Today News
پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا
ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا جس کے مطابق 26 مارچ سے 3 مئی تک 44 میچز کھیلے جائیں گے۔
ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 میں دو نئی ٹیمیں شامل کرنے کے بعد پہلی بار آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی، حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈی لیگ میں شامل ہونے والی نئی فرنچائزز ہیں۔
ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے میچز چھ شہروں میں کھیلے جائیں گے، فیصل آباد اور پشاور پہلی بار پی ایس ایل میچز کی میزبانی کریں گے جبکہ ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔
ہر ٹیم لیگ مرحلے میں دس میچز کھیلے گی، پلے آف 28 اپریل سے شروع ہوں گے۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں 11 میچز کھیلے جائیں گے، ایک کوالیفائر بھی شامل ہے۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں پی ایس ایل 11 کے 15 میچز شیڈول ہیں۔
فیصل آباد میں پہلی بار پی ایس ایل کے سات میچز کھیلے جائیں گے جبکہ پشاور کا عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم پہلی بار ایچ بی ایل پی ایس ایل کی میزبانی کرےگا۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں چار میچز شیڈول ہیں۔
نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے چھ میچز شیڈول ہیں جبکہ 12 ڈبل ہیڈرز کھیلے جائیں گے۔
Source link
Today News
ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کی ضرورت
افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ جاری رہے گا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں افغانستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، البتہ افغانستان حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہے، یوں تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو مکمل حل کرنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔کچھ مبصرین اپنے تبصروں میں اس نکتے کو اہمیت دے رہے ہیں کہ افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے، مگر یہ حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب، چین اور روس ،افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوجائے مگر یہ جنگ بندی پھر عارضی ہوگی۔
طالبان حکومت کے قیام کے وقت اسلام آباد پر تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو عظیم فتح قرار دیا تھا۔ سابقہ حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں ہتھیاربند لوگوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی تھی، یوں ان لوگوں کو سابقہ فاٹا کے مختلف شہروں میں اپنی رٹ قائم کرنے کا موقع دیا گیا، اس بناء پر ان دہشت گردوں نے اس علاقہ میں متوازی حکومت قائم کرلی تھی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں خودکش حملے شروع ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بہت سے افسران اور جوان طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ کے تمام شہر مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں کا شکار ہیں۔ وادئ تیراہ میں آپریشن کے لیے آبادی کا انخلا کرایا گیا ۔ ان طالبان دہشت گردوں نے خیبر پختون خوا میں تو دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہی تھے، اب مسلح افواج کے جوابی حملے میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتارکر کے سرحد پار پہنچانے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ اب تک کئی ہزار افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے تجارت بند ہے۔ افغانستان نے 1948ء میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہوئیں۔ امریکا اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی، یوں سوویت افواج واپسی پر مجبور ہوئیں اور افغان مجاہدین کابل پر قبضے میں کامیاب ہوئے مگر یہ افغان مجاہدین وار لارڈ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا کی افغانستان سے دلچسپی ختم ہوگئی۔ افغانستان میں وار لارڈ کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ طالبان کی اس حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ طالبان کے پہلے دور میں خواتین کو گھروں میں بند کیا گیا۔
ان سے تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی حکومت کو ریگولیٹ کرنا شروع کیا۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا اور اتحادی فوجوں نے طالبان کی پہلی حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کیا۔ حامد کرزئی کو کابل کی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے دوسرے صدر بنے۔ان کی صدارت کا خاتمہ موجود طالبان حکومت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی افغان پالیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے حق میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارآباد کر کے اور افغان طالبان کی حکومت کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان کے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے طالبان حکومت کی مدد کرنا شروع کی۔ چین اور روس نے بھی افغانستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔
روس پہلا ملک ہے جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی بناء پر افغانستان کی معیشت کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ پاکستان روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کو اس بات پر قائل کرے کہ طالبان کی حکومت کی جارحیت روکنے کے لیے اس کی سرزنش ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس بیانیے کے ساتھ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، بھارت کی رائے عامہ کو یہ بات باور کروانی چاہیے کہ اگر طالبان کے طوفان کو نہ روکا گیا تو پاکستان کے علاوہ بھارت بھی اس طوفان کی زد میں آجائے گا۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر پاکستان ڈپلومیسی کے جدید طریقے استعما ل کرے اور افغانستان کو تنہا کردیا جائے تو افغانستان میں پیدا ہونے والے طوفان کے دباؤ سے طالبان کی حکومت خود ہی گرجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت کسی گروہ کو دہشت گردی کے لیے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کی سرزنش بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کا اولیت ایجنڈا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
Today News
کراچی میں بیوی سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے زہر کا انجکشن لگالیا
کراچی: نارتھ ناظم آباد میں ڈاکٹر شوہر نے بیوی سے جھگڑے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر خود کو انجیکشن لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا۔
تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک سی مییں گھر کے اندر مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے ایک شخص کو شدید تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
متوفی کی شناخت 36 سالہ عزیز ولد معیز کے نام سے ہوئی۔
ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد شاہد بلوچ نے بتایا کہ متوفی اینستھزیا کا ڈاکٹر اور متعدد نجی اسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔
متوفی کے ورثا نے پولیس کو بیان دیا کہ گزشتہ صبح معیز کا اپنی اہلیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی اور جب کچھ دیر کے بعد واپس آئی تو معیز نے اسے بتایا کہ اس نے خود کو بے ہوش کرنے والا انجیکشن لگالیا ہے اور وہ 2 سے 3 منٹ کا مہمان ہے جس کے بعد اس کی زندگی ختم ہوجائیگی۔
اہلیہ نے فوری طور پر مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد معیز کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پولیس موبائل کے ذریعے ہی عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔
شاہد بلوچ نے مزید بتایا کہ متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی اور اس حوالے سے مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔
Source link
Today News
پیٹرول کے بعد 23 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی کے بھی دو جہاز پاکستان پہنچ گئے
پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ہزاروں ٹن ایل پی جی گیس کے دو بحری جہاز پورٹ قاسم بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگئے جبکہ مزید 2 جہاز عید الفطر سے پہلے آنے کی توقع ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک میں مائع پیٹرولیم گیس کے وافر ذخائر دستیاب ہیں، پورٹ قاسم کی بندرگاہ پر اریس نامی بحری جہاز 11 ہزار میٹرک ٹن جبکہ اٹلانٹک نامی جہاز 12 ہزار میٹرک ٹن گیس لے پر پہنچا اور لنگر انداز ہوگیا۔
اس کے علاوہ ULLSWATER نامی بحری جہاز کے ذریعے 3700ٹن اور MD23 نامی بحری جہاز کے ذریعے 3500ٹن مزید دو ایل پی جی کنسائمنٹس عیدالفطر سے قبل پاکستان پہنچ جائیں گے۔
یہ بات ایل پی جی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عرفان کھوکھر نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ فی کلو گرام ایل پی جی کی مقررہ سرکاری قیمت اگرچہ 225 روپے ہے لیکن گیس مافیا امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو جواز بناکر 350روپے سے 450روپے فی کلوگرام کے حساب سے ایل پی جی فروخت کررہے ہیں، جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔
عرفان کھوکھر نے بتایا کہ امریکا ایران جنگ سے مشرق وسطی کی غیر یقینی صورتحال سے عالمی مارکیٹ میں فی ٹن ایل پی جی کی قیمت میں 200ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے شپنگ لائنز کے فریٹ بھی بڑھ گئے ہیں، ملک میں ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گیس مافیا منفی افواہیں پھیلاکر صارفین کو گھبراہٹ میں وسیع پیمانے پر ایل پی جی کی خریداری کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ بندی سے متعلق ملنے والے اشاروں اور مزید ایل پی جی کے کنسائمنٹس کی آمد سے آئندہ چند دنوں میں ایل پی جی کی قیمت معمول پر آجائیں گی۔
Source link
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus