Today News
ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کی ضرورت
افغانستان سے ہونے والے مسلسل دہشت گردی کے حملوں کے خاتمہ کے لیے پاکستان کی فوج جوابی کارروائی میں مصروف ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ ہے کہ اس دفعہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن ’’ غضب للحق‘‘ جاری رہے گا۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس آپریشن میں افغانستان کی فوج کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، البتہ افغانستان حقیقت کا ادراک کرنے کو تیار نہیں ہے، یوں تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مسئلے کو مکمل حل کرنے کے لیے پاکستان کو ڈپلومیسی کے جدید طریقوں کو ضرور آزمانا چاہیے۔کچھ مبصرین اپنے تبصروں میں اس نکتے کو اہمیت دے رہے ہیں کہ افغانستان میں رجیم چینج ہی مسئلے کا حقیقی حل ہے، مگر یہ حکمت عملی ماضی میں ناکام ہوچکی ہے۔ ترکیہ، قطر اور سعودی عرب، چین اور روس ،افغانستان اور پاکستان میں مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہوجائے مگر یہ جنگ بندی پھر عارضی ہوگی۔
طالبان حکومت کے قیام کے وقت اسلام آباد پر تحریک انصاف کی حکومت تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو عظیم فتح قرار دیا تھا۔ سابقہ حکومت نے ٹی ٹی پی کے ہزاروں ہتھیاربند لوگوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی تھی، یوں ان لوگوں کو سابقہ فاٹا کے مختلف شہروں میں اپنی رٹ قائم کرنے کا موقع دیا گیا، اس بناء پر ان دہشت گردوں نے اس علاقہ میں متوازی حکومت قائم کرلی تھی اور خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں خودکش حملے شروع ہوگئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے بہت سے افسران اور جوان طالبان کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سابقہ قبائلی علاقہ کے تمام شہر مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں کا شکار ہیں۔ وادئ تیراہ میں آپریشن کے لیے آبادی کا انخلا کرایا گیا ۔ ان طالبان دہشت گردوں نے خیبر پختون خوا میں تو دہشت گردی کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہی تھے، اب مسلح افواج کے جوابی حملے میں صورتحال بہتر ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
پاکستان نے گزشتہ ایک سال سے زیادہ کے عرصے سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو گرفتارکر کے سرحد پار پہنچانے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے۔ اب تک کئی ہزار افغان باشندے پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ دو برسوں سے تجارت بند ہے۔ افغانستان نے 1948ء میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج داخل ہوئیں۔ امریکا اور پاکستان نے افغان مجاہدین کی مدد کی، یوں سوویت افواج واپسی پر مجبور ہوئیں اور افغان مجاہدین کابل پر قبضے میں کامیاب ہوئے مگر یہ افغان مجاہدین وار لارڈ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی امریکا کی افغانستان سے دلچسپی ختم ہوگئی۔ افغانستان میں وار لارڈ کی حکومتیں قائم ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت میں کابل پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی۔ طالبان کی اس حکومت نے انسانی حقوق کی پامالی کی نئی مثالیں قائم کیں۔ طالبان کے پہلے دور میں خواتین کو گھروں میں بند کیا گیا۔
ان سے تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے ملا عمر کی حکومت کو ریگولیٹ کرنا شروع کیا۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا اور اتحادی فوجوں نے طالبان کی پہلی حکومت ختم کرکے کابل پر قبضہ کیا۔ حامد کرزئی کو کابل کی عبوری حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے دوسرے صدر بنے۔ان کی صدارت کا خاتمہ موجود طالبان حکومت نے کیا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی افغان پالیسی کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے حق میں تھی۔ پی ٹی آئی حکومت کے وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو سابقہ قبائلی علاقے میں دوبارآباد کر کے اور افغان طالبان کی حکومت کی حمایت کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آجائیں گے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کا ایجنڈا ایک ہی ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہونے لگا۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس دوران پاکستان کے بھارت سے تعلقات مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے طالبان حکومت کی مدد کرنا شروع کی۔ چین اور روس نے بھی افغانستان کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔
روس پہلا ملک ہے جس نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ اس صورتحال میں افغانستان کی پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت کی رجعت پسندانہ پالیسیوں کی بناء پر افغانستان کی معیشت کا انحصار غیر ملکی امداد پر ہے۔ پاکستان روس، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ کو اس بات پر قائل کرے کہ طالبان کی حکومت کی جارحیت روکنے کے لیے اس کی سرزنش ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس بیانیے کے ساتھ بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہونی چاہیے، بھارت کی رائے عامہ کو یہ بات باور کروانی چاہیے کہ اگر طالبان کے طوفان کو نہ روکا گیا تو پاکستان کے علاوہ بھارت بھی اس طوفان کی زد میں آجائے گا۔ اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ اہم کردار ادا کرسکتی ہے، اگر پاکستان ڈپلومیسی کے جدید طریقے استعما ل کرے اور افغانستان کو تنہا کردیا جائے تو افغانستان میں پیدا ہونے والے طوفان کے دباؤ سے طالبان کی حکومت خود ہی گرجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت کسی گروہ کو دہشت گردی کے لیے سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کی سرزنش بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ریاست کا اولیت ایجنڈا مذہب کے نام پر دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
Today News
غیر اخلاقی، غیر اصولی جارحیت
غزہ پر بے اصولی جنگ مسلط کر کے اسرائیل دنیا میں اپنی بے حسی، غیر اخلاقی جارحیت و بربریت کا نیا ریکارڈ بنا ہی چکا تھا مگر اب سپرپاور امریکا نے بھی ایران پر جنگ مسلط کرکے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ طاقتور جو چاہے کرسکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈرکی مجوزہ تقرری میں کے حوالے سے کہا ہے کہ نئی تقرری میں میرا کردار ہونا چاہیے، ورنہ میں نئے سپریم لیڈر کی تقرری قبول نہیں کروں گا۔ ایسا کہنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے،ایسی بات تو اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی نہیں کہی۔ اصولاً ایران میں نئے لیڈر کی تقرری سے دونوں کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ ایران کا داخلی معاملہ ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنا سپریم لیڈر منتخب کرے۔ لیکن ایران نے امریکی صدر کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے شہید رہبر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا ہے۔
ایرانیوں نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت پر جس اتحاد اور محبت کا ثبوت دیا، اس کو دیکھ کر امریکا کو اپنی غلطی کا احساس ہو جانا چاہیے تھا کہ ایرانی عوام امریکی صدر کے نہیں بلکہ اپنے سپریم لیڈر کے ساتھ ہیں اور انھوں نے امریکی خواہش کے برعکس اپنے اتحاد کا فقید المثال ثبوت دے دیا ہے اور گزشتہ سال ایران میں امریکی حمایت سے جو احتجاج ہوئے تھے وہ بھی سپریم لیڈر کی شہادت سے ختم ہو گئے اور عوام نے اپنے ملک اور اپنے مذہبی رہنما سے محبت کا ثبوت دے کر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ سب ایک ہیں اور امریکی و اسرائیلی جارحیت انھیں اپنی قیادت کے خلاف نہ کر سکی کیونکہ امریکا و اسرائیل کا خیال تھا کہ ایرانی عوام اپنے مذہبی رہنما اور ایرانی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے تسلط میں ہیں اور وہ اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کو اپنی آزادی سمجھ کر سڑکوں پر آ جائیں گے جس سے ایران دشمنوں کی رجیم تبدیلی کی خواہش پوری ہو جائے گی مگر ایرانی عوام نے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط کیا اور امریکی جارحیت سے مرعوب ہوئے بغیر لاکھوں کی تعداد میں امریکا و اسرائیل کے خلاف کسی خوف کے بغیر سڑکوں پر نکل کر امریکی سازش ناکام بنائی۔
غزہ میں اسرائیل نے فلسطینی بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں شہید کرکے اپنی بربریت کا دنیا میں نیا ریکارڈ بنایا تھا اور نوزائیدہ بچوں تک کو نہیں بخشا تھا اور اب امریکا نے ایران میں اسکول پر بم گرائے جس سے بیسیوں معصوم بچے شہید ہوئے جن کی تدفین کے مناظر دنیا نے بھی دیکھے کہ کس طرح لاکھوں ایرانی سڑکوں پر نکلے اور انھوں نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا خوف کیے بغیر اپنے بچوں کی ہمت و حوصلے سے تدفین کی اور گھروں سے باہر آ کر امریکی بربریت کی سخت مذمت کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔
ہندوستان کے مشہور مسلمان شاعر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن عمران پرتاب گڑھی نے غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں ہزاروں بچوں کی شہادت پر غم زدہ ہو کر اپنی دکھ بھری نظم میں کہا تھا کہ دنیا میں جنگ کے موقع پر بھی کچھ عالمی آداب اور اصول ہوا کرتے ہیں مگر اسرائیل نے غزہ میں سارے عالمی اصول پامال کر دیے۔ اسرائیل کے بعد امریکا نے بھی انسانی آداب بھلا دیے۔
دنیا کو پتا ہے کہ ایران کے امریکا سے مذاکرات چل رہے تھے جو کامیابی کے قریب تھے مگر امریکا نے اسرائیل کے کہنے پر خود ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا اور معاہدے سے قبل ہی ایران پر امریکا اور اسرائیل نے مل کر حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کرکے ایران کی کمر توڑنے کی کوشش کی مگر ایران اس عظیم شہادت کے بعد بھی نہیں جھکا بلکہ ایران نے مذاکرات تو کیا اپنے امریکی اہداف پر حملے روکنے سے بھی انکار کر دیا ہے اور جنگ بندی نہیں کی۔
امریکا اور اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران پر حملے میں وہ کچھ کر دکھایا جو مہذب دنیا میں نہیں ہوتا۔ شہری آبادی، تعلیمی اداروں، اسپتالوں کو جنگوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے مگر اسرائیلی بربریت و جارحیت میں غزہ میں خوراک کی فراہمی اور طبی امداد تک فراہم کرنے نہیں دی تھی اور اب امریکا نے بھی ایران میں عالمی اقدار اور اخلاقیات تک فراموش کر دیں مگر ایرانیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکا ۔
Today News
کراچی، پولیس افسر کا بائیک رائڈر پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر معطل
کراچی:
شہر کے علاقے کھارادر میں ایک پولیس افسر کی جانب سے بائیک رائڈر پر تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عاصم کو معطل کر دیا ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اے ایس آئی پٹرول پمپ پر موٹرسائیکل پر بیٹھے بائیک رائڈر پر تشدد کر رہا ہے۔
معطل سب انسپکٹر عاصم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے بائیک رائڈر کو پٹرول پمپ پر گٹکا کھاتے دیکھا تھا، جب اس سے اس بارے میں پوچھا تو دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
Today News
پیغام شہادت حیدر کرار کرم اﷲ وجہہ
تاریخ اسلام شہادتوں سے بھری پڑی ہے لیکن جیسی شہادت کا منظر مسجد کوفہ نے خیر البشر محمد مصطفی ﷺ کی محبوب ہستی حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے سر اقدس پر ضرب لگنے کے بعد دیکھا، اس کی مثال تاریخ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے۔ وہ علیؓ جو اپنی ولادت سے رسولؐ کی رحلت تک آزمائش کے ہر گھڑی، جنگ کے ہر میدان اور امور مملکت میں ہادی برحق محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ رہے۔ جس علیؓ کے عدل کے بارے میں حضرت عمرؓ نے گواہی دی کہ اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو جاتا۔ حضرت علی ابن ابی طالبؓ کی زندگی اس بہترین زندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے، جس کا تجربہ دنیائے بشریت آغاز حیات سے اب تک کرتی رہی ہے۔
یہ حیات طیبہ اس انسان کامل کی حیات ہے جو دنیائے انسانیت میں بندگی کا حقیقی مینار ہے، اور ان نایاب انسانوں میں سے ہیں جسے صفحۂ ارضی پر خلیفہ کا خطاب زیب دیتا ہے۔ یہ زندگی کس قدر جاذب و پُرکشش ہے جو دوستوں کو محبت کی بالا ترین حد اور دشمنوں کو ان سے دشمنی کی منتہیٰ تک پہنچا دیتی ہے۔ علیؓ وہ ذات ہے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ کا فرمان ذی شان ہے: ’’اے علیؓ! تمہارے سلسلے میں دو طرح کے گروہ ہلاک ہوں گے، ایک وہ جو تم سے دوستی میں افراط و تفریط و زیادتی سے کام لے گا اور دوسرا گروہ وہ ہے جو تم سے بے انتہا دشمنی رکھے گا۔‘‘
علیؓ وہ وا حد ہستی ہیں جو بیت اﷲ میں تشریف لائے اور خانۂ خدا میں سجدہ خالق کے دوران شہادت کی ضرب کھائی۔ اس وقت تک آنکھ نہ کھولی جب تک آنحضورؐ نے اپنی آغوش میں نہ لے لیا اور علیؓ کو اپنا لعاب دہن دیا اور یوں اپنی ولادت سے رسول کریم ﷺ کی رحلت تک آزمائش کے ہر گھڑی، جنگ کے ہر میدان اور امور مملکت میں علیؓ، خیر البشر محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ رہے۔ آپؓ کی پیشانی کبھی کسی بُت کے سامنے نہیں جھکی، اسی لیے آپ کے نام کے ساتھ ’’کرم اﷲ وجہہ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ حضرت علیؓ کے فضائل و کمالات کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ امام احمد بن حنبلؒؒ نے فرمایا: ’’ علیؓ کے لیے جتنے فضائل و مناقب ہیں اور کسی کے لیے نہیں۔‘‘
آپؓ نے امت میں سب سے پہلے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ عبادت کا شرف حاصل کیا۔ (سیرت حلبیہ) دعوت ذوی العشیرۃ میں رسول کریم ﷺ کی تائید و نصرت کا اعلان کیا۔ شب ہجرت کفار مکہ کی پروا نہ کرتے ہوئے کمال جرأت مندی کے ساتھ رسول کریم ﷺ کے بستر پر سوئے۔ مواخات میں رسول اکرم ﷺ نے انھیں اپنا بھائی قرار دیا۔ اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد اس کے تحفظ میں بھی سب سے آگے رہے۔ بدر کے میدان میں کفار کے سرداروں کے غرور کو خاک میں ملایا۔ جنگ احد میں رسولؐ کے لیے سینہ سپر ہوگئے۔ رسول اﷲ ﷺ کے زخموں کا علاج کیا، جنگ خندق میں عمر ابن عبدود جیسے جری کو پچھاڑا۔ خیبر کے ناقابل تسخیر قلعہ کو تسخیر کرکے مرحب جیسے بہادر کو جہنم کی راہ دکھائی۔ علیؓ ہی نے فتح مکہ کے روز رسول ﷺ کے کندھوں پر سوار ہوکر خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرکے بت شکن کا اعزاز حاصل کیا۔
سخی ایسے کہ رات بھر باغ میں مزدوری کرکے حاصل ہونے والی جَو سے پکنے والی روٹیوں کو عین افطار کے وقت سوالی کو دے دیا اور تین دن ایسا ہی ہوتا رہا۔ آپ ؓ اور اہلِ خانہ بھوکے پیاسے رہے۔ جس پر سورہ ہل اتیٰ نازل ہوئی۔
حضرت علیؓ کی زندگی کے اہم ترین نمونوں میں سے ایک آپ کا علم ہے۔ چناں چہ یہ بات زبان زد خاص و عام ہے کہ قرآن مجید اور فرمودات پیمبرؐ کے بعد علیؓ کے کلام سے بہتر کوئی کلام نہیں۔ اور کیوں نہ ہو رسول ﷺ نے فرمایا: ’’میں شہر علم ہوں، علیؓ اس کا دروازہ ہے۔‘‘ اور پیمبر ﷺ کو علیؓ پر اس قدر انحصار تھا کہ علیؓ کو حکم دیا اے علی! تم لوگوں کو وضو اور سنت کی تعلیم دو۔ (طبقات البریٰ)
خاتم الانبیاء ﷺ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’علم قضا کو دس حصوں میں تقسیم کیا گیا نو حصے علیؓ کو اور ایک حصہ پوری دنیا میں تقسیم کیا گیا۔‘‘ (حلیۃ اولیا جلد اوّل) یہی وجہ تھی کہ خلیفہ دوم حضرت عمر ابن خطابؓ اپنی خلافت کے دوران علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ سے مرجع و منبع علم سمجھتے ہوئے مشکل ترین امور میں ان سے مشاورت حاصل کرتے، اسی لیے کہا کہ خدا عمر کو اس مشکل سے رُو بہ رُو ہونے کے لیے باقی نہ رکھے جسے حل کرنے کے لیے علیؓ موجود نہ ہوں۔ (طبقات جلد 2)
خود علیؓ کا فرمان ہے کہ ہم اہل بیت اﷲ و رسولؐ کے پیغام سے سب سے زیادہ آگاہ ہیں۔ ایک موقع پر فرمایا کہ جو میں نے رسول اﷲ ﷺ سے سنا، چاہے حدیث ہو یا کچھ اور، اسے فراموش نہیں کیا۔ (انساب الاشراف) جناب علیؓ کا فرمان ہے کہ خدا کی قسم! کوئی آیت ایسی نازل نہیں ہوئی جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ کہاں نازل ہوئی اور کس سلسلے میں نازل ہوئی۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں اگر سورہ فاتحہ کی تفسیر لکھنا چاہوں تو 70 اونٹوں کے برابر ہو جائے۔ ( التراتیب الاداریہ) علماء کے درمیان عہد قدیم سے یہ بات مشہور ہے کہ علیؓ کے علاوہ کسی اور میں سلونی قبل ان تفکدونی کہنے کی جرأت نہ ہوئی۔ (جامع بیان العلم جلد1) علی ابن طالبؓ کا فرمان ہے: ’’خدا کی قسم یہ پیوند دار جوتیاں میرے نزدیک تم جیسے لوگوں پر حکومت کرنے سے زیادہ بلند ہیں۔ مگر یہ کہ اس حکومت کے ذریعے کسی حق کو اس کی جگہ قائم کروں یا کسی امر باطل کو اکھاڑ پھینکوں۔‘‘
اسلام کی یہ عظیم و نمایاں شخصیت جہان علم و فکر اور تاریخ بشری میں ہمیشہ باقی رہنے والی شجاعت، عفت، طہارت اور جرأت و عدالت کی تاب ناک روشنی کا یہ آفتاب و ماہ تاب21 رمضان کو کوفہ میں غروب ہوگیا۔ مگر اس کے نظریات و فرمودات و ارشادات آغاز شہادت سے لے کر جب تک دنیا ہے، تب تک حیات انسانی کے مراحل اور راہوں میں جاری و ساری رہیں گے۔ آج بھی علیؓ کا طرز زندگی ظلم و بربریت اور کفر و نفاق کے لیے موت ہے۔ مسلم دنیا جو اس وقت مصائب و آلام میں گرفتار ہے، علیؓ کی زندگی اختیار کرکے مصائب و آلام پر قابو پا سکتی ہے اور دنیائے شیطانی کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ سیرت امیر المومنین علی ابن ابی طالبؓ پر چلتے ہوئے استعماری قوتوں کے مقابل خیبر شکن جرأت کا مظاہرہ کرے۔ عدل و انصاف کی راہ اپنائے اور علم و حکمت کے ساتھ ٹوٹا ہوا رشتہ مضبوطی کے ساتھ جوڑنے کے لیے مدینہ العلم محمد مصطفی ﷺ کے در پر اپنا سر جھکالے تو کوئی طاقت کلمۂ توحید کے پرستاروں کو زیر کرنے میں کام یاب نہیں ہو سکے گی۔
-
Tech2 weeks ago
Streamlining Operations and Minimizing OpEx with AI Agents
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus