشت مستحکم کرنا ہوگی۔ ان کے خلاف داخلی طور پر ہر اٹھنے والی آ وازکو دبایا نہیں جاسکتا۔ اب ایران کے اندر ریفارمزکا ہونا انتہائی ضروری ہے۔
ایران جنگ کے بعد عرب ریاستوں کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ محض امریکا کے بھروسے نہیں رہ سکتے۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع کے لیے صحیح اور بہتر قدم اٹھایا اور پاکستان سے دفاعی معاہدہ کر لیا۔ پاکستان کا دفاعی نظام بہت مضبوط ہے۔
پاکستان کا اہم مسئلہ اس کی کمزور معیشت ہے۔ اس معیشت کا مضبوط ہونا، پاکستان کی سالمیت کے لیے اشد ضروری ہے۔ ایران جنگ سے دو دن پہلے مودی صاحب اسرائیل پہنچ گئے اور ہماری تشویش میں مزید اضافہ ہوا، جب انھوں نے افغانستان کو اپنا اتحادی قرار دیا۔
ہم نے بلا تاخیر، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے اڈوں کے خاتمے کے ساتھ کارروائی شروع کردیاکیونکہ یہ سوال تھا، ملک کی ساخت اور سالمیت کا کیونکہ افغانستان کی طالبان رجیم کھل کر پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل چکی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے جنگ کا جو نقشہ کھینچا ہوا تھا کہ اگر ایران پر رضا شاہ پہلوی کی حکومت بنا دی جاتی تو ایران کو تین حصوں میں بانٹ دیا جاتا اور ہوتا کیا؟ یقینا آبنائے ہرمز پر اسرائیل اور امریکا کا قبضہ ہو جاتا۔ چین، ہندوستان، پاکستان سے لے کر جاپان اور پھر تمام عرب ریاستوں کی تیل کی رسد اور ایران کے تیل پر اسرائیل اور امریکا کی اجارہ داری قائم ہو جاتی۔
اس کے دور رس اثرات تمام ممالک کی آزاد خارجہ پالیسی پر ہوتے۔ کوئی ملک اپنی آزاد خارجہ پالیسی مرتب نہیں دے پاتا۔کوئی ملک امریکا کی مخالفت نہیں کرسکتا تھا اور چاہتے نہ چاہتے ہوئے امریکا کا مخالف نہیں بن سکتا تھا۔
دوسری طرف ایران سے آزاد ہوکرد علاقہ ترکیہ کے لیے مسائل کا باعث بنتا۔ آزاد سیستان، پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتا اور ایسے حالات میں ہندوستان ہمیں نقصان پہنچاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا، مگر یہ خطرات اب بھی باقی ہیں۔
ہم ان حالات میں زیادہ بول بھی نہیں سکتے کیونکہ اپنی کمزور معیشت کی وجہ سے کئی مصلحتوں کا شکار ہے۔
چین اب BRICS کی مہم کو تیزکردے گا جس میں مشکلات پیدا کی جا رہی تھیں۔BRICS کے وجود سے امریکا خائف ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ BRICS کی تشکیل سے امریکی ڈالرکے لیے نئے چیلینجز پیدا ہو جائیں گے۔
BRICS کی تشکیل سے دو بڑے مالیاتی ادارے وجود میں آئیں گے جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی طرزکے ہوںگے۔ طاقت کا توازن تبدیل ہو جائے گا۔ اس صورتحال کو روکنے کے لیے ہی امریکا نے ایران جنگ کا آغاز کیا لیکن اب تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ امریکا کے حق میں نہیں آیا۔
اب دنیا آہستہ آہستہ Multi Polar System میں تبدیل ہو رہی ہے۔1971 اور1965 کی جنگوں میں جب پاکستان ہندوستان سے لڑ رہا تھا تو چین کے پاس جدید دفاعی ٹیکنالوجی نہیں تھی اور اس وقت ہم امریکا کے اتحادی بھی تھے۔
مئی 2025 میں چین کی جنگی ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوئی۔ اسی طرح ایران نے بھی روس اور چین کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب دیا ہے ۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Magazines2 weeks ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines1 week ago
Story Time: Culinary Disasters – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Entertainment2 weeks ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Privatisation Commission board recommends Fauji Fertiliser’s inclusion in consortium that won PIA auction – Pakistan
-
Sports2 weeks ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Magazines2 weeks ago
THE ICON INTERVIEW: THE FUTURE’S ALWAYS BRIGHT FOR HIM – Newspaper