Connect with us

Today News

توانائی بحران، حکومت نے ہفتے میں دفاتر کی 3 چھٹیوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا

Published

on



حکومت نے ورک فرام ہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہفت روزہ نیا شیڈیول جاری کر دیا۔

حکومت کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق ہفتے میں چار دن کام اور تین دن یعنی جمعے سے اتوار تک تعطیلات ہوں گی۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ اعلٰی سرکاری افسران کی رضاکارانہ طور پر تنخواہ کی کٹوتی کی جائے گی۔

کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی سرکاری اداروں میں چار روزہ ورک ویک کے تحت دفاتر پیر، منگل، بدھ اور جمعرات کو کھلے رہیں گے اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہو گی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق تمام وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں میں گریڈ 20 يا 3 لاکھ روپے سے زائد تنخواہ وصول کرنے والے افسران کو رضاکارانہ طور پر 2 دن کی تنخواہ کی کٹوتی کی ہدایت کی گئی ہے۔

تنخواہوں میں کٹوتی کا اطلاق شعبہ صحت اور تعلیم پر نہیں ہوگا۔

سیکرٹری کابینہ ڈویژن کی منظوری سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس  کی نقول وفاقی وزراء، مشیروں، وزیرِاعظم کے معاونینِ خصوصی، تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز، صوبائی حکومتوں کے چیف سیکرٹریز، الیکشن کمیشن، اعلیٰ عدلیہ، اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔



Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

گورنر فیصل کریم کنڈی کی مولانا فضل الرحمان سے ون آن ون ملاقات

Published

on



اسلام آباد:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر خصوصی ملاقات کی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو صوبائی حکومت کی صوبے کے معاملات میں عدم توجہی کا نتیجہ قرار دیا۔





Source link

Continue Reading

Today News

ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، وائٹ ہاؤس

Published

on



واشنگٹن:

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ مقررہ اہداف جلد حاصل کر لیے جائیں گے۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کیرولائن لیویٹ نے بتایا کہ امریکی فوج ایران کی میزائل تنصیبات کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور بعض زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی چوٹیں معمولی نوعیت کی ہیں جبکہ صدر ٹرمپ اور ان کی توانائی ٹیم عالمی تیل منڈیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز سے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اہداف حاصل ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔

 

کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ امریکا نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی جہاز کی براہِ راست مدد نہیں کی تاہم خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔





Source link

Continue Reading

Today News

باب العلم امیرالمومنین سیّدنا علی المرتضیؓ

Published

on


آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔ آپؓ کے والد ابُوطالب رسول کریم ﷺ کے چچا تھے۔ آپؓ کا شمار ایسے نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جنھوں نے رسول کریم ﷺ کو اعلان نبوت سے لے کر وصال تک، خلوت و جلوت میں، سفر و حضر میں، کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ کے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو، جسم اطہر کے ہر ایک انداز کو اپنے دل و اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بل کہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

حضرت علیؓ، نبی کریم ﷺ کے دست و بازو تھے، اور مصائب و آلام کی ہر گھڑی میں آپ ﷺ کے ساتھ رہے۔

 آپؓ فرماتے ہیں: ’’جب رسول کریم ﷺ ہجرت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اور میرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔ اسی لیے رسول اکرم ﷺ ’’امین‘‘ کہلاتے تھے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)

اسی طرح غزوۂ بدر میں حضرت علیؓ کی شجاعت لوگوں کے سامنے آئی جب آپؓ نے نام ور قریشی سردار عقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔ جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اور اپنے قومی و خاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہُوا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کیا۔ اس دن رسول اکرم ﷺ کا جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت علیؓ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کردیا۔ سیدنا علی ؓ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر و خیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے علم بردار رہے۔

غزوۂ بدر کے بعد حضرت علیؓ کو ایسا اعزاز حاصل ہُوا جس نے ان کی عظمت کو چار چاند لگا دیے۔ یہ اعزاز حضرت علیؓ کی رسول کریم ﷺ کی چہیتی صاحب زادی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی خانہ آبادی کا تھا۔ اور اﷲ تعالی نے روز ازل سے ان کے لیے یہ عظمت و نعمت مقدر کررکھی تھی۔ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی زندگی امت کے لیے لازوال نمونہ تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت علیؓ کی شخصیت مزید ابھر کر سامنے آئی۔ آپؓ فقیہہ، مجتہد اور مفسر قرآن ہونے کے ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضیؓ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔ آپ ؓنے نبی اکرم ﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لیے آپؓ کی معلومات و روایات کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓکے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خود تعریف فرمائی۔ آپؓ کی فقہی مہارت اور اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجا تھا کہ ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے انھیں ’’اقضاکم‘‘ (تم میں سے اچھے، سب سے بڑے قاضی) قرار دیا۔ اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپؓ لوگوں کو حضرت علیؓ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔

رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔ چناں چہ آپؓ اپنے آپ کو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے: ’’اے علیؓ! اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالحؑ کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا۔‘‘

امیرالمومنین سیدنا علی المرتضیؓ کی عادت تھی کہ نماز کے لیے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ بس جیسے ہی آپ ؓ وہاں پہنچے اس نے آپؓ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا جو دماغ تک جا پہنچا اور آپؓ خون سے نہا گئے اور داڑھی مبارک خون سے تر ہوگئی۔ حضرت امام حسینؓ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھا یکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی اور میں نے امیرالمومنینؓ کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے ہوئے سنا :

’’قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی۔‘‘

اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اور ابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔ ابن ملجم کو حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ ؓ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ بلکہ فرمایا! یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا، جو کچھ خود کھانا وہی اسے کھلانا۔ پھر فرمایا: اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیار ہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اس کو ایک ضرب ہی لگانا۔ پھر اپنے صاحب زادوں حضرت امام حسنؓ اور حضرت حسینؓ کو بلا کر وصیت لکھوائی اور دو دن انتہائی کرب کی کیفیت میں گزارنے کے بعد اکّیس رمضان المبارک کی صبح اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔





Source link

Continue Reading

Trending