Connect with us

Today News

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

Published

on


امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور جواب میں آبنائے ہرمز کی بندش سمیت خلیجی ممالک میں ایران کے حملوں سے پیدا ہونے والی جنگ کے بعد سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خلیجی ممالک میں امریکی اڈّوں اور مفادات پر ایران کے حالیہ حملوں کے بعد تیل کی فی بیرل قیمت ایک سو بیس ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔

البتہ آج خام تیل کی قیمت تقریباً نوے ڈالر فی بیرل تک گرگئی ہے تاہم جنگ کی غیریقینی صورت حال کے باعث اب بھی خام تیل کی قیمتوں سے متعلق خدشات برقرار ہیں اور اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی کو روکا گیا تو ایران کو سخت ترین کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام کے لیے لائحہ عمل ترتیب دینے کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس سے قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران کمی کا امکان ہے۔

بعد ازاں عالمی مارکیٹس میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 88 ڈالر فی بیرل ہو گئی جو گزشتہ روز 119 ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

اسی طرح برطانیہ میں یو گیس کی ماہانہ قیمت 126 پینی فی تھرم پر آ گئی جو کل کے 171 پینی سے کم ہے۔

تاہم، خطرات برقرار ہیں کیونکہ ہارموز کی خلیج سے توانائی کی سپلائی تقریباً رک گئی ہے، اور سعودی عرب کی ارامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر راستہ بند رہا تو “تباہ کن نتائج” ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب فرانس نے بھی قبرص کے دورے میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے طیارہ بردار بحری بیڑے اور ہیلی کاپٹرز پر مشتمل سیکیورٹی اسکواڈ بھیجا جائے گا۔

ادھر ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی بحری جہازوں بالخصوص امریکا اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

جنگ کے خاتمے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جلد ہوگا لیکن اس ہفتے ممکن نہیں ہے البتہ آبنائے ہزمز میں ایرانی حملے جاری رہے تو جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔

 





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

آٹھ مارچ ، غور و فکرکا دن

Published

on


دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بظاہر خوشی، یکجہتی اور عورتوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے مگر اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے پیچھے خوشی سے زیادہ درد مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ عورت کی آزادی کا یہ سفرکسی ایک لمحے میں شروع نہیں ہوا بلکہ یہ صدیوں کی ناانصافیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب صنعتی انقلاب آیا تو دنیا کے بڑے شہروں میں کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں، تب ان کارخانوں میں ہزاروں عورتیں بھی مزدوری کرنے لگیں۔ ان عورتوں کی زندگی نہایت سخت تھی۔ انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اورکام کی جگہوں پر کسی قسم کے تحفظ کا تصور بھی موجود نہ تھا۔ نیویارک اور یورپ کے کئی صنعتی شہروں میں عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں نیویارک کی ہزاروں مزدور عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر بہتر اجرت کم اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج دراصل ایک بڑی عالمی تحریک کی ابتدا تھی۔

1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک کی خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی اور جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔ چند ہی برسوں بعد روس میں یہ دن ایک تاریخی موڑ کا سبب بن گیا۔

1917 میں روس کی خواتین مزدوروں نے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بھوک کے خلاف روٹی اور امن کے نعرے کے ساتھ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج بعد میں ایک بڑے عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس میں نئی حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے آٹھ مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں یہ دن مزدور تحریکوں اور ترقی پسند حلقوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتا گیا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اسے عالمی دن کے طور پر تسلیم کر لیا۔

عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔ اسے جائیداد سمجھا گیا اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں رہے اور اس کی زندگی اکثرگھر کی چار دیواری میں قید رہی۔ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اس کی محنت کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا کارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین ان کی محنت ہمیشہ معیشت کی بنیاد رہی مگر ان کے حصے میں عزت اور انصاف کم ہی آیا۔ بیسویں صدی میں جب عورتوں نے تعلیم اور شعور حاصل کرنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اس آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود عورتوں کی جدوجہد جاری رہی۔

آج اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عورتوں کو قانونی حقوق حاصل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی شکلیں اب بھی موجود ہیں۔ گھریلو تشدد جنسی ہراسانی کم عمری کی شادیاں تعلیم سے محرومی اور جنگوں کے اثرات آج بھی لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ایسے میں جب ہم آٹھ مارچ کی بات کرتے ہیں تو ایک اور دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران میں جنگ کے نتیجے میں ایک سو پینسٹھ معصوم بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے نکلی تھیں مگر نفرت اور تشدد کی آگ نے ان کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں جو خالی پن رہ گیا ہے وہ کسی بھی جشن کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔

یہ سانحہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ابھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں عورت اور بچی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ایک بچی خوف کے سائے میں اسکول جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔اسی لیے آٹھ مارچ کے دن یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ دن واقعی جشن کا دن ہے یا یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ کیا ہم صرف تقریبات، سیمیناروں اور نعروں کے ذریعے عورتوں کے مسائل حل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں سماج کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عورت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جب کسی سماج میں عورت کو عزت اور برابری حاصل نہیں ہوتی تو وہ سماج حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ عورت کی آزادی دراصل انسان کی آزادی ہے اور عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔

آٹھ مارچ کو اگر واقعی بامعنی بنانا ہے تو اسے صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے جہاں عورت کو خوف کے بغیر جینے کا حق حاصل ہو جہاں اس کی تعلیم اور اس کے خواب محفوظ ہوں اور جہاں اس کی آواز کو برابری کی اہمیت دی جائے۔جب تک دنیا کی ہر بچی محفوظ نہیں ہو جاتی جب تک ہر عورت کو انصاف اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی تب تک آٹھ مارچ کی اصل معنویت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس دن کو ایک عہد کے دن کے طور پر دیکھنا ہوگا، ایسا عہد کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے اپنی ذمے داری ادا کریں گے۔

آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں ہر باشعور انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہو،کیونکہ جب تک دنیا کی آدھی آبادی کو مکمل عزت اور آزادی حاصل نہیں ہوگی، تب تک انسانیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔





Source link

Continue Reading

Today News

غیر اخلاقی، غیر اصولی جارحیت

Published

on


غزہ پر بے اصولی جنگ مسلط کر کے اسرائیل دنیا میں اپنی بے حسی، غیر اخلاقی جارحیت و بربریت کا نیا ریکارڈ بنا ہی چکا تھا مگر اب سپرپاور امریکا نے بھی ایران پر جنگ مسلط کرکے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ طاقتور جو چاہے کرسکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈرکی مجوزہ تقرری میں کے حوالے سے کہا ہے کہ نئی تقرری میں میرا کردار ہونا چاہیے، ورنہ میں نئے سپریم لیڈر کی تقرری قبول نہیں کروں گا۔ ایسا کہنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے،ایسی بات تو اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی نہیں کہی۔ اصولاً ایران میں نئے لیڈر کی تقرری سے دونوں کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا سپریم لیڈر منتخب کرے۔ لیکن ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شہید رہبر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔

 ایرانیوں نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر جس اتحاد اور محبت کا ثبوت دیا، اس کو دیکھ کر امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی عوام امریکی صدر کے نہیں بلکہ اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ ہیں اور انھوں نے امریکی خواہش کے برعکس اپنے اتحاد کا فقید المثال ثبوت دے دیا ہے اور گزشتہ سال ایران میں امریکی حمایت سے جو احتجاج ہوئے تھے وہ بھی سپریم لیڈر کی شہادت سے ختم ہو گئے اور عوام نے اپنے ملک اور اپنے مذہبی رہنما سے محبت کا ثبوت دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سب ایک ہیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت انھیں اپنی قیادت کے خلاف نہ کر سکی کیونکہ امریکا و اسرائیل کا خیال تھا کہ ایرانی عوام اپنے مذہبی رہنما اور ایرانی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے تسلط میں ہیں اور وہ اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کو اپنی آزادی سمجھ کر سڑکوں پر آ جائیں گے جس سے ایران دشمنوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری ہو جائے گی مگر ایرانی عوام نے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کیا اور امریکی جارحیت سے مرعوب ہوئے بغیر لاکھوں کی تعداد میں امریکا و اسرائیل کے خلاف کسی خوف کے بغیر سڑکوں پر نکل کر امریکی سازش ناکام بنائی۔

 غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کرکے اپنی بربریت کا دنیا میں نیا ریکارڈ بنایا تھا اور نوزائیدہ بچوں تک کو نہیں بخشا تھا اور اب امریکا نے ایران میں اسکول پر بم گرائے جس سے بیسیوں معصوم بچے شہید ہوئے جن کی تدفین کے مناظر دنیا نے بھی دیکھے کہ کس طرح لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا خوف کیے بغیر اپنے بچوں کی ہمت و حوصلے سے تدفین کی اور گھروں سے باہر آ کر امریکی بربریت کی سخت مذمت کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ہندوستان کے مشہور مسلمان شاعر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن عمران پرتاب گڑھی نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی شہادت پر غم زدہ ہو کر اپنی دکھ بھری نظم میں کہا تھا کہ دنیا میں جنگ کے موقع پر بھی کچھ عالمی آداب اور اصول ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل نے غزہ میں سارے عالمی اصول پامال کر دیے۔ اسرائیل کے بعد امریکا نے بھی انسانی آداب بھلا دیے۔

دنیا کو پتا ہے کہ ایران کے امریکا سے مذاکرات چل رہے تھے جو کامیابی کے قریب تھے مگر امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر خود ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا اور معاہدے سے قبل ہی ایران پر امریکا اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے ایران کی کمر توڑنے کی کوشش کی مگر ایران اس عظیم شہادت کے بعد بھی نہیں جھکا بلکہ ایران نے مذاکرات تو کیا اپنے امریکی اہداف پر حملے روکنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور جنگ بندی نہیں کی۔

امریکا اور اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران پر حملے میں وہ کچھ کر دکھایا جو مہذب دنیا میں نہیں ہوتا۔ شہری آبادی، تعلیمی اداروں، اسپتالوں کو جنگوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے مگر اسرائیلی بربریت و جارحیت میں غزہ میں خوراک کی فراہمی اور طبی امداد تک فراہم کرنے نہیں دی تھی اور اب امریکا نے بھی ایران میں عالمی اقدار اور اخلاقیات تک فراموش کر دیں مگر ایرانیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا ۔





Source link

Continue Reading

Today News

کراچی، پولیس افسر کا بائیک رائڈر پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر معطل

Published

on



کراچی:

شہر کے علاقے کھارادر میں ایک پولیس افسر کی جانب سے بائیک رائڈر پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عاصم کو معطل کر دیا ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اے ایس آئی پٹرول پمپ پر موٹرسائیکل پر بیٹھے بائیک رائڈر پر تشدد کر رہا ہے۔

معطل سب انسپکٹر عاصم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے بائیک رائڈر کو پٹرول پمپ پر گٹکا کھاتے دیکھا تھا، جب اس سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔

ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔





Source link

Continue Reading

Trending