Connect with us

Today News

غزوۂ بدر – ایکسپریس اردو

Published

on


نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال سترہ رمضان المبارک کو غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا۔ بدر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تقریباً 120 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ بستی بدر بن حارث سے منسوب ہے جس نے یہاں کنواں کھودا تھا یا بدر بن مخلد بن نصر بن کنانہ سے منسوب و مشہور ہے جس نے اِس جگہ پڑاؤ کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں وہاں ایک بوڑھا شخص مدتوں سے رہتا تھا جس کا نام بدر تھا اِس بنا پر اِس بستی کو اِسی کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔

غزوہ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا فیصلہ کن معرکہ ہے۔ قریش کا ایک قافلہ جو مکے سے شام کی طرف جاتے ہوئے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی گرفت سے بچ نکلا تھا، یہی قافلہ جب مکہ واپس آنے لگا تو رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبیداللّہ اور سعید بن زید رضی اللّہ عنہما کو اس کا پتا لگانے کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ دونوں حضرات مقام حورا تک جا پہنچے اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کو قافلے کی اطلاع دی۔ قریش کے اس قافلے میں بہت زیادہ سازوسامان تھا۔ ایک ہزار اونٹ تھے، جن پر کم از کم پچاس ہزار دینار تھے لیکن اس کی حفاظت کے لیے صرف چالیس افراد تھے۔ یہ اہلِ مدینہ کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ مالِ غنیمت حاصل کرلیا جائے۔ چناںچہ صحابہ کرامؓؓ کو نکلنے کا حکم دیا گیا لیکن کسی پر پابندی عائد نہیں کی گئی، کیونکہ بہت بڑی جنگ کا ارادہ نہ تھا۔

 مسلمانوں کی تعداد 313  تھی جن میں ستتر (77)  مہاجرین تھے اور دو سو چھتیس (236)  انصار تھے۔ اِن تین سو تیرہ (313)  میں سے آٹھ صحابہ کرام وہ تھے جو کسی عذر کی بنا پر میدانِ بدر میں حاضر نہ ہوسکے مگر اموالِ غنیمت میں ان کو حصہ عطا فرمایا گیا۔ ان میں سے تین مہاجرین تھے ایک امیرالمومنین حضرت سیدنا عثمان بن عفانؓ تھے جو حضورصلی اللّہ علیہ وسلم کے حکم سے اپنی زوجہ محترمہ حضرت سیدہ بی بی رقیہؓ کی علالت کی وجہ سے تیمار داری میں رکے تھے۔ دوسرے حضرت سیدنا طلحہؓ اور حضرت سیدنا سعید بن زید ؓتھے جو مشرکین مکہ کے قافلے کی جستجو میں گئے تھے۔ اِن کے علاوہ پانچ انصار تھے۔ اِس غزوہ میں مسلمانوں کے پاس صرف 2 گھوڑے، 70 اونٹ 6  زرہیں اور8  شمشیریں تھیں۔ گھوڑے حضرت زبیرؓ بن عوام اور حضرت اسود کندی ؓ کے پاس موجود تھے۔ ایک ایک اونٹ پر تین تین افراد کو سوار کیا گیا جو باری باری بیٹھتے تھے۔ چناںچہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم حضرت سیدنا علیؓ اور حضرت مرثد غنوی ایک اونٹ پر اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیقؓ، حضرت عمروؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ دوسرے پر باری باری سوار ہوتے تھے۔

 ؎تھے ان کے پاس دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ شمشیریں

پلٹنے آئے تھے یہ لوگ دنیا بھر کی تقدیریں

نہ تیغ و تیر پہ تکیہ، نہ خنجر پر نہ بھالے پر

بھروسا تھا تو اِک سادی سی کالی کملی والے پر

(حفیظ جالندھری)

 قافلہ کفار کی صورتِ حال یہ تھی کہ ابوسفیان (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لے آئے اور صحابیؓ کے درجے پر فائز ہوئے) جو کہ حد درجہ محتاط تھا۔ قدم قدم پر وہ خبریں وصول کرتا اور پیش قدمی کرتا رہا۔ ابوسفیان نے ایک قاصد مکے کی جانب بھیجا، جس نے مکے والوں کو مدد کے لیے پکارا۔ چوں کہ قافلے میں سب کا کچھ نہ کچھ سامان موجود تھا تو اس لیے مدد کے لیے ہر گھر سے کوئی نہ کوئی نکلا۔ سوائے ابولہب کے جس نے اپنے مقروض کو جنگ میں بھیجا، تقریباً سبھی بڑے بڑے سردار اس میں شامل تھے۔ ابوسفیان نے بعد میں یہ خبر بھیجی کے قافلہ بچ نکلا ہے اور مدد کے لیے نہ آئیں۔ لیکن ابوجہل ایک متکبر شخص تھا، اس نے کہا آج ہم مسلمانوں کو سبق سکھا دیں گے۔ قریش مکمل تیاری کے ساتھ نکلے تھے۔ ابتدا میں تعداد تیرہ سو تھی۔ ایک ہزار گھوڑے تھے اور اونٹ کثیر تعداد میں موجود تھے، اس لیے ان کی تعداد معلوم نہ ہوسکی۔ قریش کی بنو بکر سے دشمنی چل رہی تھی۔ انھیں مکے پہ حملے کا خدشہ محسوس ہوا۔ لیکن شیطان مردود، سردارِ کنانہ سراقہ بن مالک کی شکل میں آیا اور کہا: میں بھی تمہارا رفیق کار ہوں، اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ بنو کنانہ تمہارے خلاف کوئی بھی ناگوار کام نہ کریں گے۔ یہ سن کے مکہ والوں کے حوصلے بلند ہوئے اور وہ ابوجہل کی قیادت میں جنگ کے لیے روانہ ہوئے۔

ادھر رسول اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے حالات کا بغور مشاہدہ کیا تو یہ محسوس کیا کہ اب ایک عظیم الشان ٹکر ہونے والی ہے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے مجلس شوری بلائی اور عام آدمیوں اور کمانڈروں کے ساتھ اظہارِخیال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمررضی اللّہ عنھما نے نہایت اچھی بات کہی۔ حضرت مقداد بن عمرو ؓکچھ اس طرح گویا ہوئے:’’خدا کی قسم! ہم آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔‘‘ چوں کہ یہ سب مہاجر تھے تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ انصار بھی کچھ کہیں، تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ مجھے مشورہ دو۔ حضرت سعد بن معاذؓؓ نے یہ بات بھانپ لی۔ انھوں نے کہا: ’’ہم نے تو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آپ جو کچھ لائے ہیں سچ ہے اور ہم نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو سمع و اطاعت کا عہد و میثاق دیا ہے، لہٰذا یارسول اللّہ! آپ کا جو ارادہ ہے اس کی طرف پیش قدمی جاری رکھیے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اگر آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے ساتھ سمندر میں بھی کود جانا پڑا تو کود جائیں گے۔ ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔‘‘ حضرت سعدؓ کی یہ بات سن کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آپ پر نشاط طاری ہوگئی۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو اور خوشی خوشی چلو۔

لشکرِاسلام نے بدر کے نزدیک ایک چشمے پر پڑاؤ ڈالا۔ رات کو اللّہ تعالی نے بارانِ رحمت کا نزول فرمایا، جو کافروں پر موسلا دھار برسی لیکن مسلمانوں پر پھوار بن کر برسی اور انہیں پاک کردیا۔

 ریت پر قدم جمنے کے قابل ہوگئے۔ لشکراسلام نے بدر کے قریب ترین چشمے پر قدم جمالیے اور باقی سارے چشمے بند کردیے۔ اس کے بعد حضرت سعد ؓکے مشورے پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کے لیے ایک چھپر تعمیر کیا گیا۔ اس پر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے لشکر کی ترتیب فرمائی اور میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور فرماتے رہے کہ یہ جگہ فلاں کی قتل گاہ ہے اور یہ فلاں کی۔

17رمضان المبارک 2 ہجری کا دن تھا۔ لشکر اسلام اور لشکر کفار آمنے سامنے ہوئے۔ ایک طرف ایک ہزار کا لشکر اور سازوسامان سے بھرپور اور دوسری طرف 313 اور صرف دو گھوڑے اور ستر اونٹ۔

صحابہ کرامؓؓ کا ایمانی جذبہ تھا کہ تعداد میں کمی کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے ایمان کی حرارت کو دیکھا ۔ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے میدانِ جنگ میں صفیں درست فرمائیں۔ پھر جب صفیں درست ہوچکیں تو رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنگ تب تک شروع نہ کرنا جب تک آخری ااحکام موصول نہ ہوجائیں۔

 اس معرکے کا پہلا شکار اسودبن عبد الاسد مخزومی تھا۔ یہ بڑا اڑیل اور طاقت ور تھا، یہ کہتا ہوا نکلا کہ اللہ کی قسم! میں ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا، یا اسے ڈھا دوں گا یا اس کے لیے جان دے دوں گا۔

سید الشہداء حضرت حمزہ ؓنے اسے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ اس سے جنگ بھڑک اٹھی۔ اس کے بعد قریش کے تین بڑے سردار عتبہ، شیبہ اور ولید نکلے۔ انہوں نے مسلمانوں کو للکارا تو مقابلے میں رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت عبیدہ بن حارثؓ ، حضرت حمزہؓ اور حضرت علی ؓ کو بھیجا۔ حضرت حمزہ ؓاور حضرت علی ؓ نے فورا اپنے شکار کو ختم کر دیا لیکن حضرت عبیدہؓ کے ساتھ بھر پور مقابلہ ہوا۔ دونوں اپنے شکار سے فارغ ہوکر حضرت عبیدہ ؓکے شکار کی جانب لپکے اور اسے بھی قتل کردیا۔ حضرت عبیدہ ؓکو زخم آئے اور آواز بند ہوگئی، بعد میں اسی زخم سے واپسی پر آپ کی شہادت ہوئی۔

فضائے بدر کو اک آپ بیتی یاد ہے اب تک

یہ وادی نعرہ توحید سے آباد ہے اب تک

اس کے بعد کفار نے یک بارگی حملہ کردیا ان کے حواس کھو چکے تھے کیوںکہ ان کے تین بڑے سردار مارے جا چکے تھے۔ دوسری طرف مسلمان اللّہ تعالٰی کی مدد و نصرت سے پر سکون تھے۔

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: یااللّہ! تو نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ یااللّہ! میں تجھ سے تیرے وعدے کا سوال کرتا ہوں۔

اللّہ تعالٰی نے ایک ہزار فرشتے مدد کے لیے نازل فرمائے۔ صحابہ کرام ؓفرماتے ہیںکہ ہماری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کفار کی گردن کٹ چکی ہوتی تھی اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قتل کسی اور نے کیا ہے۔ جنگ میں کفار کا لشکر تتر بتر ہوگیا۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ روایت کرتے ہیں کہ میرے اردگرد دو نو عمر سپاہی تھے۔ ایک کا نام معاذ اور دوسرے کا معوذ تھا، انہوں نے مجھ سے ایک دوسرے کو چھپاتے ہوئے ایک ہی بات پوچھی کہ چچا ابوجہل کدھر ہے؟ میں نے ابوجہل کی طرف اشارہ کردیا۔ دونوں اس کی طرف لپکے اور ابوجہل کو قتل کردیا۔ حضرت معوذ اسی معرکے میں شہید ہوئے۔

رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے جنگ کے اختتام پر فرمایا کہ ابوجہل کا کیا بنا؟ صحابہؓ ابوجہل کو ڈھونڈنے نکلے۔ حضرت عبداللّہ ابن مسعود ؓنے دیکھا کہ ابوجہل کی سانسیں ابھی چل رہی ہیں۔ آپ نے ابوجہل کا سر کاٹا اور رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے نعش دکھاؤ، نعش دیکھ کر رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ میری امت کا فرعون ہے۔‘‘

جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ کفار کے ستر افراد قتل اور ستر قید ہوئے۔ 14صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔

ہمیں اس معرکے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے آج ہمارے پاس سب کچھ ہے جدید ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن اگر نہیں ہے تو بس وہ 313 جیسا لشکر و ایمان نہیں ہے۔

 ؎ہتھیار ہیں اوزار ہیں افواج ہیں لیکن

وہ تین سو تیرہ کا لشکر نہیں ملتا

 اگر ایمان بدر والوں جیسا ہوتو فرشتے اب بھی مدد ونصرت کو آسکتے ہیں

فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو

اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاک افغان کشیدگی، چین کی سفارتی کوششیں

Published

on


افغانستان کے حکمرانوں نے اول روز سے پاکستان کی مخالفت کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیے رکھا ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا معاملہ ہو یا بھارت کے ساتھ تنازعات ہوں، افغانستان نے ہمیشہ وہ موقف اختیار کیا جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات کے برعکس ہو۔ اب دہشت گردی کے ایشو پر بھی ، طالبان حکمرانوں نے پاکستان دشمنی پر مبنی پالیسی اختیار کر رکھی اور دنیا بھر کے تسلیم شدہ دہشت گرد گروہوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے بلکہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہیں، یوں پاکستان کو اپنی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا ہے۔ اب افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپ مل کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں جسے روکنے کے لیے پاکستان ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں صورتحال خاصی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کا کابل کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دوران انھوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کر کے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں چین نے واضح طور پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں کیونکہ اس کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سبب سرحد پار دہشت گردی اور سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان حکومت کو اس بارے میں آگاہ اور شواہد پیش کر چکا ہے اور مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں سخت اقدامات کیے ہیں اور بعض مواقع پر سرحد پار کارروائیاں بھی کی ہیں۔

موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پرکیے گئے آپریشنز میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ عناصر مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور سرحد پار سے سرگرم تھے۔ ان کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام جیسے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی جڑیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس کی تاریخی بنیادیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پیدا کیا گیا سرحدی تنازع، افغان مہاجرین کی طرف سے پیدا کردہ منشیات فروشی،اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مسائل اور افغان پالیسیوں پر پاکستان کے اعتماد کی کمی کئی دہائیوں سے تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔ افغانستان نے طویل عرصے تک ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جب کہ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اسی طرح گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان میں ہونے والی جنگوں اور عدم استحکام کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں آ کر آباد ہوئے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک پیچیدہ سماجی اور اقتصادی جہت بھی دی۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی کیونکہ پاکستان نے ماضی میں افغان طالبان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں پوری طرح حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی کمی نے تعلقات کو ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

ان حالات میں چین کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین کے لیے اس خطے میں امن اور استحکام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے کئی بڑے اقتصادی منصوبے اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت چین ایشیا، یورپ اور افریقہ کو اقتصادی راہداریوں کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں پاکستان اقتصادی راہداری ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات ان اقتصادی منصوبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

چین کو اپنی مغربی سرحدوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ سنکیانگ کا علاقہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے اور چین نہیں چاہتا کہ اس خطے میں عدم استحکام اس کے اندرونی علاقوں تک سرایت کرے۔ اسی لیے چین افغانستان میں استحکام کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر چین کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ افغانستان جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہاں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ خطہ تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کے حوالے سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مزید فروغ دے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور پاکستان کے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے میں عملی اقدامات کرے۔ سرحدی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مستقل رابطوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ علاقائی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دلائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گی، اگر افغانستان واقعی خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا مشکل ہوگا بلکہ افغانستان کی عالمی سطح پر قبولیت بھی متاثر ہوگی۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت تدبر اور سفارتکاری کو ترجیح دے۔ چین کی حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک بھی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اگر اس موقع کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے اور افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے اور خطے میں امن کے لیے تعاون کرے تو نہ صرف موجودہ بحران کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط علاقائی تعاون کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔خطے کے امن اور ترقی کا راستہ تعاون اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔ افغانستان موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے وقت میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

بننے بنانے والے اور بنانا اسٹیٹ

Published

on


ہمیں یاد ہے ایک زمانے میں ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ کا ذکر اخباروں میں آتا رہتا تھا اکثر دانا دانشور اپنے ملفوظات کو عوام الناس کے ساتھ شئیر کرتے تھے جس طرح آج کل شئیر کررہے ہیں اور عوام کی عاقبت سنوارا کرتے تھے چونکہ بات ذرا اونچے لیول یعنی داناؤں اور دانشوروں کی تھی اور ہم ٹھہرے جاہل اجڈ عامی امی اس لیے زیادہ پروا نہیں کرتے تھے البتہ کبھی کبھی خیال آجاتا کہ کیا نصیب ہوگا،کیا اسٹیٹ ہوگا لوگ جی بھر کر کیلے کھاتے ہوں گے، جوس پیتے ہوں گے۔

 دراصل ان دنوں ہمارے ہاں کیلے بہت مہنگے ہوگئے تھے کیونکہ جب صبح ٹھیلے والے کیلے لگاتے تو بیس روپے درجن ہوتے تھے لیکن جب ان پر پولیس والے ٹریفک والے بلدیہ والے، نرخوں والے اور پیچھے والے دکانداروں کا سیلاب گزرجاتا اور ہر ایک۔ایک دو۔یا تین درجن کیلے مفت میں لے جاتا تھا تو کیلے پچاس روپے درجن ہوجاتے تھے۔ ایسے میں کسی ایسی اسٹیٹ کا تصور ہی دل خوش کن تھا جو کیلوں کی بہتات کی وجہ سے کیلوں کا دیس کہلاتا تھا۔لیکن پھر کسی نے ہمارا یہ تصور بھی غارت کردیا کہ بنانا اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کیلے زیادہ اور سستے ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔اب اس کچھ اور’’مطلب‘‘ کے لیے پھر دانشوری کی ضرورت ہوتی جو ہمارے پاس نہیں تھی۔اس لیے کیلوں پر صبر کرکے بیٹھ جاتے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک بالکل خلاف توقع طور پر ہماری سمجھ دانی میں آگیا کہ

جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں

وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں

وہ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ تو یہی تھی جس میں ہم اس وقت رہ رہے ہیں یا اگر وہ کوئی اور انگریزی ’’بنانا‘‘ والا اسٹیٹ تھی تو ہوگی لیکن اردو’’بنانا‘‘ اسٹیٹ تو یہ ہماری ہی مملکت عزیز ہے۔ جہاں ’’بنانا‘‘ ایک باقاعدہ ہنر ہے، پیشہ ہے اور صنعت ہے۔جہاں اُلو بھی ’’بنائے‘‘ جاتے ہیں، اُلو کے پٹھے بھی۔ اور ماموں بھی بلکہ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی’’باپ‘‘ بنایا جاتاہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اتنی گہری دانشوری کی بات ہماری غیردانا دانشور کھوپڑی میں آئی کیسے؟ تو جواباً عرض ہے کہ اس کے لیے ہمیں دو دانی عورتوں ’’دانش وریوں‘‘ کا ممنون ہونا چاہیے۔ جن میں ایک تو اختری بائی فیض آبادی عرف بیگم اختر تھی جس سے ہم نے سنا کہ

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے

ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے

اور یہیں پر ایک مرتبہ’’بنانا‘‘ کی طرف دھیان چلا گیا کہ یہ بنانا کوئی کیلا نہیں بلکہ کوئی کھیل ہے جس میں کسی کو کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے اور پھر خدا ہمیشہ خوش رکھے محترمہ صوفیہ عابدہ پروین کو۔خدا نظر بد سے بچائے رکھے اور صحت دن دونی رات چوگنی ترقی کرے کہ اس نے سارا مسئلہ حل کردیا کہ

تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا

اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا

 اور پھر

تو نے کیا کیا نہ بنایا

اور میں کیا کیا نہ بنا

ارے یہ تو خود ہماری یعنی کالانعاموں کی بات ہورہی ہے بلکہ پوری’’خرگزشت‘‘بیان کی جا رہی ہے، واقعی کس کس نے ہمیں کیا کیا نہ بنایا اور ہم کیا کیا نہیں بنے؟ بلکہ بنتے تھے بن رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔’’بننے‘‘ کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص آتا ہے اس کے پاس نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی پروگرام ہے نہ کوئی مہارت ہے، نہ کوئی ہنر ہے صرف ایک ڈگڈگی ہے وہ بھی بے سری اور وہ ایک دنیا کو’’بنا‘‘ دیتا ہے اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اس نئے بنانے کو کبھی اس طرف دوڑاتا ہے کبھی اس طرف۔ اب ہم اسے’’بنانا‘‘ نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں اور جہاں اتنے ’’بنانے والے‘‘ ہوں اور اتنے زیادہ بننے والے بھی ہوں تو ہم اسے بنانا اسٹیٹ۔یا ریاست بنانا نہ کہیں تو کیا کہیں گے۔ہے نا کمال کی بات۔ اور اس بات پر آپ کو ہماری پیٹھ ٹھونکنی چاہیے۔ لیکن ہماری پیٹھ اگر رسائی میں نہیں تو خود اپنی ’’پیٹھ ٹھونکیے‘‘کہ آپ بھی بننے والوں میں سے ہیں، غرور ہمیں پسند نہیں ورنہ ہم کولمبس ہونے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ آخر ہم نے ایک بنانا ’’اسٹیٹ‘‘ یا ریاست بنانا دریافت کیا ہے۔اور وہ بھی بغیر کسی بحری یا بری سفر کیے، بیٹھے بٹھائے اس بنانا اسٹیٹ میں جو ہم نے دریافت کیا ہے، بنانے کا کام اتنے وسیع پیمانے پر ہورہا ہے کہ کسی اور کام کے لیے کسی کے پاس وقت ہی نہیں بچتا

دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے

کہیں جگہ نہ رہی اپنے آشیانے کو

چونکہ ہمیں اس بنانا اسٹیٹ یعنی بنانا ریاست یا بنانا فیکٹری کو ’’بناتے‘‘ بناتے ہوئے ستراسی سال ہوگئے ہیں۔اس لیے اس کام میں اتنے بڑے بڑے اور ایسے بنانے والے پیدا ہوگئے ہیں کہ جب بناتے ہیں تو اس کمال سے بناتے ہیں کہ خود’’بننے والے‘‘ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں ’’بن‘‘ رہاہوں یا بن گیا ہوں ہم نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا جو بنے ہوئے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں کہ ہم بنائے گئے ہیں یا بنائے جارہے ہیں۔ ہم نے ایک ماہر بنانا سے پوچھا کہ آخر ہمارے اس بنانا اسٹیٹ میں یہ بنانے کاکام اتنے وسیع پیمانے پر کیسے شروع ہوا۔اور بھی تو ملک ہیں۔

وہاں اتنی صفائی سے اور اتنے وسیع پیمانے پر بنانے کا کام نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں ہوتا تو اس ماہر نے ہمیں سمجھایا کہ دراصل یہ کمال بنانے والوں کا نہیں بلکہ بننے والوں کا ہے، اس ملک میں چونکہ بننے والوں کی بہتات ہے قدم قدم پر ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں اور جہاں خام مال اتنا زیادہ ہو تو ظاہر ہے کہ وہاں فیکٹریاں بھی زیادہ لگ جاتی ہیں اور بنانے والے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔اون فیکٹری وہاں لگتی ہے جہاں اون زیادہ ہو، شوگر کے کارخانے گنے کی پیداوار والے علاقوں میں لگتے اور کپڑے کے کپاس کی پیداوار والے میں۔اب کون ہوگا جو افغانستان میں شوگر مل لگائے یا سعودی عرب میں کاٹن مل لگائے یا ملتان میں پوستین بیچے اور سوات دیر چترال میں برف کا کارخانہ۔





Source link

Continue Reading

Today News

رمضان ہماری تربیت کا ایک نادر موقع

Published

on


ہمارے ہاں رمضان عبادت کے اعتبار سے جس طرح سے گزارا جاتا ہے اس میں تین بڑے نمایاں حصے نظر آتے ہیں۔ جس میں پہلا حصہ شروع میں 10 روزہ تراویح کا اہتمام، آخری حصے میں اعتکاف میں بیٹھ کے عبادت کرنا جب کہ پورے رمضان میں نماز تراویح میں شرکت کرنا شامل ہے۔ یوں دیکھا جائے تو عوام کی ایک بڑی تعداد اپنا رمضان اس طرح سے گزارتی ہے۔ یہ وہ موقع ہے کہ جہاں ہماری بہترین تربیت ہو سکتی ہے جس سے ہم ایک اچھے مسلمان اور ایک اچھے شہری بن سکتے ہیں۔

 عموماً پہلے حصے میں 10 روزہ تراویح میں ایک پورا قرآن پاک، نماز تراویح میں پڑھا جاتا ہے اور لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس میں شرکت کرتی ہے۔ یہ تراویح عربی زبان میں ہوتی ہے، جو ظاہر ہے ہر ایک نہیں جانتا۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے کہ جہاں تراویح کا اہتمام کرنے والے منتظمین یا علماء اپنے کردار اور بیان سے عوام کو معاشرے میں موجود ان کی چھوٹی بڑی غلطیوں کی طرف رہنمائی کر سکتے ہیں اور قرآن میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے کیا مطالبہ کر رہا ہے، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

اسی طرح سے پورے رمضان کچھ اسلامی تنظیمیں باقاعدہ قرآن کے ترجمے، درس اور اس کے ساتھ تراویح کا اہتمام کرتی ہیں جس میں وہ لوگوں کی توجہ قرآن کے پیغام کی طرف مبذول کراتی ہیں، یوں پورے رمضان ایک قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا پیغام دیا گیا ہے، لوگوں کو ان کی ہی زبان میں بیان کر دیا جاتا ہے بلکہ بعض جگہوں پہ تو اس کی تشریح کر کے پڑھنے والوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا اور ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں تنظیم اسلامی اور دیگر تنظیمیں مختلف مساجد میں ترجمہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی ایک اچھی کوشش کرتی ہیں جو قابل ستائش ہے۔ یقیناً اس قسم کی تراویح میں لوگوں کے ضمیروں کو بھی جھنجوڑا جاتا ہے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں اور چونکہ قرآن میں ہر قسم کے موضوعات شامل ہیں لہذا آج جو مسائل ہمارے سامنے ہیں اس ضمن میں بھی لوگوں کی رہنمائی ہو جاتی ہے۔ یوں ناپ تول میں کمی کا معاملہ، کاروبار میں ایمانداری کامعاملہ، شوہر اور بیوی کے تعلقات کے معاملات وغیرہ جیسے موضوعات پر لوگوں کو اچھی آگہی فراہم کی جاتی ہے جس سے لوگوں کے کردار میں یقینا فرق بھی پڑتا ہے۔ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ آج کل طلاق کی شرح ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی طریقے سے آخری عشرے میں تقریباً ہر مسجد میں ہی اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کو مختلف سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی تربیت کے حوالے سے پروگرام بھی تربیت دیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا عمل ہے عموماً نوجوانوں کو زندگی گزارنے سے متعلق اسلامی طور طریقے بھی تفصیل سے بیان کیے جاتے ہیں جو کہ ایک اچھا سلسلہ ہے۔ اس طرح جو نوجوان اعتکاف میں بیٹھتے ہیں وہ مستقبل کے لیے ایک نیک اور اچھے انسان ثابت ہوتے ہیں۔

اس ضمن میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ لوگوں کو آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان نسل بھی اعتکاف کے بیٹھنے کے عمل میں بڑھ چڑھ کے حصہ لے۔ بعض مساجد میں اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے سخت شرائط رکھی جاتی ہیں، مثلاً شناختی کارڈ کا ہونا۔ اس عمل سے بہت سارے نوجوان مساجد میں اعتکاف کرنے سے رہ جاتے ہیں اور ظاہر ہے پھر ان کا ٹائم کہیں اورگزرتا ہے، اگر ہم اسلامی اصول کے مطابق صرف بالغ ہونے کی شرط رکھیں تو نئی نسل کی بڑی تعداد اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے۔ ایسے والدین یا لوگ جن کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کی اولاد کہنا نہیں مانتی، یا بگڑ رہی ہے، ان کے لیے رمضان میں یہ ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ اپنے بالغ بچوں کو مساجد میں اعتکاف کے لیے بھیجیں۔

بہرحال ہمارے ہاں رمضان میں یہ تمام اہتمام بہت اہمیت کے حامل ہیں اور اس سلسلے میں حصہ لینے والے لائق تحسین ہیں۔ اس موقع پہ ہم اپنے معاشرے کے چند اہم مسائل کے حوالے سے اسلامی تعلیمات لوگوں تک پہنچا کر اپنے معاشرے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان اہم مسائل میں ایک مسئلہ صبر و تحمل اور ایمانداری کا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہمیں نہ تو کوئی قابل اعتبار اور قابل بھروسہ مکینک ملتا ہے نہ کوئی مستری نہ ہی سرکاری دفتروں میں ایسے افراد جو ایمانداری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہوں۔ رشوت لیے بغیرکوئی کام نہیں کرتا، اس بارے میں ہم قرآن کی مختلف تعلیمات کا حوالہ دے کر ذہن سازی کر سکتے ہیں۔

دوسری طرف رشتہ داری کے معاملے میں دیکھیں تو اسلام ہمیں صلہ رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلق کا درس دیتا ہے جب کہ ہمارا حال یہ ہے کہ سگے بہن بھائی بھی آپس میں نہیں ملتے اور ایسے بھی ہیں جو عید کے موقع پر بھی ملنا نہیں چاہتے، ایک دوسرے کی جائیداد تک پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے، ترکہ کا حصہ ایک دوسرے کو دینا نہیں چاہتے، کوئی اپنے والدین سے ناراض ہے۔ یہ ہمارے اہم مسائل ہیں اگر ان پر دوران رمضان قرآنی آیات کے حوالے دے کر لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جائے تو یقیناً اس کا کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ قرآن میں تو ناپ تول کی کمی پر بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے اور قوموں پر عذاب تک کا ذکر موجود ہے۔

اسی طرح اگر ہم سنت کی طرف آئیں تو ہمیں حضرت محمد ﷺ سے لے کر اہل بیت کے خاندان تک تمام لوگوں کا لائف اسٹائل جس طرح نظر آتا ہے، ہم اس سے بالکل مختلف زندگی گزار رہے ہیں۔ دکھاوا، شادیوں پر بے جا اخراجات یہ سب ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں جب کہ ہم اپنے اسلامی رول ماڈلزکو دیکھیں تو وہ انتہائی سادگی کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً خلیفہ وقت کے پاس بعض اوقات پہننے کے لیے دو جوڑے بھی نہیں ہوتے تھے جب کہ ان کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے اور اگر کوئی ضرورت مند کچھ مانگنے آجائے تو اپنے حصہ سے ہی کچھ نکال کر دیتے تھے۔ اس وقت کے عام مسلمانوں کا طرز زندگی بھی انتہائی سادہ ہوتا تھا۔ مثلاً مسلم خواتین شادی کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی شادی کا جوڑا ایک رات کے لیے مانگ کر لے جاتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا نکاح ہے۔

افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم حج، عمرہ اور نماز وغیرہ کے حوالے سے تو بہت مذہبی لگتے ہیں مگر عملاً ہمارا طرز زندگی مذکورہ بالا بیان کردہ مسائل سے بھرا پڑا ہے۔ اس کا ایک بہترین علاج یہی ہے کہ دوران رمضان اس قسم کے اجتماعات میں لوگوں کے ضمیروں کو جھنجوڑا جائے کہ اسلام ان سے کس کردار کا تقاضا کرتا ہے اور وہ کیسی زندگی گزار رہے ہیں، نیز ہمیں بطور مسلم بھی قرآن کو سمجھ کر ترجمہ سے پڑھنا چاہیے کہ جس ذات نے ہمیں زندگی گزارنے کا پیغام بھیجا ہے وہ پیغام دراصل ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ ہم سے آخر چاہتا کیا ہے؟ آئیے!ٰ اس پر غور کریں۔





Source link

Continue Reading

Trending