Today News
متوفی کوٹہ سسٹم سے متعلق وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے متوفی کوٹہ سسٹم ختم ہونے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ سرکٹ بینچ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے تمام 10 درخواست گزاروں کی تعیناتیوں کو جائز قرار دے دیا۔ عدالت نے اس معاملے میں سندھ حکومت کی اپیلیں بھی خارج کر دی ہیں۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے سندھ حکومت کے خلاف متوفی کوٹہ کیس میں جاری کیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ محمد جلال کیس میں متوفی کوٹہ سسٹم ختم کر چکی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حقداروں کا حق پیدا ہو چکا تھا۔ عدالت کے مطابق سرکاری ملازم کی موت ہوتے ہی اس کے اہل خانہ کا حق پیدا ہو جاتا ہے جبکہ درخواست دینا یا اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری ہونا محض انتظامی عمل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ورثا کو قانونی حق موت کے وقت ہی مل جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے ماضی سے لاگو نہیں ہوتے۔ عدالت کے مطابق ایسے پرانے کیسز ماضی کے بند معاملات تصور ہوں گے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ لاڑکانہ کی جانب سے متوفی کوٹہ پر تقرریوں کے احکامات جاری کیے گئے تھے جو درست ہیں، اس لیے ان تقرریوں کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
Today News
ایران جنگ میں کس کو فتح ملے گی؟ پانچ اہم منظرنامے سامنے آگئے
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ایران کے مستقبل اور جنگ کے ممکنہ انجام کے حوالے سے پانچ اہم منظرنامے سامنے آئے ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پہلا ممکنہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اور ایران دوبارہ مذاکرات شروع کریں اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے نیا معاہدہ طے پا جائے۔
رپورٹ میں دوسرا امکان یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکا دباؤ یا خفیہ کارروائیوں کے ذریعے ایران کی موجودہ قیادت میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے اور موجودہ نظام کے اندر ہی کسی نئی قیادت کے ساتھ کام شروع کر دے۔
تیسرے منظرنامے کے مطابق جنگ، معاشی بحران اور سیاسی دباؤ کے باعث ایران میں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج شروع ہو سکتے ہیں جس سے موجودہ نظام حکومت کمزور یا ختم ہو سکتا ہے۔
ایک اور ممکنہ امکان یہ بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل زمینی فوجی کارروائی کریں اور ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیں یا اپنے کنٹرول میں لے لیں۔
رپورٹ کے مطابق پانچواں منظرنامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو کمزور قرار دے کر جنگ میں فتح کا اعلان کر دیں اور امریکی افواج کو واپس بلا لیا جائے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں پر شدید حملے کیے تھے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
Today News
ڈیجیٹل ترقی کے لیے مضبوط سائبر سکیورٹی ناگزیر ہے: شزہ فاطمہ خواجہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری میں مکمل اعتماد پیدا کرنے کے لیے ملک میں سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ 32 سے زائد سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے اور موبائل ایپس کے ذریعے نادرا کی دستاویزات تک رسائی ممکن ہو رہی ہے۔
سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزید ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے قوانین، پالیسیوں اور نظام کو سائبر سکیورٹی کے لحاظ سے مزید مضبوط بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان میں مضبوط سائبر سکیورٹی نظام قائم نہیں ہوگا اس وقت تک بیرونی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں مکمل اعتماد پیدا نہیں ہو سکے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سائبر سکیورٹی صرف ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ہر شہری کی ذاتی شناخت، ذاتی سلامتی، گھروں اور خاندانوں کی حفاظت سے لے کر قومی سلامتی تک کے تمام پہلوؤں سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن کی طرف بڑھ رہی ہے اور صحت کے شعبے میں بھی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال سامنے آ رہا ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے بیماریوں کے بہتر علاج کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ڈیٹا کے غلط استعمال کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس آبادی کے جینیاتی ڈیٹا تک رسائی ہو تو اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اسی لیے ڈیجیٹل دور میں سائبر سکیورٹی کو انتہائی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سائبر سیکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور اس حوالے سے سائبر سکیورٹی ایکٹ اور متعلقہ اداروں کو فعال بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ سائبر سیکیورٹی ایک انتہائی اہم شعبہ ہے جس میں مختلف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت اس کے لیے خصوصی وسائل اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت میں محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔
Today News
لندن میں فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے القدس مارچ پر پابندی عائد
لندن میں فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے القدس مارچ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ برطانیہ کی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے مارچ کو روکنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق پولیس نے اتوار کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری کے پیش نظر مارچ پر پابندی کی درخواست دی تھی۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ یہ فیصلہ ممکنہ بدامنی سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔
شبانہ محمود کے مطابق سالانہ الوداع مارچ بعض حلقوں میں ایران کی حمایت میں سمجھا جاتا ہے، تاہم مارچ کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ یہ ریلی فلسطین کی حمایت میں نکالی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرین کو سخت شرائط کے تحت کسی ایک مقام پر کھڑے ہو کر احتجاج کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب فیصل بوڈی، کمشنر اسلامک ہیومن رائٹس نے القدس مارچ پر پابندی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج اظہار رائے کے لیے بہت برا دن ہے۔
-
Magazines2 weeks ago
Story time: Chasing the forgotten stars
-
Business2 weeks ago
Tensions slow Pakistani investment in Dubai real estate
-
Magazines1 week ago
PRIME TIME: THE RAMAZAN EXCEPTION – Newspaper
-
Sports1 week ago
Samson’s 97 puts India into T20 World Cup semi-final against England – Sport
-
Entertainment1 week ago
Ali Ansari On Falling in Love With More Than One Person
-
Business2 weeks ago
Petrol, diesel prices likely to rise by Rs7 for next forthnight
-
Entertainment2 weeks ago
Sidra Niazi Shares Details Of Her Marriage
-
Business2 weeks ago
With presidential ordinance set to lapse, Senate passes bill for regulating virtual assets