Connect with us

Today News

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

Published

on



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کےاجلاس میں پیٹرولیم و گیس کے شعبے میں جاری اور مکمل منصوبوں، کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں کے تعاون سے تعلیم کے شعبے میں جاری اقدامات اور بجلی کے شعبے سے متعلق کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے ملک میں موجود ذخائر کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا بوجھ بالخصوص کم آمدنی والے طبقات پر پڑتا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں تیل کی ذخیرہ اندوزی اور پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث وفاقی حکومت نے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا جبکہ دستیاب ذخائر صرف 20 سے 25 دن کے لیے کافی تھے۔

چیئرمین کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ حکومت کو ہوا یا او ایم سیز کو۔

انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن سے حالیہ تیل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ریٹ اینالیسز بھی طلب کر لیا، کمیٹی نے 200 ملین ڈالر کے نیچرل گیس ایفیشنسی پراجیکٹ کے قرضے کی منسوخی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا گیا کہ منصوبہ عدم پیش رفت کے باعث منسوخ کر دیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے 0.04 ملین امریکی ڈالر سود کی مد میں ادا کر چکی ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے قرضے کے عدم استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے کیا کارروائی کی گئی منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایس جی سی ایل نے کمیٹی کو بتایا کہ قرضے کی منسوخی سے متعلق تحریری شواہد محکمے کے پاس موجود ہونے چاہئیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ یہ صورتحال منصوبے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے ایس ایس جی سی ایل کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ دو روز کے اندر مفصل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکےاجلاس میں عالمی بینک کے تعاون سے جاری الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن ایفیشنسی امپروومنٹ پراجیکٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔

ارکان کمیٹی نے اے ایم آئی میٹرز کی خریداری میں تاخیر اور کنسلٹنٹس کی تقرری کے طویل عمل پر تشویش کا اظہار کیا، جس میں مبینہ طور پر 18 ماہ لگے کمیٹی نے زور دیا کہ خریداری کے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے چیئرمین نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کر کے مناسب کارروائی کی جائے اور پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ٹینڈرنگ کے عمل اور کنسلٹنٹ کی تقرری کی تفصیلات پر مشتمل ایک صفحے کی۔

رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائےکمیٹی نے 765 کے وی اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن منصوبے میں ٹھیکیدار کو ٹیکسز کی مد میں کی جانے والی ایک ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی بے ضابطہ ادائیگی کی وصولی سے متعلق اپنی سابقہ سفارش پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا۔

نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے کمیٹی کو منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی کی جانب سے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے نتائج سے آگاہ کیا جبکہ آڈیٹر جنرل کے دفتر کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (ڈی اے سی) میں زیر بحث آ چکا ہے اور آئندہ اسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

رقم کی مسلسل عدم وصولی پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔

وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کی درخواست پر چیئرمین کمیٹی نے رقم کی وصولی کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عید سے قبل رقم وصول کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، بصورت دیگر معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا جائے گا۔

وزارت کو ہدایت کی گئی کہ اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی کمیٹی کو فراہم کی جائےاجلاس میں اے ڈی بی 401B-2022 لاٹ ٹو اے (اے سی ایس آر بنٹنگ کنڈکٹر) سے متعلق سفارش پر بھی غور کیا گیا اور وزارت توانائی کے سیکریٹری کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر تفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ پیش کی جائے اور آئندہ اجلاس میں سیکریٹری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق جاری منصوبہ ایکشنز ٹو اسٹرینتھن پرفارمنس فار اِنکلوسیو اینڈ رسپانسیو ایجوکیشن (سے ایس پی آئی آر ای) پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پسماندہ اضلاع میں تعلیم کی بہتری کے لیے صوبوں کو 24 ارب روپے فراہم کیے ہیں صوبائی پراجیکٹ ڈائریکٹرز نے منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

کمیٹی نے پنجاب میں اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں (ایس ایم سیز) کی غیر تکنیکی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیاجس پر بتایا گیا کہ ایس ایم سی پالیسی میں حال ہی میں نظرثانی کی گئی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی طور پر مضبوط اور محفوظ کلاس رومز کی تعمیر یقینی بنائی جائے۔

خیبر پختونخوا کے نمائندوں نے بھی اپنے صوبے میں (سے ایس پی آئی آر ای)  منصوبے کی پیش رفت سے کمیٹی کو آگاہ کیاکمیٹی نے تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا تاہم چیئرمین کمیٹی نے بلوچستان کے نمائندے کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاسوں میں صوبے کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

پاکستان میں اربوں ڈالر کی نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

Published

on



اسلام آباد:

ایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمت عملی اورسہولت کاری کے باعث پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

چین کے ایرو اسپیس ڈیولپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ نے پاکستان میں 5 سے 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، چینی وفد نے وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ سے ملاقات میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

چینی وفد نے پاکستان میں معدنیات، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کمپنی وفد کو سرمایہ کاری سہولیات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کی سہولت اور کاروبار میں آسانی کے لیے ریگولیٹری اصلاحات جاری ہیں، سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں ٹیکس مراعات اور مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس استثنیٰ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمتِ عملی سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی پیش رفت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

لیتھوینیا نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو اپنی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دے دیا

Published

on


یورپی ملک لیتھوینیا نے افغانستان میں موجود دہشتگردوں کو اپنی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دے دیا۔

افغان دی خامہ پریس کے مطابق افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی میں افغانستان میں پنپتی دہشتگردی مختلف ممالک کیلئے خطرہ بن گئی۔ یورپی ملک  لیتھوینیا نے ملک میں دہشتگردی کے فروغ اور داعش خراسان کی جانب سے بھرتی کے خطرے کی وارننگ دیدی۔ لیتھوینیا نے افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش خراسان کو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا۔

لیتھوینیا کے حکام کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد تنظیم داعش نے لیتھوینیا میں شہریوں کو ورغلانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا، افغانستان میں موجوددہشت گرد تنظیمیں وسطی ایشیا کے نوجوانوں کو ہدف بنا کر پروپیگنڈا اور انتہا پسندانہ پیغامات پہنچاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کرغزستان بھی سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو دہشتگردی کیلئے ورغلانے پر کالعدم داعش پر شدید تشویش کا اظہار کر چکا ہے، افغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان فتنہ الخوارج، داعش، القاعدہ سمیت دیگر خطرناک دہشت گرد تنظیمیوں کیلئے جنت بن چکا ہے۔

عالمی ماہرین کے مطابق دہشت گردی کا فروغ اور انتہاپسندانہ  اقدامات افغان طالبان رجیم کو دنیا بھر میں  تنہا کر رہی ہیں، افغان طالبان رجیم  وار اکانومی، منشیات اور دہشت گردی سے حاصل  آمدن سے اپنے قابض اقتدار کو طول دینے میں مصروف ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Today News

مودی کے شائننگ انڈیا کےدعوے حقیقت سے کوسوں دور، بھارتی معیشت زوال پذیر

Published

on


بڑے بڑے انتخابی نعروں کے برعکس مودی کی ناقص معاشی کارکردگی کھل کرسامنے آگئی۔
 
نام نہاد بڑی معیشت کادعویٰ کرنے والی نااہل مودی سرکار کو برطانوی جریدہ”دی اکانومسٹ ” نے آئینہ دکھا دیا، دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی معیشت اتنی بڑی نہیں جتنی سمجھی جاتی ہے۔

برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی سرکاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، رواں سال فروری میں جاری ہونے والے نئے اعداد و شمار بھارتی معیشت کیلئے مایوس کن ثابت ہوئے، بھارت کا جی ڈی پی پہلے کے  مقابلے میں 3.3 فیصد کم رہا۔

معاشی ماہرین کے مطابق بھارت اب بیرونی سرمایہ کاری کیلئے ایک رسک مارکیٹ بن چکا ہے کیونکہ بھارتی معیشت مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی غیر مستقل معاشی پالیسیوں، بڑھتی بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی نے بھارتی معیشت کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننےکا خواب ناکام مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سےزمین بوس ہوچکا ہے۔

 





Source link

Continue Reading

Trending