Connect with us

Today News

یوم علی کے موقع پر ملک بھر میں جلوسوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ، علما کا اتفاق

Published

on



لاہور:

یومِ شہادتِ حضرت علیؓ کے موقع پر جلوسوں اور مجالس کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے جید علمائے کرام نے ملاقات کی جس میں ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 21 رمضان المبارک کو یوم شہادت علیؓ کے موقع پر پاکستان بھر میں نکالے جانے والے تمام جلوس نماز مغرب تک ختم کر دیے جائیں گے جبکہ دیگر جلوسوں کا دورانیہ بھی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عزاداروں کی حفاظت اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ علمائے کرام نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور آج پاکستان ایک بار پھر آپ سے اتحاد و اتفاق کا تقاضا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں علمائے کرام کو بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔

ملاقات میں پاکستان بھر کے اہل تشیع کے جید علمائے کرام نے حکومت پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دشمن کی سازش کو اتفاق اور اتحاد کی قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی پر تمام علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی موجود تھے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

حکومت خیبرپختونخوا کا ایندھن بحران کے پیش نظر اہم فیصلہ

Published

on


خیبرپختونخوا میں جامعات اور ڈگری ایوارڈنگ اداروں کے اوقات کار میں عارضی تبدیلی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبے بھر کی تمام سرکاری و نجی جامعات جمعہ اور ہفتہ کو بند رہیں گی۔ڈگری ایوارڈنگ ادارے اور کالجز بھی جمعہ اور ہفتہ کو بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

باقی ایام میں جامعات کو ہائبرڈ یا آن لائن تدریسی نظام اپنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں کی صورتحال کے باعث متبادل تدریسی طریقہ کار اپنانے کی تجویز پر عملدرامد شروع ہوگیا ہے۔

اعلامیے میں تعلیمی اداروں کے لیے ہائبرڈ اور آن لائن کلاسز کو ترجیح دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

فیصلے کا اطلاق ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے ہوگا۔ نئی ہدایات جاری ہونے تک موجودہ انتظامات برقرار رہیں گے۔

ہائیر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
 





Source link

Continue Reading

Today News

قومی اسمبلی میں بلز کی منظوری، حکومتی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آ گئیں

Published

on



اسلام آباد:

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ایوان نے متعدد اہم قانون سازی کی منظوری دے دی۔

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے مجموعہ فوجداری ترمیمی بل 2025 منظور کرلیا جبکہ پاکستان کے نام نشانات کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل 2025 بھی ایوان سے منظور کرلیا گیا۔ اسی طرح قومی اسمبلی نے لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 بھی منظور کرلیا۔

لازمی تھیلیسمیا اسکریننگ بل 2025 کے متن کے مطابق شادی سے پہلے میاں بیوی کے لیے تھیلیسمیا ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ نکاح خواں اگر تھیلیسمیا ٹیسٹ کے بغیر نکاح رجسٹرڈ کرے گا تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

یہ بل پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے پیش کیا جبکہ جے یو آئی کی رکن نعیمہ کشور کی ترمیم مسترد کر دی گئی۔

اجلاس کے دوران قومی اسمبلی نے سول ملازمین ترمیمی بل 2024 بھی منظور کرلیا جو پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے جے یو آئی پر حکومت سے مک مکا کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے حکومتی بلز پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جبکہ ارکان کے نجی بلز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

اس پر جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اپنے بلز پر حکومت پر مک مکا کرتی ہے تو اس وقت کہاں ہوتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے سول ملازمین بل کو آئین کی روح کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی کوٹہ سسٹم نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے اور اس میں مزید اقلیتیوں اور دیگر کے کوٹے شامل کیے جا رہے ہیں جبکہ بل میں خواتین کے کوٹے بھی ڈالے جا رہے ہیں۔

بعد ازاں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تجویز پر بل کو منظوری کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

قومی اسمبلی نے نصاب تعلیم، درسی کتب اور تعلیمی معیارات کی وفاقی نگرانی سے متعلق ترمیمی بل 2026 بھی منظور کرلیا۔

اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی جماعتیں بھی آمنے سامنے آ گئیں جب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے ایک بل کی مخالفت کر دی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے خواجہ اظہار الحسن کے بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کو منظور نہ کیا جائے اور اس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کمیٹی سے پاس ہو چکا ہے، اسے منظور کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے بل مؤخر کرنے کی تجویز دی جس کی وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن نے مؤقف پیش کیا کہ دوران ڈکیتی اور سنیچنگ قتل کے مقدمات انسداد دہشتگردی عدالت میں چلائے جائیں، تاہم نوید قمر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ قتل کسی بھی نوعیت کا ہو اسے سول یا سیشن جج کو دیکھنا چاہیے کیونکہ انسداد دہشتگردی عدالتیں خاص مقاصد کے لیے بنائی گئی ہیں اور اس سے ان عدالتوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پھر کہیں انسداد دہشتگردی کے کیسز فوجی عدالتوں کو بھی نہ بھیج دیے جائیں۔

بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کی منظوری مؤخر کر دی جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا اور بعد ازاں ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

دوارنِ اجلاس اپوزیشن رکن جنید اکبر خان نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ہم پر مسلط حکومت نے بورڈ آف پیس میں جانے کے وقت اس پارلیمان سے نہیں پوچھا ۔ حکومت نے ایران کے مسئلے پر ایوان کو اعتماد میں نہیں لیا۔ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ امریکہ کے ایما پر کیا گیا  ہے۔ لگ رہا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کے نام پر ہمیں ایک اور جنگ میں گھسیٹا جارہا ہے ۔  جب حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی نہیں ہے تو عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت نہیں۔

پیپلز پارٹی کے رکن فتح اللہ خان نے کہا کہ ڈی آئی خان کے مسائل کو دیکھ کر بجٹ نہ بنایا گیا تو ایوان میں بھوک ہڑتال کروں گا ۔ ہر بار حکومت بجٹ اس علاقے کے نمائندوں کو پوچھے بغیر بنا دیتی ہے ۔  دریائے سندھ ہر سال زرعی زمین بہالے جاتا ہے ۔  سال 2022میں وزیر اعظم نے ڈیرہ کے سیلاب زدگان کے لیے اعلانات کیے، مگر عمل نہیں ہوا ۔ل پی پی سے زیادتی ہوتی رہی تو میں اس پارلیمان کے باہر بھوک ہڑتال کروں گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

سونے کی قیمتوں میں ایک دن کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ

Published

on



کراچی:

سونے کی عالمی ومقامی مارکیٹوں میں ایک دن کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ ریکارد ہوگیا۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 62ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 5ہزار 168ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔

دریں اثنا مقامی سطح پر 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں آج 6ہزار 200روپے کے اضافے سے نئی قیمت 5لاکھ 39ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 5 ہزار 316روپے بڑھ کر 4لاکھ 62ہزار 587روپے کی سطح پر آگئی۔

دریں اثنا ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 460 روپے کے اضافے سے 9ہزار 354 روپے کی سطح پر آگئی  جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 394روپے کے اضافے سے 8ہزار 019روپے کی سطح پر آگئی۔





Source link

Continue Reading

Trending