Today News
بنگلا دیش کے خلاف پہلے ون ڈے میں تین پاکستانی کھلاڑی ڈیبیو کریں گے، شاہین آفریدی
ون ڈے ٹیم کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے تصدیق کی ہے کہ بنگلا دیش کے خلاف پہلے ون ڈے میچ میں پاکستان کی جانب سے تین کھلاڑی ڈیبیو کریں گے۔
ڈھاکا میں پری میچ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے بتایا کہ صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت اور شامل حسین کو قومی ون ڈے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے اور یہ کھلاڑی اپنے کیریئر کا پہلا ون ڈے میچ کھیلیں گے۔
کپتان شاہین آفریدی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تینوں کھلاڑی شاندار کارکردگی دکھائیں گے کیونکہ انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ پرفارمنس دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ فرحان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی ٹاپ اسکورر رہ چکے ہیں۔
شاہین آفریدی کے مطابق ٹیم سے کسی سینئر کھلاڑی کو ڈراپ نہیں کیا گیا بلکہ دورہ بنگلا دیش میں نوجوان کرکٹرز کو موقع دیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ بڑے ٹورنامنٹس خصوصاً ورلڈ کپ کے لیے مضبوط ٹیم تیار کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی مضبوط فاسٹ بولنگ کے لیے جانی جاتی ہے اور کوشش ہوگی کہ فاسٹ بولرز کے ساتھ اسپنرز بھی اہم کردار ادا کریں۔ قومی ٹیم کا ایک اور پریکٹس سیشن ہوگا جس کے بعد پلیئنگ الیون کو حتمی شکل دی جائے گی۔
قومی کپتان کا مزید کہنا تھا کہ ہر ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں بہتر کھیلتی ہے اور بنگلا دیش ایک مضبوط حریف ہے، تاہم پاکستان کی ٹیم حالیہ سیریز میں اچھی کارکردگی دکھا چکی ہے اور جیت کے لیے پُرامید ہے۔
Source link
Today News
باب العلم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیؓ
آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ کے والد ابُوطالب رسول کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول کریم ﷺ کو اعلان نبوت سے لے کر وصال تک، خلوت و جلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو، جسم اطہر کے ہر ایک انداز کو اپنے دل و اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بل کہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔
حضرت علیؓ، نبی کریم ﷺ کے دست و بازو تھے، اور مصائب و آلام کی ہر گھڑی میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔
آپؓ فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اور میرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ ’’امین‘‘ کہلاتے تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)
اسی طرح غزوۂ بدر میں حضرت علیؓ کی شجاعت لوگوں کے سامنے آئی جب آپؓ نے نام ور قریشی سردار عقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔ جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اور اپنے قومی و خاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہُوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کیا۔ اس دن رسول اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت علیؓ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کردیا۔ سیدنا علی ؓ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر و خیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے علم بردار رہے۔
غزوۂ بدر کے بعد حضرت علیؓ کو ایسا اعزاز حاصل ہُوا جس نے ان کی عظمت کو چار چاند لگا دیے۔ یہ اعزاز حضرت علیؓ کی رسول کریم ﷺ کی چہیتی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی خانہ آبادی کا تھا۔ اور اﷲ تعالی نے روز ازل سے ان کے لیے یہ عظمت و نعمت مقدر کررکھی تھی۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگی امت کے لیے لازوال نمونہ تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ آپؓ فقیہہ، مجتہد اور مفسر قرآن ہونے کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیؓ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔ آپ ؓنے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لیے آپؓ کی معلومات و روایات کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓکے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خود تعریف فرمائی۔ آپؓ کی فقہی مہارت اور اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجا تھا کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انھیں ’’اقضاکم‘‘ (تم میں سے اچھے، سب سے بڑے قاضی) قرار دیا۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپؓ لوگوں کو حضرت علیؓ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔
رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔ چناں چہ آپؓ اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے: ’’اے علیؓ! اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالحؑ کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا۔‘‘
امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیؓ کی عادت تھی کہ نماز کے لیے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بس جیسے ہی آپ ؓ وہاں پہنچے اس نے آپؓ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا جو دماغ تک جا پہنچا اور آپؓ خون سے نہا گئے اور داڑھی مبارک خون سے تر ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھا یکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی اور میں نے امیرالمومنینؓ کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا :
’’قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی۔‘‘
اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ ابن ملجم کو حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؓ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ فرمایا! یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہی اسے کھلانا۔ پھر فرمایا: اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیار ہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اس کو ایک ضرب ہی لگانا۔ پھر اپنے صاحب زادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلا کر وصیت لکھوائی اور دو دن انتہائی کرب کی کیفیت میں گزارنے کے بعد اکّیس رمضان المبارک کی صبح اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔
Today News
وزیر داخلہ سندھ، آئی جی اور میئر کراچی کا مرکزی جلوس کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
کراچی:
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو ، کراچی پولیس چیف آزاد خان اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا۔
بعدازاں نمائش چورنگی پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 28 فروری کو جو واقعہ ہوا اس کی انکوائری ہو رہی ہے اور اس حوالے سے کچھ بھی کہنا اس وقت قبل از وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ جہاں ایڈمنسٹریشن میں کمی نظر آئیگی پولیس افسران کا تبادلہ کیا جائیگا، پولیس ہائی الرٹ ہے جبکہ میئر کراچی بھی خود وزٹ کر رہے ہیں جبکہ ان کی ٹیم بھی متحرک ہے۔
دریں اثنا پولیس کی جانب سے یوم شہادت حضرت علیؓ کے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے سیل کر دیئے۔
آج یوم شہادت حضرت علیؓ کے سلسلے میں مرکزی جلوس دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں سے گزرتے ہوئے حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔
اس حوالے سے پولیس کی جانب سے رات گئے مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والی مارکیٹوں ، دکانوں اور راستوں کو بم ڈسپوزل یونٹ سے سوئپنگ کے بعد سیل کیے جانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایم اے جناح روڈ ، گرومندر سے ٹاور تک جبکہ صدر دواخانہ ایمپریس مارکیٹ سے ریگل چوک تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو کنٹینرز اور بڑی گاڑیوں کی مدد سے سیل کر کے نفری کو بھی تعینات کر کے انھیں ہدایات بھی جاری کر دی گئیں۔
سیل کیے گئے راستوں سے نہ تو کسی کو جلوس میں داخل اور وہاں سے باہر جانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی ، آخری اطلاعات آنے تک مرکزی جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے راستوں کو سیل کیے جانے کا عمل جاری تھا۔
Today News
مجسّم عدل و انصاف امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ
فرمان الٰہی ہے، مفہوم: ’’ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ کتاب اور میزان دے کر تاکہ لوگ انصاف قائم کریں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بڑی طاقت ہے اور فائدہ ہے انسانوں کے لیے تاکہ ہم یہ بتائیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کی بغیر دیکھے کون مدد کرنے والا ہے، بے شک! اﷲ قوت والا، غالب ہے۔‘‘ (سور الحدید)
یہ ان مختصر ترین آیات میں ہے جس میں خدا نے اپنے نظام ہدایت کا مکمل طور پر تعارف کرایا۔ کتاب، علم کا استعارہ ہے، میزان عدل کا اور لوہا مدافعت کا۔ ان استعاروں کے حوالے سے اس آیت میں خداوند عالم نے اپنے پیغمبروں کو عالم انسانیت کے لیے علم اور عدل کا پیغام دینے کے لیے بھیجا اور اس علم اور عدل کے پیغام کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اپنے معاشرے میں انصاف قائم کریں۔ علم اور عدالت، اسلامی یا انسانی معاشرے کی پہچان ہیں اور پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ جہل اور ظلم کے کارندے انسانوں پر اپنا غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس صورت میں انصاف پرور معاشروں میں اتنی توانائی بھی ہونی چاہیے کہ وہ مدافعت کرسکیں۔
ماہ صیام کے آخری عشرے کی ابتداء پر ہم امیرالمومنین علی ابن ابی طالبؓ کی شہادت کی یاد مناتے ہیں اور یہ یادیں اس لیے منائی جاتی ہیں کہ ہم ان شخصیات کی معرفت حاصل کریں۔ حضرت علیؓ کے بارے میں جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں: ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں۔‘‘ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے علیؓ ہیں۔ علیؓ کی یوم خندق کی ایک ضربت عبادت ثقلین سے زیادہ افضل ہے۔ اور ان تینوں فضیلتوں کا مقصد جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں کہا گیا یہ ہے کہ لوگ انصاف کریں۔
خود جناب امیرؓ علم اور عدل کے حوالے سے اپنا منشور حیات اس طرح بیان فرماتے ہیں:
’’اس خدا کی قسم! جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ہر ذی روح کو پیدا کیا، اگر مددگاروں کی وجہ سے محبت تمام نہ ہوگئی اور علماء سے خدا کا عہد یہ نہ ہوتا کہ ظالم کی شکم سیری اور مظلوم کی بھوک سے سمجھوتا نہ کریں تو میں ناقۂ خلافت کی باگ ڈور اسی کی پشت پر ڈال دیتا۔‘‘
آپؓ نے فرمایا: ’’ملک کفر سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں چل سکتا۔‘‘
ایک اور موقع پر آپؓ طبقاتی نظام کا اس طرح تجزیہ کرتے ہیں:
’’میں نے کوئی وافر دولت ایسی نہیں دیکھی جس کے پہلو میں غصب شدہ حق نظر نہ آئے ہوں۔‘‘ ایک مرتبہ کسی نے آپؓ سے پوچھا: خدا کا قول ہے ہم نے زمین پر رہنے والے ہر ذی روح کے لیے روزی پیدا کی ہے تو پھر بعض لوگ بھوکے کیوں رہ جاتے ہیں۔۔۔ ؟
آپؓ نے جواب دیا: ’’اس لیے کہ مال دار نے اس کے حصے کی روزی غصب کرلی۔‘‘
ایک خط میں آپؓ طبقہ اشرافیہ کے کردار کا اس طرح تجزیہ فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! خوش حالی کے زمانے میں حاکم کے لیے سب سے بڑا بوجھ، معیشت کے وقت جی چرانے والا، بخشش و عطا کے موقع پر سب سے کم شکر گزار ہونے والا، محرومی پر کوئی عذرت نہ سننے والا۔‘‘
پھر آپؓ نے اپنے گورنر کو ہدایت فرمائی کہ زمانے کی ابتلاء میں سب سے کم ثابت قدم رہنے والا یہ خواص کا طبقہ ہی ہے۔ تمہیں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو حق کے لحاظ سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب سے بہتر اور عوام کی مرضی کے مطابق ہو، کیوں کہ عوام کی ناراضی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنا دیتی ہے اور خواص کی ناراضی عوام کی رضامندی کے ہوتے ہوئے برداشت کرلی جاتی ہے۔
مسلمانوں کی اصل طاقت اور دشمنوں کے خلاف سب سے بڑا دفاع امت کے عوام ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں بھی معاملات پر طبقہ اشرافیہ چھایا رہے گا وہاں طبقاتی خلیج بڑھتی ہی چلی جائے گی اور امیر زیادہ امیر اور غریب زیادہ غریب ہوتا چلا جائے گا۔ عوام کی حالت پر سب سے زیادہ اثر انداز حکومت کی ٹیکس کی پالیسیاں ہُوا کرتی ہیں۔ عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے سلسلے میں حضرت علیؓ کی پالیسی کیا تھی؟ آپؓ فرماتے ہیں: ’’دیکھو! محکمۂ خراج سے زیادہ ملک کی آبادی پر توجہ دینا، کیوں کہ خراج بھی تو خوش حالی سے حاصل ہوتا ہے، جو حاکم تعمیر کے بغیر خراج چاہتا ہے اس کی حکومت یقیناً چند روزہ ثابت ہوگی۔ اگر کاشت کار خراج کی زیادتی کسی آسمانی آفت، آب پاشی میں خلل، رطوبت کی قلت، سیلاب یا خشکی کے سبب فصل کے خراب ہونے کی شکایت کریں تو ان کے لگان کو کم کردینا۔ ملک کی آبادی اور سرسبزی ہر بوجھ اٹھا سکتی ہے۔ لہذا ہمیشہ خیال رکھنا ملک کی بربادی کا سبب تو باشندوں کی غربت ہے اور غربت کا یہ سبب ہوتا ہے کہ حاکم دولت سمیٹنے پر کمر باندھ لیتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں زوال کا خوف رہتا ہے اور وہ عبرتوں سے سبق نہیں حاصل کرنا چاہتے۔‘‘
اس گفت گو سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد عدالت یا سماجی انصاف کا قیام ہے اور حضرت علیؓ نے اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن قیام عدالت کے سلسلے میں ذرّہ برابر انحراف نہیں کیا۔ پرانے دوستوں نے آپؓ کے خلاف تلواریں اٹھالیں، رشتے دار برگشتہ ہوگئے، سلطنت کم زور ہوگئی، مصر کا علاقہ نکل گیا لیکن آپؓ نے انصاف کے خلاف کوئی مصلحت، کوئی سمجھوتا گوارا نہیں کیا۔
گورنر مالک دیکھ رہے تھے کہ لوگ آپؓ سے دور ہوتے جارہے ہیں، جناب امیرؓ کو لکھتے ہیں:
اگر آپؓ بھی بے دریغ مال دینا تقسیم کرتے اور جتھابند اور قابو یافتہ لوگوں کو دوسروں سے زیادہ دیں تو پھر دیکھیے کہ لوگوں کی گردنیں کس طرح آپؓ کی طرف جھکتی ہیں اور ان کی زبانیں آپ کے کیسے کیسے گن گاتی ہیں اور وہ کیسے آپ کے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔
حضرت علیؓ کا جواب تھا: ’’اﷲ جانتا ہے، انھوں نے ہم سے علاحدگی اس لیے نہیں کی کہ ہم نے ان پر ظلم و جور کیا اور وہ ہم سے جدا ہوکر کسی عادل کی پناہ میں گئے ہوں۔ ہم سے جدائی کا سبب سوائے طلب دنیا کے اور کچھ نہیں اور دنیا زائل ہونے والی ہے۔‘‘
یہ وہ اصول ہیں جو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں بل کہ ہر معاشرے کی فلاح کے ضامن ہیں۔ خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، کسی قوم یا کسی زمانے سے ہو۔ اب آخری بات ہم جو بہ زعم خود مسلمان ہیں، بل کہ بہترین مسلمان ہیں اور ہم جو اس وقت یعنی رمضان میں بے شمار تلاوت قرآن کے تحفے آپ کے حضور بھیج رہے ہیں، حضرت علیؓ کی شہادت کو یاد کرکے غم زدہ ہیں، ہمارا کیا رویہ ہے اور ہم نے عدالت کے قیام کے لیے کیا کِیا۔۔۔۔ ؟ ہمارا یہ کارنامہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے غریب اور زیادہ مفلوک الحال ہوتا جارہا ہے، ہماری بستیوں میں بھوک، بے روزگاری، بیماریاں، خودکشی کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، مذہب کے نام پر سیاست تو دھوم دھڑکے سے ہو رہی ہے، مذہبی قوانین بھی بن رہے ہیں، نظام اسلام کے نفاذ کے نعرے روز زیادہ ہی بلند بانگ ہوتے جارہے ہیں لیکن سماجی انصاف کے قیام کے لیے کوئی قانون نہیں بنتا۔ بعض لوگوں کی گفت گو محض اپنی محبوب شخصیات سے وابستہ معجزات کے ذکر تک محدود رہتی ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ اس خانہ خدا میں پیدا ہونے والے نے زمین پر کیسی زندگی گزاری۔۔۔ ؟
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus