Connect with us

Today News

سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟

Published

on



عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 65ڈالر کی کمی سے 5ہزار 106ڈالر کی سطح پر آگئی۔

عالمی مارکیٹ میں کمی کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 6ہزار 500روپے کی کمی سے 5لاکھ 33ہزار 362روپے کی سطح پر آگئی۔

اسی طرح، فی دس گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 573روپے گھٹ کر 4لاکھ 57ہزار 271روپے کی سطح پر آگئی۔

سونے کے ساتھ ساتھ، فی تولہ چاندی کی قیمت 37 روپے کی کمی سے 8ہزار 894 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 31روپے کی کمی سے 7ہزار 625روپے کی سطح پر آگئی۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وائٹ ہاؤس

Published

on



واشنگٹن:

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ مقررہ اہداف جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کی میزائل تنصیبات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اور ان کی توانائی ٹیم عالمی تیل منڈیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اہداف حاصل ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

 

کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ امریکا نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کی براہِ راست مدد نہیں کی تاہم خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

باب العلم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیؓ

Published

on


آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ کے والد ابُوطالب رسول کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول کریم ﷺ کو اعلان نبوت سے لے کر وصال تک، خلوت و جلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو، جسم اطہر کے ہر ایک انداز کو اپنے دل و اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بل کہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

حضرت علیؓ، نبی کریم ﷺ کے دست و بازو تھے، اور مصائب و آلام کی ہر گھڑی میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔

 آپؓ فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اور میرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ ’’امین‘‘ کہلاتے تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)

اسی طرح غزوۂ بدر میں حضرت علیؓ کی شجاعت لوگوں کے سامنے آئی جب آپؓ نے نام ور قریشی سردار عقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔ جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اور اپنے قومی و خاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہُوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کیا۔ اس دن رسول اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت علیؓ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کردیا۔ سیدنا علی ؓ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر و خیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے علم بردار رہے۔

غزوۂ بدر کے بعد حضرت علیؓ کو ایسا اعزاز حاصل ہُوا جس نے ان کی عظمت کو چار چاند لگا دیے۔ یہ اعزاز حضرت علیؓ کی رسول کریم ﷺ کی چہیتی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی خانہ آبادی کا تھا۔ اور اﷲ تعالی نے روز ازل سے ان کے لیے یہ عظمت و نعمت مقدر کررکھی تھی۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگی امت کے لیے لازوال نمونہ تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ آپؓ فقیہہ، مجتہد اور مفسر قرآن ہونے کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیؓ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔ آپ ؓنے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لیے آپؓ کی معلومات و روایات کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓکے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خود تعریف فرمائی۔ آپؓ کی فقہی مہارت اور اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجا تھا کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انھیں ’’اقضاکم‘‘ (تم میں سے اچھے، سب سے بڑے قاضی) قرار دیا۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپؓ لوگوں کو حضرت علیؓ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔

رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔ چناں چہ آپؓ اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے: ’’اے علیؓ! اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالحؑ کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا۔‘‘

امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیؓ کی عادت تھی کہ نماز کے لیے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بس جیسے ہی آپ ؓ وہاں پہنچے اس نے آپؓ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا جو دماغ تک جا پہنچا اور آپؓ خون سے نہا گئے اور داڑھی مبارک خون سے تر ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھا یکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی اور میں نے امیرالمومنینؓ کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا :

’’قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی۔‘‘

اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ ابن ملجم کو حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؓ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ فرمایا! یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہی اسے کھلانا۔ پھر فرمایا: اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیار ہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اس کو ایک ضرب ہی لگانا۔ پھر اپنے صاحب زادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلا کر وصیت لکھوائی اور دو دن انتہائی کرب کی کیفیت میں گزارنے کے بعد اکّیس رمضان المبارک کی صبح اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔





Source link

Continue Reading

Today News

وزیر داخلہ سندھ، آئی جی اور میئر کراچی کا مرکزی جلوس کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ

Published

on



کراچی:

وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ، کراچی پولیس چیف آزاد خان اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔

بعدازاں نمائش چورنگی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 28 فروری کو جو واقعہ ہوا اس کی انکوائری ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کچھ بھی کہنا اس وقت قبل از وقت ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ جہاں ایڈمنسٹریشن میں کمی نظر آئیگی پولیس افسران کا تبادلہ کیا جائیگا، پولیس ہائی الرٹ ہے جبکہ میئر کراچی بھی خود وزٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کی ٹیم بھی متحرک ہے۔

دریں اثنا پولیس کی جانب سے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے سیل کر دیئے۔

آج  یوم شہادت حضرت علیؓ کے سلسلے میں مرکزی جلوس دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔ 

اس حوالے سے پولیس کی جانب سے رات گئے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والی مارکیٹوں ، دکانوں اور راستوں کو بم ڈسپوزل یونٹ سے سوئپنگ کے بعد سیل کیے جانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایم اے جناح روڈ ، گرومندر سے ٹاور تک جبکہ صدر دواخانہ ایمپریس مارکیٹ سے ریگل چوک تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیوں کی مدد سے سیل کر کے نفری کو بھی تعینات کر کے انھیں ہدایات بھی جاری کر دی گئیں۔

سیل کیے گئے راستوں سے نہ تو کسی کو جلوس میں داخل اور وہاں سے باہر جانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی ، آخری اطلاعات آنے تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو سیل کیے جانے کا عمل جاری تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending