Connect with us

Today News

توانائی بحران…قومی معیشت کا امتحان

Published

on


وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال اور توانائی کے ممکنہ بحران کے حوالے سے سرکاری و نجی دفاتر میں ہفتے میں تین چھٹیوں، 50 فیصد عملے کو ورک فراہم ہوم جب کہ اسکولوں میں دو ہفتوں کی تعطیلات کا اعلان کردیا۔ انھوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کی معیشت، زراعت، صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور روز مرہ کی خلیج سے آنے والی گیس اور تیل سے ہے، ایسی صورت حال میں حکومت نے مشکل اور اہم فیصلے کیے ہیں جو ہرگز آسان نہیں تھے۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے عالمی سیاست اور معیشت کو ایک بار پھر غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا حصہ درآمدی توانائی پر انحصارکرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست یہاں کے عوام اور معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے قوم سے خطاب میں جو اقدامات اعلان کیے گئے ہیں، ان کا بنیادی مقصد اسی ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنا ہے۔ بظاہر ہنگامی نوعیت کے یہ اقدامات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک بڑی معاشی اور توانائی سے متعلق حکمت عملی کار فرما ہے۔

پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، بجلی اورگیس کے بڑھتے ہوئے نرخ اور عام شہری کی قوت خرید میں کمی نے معاشرتی سطح پر بے چینی کو جنم دیا ہے۔ ایسے حالات میں جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ یا ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام شہری پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کے بحران کو محض ایک تکنیکی یا معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست عوامی زندگی پر پڑتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، انھیں ایک حد تک مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ماضی میں اسی نوعیت کے اقدامات کے ذریعے توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ دفاتر میں اوقات کارکم کرنا،گھروں سے کام کی حوصلہ افزائی کرنا اور غیر ضروری سرگرمیوں کو محدود کرنا ایسی حکمت عملیوں کا حصہ ہوتا ہے جن کے ذریعے ایندھن کی کھپت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پتاہم اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرکاری وسائل کے استعمال کا مسئلہ طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سرکاری اداروں میں گاڑیوں، بجلی اور دیگر وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ موجودہ بحران نے اس مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو مستقل پالیسی بنایا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ مالیاتی نظم و ضبط بھی بہتر ہو سکتا ہے، اگرچہ حکومت نے موجودہ حالات کے پیش نظر کچھ اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات وقتی نہ ہوں بلکہ انھیں مستقل پالیسی کی شکل دی جائے۔

 ملک میں کئی دہائیوں سے توانائی کی قلت اور درآمدی ایندھن پر انحصار جیسے مسائل موجود ہیں مگر ان کے مستقل حل کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، اگر ماضی میں متبادل توانائی کے ذرائع جیسے شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور مقامی وسائل کے بہتر استعمال پر بھرپور توجہ دی جاتی تو آج پاکستان اس قدر بیرونی ایندھن پر انحصارکرنے پر مجبور نہ ہوتا۔دنیا کے کئی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنی پالیسیوں کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یورپ، چین اور دیگر خطوں میں شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے جس کے نتیجے میں وہاں توانائی کے بحران کے اثرات نسبتاً کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

پاکستان کے پاس بھی قدرتی وسائل کی کمی نہیں ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی سال کے بیشتر حصے میں دستیاب رہتی ہے جب کہ ساحلی علاقوں میں ہوا سے توانائی پیدا کرنے کی بھی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس کے باوجود ان وسائل سے مکمل فایدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔موجودہ بحران ایک طرح سے پاکستان کے لیے ایک وارننگ بھی ہے کہ اگر ہم نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں ایسے بحران مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کی درآمدات پر انحصارکا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی ہر تبدیلی ہمارے معاشی نظام کو متاثرکرے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ توانائی کی پالیسی کو طویل المدتی بنیادوں پر مرتب کیا جائے اور مقامی وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے۔

 سیاسی میدان میں بھی اس معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال کو جواز بنا کر عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے جب کہ اشرافیہ اپنی مراعات میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان میں یہ بحث نئی نہیں ہے۔ ہر معاشی بحران کے دوران یہ سوال ضرور اٹھایا جاتا ہے کہ قربانی کا بوجھ کس طبقے پر پڑ رہا ہے، اگر عام شہری مہنگائی کا شکار ہو اور دوسری طرف حکمران طبقات کی مراعات برقرار رہیں تو اس سے عوامی ردعمل پیدا ہونا فطری بات ہے۔موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب بھی کسی بحران یا قلت کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو بعض عناصر اس صورتحال سے فایدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضروری اشیاء کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر سخت نگرانی کرے اور ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیازکارروائی کرے، اگر منڈیوں میں ناجائز منافع خوری کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عوامی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال کا ایک اہم پہلو سفارتی بھی ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے اس خطے کے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا آیا ہے اور کئی معاملات میں ان ممالک کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون بھی موجود ہے۔ اس لیے موجودہ بحران میں پاکستان کو ایک متوازن اور ذمے دارانہ سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی سطح پر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ معاشی استحکام کے بغیرکوئی بھی ملک بیرونی بحرانوں کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتا، اگر معیشت مضبوط ہو، توانائی کے ذرائع متنوع ہوں اور مالیاتی نظم و ضبط موجود ہو تو عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے اثرات نسبتاً کم محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کمزور معیشت والے ممالک ہر عالمی بحران سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال ایک چیلنج کے ساتھ ساتھ ایک موقع بھی ہے، اگر اس بحران کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کے نتیجے میں توانائی، معیشت اور حکمرانی کے نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو یہ ملک کے لیے ایک مثبت تبدیلی کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔ توانائی کی بچت، قابل تجدید ذرائع کا فروغ، حکومتی اخراجات میں کمی اور شفاف معاشی پالیسی وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف موجودہ بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی ملک کو زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔اس وقت سب سے زیادہ ضرورت قومی اتحاد اور اجتماعی ذمے داری کی ہے۔ حکومت، اپوزیشن،کاروباری طبقہ اور عوام سب کو مل کر اس مشکل دور کا مقابلہ کرنا ہوگا، اگر سیاسی اختلافات کو ایک حد تک پس پشت ڈال کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے تو ایسے حالات میں بہتر فیصلے ممکن ہو سکتے ہیں۔ بحران کے اوقات میں قومیں اسی وقت کامیاب ہوتی ہیں جب وہ اجتماعی حکمت عملی اور مشترکہ عزم کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا توانائی بحران ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی حالات کس قدر تیزی سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں دانشمندانہ پالیسی، ذمے دار قیادت اور عوامی تعاون ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ موجود ہے کہ وہ اس بحران کو محض ایک مسئلہ نہ سمجھے بلکہ اسے اصلاحات اور بہتری کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے، اگر ایسا کیا گیا تو ممکن ہے کہ آج کا یہ مشکل وقت مستقبل میں ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد ثابت ہو۔





Source link

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Today News

عماد وسیم کی دوسری اہلیہ کی بغیر میک اپ تصویر پر صارفین کے تبصرے

Published

on



قومی کرکٹر عماد وسیم اور ان کی دوسری اہلیہ نائلہ راجہ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔

دونوں کی شادی پہلے ہی تنازع کا شکار رہی تھی کیونکہ یہ رشتہ اس وقت سامنے آیا جب عماد وسیم اپنی پہلی شادی میں تھے اور ان کے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع تھی۔

مبینہ تعلقات کی خبروں کے بعد دونوں نے ابتدا میں ایک دوسرے سے وابستگی کی تردید کی، تاہم بعد ازاں شادی کر لی۔ اس معاملے پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور حالیہ اطلاعات کے مطابق دونوں عماد وسیم کی سابق اہلیہ کے خلاف قانونی کارروائی بھی کر رہے ہیں۔

نائلہ راجہ سوشل میڈیا پر ایک انفلوئنسر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی جلد کے لیزر ٹریٹمنٹ سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ اس طریقۂ علاج کے بارے میں بتاتی نظر آئیں۔

انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ مستقبل میں وہ مزید کون سے بیوٹی ٹریٹمنٹس کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس ویڈیو میں نائلہ راجہ بغیر میک اپ کے نظر آئیں اور اپنے چہرے کے علاج کا عمل بھی دکھایا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی ’اصل جلد‘ پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انٹرنیٹ صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر مختلف آرا کا اظہار کیا اور کئی افراد نے سخت تبصرے بھی کیے۔

بعض صارفین کا کہنا تھا کہ آج کل قدرتی خوبصورتی دیکھنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ ایک صارف نے عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہ زیادہ خوبصورت ہیں اور حیرت ہے کہ عماد نے نائلہ راجہ میں کیا دیکھا۔ کچھ افراد نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ عماد وسیم کو یہی سب دیکھنا تھا۔



Source link

Continue Reading

Today News

طیاروں کا فیول مہنگا ہونے کے بعد ایئرلائنز کے کرایوں میں بڑا اضافہ

Published

on



حکومت کی جانب سے کمرشل طیاروں کے لیے فیول مہنگا کیے جانے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ ملک میں کمرشل طیاروں کے فیول کی قیمت بڑھنے کے باعث ایئرلائنز نے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ڈومیسٹک پروازوں پر 2800 سے 5 ہزار روپے فی ٹکٹ تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔

اسی طرح کراچی سے لاہور، اسلام آباد اور دیگر اسٹیشنز کے لیے کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے، بین الاقوامی پروازوں کے لیے 10 سے 28 ہزار روپے تک اضافہ کردیا گیا ہے۔

ایئرلائنز نے پاکستان سے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی ملکوں کے لیے 15 ہزار روپے، پاکستان سے ٹورنٹو اور مانچسٹر کی پروازوں پر 28 ہزار روپے اور ٹورنٹو مانچسٹر کی اکانومی کلاس کا یک طرفہ کرایہ ڈھائی لاکھ روپے سے تجاوز کرگیا۔

خیال رہے کہ حکومت نے حال ہی میں طیاروں کے جیٹ فیول کی قیمت میں 154 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا تھا ، جس کے بعد جیٹ فیول کی فی لیٹر قیمت پاکستان میں اضافے کے بعد 342 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے اور اسی کے پیش نظر ملکی ایئرلائنز نے کرایوں میں ڈومیسٹک اور بین الاقوامی پروازوں پر اضافہ کیا ہے۔



Source link

Continue Reading

Today News

شوہر گھر میں جنات لے آئے، ثنا عسکری کا دلچسپ انکشاف

Published

on



پاکستانی اداکارہ ثنا عسکری نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے شوہر اور جنات کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ سنایا جس نے مداحوں کو حیران کردیا۔

ثنا عسکری کی شادی فنکار منہاج عسکری سے ہوئی ہے۔ دونوں اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب کیریئر رکھتے ہیں۔ ثنا عسکری اپنی خوش مزاج اور زندہ دل شخصیت کے باعث مختلف مارننگ شوز میں نظر آتی رہتی ہیں اور اکثر اپنی ذاتی زندگی کے دلچسپ تجربات بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔

حال ہی میں وہ معروف اداکار اور میزبان فیصل قریشی کی رمضان ٹرانسمیشن میں بطور مہمان شریک ہوئیں جہاں انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر کو ڈراؤنی کہانیاں بنانے اور سنانے کا خاص شوق ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے گھر کے اندر ہی ایک اسٹوڈیو بھی قائم کر رکھا ہے جہاں وہ خوفناک کہانیوں پر مبنی ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔

ثنا عسکری نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا بھی اب بڑا ہو رہا ہے اور وہ اکثر اپنے والد کے اس کام میں دلچسپی لیتا ہے۔ کبھی کبھار دونوں مل کر انہیں ڈرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں جس سے گھر کا ماحول مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔

اداکارہ نے ایک عجیب واقعہ بھی بیان کیا۔ ان کے مطابق چند ماہ قبل انہیں یوں محسوس ہوا جیسے گھر کے اندر کسی نے انہیں ان کے شوہر کی آواز میں پکارا ہو، حالانکہ اس وقت ان کے شوہر وہاں موجود نہیں تھے۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ خوفناک کہانیاں بنانے کا سلسلہ کم کریں۔

ثنا عسکری نے مزاحیہ انداز میں مزید کہا کہ لگتا ہے ان کے شوہر نے گھر کا ماحول ہی ایسا بنا دیا ہے جو ’’جنات کے لیے دوستانہ‘‘ ہوگیا ہے۔ ان کی یہ بات سن کر پروگرام میں موجود افراد بھی ہنس پڑے۔



Source link

Continue Reading

Trending