Today News
پاک افغان کشیدگی، چین کی سفارتی کوششیں
افغانستان کے حکمرانوں نے اول روز سے پاکستان کی مخالفت کو ریاستی پالیسی کے طور پر اختیار کیے رکھا ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا معاملہ ہو یا بھارت کے ساتھ تنازعات ہوں، افغانستان نے ہمیشہ وہ موقف اختیار کیا جو پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفادات کے برعکس ہو۔ اب دہشت گردی کے ایشو پر بھی ، طالبان حکمرانوں نے پاکستان دشمنی پر مبنی پالیسی اختیار کر رکھی اور دنیا بھر کے تسلیم شدہ دہشت گرد گروہوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رکھی ہے بلکہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
افغانستان میں مقیم دہشت گرد گروہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہیں، یوں پاکستان کو اپنی سالمیت اور عوام کے تحفظ کے لیے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا ہے۔ اب افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپ مل کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کررہے ہیں جسے روکنے کے لیے پاکستان ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں کے نتیجے میں صورتحال خاصی کشیدہ ہو چکی ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں کا آغاز ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
چین کے خصوصی نمایندہ برائے افغانستان یو شیاو یونگ کا کابل کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے دوران انھوں نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کر کے خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پاکستان و افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں چین نے واضح طور پر زور دیا کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں کیونکہ اس کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی کا بنیادی سبب سرحد پار دہشت گردی اور سیکیورٹی کے مسائل ہیں۔ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد متعدد مواقع پر افغان حکومت کو اس بارے میں آگاہ اور شواہد پیش کر چکا ہے اور مطالبہ کرتا رہا ہے کہ ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے کی گئی اور ان حملوں کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانیں ضایع ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں سخت اقدامات کیے ہیں اور بعض مواقع پر سرحد پار کارروائیاں بھی کی ہیں۔
موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پرکیے گئے آپریشنز میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ عناصر مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے اور سرحد پار سے سرگرم تھے۔ ان کارروائیوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
قومی ایکشن پلان اور عزم استحکام جیسے اقدامات اسی پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی جڑیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس کی تاریخی بنیادیں بھی موجود ہیں۔ افغانستان کی جانب سے پیدا کیا گیا سرحدی تنازع، افغان مہاجرین کی طرف سے پیدا کردہ منشیات فروشی،اسمگلنگ اور دہشت گردی کے مسائل اور افغان پالیسیوں پر پاکستان کے اعتماد کی کمی کئی دہائیوں سے تعلقات کو متاثر کرتی رہی ہے۔ افغانستان نے طویل عرصے تک ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جب کہ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے۔ اسی طرح گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغانستان میں ہونے والی جنگوں اور عدم استحکام کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں آ کر آباد ہوئے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک پیچیدہ سماجی اور اقتصادی جہت بھی دی۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئے گی کیونکہ پاکستان نے ماضی میں افغان طالبان کی ہر مشکل وقت میں مدد کی تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ امیدیں پوری طرح حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کی کمی نے تعلقات کو ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں افغانستان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات میں تسلسل بڑے تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان حالات میں چین کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ چین نہ صرف پاکستان کا قریبی دوست اور اسٹرٹیجک شراکت دار ہے بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی اس نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین کے لیے اس خطے میں امن اور استحکام اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے کئی بڑے اقتصادی منصوبے اسی خطے سے جڑے ہوئے ہیں۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت چین ایشیا، یورپ اور افریقہ کو اقتصادی راہداریوں کے ذریعے جوڑنے کا منصوبہ رکھتا ہے جس میں پاکستان اقتصادی راہداری ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات ان اقتصادی منصوبوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
چین کو اپنی مغربی سرحدوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات لاحق رہتے ہیں۔ سنکیانگ کا علاقہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے قریب واقع ہے اور چین نہیں چاہتا کہ اس خطے میں عدم استحکام اس کے اندرونی علاقوں تک سرایت کرے۔ اسی لیے چین افغانستان میں استحکام کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔سفارتی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر چین کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ افغانستان جغرافیائی اعتبار سے وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہاں امن اور استحکام قائم ہو جائے تو یہ خطہ تجارت، توانائی اور ٹرانزٹ کے حوالے سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے کہ وہ افغانستان اور وسطی ایشیا کے ساتھ اپنے اقتصادی روابط کو مزید فروغ دے۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور پاکستان کے اعتماد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے میں عملی اقدامات کرے۔ سرحدی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مستقل رابطوں کو برقرار رکھا جانا چاہیے تاکہ علاقائی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔اسی طرح افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ عالمی برادری کو یہ یقین دلائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گی، اگر افغانستان واقعی خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے دہشت گردی کے خلاف واضح اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس کے بغیر نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا مشکل ہوگا بلکہ افغانستان کی عالمی سطح پر قبولیت بھی متاثر ہوگی۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت تدبر اور سفارتکاری کو ترجیح دے۔ چین کی حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک بھی علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اگر اس موقع کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے اور افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے اور خطے میں امن کے لیے تعاون کرے تو نہ صرف موجودہ بحران کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط علاقائی تعاون کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔خطے کے امن اور ترقی کا راستہ تعاون اور اعتماد سے ہو کر گزرتا ہے۔ افغانستان موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کرے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو آنے والے وقت میں جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک پائیدار امن اور اقتصادی ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
Today News
PM Shahbaz Sharif address nation
وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جبکہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو درپیش سنجیدہ اور پرخطر صورتحال پر آپ سے مخاطب ہوں، ایران اور مشرق وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہیں، انسانی جانوں کا ضیاع، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی تکلیف، امن کو لاحق خطرات گہری تشویش کا باعث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کوشش کررہا ہے کہ معاملات سفارتی انداز سے حل ہوں، ہمیں افغانستان سے بھی دہشت گردی کا سامنا ہے، دراندازی پر جواب میں بہادر افواج، پرعزم اور بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی قیادت میں وطن کی خودمختاری اور تحفظ اور شہریوں کی جانوں مال کو یقینی بنانے کا فریضہ ادا کررہی ہیں، جنہیں پوری قوم اور میں سلام پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، اہل خانہ اور معصوم ایرانیوں کی شہادت پر حکومت اور عوام نے دکھ کا اظہار کیا، پاکستان ایران پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم برادر مسلم ممالک، سعودی، قطر، کویت، بحرین، یو اے ای، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کرتے ہیں، جہاں انسانی جان کا ضیاع افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی گھڑی میں اپنے برادر اسلامی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی سلامتی اور استحکام کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے، حالیہ کشیدگی سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک 100 ڈالر سے تجاوز کرگئی، اگر حالات مزید بگڑے تو قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا، توانائی میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ بحران کم کیا جاسکے، ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ عالمی منڈی کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جنگ کے اثرات براہ راست توانائی پر پڑتے ہیں، عالمی سطح پر ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہورہے ہیں تاہم حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ عالمی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا، اس حوالے سے میرا دل اور دماغ کشمکش میں تھا، دماغ کہتا تھا قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی حل نہیں، دل کہتا تھا غریب نہ پس جائے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کہی زیادہ اضافے کی تجویز دی گئی مگر ہم نے مشاورت کے بعد درمیانی راستہ نکالا تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو مشکل معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایک وقت میں ملک دیوالیہ ہونے والا تھا مگر ہم نے سیاسی فائدے کو پس پشت ڈالا اور ریاست و معشیت اور آپ کے مفاد کو ترجیح دی، مشکل فیصلوں میں آپ نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، صبر حوصلے کا مظاہرہ کیا جس کے بعد مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی، پالیسی ریٹ آدھا ہوچکا، روپے کی قدر مستحکم ہے، بجلی کی قیمتوں میں بھی عرق ریزی سے کمی لائی گئی ہے، یہ فرد واحد کی کامیابی نہیں بلکہ قوم کی دعاؤں اور مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے
ایک بار پھر یقین دلاتا ہوں ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ آپ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اضافہ لازم ہوگا، حکومت کی کوشش ہوگی کہ تیل کی قیمتوں میں آئندہ اضافے کا بوجھ آپ پر نہ پڑے، اس حوالے سے دن رات مشاورت اور کاوشیں جاری ہیں اور انشاء اللہ آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اشرافیہ اور صاحب ثروت افراد، کڑے وقت میں قوم کا ساتھ دیں، اپنے دلوں میں خوف خدا پیدا کریں اور دکھی انسانیت کا ہاتھ تھا، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غریب، محنت کش اور تمام لوگ رزق حلال کمانے والے ہمیشہ وطن کیلیے آگے بڑھ کر قربانی دی، اشرافیہ اور صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھ کر کردار ادا کریں۔
حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں۔
- آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
- ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے۔
- دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
- وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی۔
- تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
- وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی۔
- سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی۔
- سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد
- سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی
ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں
- انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد اسٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی۔
- بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
- وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے۔
Today News
بحرین کی توانائی کمپنی باپکو کا فورس میجر کا اعلان، معاہدوں کی تکمیل مشکل
ایران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچ گئے جس کے نتیجے میں بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو نے فورس میجر کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی حکومتی توانائی کمپنی باپکو انرجیز نے ایرانی حملوں کے بعد اپنے معاہدوں کی تکمیل سے معذرت کرلی۔
کمپنی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک حملے میں بحرین کی 90 سال پرانی آئل ریفائنری کو نقصان پہنچا جس کے بعد پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اس ریفائنری کی استعداد بڑھا کر تقریباً 4 لاکھ بیرل یومیہ تک کی گئی تھی جبکہ پلانٹ میں جدید یونٹس نصب کیے گئے تھے جو جیٹ فیول اور ڈیزل کی زیادہ مقدار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باعث کمپنی کے آپریشن متاثر ہوئے ہیں تاہم مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔
معاملہ صرف باپکو کا ہی نہیں، ایران سے بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی توانائی کی صنعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں قطر انرجی نے دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (LNG) پلانٹ سے متعلق بھی فورس میجر کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب کویت نے بھی اپنے آئل فیلڈز اور ریفائنریز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے۔
فورس میجر کیا ہوتا ہے؟
فورس میجر ایک معاہداتی شق ہوتی ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات جیسے جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی صورتحال میں کمپنی کو عارضی طور پر معاہدوں کے تحت ترسیل یا سپلائی روکنے کی اجازت مل جاتی ہے۔
Today News
فرانس کا تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلیے آبنائے ہرمز میں بحری اسکواڈ بھیجنے کا منصوبہ
ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور آئل ٹینکرز پر حملوں کے پیش نظر فرانس نے بڑا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے قبرص کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایک دفاعی نوعیت کے مشن کی تیاری جاری ہے جس میں یورپی اور دیگر اتحادی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ اس مشن کا مقصد جنگ کی شدید ترین صورتحال ختم ہونے کے بعد کنٹینر جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے کے لیے بحری اسکواڈ فراہم کرنا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ 8 جنگی جہازوں، دو ہیلی کاپٹر کیریئرز اور طیارہ بردار بحری بیڑا بحیرہ روم، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز تک بھی تعینات کیا جائے گا جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ دیا جاسکے۔
صدر ایمانوئیل میکرون نے یہ بیان اس وقت دیا جب گزشتہ ہفتے قبرص پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اگر قبرص پر حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے یورپ پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کے آئل ٹینکرز دنیا بھر کی جانب جاتے ہیں۔ ایران نے اس گزرگاہ کو بند کردیا ہے۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Tech2 weeks ago
DIFC’s Dubai FinTech Summit Expands Globally with Pakistan Digital Authority
-
Entertainment2 weeks ago
Celebrities Make Fun of Fiza Ali’s Over Emotional Acting for Views
-
Magazines1 week ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
Story time: The dog without a leash!
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper