Connect with us

Today News

امریکا اور اسلم بھائی کا دبدبہ

Published

on


اور جناب ٹرمپ صاحب نے آٹھ جنگیں رکواتے رکواتے اپنے کندھے اسرائیل کے حوالے کر کے نویں جنگ چھیڑ لی۔اسے کہتے ہیں خرچے ساڈے تے نخرے لوکاں دے ( یعنی اسرائیل کے )۔

 سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی برملا اعتراف کیا ہے کہ امریکی سرزمین کو فوری ایرانی خطرہ نہیں ، چونکہ اسرائیل نے جنگ شروع کر دی تو امریکا بھی مروتاً اس کا حصہ بن گیا۔مگر ایران کا غصہ گھوم پھر کے امریکیوں پر ہی نکلنا تھا لہذا ہم بھی انھیں بچانے کے لیے احتیاطاً اس جنگ کا حصہ بن گئے۔سی آئی اے نے بھی امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی کو یہی شہادت دی کہ ایران امریکا کے لیے براہِ راست خطرہ نہیں۔ جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگراں ادارے آئی اے ای اے کی بھی یہی رائے ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ چار پانچ ہفتے میں نتیجہ سامنے آ جائے گا۔اب ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگزتھ کہہ رہے ہیں کہ معاملہ ستمبر تک بھی طول پکڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ساہوکاروں نے حساب کتاب لگایا ہے کہ اگر یہ جنگ تین ماہ چلتی ہے تو امریکی ٹیکس دھندگان کے کم ازکم ڈھائی سو ارب ڈالر چولہے میں چلے جائیں گے۔ابھی امریکا کے خلیجی اتحادیوں کے نقصان کی پیمائش باقی ہے جو تیل اور گیس کی رکی ہوئی پیداوار اور سرمایہ کاری میں انجماد کی شکل میں کھرب ہا ڈالر میں جا سکتا ہے۔

ہمارے محلے میں ایک اسلم بھائی ہوا کرتے تھے۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اچھے وقتوں میں پانچ چھ قتل کیے تھے۔اس مشہوری کے سبب آخری وقت تک اتنی دھاک تھی کہ اسلم بھائی سے علاقے کے لوگ فیصلے کرواتے تھے۔اسلم بھائی کی پرچی بازار میں چلتی تھی اور تھانے والے اسلم بھائی کے حجرے میں جوتے باہر اتار کر داخل ہوتے تھے۔

کم ازکم ہم بچوں نے اسلم بھائی کو کبھی چیخ کر بات کرتے یا کسی کو گالیاں دیتے نہیں دیکھا۔اصلی ڈان کو نہ تو آواز اونچی کرنی پرتی ہے اور نہ ہی کسی ایرے غیرے سے ترکی بہ ترکی الجھنا پڑتا ہے۔ شخصیت اور پراسراریت کا دبدبہ ہی پیشاب خطا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

مگر امریکا کیسا عالمی دادا ہے جسے اپنی عظمت منوانے کے لیے ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی چھوٹے بڑے یا راہ چلتے سے گتھم گھتا ہونا پڑتا ہے۔القاعدہ جیسے گروہ نے نائن الیون کو چماٹ مار دی اور امریکا اس کی تلاش میں اتنا باؤلا ہوا کہ ہر آتے جاتے کو چھریاں مار دیں۔جو بھی ملک پاؤں تلے آیا روند ڈالا مگر ویسی دھشت پھر بھی قائم نہ ہو سکی۔

گمشدہ دبدبے کی تلاش میں پچھلے چھبیس برس میں امریکا چار جنگیں لڑ چکا ہے اور دس ممالک پر بمباری کر چکا ہے ( افغانستان ، ایران ، یمن ، عراق ، پاکستان ، صومالیہ ، لیبیا ، شام ، وینزویلا ، نائجیریا)۔ اس دوران ہر آڑے ٹیڑھے سے دھول دھپا اور ماں بہن تو خیر روزمرہ کا معمول ہے۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیرز کے تحقیقی ریکارڈ کے مطابق نائن الیون کے بعد سے اب تک افغانستان ، پاکستان ، عراق ، شام ، یمن سمیت متعدد بحرانی علاقوں میں امریکی پالیسیوں کے سبب ساڑھے نو لاکھ انسان ہلاک ہوئے ہیں۔ان میں وہ لاکھوں اموات شامل نہیں جو ان بحرانوں کے نتیجے میں بھوک ، بیماری اور نقلِ مکانی کی شکل میں ہوئیں۔

ان مہمات پر امریکا کے لگ بھگ پانچ اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر خرچ ہوئے۔اگر اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ دو اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر اسلحے اور فوجی نقل و حرکت کی مدد میں پینٹاگون نے خرچ کیے۔اس دوران پینٹاگون کو آٹھ سو چوراسی ارب ڈالر اضافی خرچے کی مد میں دیے گئے۔ایک اعشاریہ ایک ٹریلین ڈالر داخلی سلامتی کے ادارے ہوم لینڈ سیکیورٹی پر خرچ ہوئے۔چار سو پینسٹھ ارب ڈالر مختلف معرکوں میں بیمار ، زخمی اور اپاہج ہونے والے فوجیوں کے طبی و تیماری اخراجات کی مد میں صرف ہوئے جب کہ ایک ٹریلین ڈالر جنگی قرضوں کے سود اور واپسی کی مد میں ادا ہوئے۔ اگلے تیس برس میں جو جنگیں لڑنی ہیں ان میں حصہ لینے والے فوجیوں کی طبی دیکھ بھال کے لیے ابھی سے دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر الگ سے رکھ دیے گئے ہیں ( اسے کہتے ہیں جنگجویانہ دور اندیشی )۔

اگر ہم نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی چار بڑی جنگوں کو الگ الگ دیکھیں تو اس میں جنگِ افغانستان سرِ فہرست ہے۔اس مہم کا نام آپریشن اینڈیورنگ فریڈم ( دائمی آزادی کا معرکہ) رکھا گیا۔آج آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افغانستان کس قدر ’’ دائمی‘‘ آزاد ہے۔ امریکی تاریخ کی اس سب سے طویل ( بیس برس ) بیرونی مہم میں سرخروئی کے لیے چار امریکی صدور نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔دو لاکھ اکتالیس ہزار انسانی جانیں گئیں پھر بھی آخر میں سرپٹ بھاگنا پڑ گیا۔

اس عدد کو توڑا جائے تو تصویر یوں بنتی ہے کہ بیس برس میں اکہتر ہزار تین سو چوالیس سویلین مارے گئے۔ان میں چوبیس ہزار ننانوے پاکستانی سویلینز بھی شامل ہیں۔تین ہزار پانچ سو چھیاسی امریکی اور ناٹو فوجی ، اٹھہتر ہزار تین سو چودہ افغان فوجی اور پولیس اہلکار ( بشمول نو ہزار تین سو چودہ پاکستانی سیکیورٹی اہلکار ) جان سے گئے۔ چوراسی ہزار ایک سو اکیاون مخالف چھاپہ مار ہلاک ہوئے (اکیاون ہزار ایک سو اکیانوے افغانستان میں اور تینتیس ہزار پاکستان میں )۔ مگر بیس برس میں افغانستان پر دو اعشاریہ چھبیس ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا نتیجہ کیا نکلا ؟ جن طالبان سے حکومت چھینی تھی انھیں ہی امانت لوٹا کر رخصت ہونا پڑا۔

عراق کو جمہوریت کا گہوارہ بنانے کی جنگ آٹھ برس تک لڑی گئی۔عراق گہوارہ تو کیا بنتا البتہ دو لاکھ دس ہزار عام شہریوں کو تابوت میں بند کر دیا گیا۔

اس عرصے میں پاکستان ، صومالیہ اور ایران ڈرون جنگوں کا نشانہ بنے۔دو ہزار گیارہ میں لیبیا کو ’’ مہذب ‘‘ بنانے کے لیے ناٹو نے امریکی قیادت میں ملک کا تیاپانچا کر دیا۔آج لیبیا میں دو متوازی حکومتیں ہیں اور خانہ جنگی بھی جاری ہے۔شام کی شکل بگڑ چکی ہے۔صومالیہ تین ٹکڑوں میں تقسیم ہے اور یمن برادر ممالک کی جنگی شطرنجی بساط پر دنیا کا سب سے دربدر ملک بن چکا ہے اور امریکا خلیج میں نئے اسائنمنٹ پر اسی پرانے جذبے سے لگا پڑا ہے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

Published

on



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کےاجلاس میں پیٹرولیم و گیس کے شعبے میں جاری اور مکمل منصوبوں، کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور بجلی کے شعبے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے ملک میں موجود ذخائر کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کے لیے کافی تھے۔

چیئرمین کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔

انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ منصوبہ عدم پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے 0.04 ملین امریکی ڈالر سود کی مد میں ادا کر چکی ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے قرضے کے عدم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ یہ صورتحال منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے ایس ایس جی سی ایل کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکےاجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن ایفیشنسی امپروومنٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ارکان کمیٹی نے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری میں تاخیر اور کنسلٹنٹس کی تقرری کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر 18 ماہ لگے کمیٹی نے زور دیا کہ خریداری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جائے اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کے عمل اور کنسلٹنٹ کی تقرری کی تفصیلات پر مشتمل ایک صفحے کی۔

رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائےکمیٹی نے 765 کے وی اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے میں ٹھیکیدار کو ٹیکسز کی مد میں کی جانے والی ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے متعلق اپنی سابقہ سفارش پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔

نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کیا جبکہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آ چکا ہے اور آئندہ اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

رقم کی مسلسل عدم وصولی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے رقم کی وصولی کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عید سے قبل رقم وصول کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا جائے گا۔

وزارت کو ہدایت کی گئی کہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی کمیٹی کو فراہم کی جائےاجلاس میں اے ڈی بی 401B-2022 لاٹ ٹو اے (اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر) سے متعلق سفارش پر بھی غور کیا گیا اور وزارت توانائی کے سیکریٹری کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے اور آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق جاری منصوبہ ایکشنز ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار اِنکلوسیو اینڈ رسپانسیو ایجوکیشن (سے ایس پی آئی آر ای) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پسماندہ اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے صوبوں کو 24 ارب روپے فراہم کیے ہیں صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمیٹی نے پنجاب میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کی غیر تکنیکی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیاجس پر بتایا گیا کہ ایس ایم سی پالیسی میں حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور محفوظ کلاس رومز کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔

خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے صوبے میں (سے ایس پی آئی آر ای)  منصوبے کی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کیاکمیٹی نے تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان کے نمائندے کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔



Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان سے دہشت گردی دنیا بھر کے امن وسلامتی کیلئے خطرہ ہیں، عاصم افتخار

Published

on



نیویارک:

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

اپنے بیان میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے جو خطے میں خطرناک سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ 26 فروری کو طالبان رجیم نے پاکستان پر بلاجواز حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔

عاصم افتخار کے مطابق افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جن کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک محفوظ اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کے لیے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد میں پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک

Published

on



حیدرآباد:

ٹنڈو یوسف میں فتح باغ کے قریب پولیس اور منشیات فروشوں کے درمیان مبینہ مقابلے میں بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کی لاش سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ اس کے قبضے سے پستول اور بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق لال بخش عرف نانو کرسٹل آئس اور چرس کا نامی گرامی ڈیلر تھا اور وہ منشیات فروشی، پولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین نوعیت کے 14 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending