Today News
بننے بنانے والے اور بنانا اسٹیٹ
ہمیں یاد ہے ایک زمانے میں ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ کا ذکر اخباروں میں آتا رہتا تھا اکثر دانا دانشور اپنے ملفوظات کو عوام الناس کے ساتھ شئیر کرتے تھے جس طرح آج کل شئیر کررہے ہیں اور عوام کی عاقبت سنوارا کرتے تھے چونکہ بات ذرا اونچے لیول یعنی داناؤں اور دانشوروں کی تھی اور ہم ٹھہرے جاہل اجڈ عامی امی اس لیے زیادہ پروا نہیں کرتے تھے البتہ کبھی کبھی خیال آجاتا کہ کیا نصیب ہوگا،کیا اسٹیٹ ہوگا لوگ جی بھر کر کیلے کھاتے ہوں گے، جوس پیتے ہوں گے۔
دراصل ان دنوں ہمارے ہاں کیلے بہت مہنگے ہوگئے تھے کیونکہ جب صبح ٹھیلے والے کیلے لگاتے تو بیس روپے درجن ہوتے تھے لیکن جب ان پر پولیس والے ٹریفک والے بلدیہ والے، نرخوں والے اور پیچھے والے دکانداروں کا سیلاب گزرجاتا اور ہر ایک۔ایک دو۔یا تین درجن کیلے مفت میں لے جاتا تھا تو کیلے پچاس روپے درجن ہوجاتے تھے۔ ایسے میں کسی ایسی اسٹیٹ کا تصور ہی دل خوش کن تھا جو کیلوں کی بہتات کی وجہ سے کیلوں کا دیس کہلاتا تھا۔لیکن پھر کسی نے ہمارا یہ تصور بھی غارت کردیا کہ بنانا اسٹیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کیلے زیادہ اور سستے ہوتے ہیں بلکہ اس کا مطلب کچھ اور ہے۔اب اس کچھ اور’’مطلب‘‘ کے لیے پھر دانشوری کی ضرورت ہوتی جو ہمارے پاس نہیں تھی۔اس لیے کیلوں پر صبر کرکے بیٹھ جاتے۔ لیکن پھر ایک دن اچانک بالکل خلاف توقع طور پر ہماری سمجھ دانی میں آگیا کہ
جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
وہ’’بنانا اسٹیٹ‘‘ تو یہی تھی جس میں ہم اس وقت رہ رہے ہیں یا اگر وہ کوئی اور انگریزی ’’بنانا‘‘ والا اسٹیٹ تھی تو ہوگی لیکن اردو’’بنانا‘‘ اسٹیٹ تو یہ ہماری ہی مملکت عزیز ہے۔ جہاں ’’بنانا‘‘ ایک باقاعدہ ہنر ہے، پیشہ ہے اور صنعت ہے۔جہاں اُلو بھی ’’بنائے‘‘ جاتے ہیں، اُلو کے پٹھے بھی۔ اور ماموں بھی بلکہ ضرورت پڑنے پر گدھے کو بھی’’باپ‘‘ بنایا جاتاہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اتنی گہری دانشوری کی بات ہماری غیردانا دانشور کھوپڑی میں آئی کیسے؟ تو جواباً عرض ہے کہ اس کے لیے ہمیں دو دانی عورتوں ’’دانش وریوں‘‘ کا ممنون ہونا چاہیے۔ جن میں ایک تو اختری بائی فیض آبادی عرف بیگم اختر تھی جس سے ہم نے سنا کہ
دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنادے
ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنادے
اور یہیں پر ایک مرتبہ’’بنانا‘‘ کی طرف دھیان چلا گیا کہ یہ بنانا کوئی کیلا نہیں بلکہ کوئی کھیل ہے جس میں کسی کو کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے اور پھر خدا ہمیشہ خوش رکھے محترمہ صوفیہ عابدہ پروین کو۔خدا نظر بد سے بچائے رکھے اور صحت دن دونی رات چوگنی ترقی کرے کہ اس نے سارا مسئلہ حل کردیا کہ
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشا نہ بنا
اور پھر
تو نے کیا کیا نہ بنایا
اور میں کیا کیا نہ بنا
ارے یہ تو خود ہماری یعنی کالانعاموں کی بات ہورہی ہے بلکہ پوری’’خرگزشت‘‘بیان کی جا رہی ہے، واقعی کس کس نے ہمیں کیا کیا نہ بنایا اور ہم کیا کیا نہیں بنے؟ بلکہ بنتے تھے بن رہے ہیں اور بنتے رہیں گے۔’’بننے‘‘ کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ کوئی شخص آتا ہے اس کے پاس نہ کوئی نظریہ ہے نہ کوئی پروگرام ہے نہ کوئی مہارت ہے، نہ کوئی ہنر ہے صرف ایک ڈگڈگی ہے وہ بھی بے سری اور وہ ایک دنیا کو’’بنا‘‘ دیتا ہے اس پر سوار ہوجاتا ہے اور اس نئے بنانے کو کبھی اس طرف دوڑاتا ہے کبھی اس طرف۔ اب ہم اسے’’بنانا‘‘ نہ سمجھیں تو اور کیا سمجھیں اور جہاں اتنے ’’بنانے والے‘‘ ہوں اور اتنے زیادہ بننے والے بھی ہوں تو ہم اسے بنانا اسٹیٹ۔یا ریاست بنانا نہ کہیں تو کیا کہیں گے۔ہے نا کمال کی بات۔ اور اس بات پر آپ کو ہماری پیٹھ ٹھونکنی چاہیے۔ لیکن ہماری پیٹھ اگر رسائی میں نہیں تو خود اپنی ’’پیٹھ ٹھونکیے‘‘کہ آپ بھی بننے والوں میں سے ہیں، غرور ہمیں پسند نہیں ورنہ ہم کولمبس ہونے کا دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ آخر ہم نے ایک بنانا ’’اسٹیٹ‘‘ یا ریاست بنانا دریافت کیا ہے۔اور وہ بھی بغیر کسی بحری یا بری سفر کیے، بیٹھے بٹھائے اس بنانا اسٹیٹ میں جو ہم نے دریافت کیا ہے، بنانے کا کام اتنے وسیع پیمانے پر ہورہا ہے کہ کسی اور کام کے لیے کسی کے پاس وقت ہی نہیں بچتا
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی اپنے آشیانے کو
چونکہ ہمیں اس بنانا اسٹیٹ یعنی بنانا ریاست یا بنانا فیکٹری کو ’’بناتے‘‘ بناتے ہوئے ستراسی سال ہوگئے ہیں۔اس لیے اس کام میں اتنے بڑے بڑے اور ایسے بنانے والے پیدا ہوگئے ہیں کہ جب بناتے ہیں تو اس کمال سے بناتے ہیں کہ خود’’بننے والے‘‘ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ میں ’’بن‘‘ رہاہوں یا بن گیا ہوں ہم نے خود ایسے لوگوں کو دیکھا جو بنے ہوئے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں کہ ہم بنائے گئے ہیں یا بنائے جارہے ہیں۔ ہم نے ایک ماہر بنانا سے پوچھا کہ آخر ہمارے اس بنانا اسٹیٹ میں یہ بنانے کاکام اتنے وسیع پیمانے پر کیسے شروع ہوا۔اور بھی تو ملک ہیں۔
وہاں اتنی صفائی سے اور اتنے وسیع پیمانے پر بنانے کا کام نہیں ہوتا جتنا ہمارے ہاں ہوتا تو اس ماہر نے ہمیں سمجھایا کہ دراصل یہ کمال بنانے والوں کا نہیں بلکہ بننے والوں کا ہے، اس ملک میں چونکہ بننے والوں کی بہتات ہے قدم قدم پر ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں اور جہاں خام مال اتنا زیادہ ہو تو ظاہر ہے کہ وہاں فیکٹریاں بھی زیادہ لگ جاتی ہیں اور بنانے والے بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔اون فیکٹری وہاں لگتی ہے جہاں اون زیادہ ہو، شوگر کے کارخانے گنے کی پیداوار والے علاقوں میں لگتے اور کپڑے کے کپاس کی پیداوار والے میں۔اب کون ہوگا جو افغانستان میں شوگر مل لگائے یا سعودی عرب میں کاٹن مل لگائے یا ملتان میں پوستین بیچے اور سوات دیر چترال میں برف کا کارخانہ۔
Today News
PM Shahbaz Sharif address nation
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم برادر مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت میں ملک دیوالیہ ہونے والا تھا مگر ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معشیت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے
ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا، حکومت کی کوشش ہوگی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس حوالے سے دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں اور انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں، اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھا، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلیے آگے بڑھ کر قربانی دی، اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔
حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔
- آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
- ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے۔
- دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
- وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی۔
- تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
- وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی۔
- سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی۔
- سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد
- سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی
ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں
- انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی۔
- بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
- وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔
Today News
بحرین کی توانائی کمپنی باپکو کا فورس میجر کا اعلان، معاہدوں کی تکمیل مشکل
ایران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو نے فورس میجر کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو انرجیز نے ایرانی حملوں کے بعد اپنے معاہدوں کی تکمیل سے معذرت کرلی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں بحرین کی 90 سال پرانی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جس کے بعد پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اس ریفائنری کی استعداد بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ تک کی گئی تھی جبکہ پلانٹ میں جدید یونٹس نصب کیے گئے تھے جو جیٹ فیول اور ڈیزل کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث کمپنی کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں تاہم مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔
معاملہ صرف باپکو کا ہی نہیں، ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں قطر انرجی نے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹ سے متعلق بھی فورس میجر کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب کویت نے بھی اپنے آئل فیلڈز اور ریفائنریز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے۔
فورس میجر کیا ہوتا ہے؟
فورس میجر ایک معاہداتی شق ہوتی ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات جیسے جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی صورتحال میں کمپنی کو عارضی طور پر معاہدوں کے تحت ترسیل یا سپلائی روکنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
Today News
فرانس کا تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلیے آبنائے ہرمز میں بحری اسکواڈ بھیجنے کا منصوبہ
ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیش نظر فرانس نے بڑا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دفاعی نوعیت کے مشن کی تیاری جاری ہے جس میں یورپی اور دیگر اتحادی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ اس مشن کا مقصد جنگ کی شدید ترین صورتحال ختم ہونے کے بعد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے کے لیے بحری اسکواڈ فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ 8 جنگی جہازوں، دو ہیلی کاپٹر کیریئرز اور طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک بھی تعینات کیا جائے گا جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ دیا جاسکے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے یہ بیان اس وقت دیا جب گزشتہ ہفتے قبرص پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر قبرص پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے یورپ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کے آئل ٹینکرز دنیا بھر کی جانب جاتے ہیں۔ ایران نے اس گزرگاہ کو بند کردیا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Entertainment2 weeks ago
Celebrities Make Fun of Fiza Ali’s Over Emotional Acting for Views
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper