Connect with us

Today News

وزیر اعظم کی ٹیکس چوری کے سدباب کےلیے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت

Published

on


وزیر اعظم  شہباز شریف نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

وزیراعظم نے ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے دائرہ کار میں لانے اور ایف بی آر محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کے سدباب کیلئے انفورسمنٹ کو مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ۔

وزیراعظم نے پرال (PRAL) کی ایگزیکٹو ٹیم میں میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی بھرتیوں اور پرال کو ایک فعال ادارہ بنانے پر معاشی ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو ملک میں تیار کردہ ادویات کی سیریئلائزیشن جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹیکس دہندگان کے لیے آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم، آئرس (IRIS) اور دیگر ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں بنانے کی ہدایت کی۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے ملک کے مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد نظام نافذ العمل ہیں اور کئی جلد فعال ہو جائیں گے، پیداوار کی نگرانی کے لیے ویڈیو اینالیٹیکس، یونٹ کائونٹنگ، بارکوڈ سکیننگ، سٹیمپنگ، سیریئلائزیشن اور دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق شوگر، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کے تمام کارخانوں میں پیداوار کی نگرانی کی جارہی ہے اور اس اقدام سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا، ٹیکسٹائل ، چمڑے، کاغذ، آٹوموبائل، مشروبات اور دیگر شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے اقدامات جاری ہیں جس سے اربوں روپے اضافی ٹیکس آمدنی ہوگی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ شفافیت یقینی بنانے اور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے قانون میں ترامیم کی گئی ہیں، آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیز کے ذریعے 30 جون 2026ء تک ٹیکس کی مد میں 80 ارب روپے آمدن وصول ہونے کی توقع ہے، جولائی 2025ء تا جنوری 2026ء ٹیکس مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو 102.9 ارب روپے ٹیکس وصولی ہوئی، جون 2026ء تک زیر التواء ٹیکس مقدمات سے ٹیکس کی مد میں 369 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹیو ٹیم فعال ہو چکی ہے، پرال کا ڈیجیٹل انوائسنگ کا نظام مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، جنوری اور فروری کے مہینوں میں 800 ارب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہو چکی جبکہ اپریل 2026ء میں 3 کھرب روپے کی ڈیجیٹل انوائسنگ کا ہدف بھی حاصل ہو سکے گا۔

وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ایف بی آر کا نیا ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر تیار ہو چکا، ملک میں سمگلنگ کی روک تھام اور کارگو ٹریکنگ کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ کا نظام بالخصوص ای بلٹی کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

مصالحت نہ سکھاجبرِ ناروا سے مجھے

Published

on


اِس وقت آدھی دنیا جنگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے، دنیا بھرکی ایوی ایشن اور ٹورازم انڈسٹری برباد ہوچکی، اسرائیل، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا،سیاحت اور شاپنگ کے عالمی مراکز ویران ہوچکے اور ہر ملک کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، کیا دنیا کے طاقتور ترین شخص کا ہدف یہی تھا کہ دنیا کا نقشہ ایسا ہوجائے۔ نہیں وہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔

اگر سُپر پاور کی ہر خواہش پوری ہوتی تو آج ویت نام پر امریکی پرچم لہرا رہا ہوتا، افغانستان پر اس کا قبضہ ہوتا، کیوبا اس کی ریاست ہوتا اور ایران پر امریکا اور اسرائیل کا کوئی کٹھ پُتلی حکومت کررہا ہوتا۔ مگر ایسا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ سُپر پاور سے بڑی سپریم پاور بھی موجود ہے کہ پورے کرۂ ارض کا کنٹرول جس کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اس جہانِ رنگ و بو میں بالآخر وہی ہوتا ہے جو اُس سپریم پاور کو منظور ہوتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کی رہائشی آبادی پر وحشیانہ بمباری کرکے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کردیا ہے، سیکڑوں معصوم طالبات کو بھی خاک وخون میں نہلا دیا ہے، ایران کے راہبر سیّد علی خامینائی سمیت صفحۂ اوّل کے سول اور عسکری لیڈروں کو شہید کردیا ہے، مگر وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس لیے کہ نہ ایران میں حکومت کی گرفت کمزور ہوئی ہے، نہ وہاں پھوٹ ڈالی جاسکی ہے اور نہ ہی کوئی کٹھ پتلی مسلّط کیا جا سکا ہے۔ ایرانی قوم نے آہنی عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ اکیسویں صدی کے چنگیز خان اور ہٹلر نہیں جانتے تھے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے، اُن کا سامنا بدرو حنین کے ان سرفروشوں کی اولاد سے ہے جو اپنے سے دس گنا بڑی سپر پاور کو پیغام بھیجتے تھے کہ ’’یاد رکھو تمہارا مقابلہ اسلام کے ان جانثاروں سے ہے جنھیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی تمہیں زندگی۔‘‘ نیتن اور ٹرمپ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا پالا شہدائے کربلا کے وارثوں سے پڑا ہے جن کے لیے شہادت زندگی سے بڑا اعزاز ہے اور جن کا بچہ بچہ اب بھی پکار رہا ہے کہ

مصالحت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے

اہلِ ایران کی بہادری اور ثابت قدمی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے مگر ان کی ناکامیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں۔ ان کی اپنی صفوں کے اندر دشمنوں کے آلۂ کار گھسے رہے اور وہ اپنے راہبر اور عسکری کمانڈروںاور ایٹمی سائنسدانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ انھیں اس کمی پر قابو پانا ہوگا اور security lapses کے خطرناک شگافوں کو بھرنا ہوگا۔

کھربوں ڈالر کے خطرناک ترین بم اور میزائل گرانے کے باوجود آج کی زمینی صورتحال یہ ہے کہ ایران کی حکومت چل رہی ہے، وہاں روز مرہ زندگی رواں دواں ہے اور عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں شہید راہبر اور ان کی فیمیلی اور ان کی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اگر اس وقت ایرانیوں کے دل میں کسی کے لیے سب سے زیادہ نفرت ہے تو وہ اسرائیل اور امریکا ہے۔ ایران میں بغاوت کے کوئی آثار نہیں اور سابق شاہ کے بیٹے کوکسی کی حمایت حاصل نہیں۔ امریکی صدر نے طاقت کے گھمنڈ، تکبّر اور پوری دنیا کے وسائل کا مالک بننے کے جنون میں، جمہوریّت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق جیسے اعلیٰ تصوّرات اور ملکوں کی جغرافیائی سرحدوں کے تقدّس کو روند ڈالا ہے اوروہ اکیسویں صدی میں بھی  Might is Right کے صدیوں پرانے نظریئے کی تلوار اُٹھاکر دوسرے ملکوں پر چڑھ دوڑا ہے۔ افسوس ہے کہ کوئی ملک اس کو روکنے والا نہیں ہے۔ روس اور چین بھی حملہ آور کو سامنے آکر روکنے سے گریزاں ہیں۔ یورپی ممالک تماشہ دیکھ رہے ہیں مگر اسے روکنے کی جرات نہیں کرپائے۔ اقوامِ متحدہ تو اس کی باندی ہے، وہ انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر معمولی سی قرارداد پاس نہیں کرسکی۔

ایران میںسکول کی معصوم طالبات کے بہیمانہ قتل پر ہمارے ملک کی این جی اوز یا دین بیزار لبرلز میں سے کسی نے اس کی مذمّت کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اسرائیل اور امریکا کی ننگی جارحیّت نے ہمارے ملک کے نام نہاد سوڈو لبرلز کا کردار بھی بالکل بے نقاب کردیا ہے۔ انھوں نے اسرائیل اور امریکا کے بلا جواز حملے کے نتیجے میں ایک خودمختار ملک کے سیاسی اور روحانی قائد سیّد علی خامینائی کے وحشیانہ قتل پر چپ سادھ رکھی ہے، یعنی ان کے نزدیک کسی ملک کے انسانی حقوق اور جغرافیائی سرحدوں کے تقدس کی کوئی اہمیّت نہیں۔

اس جنگ میں پاکستان کا کردار انتہائی نازک، حسّاس اور ہم ہے، اس کا کردار ایک Tight Rope  پر چلنے کے مترادف ہے، ان حالات میں پاکستان کو جرات مندانہ مگر دانش مندانہ کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ہمارا بھائی بھی ہے اور ہمسایہ بھی، اس لیے اس پر امریکا اور اسرائیل کا حملہ ہمیںکسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیئے۔

ایران کے خلاف جارحیت پر پاکستان نے اس کی مزمت کی ہے۔ ادھر ہم یہ بات بھی فراموش نہیں کرسکتے کہ ہمارے ملک میں چالیس ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ (جو ہماری لائف لائن ہے) ہمارے وہ اوورسیز پاکستانی بھیجتے ہیں جو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کررہے ہیں، ان میں سے نوّے فیصد سعودی عرب اور یو اے ای میں ہیں۔ اگر کوئی ملک (چاہے ایران ہی کیوں نہ ہو) اگر ان ممالک پر حملہ کرتا ہے تو اس صورت میں بھی ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ کوئی بڑا ملک ہو یا چھوٹا، سب سے پہلے وہ اپنا مفاد دیکھتا ہے، جس طرح ماضی میں ایران نے اپنے ملک کا مفاد دیکھتے ہوئے کئی بار پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا ساتھ دیا (امید ہے کہ اب بھارت کے گھناؤنے کردار نے ایران کی آنکھیں کھول دی ہوںگی اور انھیں اپنے دوست اور دشمن کی پہچان ہوگئی ہوگی) اسی طرح پاکستان کی حکومت کو فیصلہ کرتے وقت پاکستان کا مفاد پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ابھی تک ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان غلط فہمی دور کرانے میں پاکستان کا مصالحانہ کردار قابلِ تحسین ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران کے صدر نے معذرت کرلی، اور سعودی عرب سمیت بہت سے عرب ممالک نے جنگ میں اسرائیل اور امریکا کا اتحادی بننے سے انکار کردیا ہے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اپنے وی لاگ میں حالیہ جنگ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کے لیے امریکا یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام، اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی‘‘یونیٹی آف کمانڈ’’سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔

وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی جی پی ایس پر انحصار کم کر کے چینی سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستگی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ اصل ہتھیار اب ’’سگنل‘‘ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں، تو بغیر روایتی فضائی برتری کے بھی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘

 ایرانی میزائلوں نے اسرائیل میں وہ تباہی مچائی ہے جس کا کوئی تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ فرسٹرٹیڈ اور مایوس ٹرمپ اب فیس سیونگ کی تلاش میں ہے۔ اس ضمن میں اسلامی ممالک خصوصاً پاکستان، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا اور مصر کو بڑا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھیں چاہیے کہ روس اور چین کو ساتھ ملاکر ٹرمپ کو جنگ بندی پر مجبورکریں۔ ایسا نہ ہوا تو پھر دنیا کو ایٹمی جنگ کی ہولناکیوں سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کی ضرورت

Published

on


افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ جاری رہے گا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں افغانستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، البتہ افغانستان حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہے، یوں تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو مکمل حل کرنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔کچھ مبصرین اپنے تبصروں میں اس نکتے کو اہمیت دے رہے ہیں کہ افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے، مگر یہ حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب، چین اور روس ،افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوجائے مگر یہ جنگ بندی پھر عارضی ہوگی۔

طالبان حکومت کے قیام کے وقت اسلام آباد پر تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو عظیم فتح قرار دیا تھا۔ سابقہ حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں ہتھیاربند لوگوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی تھی، یوں ان لوگوں کو سابقہ فاٹا کے مختلف شہروں میں اپنی رٹ قائم کرنے کا موقع دیا گیا، اس بناء پر ان دہشت گردوں نے اس علاقہ میں متوازی حکومت قائم کرلی تھی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں خودکش حملے شروع ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بہت سے افسران اور جوان طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ کے تمام شہر مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں کا شکار ہیں۔ وادئ تیراہ میں آپریشن کے لیے آبادی کا انخلا کرایا گیا ۔ ان طالبان دہشت گردوں نے خیبر پختون خوا میں تو دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہی تھے، اب مسلح افواج کے جوابی حملے میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتارکر کے سرحد پار پہنچانے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ اب تک کئی ہزار افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے تجارت بند ہے۔ افغانستان نے 1948ء میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہوئیں۔ امریکا اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی، یوں سوویت افواج واپسی پر مجبور ہوئیں اور افغان مجاہدین کابل پر قبضے میں کامیاب ہوئے مگر یہ افغان مجاہدین وار لارڈ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا کی افغانستان سے دلچسپی ختم ہوگئی۔ افغانستان میں وار لارڈ کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ طالبان کی اس حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ طالبان کے پہلے دور میں خواتین کو گھروں میں بند کیا گیا۔

ان سے تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی حکومت کو ریگولیٹ کرنا شروع کیا۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا اور اتحادی فوجوں نے طالبان کی پہلی حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کیا۔ حامد کرزئی کو کابل کی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے دوسرے صدر بنے۔ان کی صدارت کا خاتمہ موجود طالبان حکومت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی افغان پالیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے حق میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارآباد کر کے اور افغان طالبان کی حکومت کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان کے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے طالبان حکومت کی مدد کرنا شروع کی۔ چین اور روس نے بھی افغانستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔

روس پہلا ملک ہے جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی بناء پر افغانستان کی معیشت کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ پاکستان روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کو اس بات پر قائل کرے کہ طالبان کی حکومت کی جارحیت روکنے کے لیے اس کی سرزنش ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس بیانیے کے ساتھ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، بھارت کی رائے عامہ کو یہ بات باور کروانی چاہیے کہ اگر طالبان کے طوفان کو نہ روکا گیا تو پاکستان کے علاوہ بھارت بھی اس طوفان کی زد میں آجائے گا۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر پاکستان ڈپلومیسی کے جدید طریقے استعما ل کرے اور افغانستان کو تنہا کردیا جائے تو افغانستان میں پیدا ہونے والے طوفان کے دباؤ سے طالبان کی حکومت خود ہی گرجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت کسی گروہ کو دہشت گردی کے لیے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کی سرزنش بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کا اولیت ایجنڈا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی میں بیوی سے جھگڑے کے بعد ڈاکٹر نے زہر کا انجکشن لگالیا

Published

on



کراچی: نارتھ ناظم آباد میں ڈاکٹر شوہر نے بیوی سے جھگڑے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر خود کو انجیکشن لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا، متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا۔

تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک سی مییں گھر کے اندر مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے ایک شخص کو شدید تشویشناک حالت میں عباسی شہید اسپتال لایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔

 متوفی کی شناخت 36 سالہ عزیز ولد معیز کے نام سے ہوئی۔

ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد شاہد بلوچ نے بتایا کہ متوفی اینستھزیا کا ڈاکٹر اور متعدد نجی اسپتالوں میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔

متوفی کے ورثا نے پولیس کو بیان دیا کہ گزشتہ صبح معیز کا اپنی اہلیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوا جس کے بعد وہ کمرے سے چلی گئی اور جب کچھ دیر کے بعد واپس آئی تو معیز نے اسے بتایا کہ اس نے خود کو بے ہوش کرنے والا انجیکشن لگالیا ہے اور وہ 2 سے 3 منٹ کا مہمان ہے جس کے بعد اس کی زندگی ختم ہوجائیگی۔

اہلیہ نے فوری طور پر مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد معیز کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پولیس موبائل کے ذریعے ہی عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔

شاہد بلوچ نے مزید بتایا کہ متوفی 2 بیٹوں کا باپ تھا ، پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد متوفی کی لاش ورثا کے حوالے کر دی اور اس حوالے سے مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔



Source link

Continue Reading

Trending