Today News
آٹھ مارچ ، غور و فکرکا دن
دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن بظاہر خوشی، یکجہتی اور عورتوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن سمجھا جاتا ہے مگر اگر تاریخ کے اوراق کھولے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دن کے پیچھے خوشی سے زیادہ درد مزاحمت اور قربانی کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ عورت کی آزادی کا یہ سفرکسی ایک لمحے میں شروع نہیں ہوا بلکہ یہ صدیوں کی ناانصافیوں اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب صنعتی انقلاب آیا تو دنیا کے بڑے شہروں میں کارخانوں کی چمنیاں دھواں اگلنے لگیں، تب ان کارخانوں میں ہزاروں عورتیں بھی مزدوری کرنے لگیں۔ ان عورتوں کی زندگی نہایت سخت تھی۔ انھیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت دی جاتی تھی بارہ بارہ گھنٹے کام کروایا جاتا تھا اورکام کی جگہوں پر کسی قسم کے تحفظ کا تصور بھی موجود نہ تھا۔ نیویارک اور یورپ کے کئی صنعتی شہروں میں عورتوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ 1908 میں نیویارک کی ہزاروں مزدور عورتوں نے سڑکوں پر نکل کر بہتر اجرت کم اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج دراصل ایک بڑی عالمی تحریک کی ابتدا تھی۔
1910 میں کوپن ہیگن میں سوشلسٹ خواتین کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مختلف ممالک کی خواتین رہنماؤں نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد رکھنے کے لیے ایک عالمی دن منایا جائے۔ اس تجویز کو بڑی پذیرائی ملی اور جلد ہی یورپ کے کئی ممالک میں یہ دن منایا جانے لگا۔ چند ہی برسوں بعد روس میں یہ دن ایک تاریخی موڑ کا سبب بن گیا۔
1917 میں روس کی خواتین مزدوروں نے پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بھوک کے خلاف روٹی اور امن کے نعرے کے ساتھ ہڑتال کی۔ یہ احتجاج بعد میں ایک بڑے عوامی انقلاب میں تبدیل ہوگیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں روس میں نئی حکومت قائم ہوئی اور اس حکومت نے آٹھ مارچ کو خواتین کے دن کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد میں یہ دن مزدور تحریکوں اور ترقی پسند حلقوں کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتا گیا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ نے بھی اسے عالمی دن کے طور پر تسلیم کر لیا۔
عورت کی تاریخ دراصل ظلم اور مزاحمت کی تاریخ ہے۔ صدیوں تک عورت کو انسان کے برابر درجہ نہیں دیا گیا۔ اسے جائیداد سمجھا گیا اس کے فیصلے دوسروں کے ہاتھ میں رہے اور اس کی زندگی اکثرگھر کی چار دیواری میں قید رہی۔ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اسے سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور اس کی محنت کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ کھیتوں میں کام کرنے والی عورتیں ہوں یا کارخانوں میں مزدوری کرنے والی خواتین ان کی محنت ہمیشہ معیشت کی بنیاد رہی مگر ان کے حصے میں عزت اور انصاف کم ہی آیا۔ بیسویں صدی میں جب عورتوں نے تعلیم اور شعور حاصل کرنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ اس آواز کو دبانے کی بھی کوشش کی گئی۔ کئی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انھیں سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود عورتوں کی جدوجہد جاری رہی۔
آج اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک میں عورتوں کو قانونی حقوق حاصل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی شکلیں اب بھی موجود ہیں۔ گھریلو تشدد جنسی ہراسانی کم عمری کی شادیاں تعلیم سے محرومی اور جنگوں کے اثرات آج بھی لاکھوں عورتوں اور بچیوں کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ایسے میں جب ہم آٹھ مارچ کی بات کرتے ہیں تو ایک اور دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ ایران میں جنگ کے نتیجے میں ایک سو پینسٹھ معصوم بچیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ وہ بچیاں جو تعلیم حاصل کرنے نکلی تھیں مگر نفرت اور تشدد کی آگ نے ان کی زندگیوں کو نگل لیا۔ ان کی ماؤں کی آنکھوں میں جو خالی پن رہ گیا ہے وہ کسی بھی جشن کی روشنی کو مدھم کر دیتا ہے۔
یہ سانحہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سانحہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا ابھی بھی اس مقام تک نہیں پہنچی جہاں عورت اور بچی مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ جب ایک بچی خوف کے سائے میں اسکول جائے تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔اسی لیے آٹھ مارچ کے دن یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ دن واقعی جشن کا دن ہے یا یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں اپنے ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے؟ کیا ہم صرف تقریبات، سیمیناروں اور نعروں کے ذریعے عورتوں کے مسائل حل کر سکتے ہیں یا پھر ہمیں سماج کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے؟حقیقت یہ ہے کہ عورت کا مسئلہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جب کسی سماج میں عورت کو عزت اور برابری حاصل نہیں ہوتی تو وہ سماج حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ عورت کی آزادی دراصل انسان کی آزادی ہے اور عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے۔
آٹھ مارچ کو اگر واقعی بامعنی بنانا ہے تو اسے صرف ایک دن کی تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سماج کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہے جہاں عورت کو خوف کے بغیر جینے کا حق حاصل ہو جہاں اس کی تعلیم اور اس کے خواب محفوظ ہوں اور جہاں اس کی آواز کو برابری کی اہمیت دی جائے۔جب تک دنیا کی ہر بچی محفوظ نہیں ہو جاتی جب تک ہر عورت کو انصاف اور برابری حاصل نہیں ہو جاتی تب تک آٹھ مارچ کی اصل معنویت مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس دن کو ایک عہد کے دن کے طور پر دیکھنا ہوگا، ایسا عہد کہ ہم ایک بہتر اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے اپنی ذمے داری ادا کریں گے۔
آٹھ مارچ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ عورت کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ سفر جاری ہے اور اس سفر میں ہر باشعور انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہو،کیونکہ جب تک دنیا کی آدھی آبادی کو مکمل عزت اور آزادی حاصل نہیں ہوگی، تب تک انسانیت کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔
Today News
بلوچستان پولیس کا جرائم پیشہ افراد کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن، 718 ملزمان گرفتار
بلوچستان میں پولیس نے مشترکہ آپریشن میں مختلف جرائم میں ملوث 718 ملزمان کو گرفتار کیا جن میں 111 منشیات فروش بھی شامل ہیں جبکہ 10 مغوی بھی بازیاب ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی قیادت میں صوبائی پولیس نے جرائم کے خلاف ایک زبردست جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور ایک ہی دن میں منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی ہے۔
10 مارچ 2026 کو جاری اس خصوصی مہم کے تحت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع میں جرائم پیشہ گروہوں پر پولیس آسمانی بجلی کی طرح گر پڑی ہے۔
بلوچستان پولیس کے ترجمان نے اسے “جرائم کی جڑیں کاٹنے کی مہم” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آپریشنز منشیات فروشوں، اشتہاری ملزمان، مفرور مجرموں اور سنگین وارداتوں میں ملوث عناصر کیخلاف ہے اور صوبے کے 7 اضلاع میں ٹارگٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں پولیس نے ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا ہے۔
ان میں سے 295 مفرور مطلوب اور 402 اشتہاری شامل ہیں، جبکہ مختلف جرائم جیسے ڈکیتی، قتل اور اغوا میں ملوث 718 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ کارروائیاں رات کی تاریکی میں بھی جاری ہیں اور پولیس کی ٹیمیں عوام کے تحفظ کے لیے چوکس ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ بلوچستان کے ہر شہری کو خوف سے آزاد ماحول ملے۔
اس مہم کی دلچسپ بات یہ ہے کہ گرفتار ملزمان سے نہ صرف اسلحہ کا انبار برآمد ہوا بلکہ مغویوں کی بازیابی بھی ایک ڈرامائی کہانی کی طرح سامنے آئی ہے۔
پولیس نے مختلف کارروائیوں میں ملزمان سے 122 پسٹل اور ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین قبضے میں لیے ہیں۔ اس کے علاوہ، 10 مغوی افراد کو جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے آزاد کرایا گیا ہے، جو خاندانوں کے لیے خوشی کی لہر لے کر آیا ہے، اس کے علاوہ مسروقہ مال کی برآمدگی میں بھی کامیابی ملی، جہاں 5 چوری کی گاڑیاں اور 39 موٹر سائیکلیں واپس حاصل کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق یہ برآمدگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پولیس کی خفیہ معلومات اور تیز رفتار کارروائیوں نے جرائم کے نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے۔
منشیات کے خلاف جنگ میں بھی پولیس نے کوئی رعایت نہیں کی اور 111 منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے مقدمات درج کرلیے جبکہ ان سے برآمد ہونے والی منشیات کی مقدار حیران کن ہے۔
برآمد منشیات میں 743.678 کلوگرام چرس، 11.630 کلوگرام آئس اور شیشہ، اور 10.665 کلوگرام افیون شامل ہے۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ “یہ منشیات نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا ہتھیار تھیں، لیکن اب یہ ہمارے قبضے میں ہیں بلوچستان پولیس کی یہ مہم نہ صرف جرائم کی شرح کو گرائے گی بلکہ عوام میں امید کی کرن بھی جگائے گی۔
آئی جی محمد طاہر کی ہدایات پر یہ آپریشنز مزید شدت اختیار کریں گے، اور عوام سے تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو جرائم کے خلاف جدوجہد کی علامت بنے گی۔
Today News
فرانس نے لبنان میں کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا
فرانس نے لبنان میں بڑھتی ہوئی تشدد آمیز کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کی وزارت خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ یہ اجلاس بدھ کو منعقد کیا جائے گا تاکہ لبنان کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔
فرانس نے لبنان میں جاری پرتشدد واقعات کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش ظاہر کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔
فرانس کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کے بحران کے حل میں اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کرے گا۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد حزب اللہ کی جوابی کارروائیوں پر لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور افراد کو مختلف مقامات پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔
جس سے لبنان کی حالت نہایت کشیدہ ہوگئے ہیں اور حکومت بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا چاہتی ہے جس کے لیے شام نے بھی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
Today News
ناسا کا سیٹلائٹ زمین پر کب گِرے گا؟
امریکی خلائی ادارے ناسا کا تقریباً 14 برس قبل خلا میں لانچ کیا گیا سیٹلائٹ جلد ہی زمین پر گرنے والا ہے۔
ایسٹرن ڈے لائٹ ٹائم مطابق وین ایلن پروب اے نامی یہ سیٹلائٹ منگل کی شب 7 بجکر 45 منٹ جو پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کے روز صبح 4 بجکر 45 منٹ پر زمین کے ایٹماسفیئر میں داخل ہوگا۔
600 کلو وزنی یہ سیٹلائٹ زمین پر کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ناسا کے مطابق ایسے کسی واقعے کا امکان 0.02 فی صد ہے۔
ناسا کا کہنا تھا کہ زیادہ تر اسپیس کرافٹ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایٹماسفیئر سے گزرتے ہوئے جل جاتے ہیں، لیکن کچھ پرزے باقی رہ جاتے ہیں واپس گھس جاتے ہیں۔
ناسا کی جانب سے مزید کہا گیا کہ اس کے سبب زمین کسی کو خطرے کے امکانات بہت کم ہیں۔
Source link
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The diary of an octopus
-
Magazines2 weeks ago
Story time: The dog without a leash!
-
Sports1 week ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport