Connect with us

Today News

بڑھتے حکومتی اخراجات کا عوام پر مزید بوجھ

Published

on


ایک آزاد تھنک ٹینک کے مطابق حکومت پاکستان عوام پر مسلسل مالی بوجھ بڑھانے میں مصروف ہے توگزشتہ تین برس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات پرکنٹرول نہیں کر رہیں بلکہ اپنے حکومتی اخراجات مسلسل بڑھا رہی ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے۔

نان انٹرسٹ اخراجات میں 70 فی صد اور عملے سے متعلق اخراجات میں 59 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کے مطابق GCDA میں بدعنوانی کے خطرات کو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حکومت نے اس سلسلے میں جو اقدامات کیے ہیں، انھیں تھنک ٹینک نے کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سیاسی طور پر حساس اصلاحات اور ادارہ جاتی خود مختاری پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر جی ڈی پی کے 56 فی صد کے برابر بنیادی سرپلس ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ایڈجسٹمنٹ ہے اور اس میں 73 فی صد بوجھ محصولات کے ذریعے ڈالا گیا ہے جس کا زیادہ تر اثر پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے باقاعدہ کاروباروں، تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد پر پڑا ہے اور عوام پر بھی اثر پڑا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق 2022 سے حکومت نے مسلسل مالی استحکام ضرور حاصل کیا ہے جس سے آئی ایم ایف کسی حد تک ضرور مطمئن ہے مگر عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضوں کی منظوری میں تاخیر پہ تاخیر ضرور کرتا ہے مگر انکار نہیں کرتا۔ تاخیر بھی جان بوجھ کر کی جاتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف جانتا ہے کہ اپنے فالتو اخراجات پورے کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی برائے نام ادائیگی کے لیے حکومت پاکستان ہماری ہر شرط تسلیم کرے گی اور اپنے عوام پر محصولات کا بوجھ بڑھائے گی مگر قرضہ لینے سے انکار کبھی نہیں کرے گی کیونکہ اپنے شاہانہ حکومتی اخراجات پورا کرنے ، اپنوں کو مسلسل نوازنے اور غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ بنانے والوں کے لیے سخت سے سخت شرائط مان کر بھی قرض لینا حکومت پاکستان کی مجبوری بن چکی ہے۔

حکومت خود تسلیم کر چکی ہے کہ ہمیں قرض کے لیے آئی ایم ایف کے گھٹنوں میں بیٹھنا اور ہر شرط ماننا پڑتی ہے تب کہیں وہ اپنی شرط منوا کر اور تاخیری حربے اختیار کرکے قرض کی منظوری دیتا ہے مگر انکار نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف نے قرض ضرور دینا ہے اور قرضوں پر ملنے والے سود کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف کا کاروبار چلتا ہے۔

آئی ایم ایف کو پاکستانی عوام کا کوئی احساس نہیں ہے بلکہ وہ اپنی شرائط سے پاکستانیوں پر مہنگائی مسلط کراتا اور محصولات بڑھوانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات پر تو کمی نہیں کرے گی تاکہ قرض ادا کرسکے، اس لیے آئی ایم ایف اپنے قرض کی وصولی کے لیے حکومت کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھواتا ہے اور بے بس عوام ہر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی احکامات ماننے سے انکار کی طاقت نہیں ہے۔

وہ حکومت کا ہر عوام دشمن فیصلہ ماننے پر مجبور ہیں اور حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج یا سڑکوں پر آنے کی سکت ہی نہیں رکھتے، اس لیے موجودہ حکومت نے اپنے ساڑھے تین سالوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا بلکہ عوام پر محصولات کا بوجھ ہی بڑھایا ہے اور عوام مہنگائی برداشت کر رہے ہیں۔ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے، ٹیکس ادا کرنے والوں پر ہر بجٹ میں بوجھ بڑھا دیتی ہے اور محکمہ خزانہ اس واویلے کا عادی ہو چکا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے جب کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت نے تو بچوں کو بھی نہیں بخشا اور بچوں کی اشیا پر بھی سیلز ٹیکس عائد کر رکھا ہے۔

حکومت خود سادگی اختیارکرنے پر یقین نہیں رکھتی بلکہ صرف عوام کو ٹیکسوں کے ذریعے نچوڑنے پر ہی یقین رکھتی ہے۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے مسلسل بڑھا رہی ہے جس کی تقلید صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں۔ کہنے کے لیے اٹھارویں ترمیم میں وفاق اور صوبوں میں کابینہ ارکان کی تعداد کم کرنے کا ذکر ضرور ہے مگر وفاق میں اس پر عمل ہو رہا ہے نہ صوبوں میں بلکہ وزیروں، مشیروں اور معاونین خصوصی کے علاوہ بھی بے شمار کوآرڈینیٹر مقرر کر رکھے ہیں اور اپنوں کو مختلف تخلیق کیے گئے عہدوں پر تعینات کرکے نواز رکھا ہے۔

وفاق نے صوبوں میں اپنے خصوصی نمایندے مقرر کر رکھے ہیں۔ سندھ میں محکمہ اطلاعات موجود ہے مگر لاتعداد حکومتی ترجمان مقررکر رکھے ہیں اور ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہوا ہے مگر عوام کے لیے ان حکومتوں کے پاس ریلیف یا سہولتیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومتی اخراجات بڑھنے کا سارا بوجھ عوام پر پڑا ہوا ہے اور عوام حکومتوں کے سرکاری حکام کو ہی نہیں بلکہ سیاسی حامیوں کو بھی پال رہے ہیں۔

صدر مملکت ہوں یا وزیر اعظم اور صوبوں میں بادشاہ بنے ہوئے وزرائے اعلیٰ کوئی عوام کی بات نہیں کرتا، نہ کبھی بے روزگاری اور مہنگائی کا ذکر ان کی زبانوں پر آتا ہے۔ وفاق اپنے مالی وسائل کم ہونے اور صوبوں کے وسائل کم ہونے کا رونا روتا ہے مگر وزیر اعظم اپنے غیر ملکی دورے کم کرنے پر تیار ہیں نہ حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے کی روادار ہیں جس کا واضح ثبوت حکومتی اخراجات میں ساٹھ فی صد اضافہ ہے۔ کاش! حکومتیں قرضے لینا چھوڑیں اپنے وسائل میں رہ کر خرچ کریں تو عوام پر بڑھتا مالی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

Published

on



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کےاجلاس میں پیٹرولیم و گیس کے شعبے میں جاری اور مکمل منصوبوں، کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور بجلی کے شعبے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے ملک میں موجود ذخائر کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کے لیے کافی تھے۔

چیئرمین کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔

انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ منصوبہ عدم پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے 0.04 ملین امریکی ڈالر سود کی مد میں ادا کر چکی ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے قرضے کے عدم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ یہ صورتحال منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے ایس ایس جی سی ایل کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکےاجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن ایفیشنسی امپروومنٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ارکان کمیٹی نے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری میں تاخیر اور کنسلٹنٹس کی تقرری کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر 18 ماہ لگے کمیٹی نے زور دیا کہ خریداری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جائے اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کے عمل اور کنسلٹنٹ کی تقرری کی تفصیلات پر مشتمل ایک صفحے کی۔

رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائےکمیٹی نے 765 کے وی اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے میں ٹھیکیدار کو ٹیکسز کی مد میں کی جانے والی ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے متعلق اپنی سابقہ سفارش پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔

نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کیا جبکہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آ چکا ہے اور آئندہ اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

رقم کی مسلسل عدم وصولی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے رقم کی وصولی کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عید سے قبل رقم وصول کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا جائے گا۔

وزارت کو ہدایت کی گئی کہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی کمیٹی کو فراہم کی جائےاجلاس میں اے ڈی بی 401B-2022 لاٹ ٹو اے (اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر) سے متعلق سفارش پر بھی غور کیا گیا اور وزارت توانائی کے سیکریٹری کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے اور آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق جاری منصوبہ ایکشنز ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار اِنکلوسیو اینڈ رسپانسیو ایجوکیشن (سے ایس پی آئی آر ای) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پسماندہ اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے صوبوں کو 24 ارب روپے فراہم کیے ہیں صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمیٹی نے پنجاب میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کی غیر تکنیکی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیاجس پر بتایا گیا کہ ایس ایم سی پالیسی میں حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور محفوظ کلاس رومز کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔

خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے صوبے میں (سے ایس پی آئی آر ای)  منصوبے کی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کیاکمیٹی نے تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان کے نمائندے کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔



Source link

Continue Reading

Today News

افغانستان سے دہشت گردی دنیا بھر کے امن وسلامتی کیلئے خطرہ ہیں، عاصم افتخار

Published

on



نیویارک:

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

اپنے بیان میں عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے اور افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے پاکستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کے دوران غیر ملکی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے جو خطے میں خطرناک سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ 26 فروری کو طالبان رجیم نے پاکستان پر بلاجواز حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن فورسز اور دہشت گردوں کو نشانہ بنایا۔

عاصم افتخار کے مطابق افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں موجود ہیں جن کے خلاف مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک محفوظ اور پرامن افغانستان کا خواہاں ہے اور خطے میں امن کے لیے دوحہ معاہدے پر عملدرآمد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

حیدرآباد میں پولیس مقابلہ، بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک

Published

on



حیدرآباد:

ٹنڈو یوسف میں فتح باغ کے قریب پولیس اور منشیات فروشوں کے درمیان مبینہ مقابلے میں بدنام زمانہ منشیات ڈیلر لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا۔

پولیس ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی تو ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران ملزم لال بخش عرف نانو ہلاک ہوگیا جبکہ اس کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم کی لاش سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ اس کے قبضے سے پستول اور بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔

ترجمان کے مطابق لال بخش عرف نانو کرسٹل آئس اور چرس کا نامی گرامی ڈیلر تھا اور وہ منشیات فروشی، پولیس مقابلوں سمیت دیگر سنگین نوعیت کے 14 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔





Source link

Continue Reading

Trending